حضرت ادریس
اللہ تعالی کےسچے نبی 1 اور رسول تھے۔ 2 وہ پہلے نبی ہیں جنہوں نے قلم کے ذریعے خط لکھا تھا۔ 3 حضرت ادریس
سفید رنگت، لمبے قد اور چوڑے سینے والے تھے۔ ان کے سرپر بہت زیادہ بال تھے لیکن جسم کے بال کم تھے۔ ان کی ایک آنکھ دوسری سے بڑی تھی۔ ان کے جسم پر مرض کے بغیر سفید دھبّےتھے۔ 4 ابن قتیبہ لکھتے ہیں کہ حضرت ادریس
نے سب سے پہلے قلم سے لکھا، سب سے پہلے انہوں نے کپڑے سیئے اور سلے ہوئے کپڑے پہنے جبکہ ان سے قبل لوگ کھالوں سے بدن کو ڈھانپتے تھے۔ 5 حضرت ادریس
ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے رسم الخط، حروف، (علمِ فلکیات) اور حساب وکتاب کو متعارف کرایا، اس کی وضاحت کی اور لوگوں کو اس کی تعلیم دی۔ 6
احادیث واخبار سے معلوم ہوتا ہے کہ علمِ رمل کے موجد بھی آپ
ہی تھے۔ 7 علمائے تفسیر واحکام میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ حضرت ادریس
پہلی ہستی ہیں جنہوں نے دین کے بارے میں وعظ وخطاب کا سلسلہ شروع فرمایا اور انہی کو "ہرمس الہرامسہ "کا لقب دیا گیا تھا۔ 8
حضرت ادریس
کا ذکر قرآنِ مجید میں دو مرتبہ آیا ہے۔ ایک سورہ مریم میں :
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا 56 وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا 579
اور (اس) کتاب میں ادریس () کا ذکر کیجیے۔ بے شک وہ بڑے صاحبِ صدق نبی تھے۔اور ہم نے انہیں بلند مقام پر اٹھا لیا تھا۔
اوردوسرا سورہ انبیاء میں، فرمانِ خداوندی ہے:
وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ كُلٌّ مِنَ الصَّابِرِينَ 8510
اور اسماعیل ()اور ادریس (
)اور ذوالکفل (
)( کو بھی یاد فرمائیں)، یہ سب صابر لوگ تھے۔
وَّرَفَعْنٰہُ مَكَانًا عَلِيًّا کی تفسیر میں مفسرین حضرات فرماتے ہیں کہ یہاں رفعت سے مراد شرفِ نبوت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں خاص قربت ہے یعنی آپ
کو نبوت وقربت عطا فرماکر رفعت و بلندی عطا فرمائی گئی۔ 11 اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں رفعت سے مراد رفعت معنوی ہےجبکہ بعض کے نزدیک رفعت حسی اور جسمانی مراد ہے۔ ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباس
نے حضرت کعب
سے وَّرَفَعْنٰہُ مَكَانًا عَلِيًّا کی تفسیر دریافت فرمائی ۔ حضرت کعب
نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس
کی طرف وحی بھیجی کہ اے ادریس
! میں تمہارے لیے ہر دن بنی آدم کے اعمال جتنا اجر لکھتا ہوں (شاید مراد اس وقت اپنے زمانے کے تمام بنی آدم ہیں۔) یہ سن کر حضرت ادریس
نے چاہا کہ کاش میری عمر میں اضافہ ہو جائے تاکہ میری نیکیاں زیادہ ہو۔حضرت ادریس
کے پاس فرشتہ آیا جس سے ان کی دوستی اور قربت تھی۔ آپ
نے اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ وحی نازل فرمائی ہے، کیا تم ملک الموت سے بات کر سکتے ہو کہ میری روح قبض کرنے میں کچھ تاخیر کر دیں، تاکہ میرے نیک اعمال زیادہ ہو اور میری نیکیوں میں اضافہ ہو۔ فرشتے نے کہا:میں تمہاری بات ملک الموت تک پہنچا دیتا ہوں۔چنانچہ اس نے حضرت ادریس
کو اپنے پَروں کے درمیان بٹھا لیا اور آسمانوں کی طرف اُڑنے لگا۔جب وہ چوتھے آسمان پر پہنچے تو سامنے سے ملک الموت آ رہے تھے۔ فرشتے نے کہا:ادریس
چاہتے ہیں کہ ان کی عمر کچھ بڑھا دی جائے تاکہ وہ زیادہ عبادت کر سکیں۔ ملک الموت نے ادریس
کے متعلق پوچھا۔ جواب دیا کہ میری پشت پر سوار ہے۔ملک الموت حیران ہو کر بولے:سبحان اللہ! مجھے تو حکم دیا گیا تھا کہ میں ادریس
کی روح چوتھے آسمان پر قبض کروں۔ اِس لیے مجھے بڑا تعجب تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے، وہ تو زمین پر ہیں!مگر اب بات سمجھ میں آ گئی، تم انہیں یہاں لے آئے ہو۔چنانچہ ملک الموت نے حضرت ادریس
کی روح وہیں،چوتھے آسمان پر قبض کر لی۔اور اس آیت میں یہی رفعت مراد ہے۔ 12 مگرابن کثیر اس مقام پر فرماتے ہیں کہ یہ اور اس قسم کی دوسری احادیث اسرائیلیات میں سے ہیں، اور اس میں نکارت (سب کے نزدیک قبول نہ ہو ہونا) پائی جاتی ہے ۔13
جہاں تک صحیح بخاری کی روایت ہے جو معراج کے واقعے سے متعلق ہے جس میں حضرت انس
رسول اللہ
سے نقل کرتے ہیں کہ سدرۃ المنتہی کی جانب جاتے ہوئے جبرائیل
کا گزر (آنحضرت
کی ہمراہی میں) ادریس کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا: اے نبی صالح اور اے برادر صالح مرحبا! رسول اللہ
کے سوال کرنے پر جبرئیل
نے کہا کہ یہ ادریس
ہیں۔ 14 اس میں اگر چہ اس بات کی تصریح ہے کہ حضرت ادریس
چوتھے آسمان میں ہیں لیکن یہ رفعت حسی ہے یا نہیں، اور قبل از وفات ہے یا بعد از وفات ، اس بارے میں یہ حدیث ساکت ہے لہذا اس سے رفعت حسی پر استدلال درست نہیں ہے اور نہ ہی اس روایت میں چوتھے آسمان کا ذکر ہے۔
کا تذکرہتورات میں حضرت ادریس
کا نام حنوک یا اخنوخ آتا ہے اور اس مقدس نبی کے متعلق صرف اتنا ہی لکھا ہے :
جب یارد ایک سو باسٹھ برس کا تھا تب اس کے ہاں حنوک پیدا ہوا۔ اور حنوک کی پیدائش کے بعد یارد آٹھ سو برس جیتا رہا۔اور اس کے ہاں اور بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ یارد کی کل عمر نو سو باسٹھ برس کی ہوئی اور تب وہ مر گیا۔ جب حنوک پینسٹھ برس کا تھا تب اس کے ہاں متوسلح (متوشالح) پیدا ہوا۔ اور متوسلح کی پیدائش کے بعد حنوک تین سو برس تک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا، اور اس کے ہاں اور بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ حنوک کی کل عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی۔حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتارہا،اور پھر خدا نے اسے اٹھا لیا، اور وہ نظروں سے غائب ہوگیا۔15
سفر پیدائش کے باب نمبر 5، موالید آدم
کے اعتبار سے حضرت ادریس
کا نسب کچھ یوں بنتا ہے: ادریس بن یارد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم
۔عبرانی زبان میں آپ
کا نام خنوخ لکھا جاتا ہے اور عربی میں اخنوخ ۔16 حضرت ادیس
نے اپنی امت کو یہ بھی بتایا تھا کہ میری طرح اس عالم کی دینی اور دنیوی اصلاح کے لیے بہت سے انبیاء
تشریف لائیں گے اور ا ن کی نمایاں خصوصیات یہ ہونگی کہ وہ ہر ایک بُری بات سے بَری اور پاک ہوں گے، قابل ستائش اور فضائل میں کامل ہوں گے، زمین وآسمان کے احوال سے اور ان امور سے کہ جن میں کائنات کے لیے شفا ہے یا مرض، وحی الہی کے ذریعے اس طرح واقف ہوں گے کہ کوئی سائل تشنہ کام نہ رہے گا، وہ مستجاب الدعوات ہوں گے او ر ان کے مذاہب کی دعوت کا خلاصہ اصلاحِ کائنات ہوگا۔ 17
مذکورہ بالا آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ
سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس
کو ایک امتیازی مقام عطا فرمایا اور انہیں بلند مرتبے پر فائز کیا، جسے روایات میں آسمانوں کی طرف اٹھائے جانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مزید برآں، حضرت ادریس
کو صحائفِ الٰہیہ بھی عطا کیے گئے تھے۔ امام طبری کی روایت کے مطابق حضرت ادریس
پر تیس صحیفے نازل کیے گئے۔ 18 اگرچہ حضرت ادریس
کو الٰہی صحائف عطا ہوئے، تاہم ان صحائف کا اصل متن آج موجود نہیں اور جو موجود ہیں، وہ ان کے تراجم ہیں۔ اسی بنا پر حضرت ادریس
سے منسوب وہ بشارات، جو نبی کریم
کے بارے میں ان صحائف سے بیان کی جاتی ہیں ان کی تائید بائبل سے کی گئی ہے۔