حزقیل عبرانی لفظ ہے جو اصل میں حِزقی ایل ہے، اور اس کا مطلب ہے "اللہ قوت بخشے گا"۔ حضرت حزقیل بن بوزی
کا تعلق یہودی کاہنوں کے ایک خاندان سے تھا۔ آپ
کا شمار بنی اسرائیل کے کبار انبیاء
میں ہوتا ہے۔ آپ
کی پیدائش اور پرورش فلسطین کے شہر یروشلم میں ہوئی۔ آپ
یرمیاہ
کے ہم عصر تھے۔ تقریباً 597 قبل مسیح میں یہودیوں کی بابل میں جلاوطنی اور اسیری کے زمانے میں حضرت حزقیل
نے بھی ان کے ساتھ بابل میں جلاوطنی کی مشقتیں جھیلی تھیں۔ آپ
جلاوطنی کے دوران نہرِ خابور کے کنارے رہائش پذیر تھے۔ اسی زمانے میں آپ
کی ازدواجی اور نبوی زندگی کی ابتدا ہوئی۔ 1
اور حضرت حزقیل 
جمہور علماء کے مطابق حضرت حزقیل
ہی ذوالکفل ہیں۔ آپ
کو ذوالکفل کہنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ
نے 70 انبیاء
کو قتل سے بچا کر ان کی کفالت فرمائی تھی۔ 2 اہلِ کتاب بھی اسی رائے کے قائل ہیں، لیکن ان کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت حزقیل
نے مملکتِ یہوداہ اور مملکتِ اسرائیل کی نجات کے لیے 190 دن تک زمین پر بائیں کروٹ اور 40 دن تک دائیں کروٹ لیٹ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش اور کفالت کی درخواست کی، جو قبول ہوئی تھی۔ 3
اور قرآنحضرت حزقیل
کا نام اگرچہ قرآن کریم میں صراحتاً ذکر نہیں تاہم بنی اسرائیل کےجو لوگ موت کے ڈر سے گھروں سے نکلے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر موت طاری کر کے دوبارہ جس نبی کی دعا کی بدولت انہیں زندہ فرمایا،علمائے اسلام کے نزدیک وہ حضرت حزقیل
تھے۔ 4 مفسرین کے مطابق اس واقعہ کا ذکر قرآن کریم میں بھی وارد ہے ۔ 5چنانچہ فرمانِ خداوندی ہے:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ 2436
(اے حبیب (ﷺ)!) کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل گئے حالانکہ وہ ہزاروں (کی تعداد میں) تھے، تو اﷲ نے انہیں حکم دیا: مر جاؤ (سو وہ مرگئے)، پھر انہیں زندہ فرما دیا، بیشک اﷲ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ (اس کا) شکر ادا نہیں کرتے۔
محمد بن اسحاق
فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل پر ایک وبا مسلط ہوئی جس کی وجہ سے بنی اسرائیل ہزاروں کی تعداد میں اپنا علاقہ چھوڑ کر ایک اور بستی میں منتقل ہو گئے۔ جیسے ہی یہ لوگ اس بستی میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سب مر گئے۔ چونکہ ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ انہیں اس بستی سے کسی اور مقام پر لے جانا ممکن نہ تھا، اس لیے بستی والوں نے انہیں جانوروں کے باڑے میں دفن کر دیا تاکہ چرند و پرند کی چیر پھاڑ سے محفوظ رہیں۔ وقت گزرتا گیا اور نسلیں بدل گئیں، یہاں تک کہ یہ لوگ صرف کھوکھلی ہڈیاں بن گئے۔ حضرت حزقیل
اپنے زمانے میں اس بستی سے گزرتے ہوئے رک گئے اور ان کے حال پر حیران ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ
کی حیرت کو دور کرنے کے لیے مُردوں کو دوبارہ زندہ کیا۔ چنانچہ حکم دیا گیا: اے ٹوٹ پھوٹ کر بکھری ہڈیوں! ہر ہڈی اپنے مالک کے پاس واپس آجاؤ۔ وہ ہڈیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے لگیں۔پھر انہیں کہا گیا: اے گوشت، رگیں اور جلد! اللہ کے حکم سے ہڈیوں پر آ جاؤ۔ رگیں ہڈیوں کے اوپر چڑھ گئیں، پھر گوشت اور جلد چڑھ گئے، یہاں تک کہ وہ مکمل جسم بن گئے، مگر روح ابھی اندر نہ آئی تھی۔ اس کے بعد حضرت حزقیل
نے ان کے لیے دعا کی، اور آسمان سے کچھ نازل ہوا جو ان پر چھا گیا، یہاں تک کہ وہ ہر طرف سے ڈھانپ دیےگئے۔ پھر حضرت حزقیل
نے ہوش سنبھالا اور دیکھا کہ لوگ بیٹھے ہوئے سبحان اللہ کہہ رہے ہیں۔ 7 اس بات سے قطع نظر کہ یہ واقعہ حضرت حزقیل
کا خواب تھا یا حقیقی طور پر پیش آیا، علماء ِاسلام کے نزدیک یہ واقعہ حضرت حزقیل
کے زمانے میں پیش آیا تھا۔
کی شہادتحضرت حزقیل
اپنے دورِ نبوت میں یہودیوں کی خیر وخبر رکھتے اور دن رات ان کی اصلاح و تزکیہ کر تے رہے ۔ ایک دن دعوت و تبلیغ کی نیت سے آپ
نے یہود کو کسی منکر کام پر ڈانٹا، چنانچہ انہوں نے غصے میں آکر آپ
کو قتل کر دیا۔ 8 بعض روایات میں ہے کہ آپ
نے ایک قاضی کو غلط کام سے روک دیا تھا 9 جس کی پاداش میں آپ
کو شہید کیا گیا۔
حضرت حزقیل
کا مرقدمبارک آج بھی فرات کے کنارے عمارت نما مقام کی شکل میں واقع ہے۔ جس میں 60 صومعے ہیں، اور ہر صومعے پر ایک مینار ہے۔ سب سے بڑے صومعے کے وسط میں ایک منبر ہے، جس کے پیچھے حضرت حزقیل
کا مرقد واقع ہے۔ اس کے بالکل اوپر ایک عالی شان گنبد نصب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ عمارت یہوداہ کے ایک بادشاہ یکنیا اور اس کے 30 ہزار پیروکاروں نے تعمیر کروائی تھی۔ مرقد کے پتھروں پر بادشاہ یکنیا اور اس کے پیروکاروں کے نام نقش ہیں، اور آخری پتھر پر حضرت حزقیل
کا نام درج ہے۔ یہودیوں کے نزدیک آپ
کا مرقد نہایت قابل احترام ہے۔ اسی لیے یہودی دور دراز سے یہاں برکت حاصل کرنے اور عبادت کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ 10