encyclopedia

تعارفِ حضرت ادریس علیہ السلام

Published on: 22-May-2026

حضرت ادریس Alaihis Salam اللہ تعالی کےسچے نبی 1 اور رسول تھے۔ 2 وہ پہلے نبی ہیں جنہوں نے قلم کے ذریعے خط لکھا تھا۔ 3 حضرت ادریس Alaihis Salam سفید رنگت، لمبے قد اور چوڑے سینے والے تھے۔ ان کے سرپر بہت زیادہ بال تھے لیکن جسم کے بال کم تھے۔ ان کی ایک آنکھ دوسری سے بڑی تھی۔ ان کے جسم پر مرض کے بغیر سفید دھبّےتھے۔ 4 ابن قتیبہ لکھتے ہیں کہ حضرت ادریس Alaihis Salam نے سب سے پہلے قلم سے لکھا، سب سے پہلے انہوں نے کپڑے سیئے اور سلے ہوئے کپڑے پہنے جبکہ ان سے قبل لوگ کھالوں سے بدن کو ڈھانپتے تھے۔ 5 حضرت ادریس Alaihis Salam ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے رسم الخط، حروف، (علمِ فلکیات) اور حساب وکتاب کو متعارف کرایا، اس کی وضاحت کی اور لوگوں کو اس کی تعلیم دی۔ 6

احادیث واخبار سے معلوم ہوتا ہے کہ علمِ رمل کے موجد بھی آپ Alaihis Salam ہی تھے۔ 7 علمائے تفسیر واحکام میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ حضرت ادریس Alaihis Salam پہلی ہستی ہیں جنہوں نے دین کے بارے میں وعظ وخطاب کا سلسلہ شروع فرمایا اور انہی کو "ہرمس الہرامسہ "کا لقب دیا گیا تھا۔ 8

قرآن کریم میں ادریس کا ذکر

حضرت ادریس Alaihis Salam کا ذکر قرآنِ مجید میں دو مرتبہ آیا ہے۔ ایک سورہ مریم میں :

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا 56 وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا 579
اور (اس) کتاب میں ادریس ( Alaihis Salam) کا ذکر کیجیے۔ بے شک وہ بڑے صاحبِ صدق نبی تھے۔اور ہم نے انہیں بلند مقام پر اٹھا لیا تھا۔

اوردوسرا سورہ انبیاء میں، فرمانِ خداوندی ہے:

وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ كُلٌّ مِنَ الصَّابِرِينَ 8510
اور اسماعیل (Alaihis Salam)اور ادریس (Alaihis Salam)اور ذوالکفل (Alaihis Salam)( کو بھی یاد فرمائیں)، یہ سب صابر لوگ تھے۔

وَّرَفَعْنٰہُ مَكَانًا عَلِيًّا کی تفسیر میں مفسرین حضرات فرماتے ہیں کہ یہاں رفعت سے مراد شرفِ نبوت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں خاص قربت ہے یعنی آپ Alaihis Salam کو نبوت وقربت عطا فرماکر رفعت و بلندی عطا فرمائی گئی۔ 11 اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں رفعت سے مراد رفعت معنوی ہےجبکہ بعض کے نزدیک رفعت حسی اور جسمانی مراد ہے۔ ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباس Radi Allah Anhuma نے حضرت کعب Radi Allah Anho سے وَّرَفَعْنٰہُ مَكَانًا عَلِيًّا کی تفسیر دریافت فرمائی ۔ حضرت کعب Radi Allah Anhoنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس Alaihis Salam کی طرف وحی بھیجی کہ اے ادریسAlaihis Salam! میں تمہارے لیے ہر دن بنی آدم کے اعمال جتنا اجر لکھتا ہوں (شاید مراد اس وقت اپنے زمانے کے تمام بنی آدم ہیں۔) یہ سن کر حضرت ادریس Alaihis Salam نے چاہا کہ کاش میری عمر میں اضافہ ہو جائے تاکہ میری نیکیاں زیادہ ہو۔حضرت ادریس Alaihis Salam کے پاس فرشتہ آیا جس سے ان کی دوستی اور قربت تھی۔ آپ Alaihis Salam نے اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ وحی نازل فرمائی ہے، کیا تم ملک الموت سے بات کر سکتے ہو کہ میری روح قبض کرنے میں کچھ تاخیر کر دیں، تاکہ میرے نیک اعمال زیادہ ہو اور میری نیکیوں میں اضافہ ہو۔ فرشتے نے کہا:میں تمہاری بات ملک الموت تک پہنچا دیتا ہوں۔چنانچہ اس نے حضرت ادریس Alaihis Salam کو اپنے پَروں کے درمیان بٹھا لیا اور آسمانوں کی طرف اُڑنے لگا۔جب وہ چوتھے آسمان پر پہنچے تو سامنے سے ملک الموت آ رہے تھے۔ فرشتے نے کہا:ادریس Alaihis Salam چاہتے ہیں کہ ان کی عمر کچھ بڑھا دی جائے تاکہ وہ زیادہ عبادت کر سکیں۔ ملک الموت نے ادریس Alaihis Salam کے متعلق پوچھا۔ جواب دیا کہ میری پشت پر سوار ہے۔ملک الموت حیران ہو کر بولے:سبحان اللہ! مجھے تو حکم دیا گیا تھا کہ میں ادریس Alaihis Salam کی روح چوتھے آسمان پر قبض کروں۔ اِس لیے مجھے بڑا تعجب تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے، وہ تو زمین پر ہیں!مگر اب بات سمجھ میں آ گئی، تم انہیں یہاں لے آئے ہو۔چنانچہ ملک الموت نے حضرت ادریس Alaihis Salam کی روح وہیں،چوتھے آسمان پر قبض کر لی۔اور اس آیت میں یہی رفعت مراد ہے۔ 12 مگرابن کثیر اس مقام پر فرماتے ہیں کہ یہ اور اس قسم کی دوسری احادیث اسرائیلیات میں سے ہیں، اور اس میں نکارت (سب کے نزدیک قبول نہ ہو ہونا) پائی جاتی ہے ۔13

جہاں تک صحیح بخاری کی روایت ہے جو معراج کے واقعے سے متعلق ہے جس میں حضرت انس Radi Allah Anho رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے نقل کرتے ہیں کہ سدرۃ المنتہی کی جانب جاتے ہوئے جبرائیل Alaihis Salam کا گزر (آنحضرت Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ہمراہی میں) ادریس کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا: اے نبی صالح اور اے برادر صالح مرحبا! رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے سوال کرنے پر جبرئیل Alaihis Salam نے کہا کہ یہ ادریس Alaihis Salam ہیں۔ 14 اس میں اگر چہ اس بات کی تصریح ہے کہ حضرت ادریس Alaihis Salam چوتھے آسمان میں ہیں لیکن یہ رفعت حسی ہے یا نہیں، اور قبل از وفات ہے یا بعد از وفات ، اس بارے میں یہ حدیث ساکت ہے لہذا اس سے رفعت حسی پر استدلال درست نہیں ہے اور نہ ہی اس روایت میں چوتھے آسمان کا ذکر ہے۔

تورات میں ادریس Alaihis Salam کا تذکرہ

تورات میں حضرت ادریس Alaihis Salam کا نام حنوک یا اخنوخ آتا ہے اور اس مقدس نبی کے متعلق صرف اتنا ہی لکھا ہے :

جب یارد ایک سو باسٹھ برس کا تھا تب اس کے ہاں حنوک پیدا ہوا۔ اور حنوک کی پیدائش کے بعد یارد آٹھ سو برس جیتا رہا۔اور اس کے ہاں اور بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ یارد کی کل عمر نو سو باسٹھ برس کی ہوئی اور تب وہ مر گیا۔ جب حنوک پینسٹھ برس کا تھا تب اس کے ہاں متوسلح (متوشالح) پیدا ہوا۔ اور متوسلح کی پیدائش کے بعد حنوک تین سو برس تک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا، اور اس کے ہاں اور بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ حنوک کی کل عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی۔حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتارہا،اور پھر خدا نے اسے اٹھا لیا، اور وہ نظروں سے غائب ہوگیا۔15

سفر پیدائش کے باب نمبر 5، موالید آدمAlaihis Salam کے اعتبار سے حضرت ادریس Alaihis Salam کا نسب کچھ یوں بنتا ہے: ادریس بن یارد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم Alaihmas Salam۔عبرانی زبان میں آپ Alaihis Salam کا نام خنوخ لکھا جاتا ہے اور عربی میں اخنوخ ۔16 حضرت ادیس Alaihis Salam نے اپنی امت کو یہ بھی بتایا تھا کہ میری طرح اس عالم کی دینی اور دنیوی اصلاح کے لیے بہت سے انبیاء Alaihmas Salamتشریف لائیں گے اور ا ن کی نمایاں خصوصیات یہ ہونگی کہ وہ ہر ایک بُری بات سے بَری اور پاک ہوں گے، قابل ستائش اور فضائل میں کامل ہوں گے، زمین وآسمان کے احوال سے اور ان امور سے کہ جن میں کائنات کے لیے شفا ہے یا مرض، وحی الہی کے ذریعے اس طرح واقف ہوں گے کہ کوئی سائل تشنہ کام نہ رہے گا، وہ مستجاب الدعوات ہوں گے او ر ان کے مذاہب کی دعوت کا خلاصہ اصلاحِ کائنات ہوگا۔ 17

مذکورہ بالا آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس Alaihis Salam کو ایک امتیازی مقام عطا فرمایا اور انہیں بلند مرتبے پر فائز کیا، جسے روایات میں آسمانوں کی طرف اٹھائے جانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مزید برآں، حضرت ادریس Alaihis Salam کو صحائفِ الٰہیہ بھی عطا کیے گئے تھے۔ امام طبری کی روایت کے مطابق حضرت ادریس Alaihis Salam پر تیس صحیفے نازل کیے گئے۔ 18 اگرچہ حضرت ادریس Alaihis Salam کو الٰہی صحائف عطا ہوئے، تاہم ان صحائف کا اصل متن آج موجود نہیں اور جو موجود ہیں، وہ ان کے تراجم ہیں۔ اسی بنا پر حضرت ادریس Alaihis Salam سے منسوب وہ بشارات، جو نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بارے میں ان صحائف سے بیان کی جاتی ہیں ان کی تائید بائبل سے کی گئی ہے۔


  • 1  القرآن، سورۃ مریم 19: 56
  • 2  أبو حاتم محمد بن حبان البستي، صحيح ابن حبان، حديث: 807، ج-1، مطبوعة: دار ابن حزم، بيروت، لبنان، 2012م، ص: 533- 534
  • 3  ایضا، ص: 534
  • 4  أبو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، حدیث: 4015، ج-2، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1990م، ص: 598
  • 5  أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة الدينوري، عيون الأخبار، ج-1، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1418هـ، ص: 102
  • 6  J. T. Milik (Ed.) (1976), The Books of Enoch: Aramaic Fragments of Qumran Cave 4, Oxford University Press, Oxford, UK, Pg. 118.
  • 7  أبو العباس شهاب الدين أحمد بن حسين بن علي الشافعي، شرح سنن أبي داود، ج-5، مطبوعۃ: دار الفلاح، الفیوم، مصر، 2016م، ص: 118
  • 8  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، البداية والنهاية، ج-1، مطبوعة: دار هجر، الجيزة، مصر، 1997م، ص: 234
  • 9  القرآن، سورۃ مریم 19 : 56-57
  • 10  القرآن، سورۃ الأنبياء 21: 85
  • 11  أبو الثناء محمود بن عبد الله الآلوسي، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج-8، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1415هـ، ص: 423
  • 12  أبو جعفر محمد بن جریر الطبری، جامع البيان عن تأويل آي القرآن المعروف بتفسير الطبری، ج-15، مطبوعة: دار هجر، الجيزة، مصر، 2001م، ص: 563
  • 13  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، تفسير القرآن العظيم المعروف بتفسير ابن كثير، ج-5، مطبوعة: دار الکتب العلمیة، بیروت، لبنان، 1419هـ، ص: 213
  • 14  أبو عبد اﷲ محمد بن إسماعیل البخاري، صحیح البخاري، حديث: 349، مطبوعة: دار السلام، الریاض، السعودیة، 1999م، ص: 62
  • 15  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 5: 18-24 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 5)
  • 16  عبد الوهاب النجار، قصص الأنبياء، مطبوعة: مطبعة النصر، مصر، 1936م، ص: 38
  • 17  محمد حفظ الرحمن سیوہاروی، قصص القرآن، ج-1،مطبوعہ: مکتبہ رحمانیہ، لاہور، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 76
  • 18  أبو جعفر محمد بن جریر الطبری، تاريخ الرسل والملوك، ج- 1، مطبوعۃ: دار المعارف، القاھرۃ، مصر، 1967 م، ص: 171

Powered by Netsol Online