حضرت آدم
اللہ تعالیٰ کے پہلے نبی ہیں، اور آپ کا لقب "صفیُّ اللہ" ہے۔ قرآنِ مجید کی متعدد سورتوں میں آپ کا ذکر آیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم
کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو حضرت عزرائیل
کو حکم دیا کہ زمین کے مختلف حصوں سے ہر رنگ اور ہر نوع کی مٹی جمع کر کے لائی جائے۔ چنانچہ حکمِ خداوندی کے مطابق وہ مٹی جمع کرکے مکّہ اور طائف کے درمیانی مقام پر رکھی گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مٹی پر بارانِ رحمت برسائی اور اپنی قدرتِ کاملہ سے اسی مٹی کے خمیر سے حضرت آدم
کا قالب تیار فرمایا۔ یہ قالب تقریباً 40 برس تک بے جان پڑا رہا۔ 1 جب اللہ نے چاہا تو روحِ پاک کو حکم دیا گیا کہ وہ اس قالب میں داخل ہو جائے۔ چنانچہ جب روح حضرت آدم
کے جسم میں داخل ہوئی تو آپ
کو چھینک آئی، اور الہامِ الٰہی کے تحت آپ
نے فرمایا: الحمد للہ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ فرشتوں نے آپ
کو تحمید کی تلقین کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رحمك ربك يا آدم، یعنی اے آدم! تمہارا رب تم پر رحم فرمائے۔ یوں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پہلا جلوہ حضرت آدم
پر نازل ہوا، اور پھر انہی کے طفیل یہ نعمت بنی آدم کو بھی نصیب ہوئی۔ 2
کی پیدائش اور نزول فی الدنیااللہ تعالیٰ نے حضرت آدم
کو پیدا فرما کر انہیں عزت و عظمت کے بلند مقام پر فائز فرمایا۔ ایک دن جب حضرت آدم
پر نیند کا غلبہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ کا ایک اور مظہر ظاہر فرمایا اور حضرت آدم
کے بائیں پہلو کی پسلی سے حضرت حوّاء
کو پیدا فرمایا۔ جب حضرت آدم
بیدار ہوئے تو آپ کی نگاہ ایک نورانی اور پاکیزہ ہستی پر پڑی جو آپ کے قریب بیٹھی تھی۔ جب آپ نے دریافت فرمایا تو حضرت حوّاء نے نہایت نرم اور لطیف لہجے میں کہا: اے آدم
! میں آپ کے بدن کا حصہ ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھےآپ کی پسلی سے پیدا فرمایا ہے۔ 3 اپنے لیے ایک رفیق کو پا کر حضرت آدم
بے حد مسرور ہوئے اور ان کے دل کو ایک خاص اطمینان و سکون نصیب ہوا۔
حضرت آدم
اور حضرت حوّاء
کو اللہ تعالیٰ نے جنّت میں سکونت عطا فرمائی تھی اور انہیں اجازت دی کہ وہاں کی ہر نعمت سے آزادانہ طور پر فائدہ اٹھائیں۔ البتہ ایک خاص درخت کے بارے میں واضح طور پر منع فرما دیا گیا کہ نہ اس کے قریب جانا ہے اور نہ اس کا پھل کھانا ہے۔ ساتھ ہی حضرت آدم
کو یہ تنبیہ بھی کر دی گئی کہ ابلیس تمہارا کھلا دشمن ہے، اس لیے اس کے فریب سے ہوشیار رہنا، کہیں وہ تمہیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے۔ چنانچہ ایک روز ابلیس حضرت آدم
کے پاس آیا اور نہایت مکّارانہ انداز میں ان کے دل میں وسوسہ ڈالنے لگا۔ وہ بظاہر نرمی اور خیرخواہی کے لہجے میں سرگوشی کرتا اور کہتا: اے آدم
! میں تم سے محبت کرتا ہوں، میں تمہارا سچا خیرخواہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس درخت کو اس لیے ممنوع قرار دیا ہے کہ کہیں تم اور حوّا فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنّت میں زندہ نہ رہو۔ اپنی مکاری کو چھپانے کے لیے اس نے جھوٹی قسمیں بھی کھائیں۔ ابتدا میں حضرت آدم
اس کے فریب میں نہ آئے، مگر ابلیس موقع کی تلاش میں لگا رہا۔ بالآخر ایک دن جب حضرت آدم
نیند سے بیدار ہوئے تو وہ دوبارہ حاضر ہوا اور نہایت چالاکی سے کہنے لگا: اس درخت کا پھل کھا لو، اس سے تمہاری یہ سستی اور غنودگی جاتی رہے گی۔ یوں مسلسل وسوسوں اور دھوکے کے اثر سے حضرت آدم
کا ہاتھ اس درخت کی طرف بڑھ گیا اور انہوں نے اس کا ایک دانہ چکھ لیا۔ حضرت حوّا
نے بھی ایسا ہی کیا۔ مگر جیسے ہی یہ ہوا، فوراً حضرت آدم
کو حکمِ الٰہی کے خلاف ورزی کا احساس ہو گیا۔ جو پھل ان کے ہاتھ میں تھا اسے فوراً پھینک دیا اور جو منہ میں تھا اسے تھوک دیا۔ حضرت حوّا نے بھی یہی کیا۔ اس لغزش کا احساس ہوتے ہی حضرت آدم
سخت نادم ہوئے اور گریہ و زاری کرنے لگے۔ لیکن حکمِ خداوندی صادر ہو چکا تھا کہ اب تم اور تمہاری نسل زمین پر قیام کرو گے اور وہیں تمہاری آزمائش اور زندگی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ 4 چنانچہ حضرت آدم وحوا
جنّت سے اتر کر زمین پر بسنےلگے۔ قرآن کریم میں حضرت آدم
کے یہ واقعات مختلف انداز میں مختلف مواقع پر ذکر ہیں۔ سورہ اعراف میں قرآن کریم نےاس پورے واقعے کی منظر کشی کچھ اس طرح کی ہے:
وَيَاآدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ 19 فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ 20 وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ 21 فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ 22 قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ 23 قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ 24قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ 255
اور اے آدم ()! تم اور تمہاری زوجہ (دونوں) جنّت میں سکونت اختیار کرو سو جہاں سے تم دونوں چاہو کھایا کرو اور (بس) اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ تم دونوں حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔پھر شیطان نے دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرم گاہیں جو ان (کی نظروں) سے پوشیدہ تھیں ان پر ظاہر کر دے اور کہنے لگا: (اے آدم و حوا!) تمہارے رب نے تمہیں اس درخت (کا پھل کھانے) سے نہیں روکا مگر (صرف اِس لیے کہ اسے کھانے سے) تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے (یعنی علائقِ بشری سے پاک ہو جاؤ گے) یا تم دونوں (اس میں) ہمیشہ رہنے والے بن جاؤ گے (یعنی اس مقامِ قرب سے کبھی محروم نہیں کیے جاؤ گے)، اور ان دونوں سے قَسم کھا کر کہا کہ بیشک میں تمہارے خیرخواہوں میں سے ہوں۔ پس وہ فریب کے ذریعے دونوں کو (درخت کا پھل کھانے تک) اتار لایا، سو جب دونوں نے درخت (کے پھل) کو چکھ لیا تو دونوں کی شرم گاہیں ان کے لیے ظاہر ہوگئیں اور دونوں اپنے (بدن کے) اوپر جنّت کے پتے چپکانے لگے، تو ان کے رب نے انہیں ندا فرمائی کہ کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت (کے قریب جانے) سے روکا نہ تھا اور تم سے یہ (نہ) فرمایا تھا کہ بیشک شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے۔ دونوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی؛ اور اگر تو نے ہم کو نہ بخشا اور ہم پر رحم (نہ) فرمایا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ارشادِ باری ہوا: تم (سب) نیچے اتر جاؤ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہیں، اور تمہارے لیے زمین میں معیّن مدت تک جائے سکونت اور متاعِ حیات (مقرر کر دیے گئے ہیں گویا تمہیں زمین میں قیام و معاش کے دو بنیادی حق دے کر اتارا جا رہا ہے، اس پر اپنا نظامِ زندگی استوار کرنا)، ارشاد فرمایا: تم اسی (زمین) میں زندگی گزارو گے اور اسی میں مَرو گے اور (قیامت کے روز) اسی میں سے نکالے جاؤ گے۔
کا ذکرتورات نے بھی حضرت آدم
کا تعارف تقریباً اسی انداز میں پیش کیا ہے جیسے قرآنِ مجید نے بیان فرمایا ہے۔ تاہم چونکہ تورات میں یہودیوں نے تحریف و تبدّل کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا، اِس لیے اس میں ایسے بیانات بھی شامل ہو گئے ہیں جنہیں ابو البشر حضرت آدم
جیسے جلیل القدر نبی کی طرف منسوب کرنا نہ صرف نامناسب بلکہ خلافِ شرع اور گناہِ کبیرہ کے زمرے میں داخل ہیں۔ لہٰذا تورات کے وہ مقامات جو عصمتِ انبیاء کو مجروح کرتے ہیں یا وہ عبارتیں جو صریح نصوصِ قرآن کے خلاف ہیں، کسی طور بھی قابلِ اعتبار نہیں۔ اس باب میں جو کچھ قرآنِ کریم میں بیان ہوا ہے، وہی بلا شک و شبہ حق، صحیح اور معتبر ہے۔ تاہم یہودیوں کی جعل سازیوں اور من گھڑت روایات کے باوجود حضرت آدم
سے متعلق تاریخ کا ایک حد تک درست پہلو جو تحریف شدہ تورات کے اندر موجود ہے وہ درجِ ذیل ہے:
خداوند خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا، اور اُس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا، اور آدم ذی روح ہوگیا۔ اور خداوند خدا نے مشرق کی جانب عدن میں ایک باغ لگایا، اور آدم کو جسے اُس نے بنایا تھا، وہاں رکھا۔ اور خداوند خدا نے زمین سے ہر قسم کا درخت اگایا جو دیکھنے میں خوشنما اور کھانے میں لذیذ تھا۔ اس باغ کے بیچ میں زندگی کا درخت اور نیک وبد کی پہچان کا درخت بھی تھا ۔ 6 اور خداوند خدا نے آدم کو باغ عدن میں رکھا، تاکہ اس کی باغبانی اور نگرانی کرے۔ اور خداوند خدا نے آدم کو حکم دیاکہ تو اس باغ کے کسی بھی درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے۔لیکن نیک وبد کی پہچان کے درخت کا پھل ہرگز نہ کھاناکیونکہ جب تو اسے کھائے گا تو یقیناً مرجائے گا۔ خداوند خدا نے کہا: آدم کا اکیلا رہنا اچھا نہیں، میں ایک مددگار بناؤں گا جو اس کی مانند ہو ۔ 7 تب خداوند خدا نے آدم پر گہری نیند بھیجی، اور جب وہ سورہا تھا تو اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی نکالی اور اس کی جگہ گوشت بھر دیا۔ تب خدا وند خدا نے اس پسلی سے جسے اس نے آدم میں سے نکالا تھا ، ایک عورت بنائی اور وہ اسے آدم کے پاس لے آیا۔ 8 خداوند خدا نے جتنے دشتی جانور بنائے تھے ، سانپ ان سب سے چالاک تھا۔ اس نے عورت سے کہا: کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ تم باغ کے کسی درخت کا پھل نہ کھانا؟ عورت نے سانپ سے کہا :ہم باغ کے درخت کا پھل کھا سکتے ہیں لیکن خدا نے یہ ضرور کہا ہے کہ جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اس کا پھل مت کھانابلکہ اسے چھونا تک نہیں ورنہ مرجاؤگے۔تب سانپ نے عورت سے کہا: تم ہرگز نہیں مروگےبلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اسے کھاؤگے، تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خد ا کی مانند نیکی اور بدی کے جاننے والے بن جاؤگے۔جب عورت نے دیکھا کہ اس درخت کا پھل کھانےکے لئے اچھا اور دیکھنے میں خوشنمااورحکمت پانے کے لیے خوب معلوم ہوتا ہے تو اس نے اس میں سے لے کر کھایا اور اپنے خاوند کو بھی دیاجوا س کے ساتھ تھا اور اس نے بھی کھایا۔ تب ان دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں۔ اورانہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لیے پیش بند بنالیے۔ 9 اور (خدا نے) آدم سے کہا: چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اس درخت کا پھل کھایا جسے کھانے سے میں نے تجھے منع کیا تھا۔ اِس لیے زمین تیرے سبب سے ملعون ٹھہری، تو محنت ومشقت کر کے عمر بھر اس کی پیداوار کھاتا رہے گا۔ وہ تیرے لیے کانٹے اور اونٹ کٹارے اگائے گی،اور تو کھیت کی سبزیاں کھائے گا۔ تو اپنے ماتھے کے پسینے کی روٹی کھائے گاجب تک کہ تو زمین میں پھر لوٹ نہ جائے، اِس لیے کہ تو اسی میں سے نکالا گیا ہے؛ کیونکہ تو خاک ہے اور خاک ہی میں پھر لوٹ جائے گا۔ 10
حضرت ابو موسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم
کو جنّت سے زمین پر اتارا تو انہیں ہر چیز بنانے کا طریقہ سکھایا، اور جنّت کے چند پھل بطور عطیہ مرحمت فرمائے۔ یہ زمینی پھل دراصل جنّت کے پھلوں میں سے ہیں لیکن ان میں فرق یہ ہے کہ زمین کے پھل خرابی و فنا سے دوچار ہو جاتے ہیں، جبکہ جنّت کے پھل کبھی خراب نہیں ہوتے۔ 11 من جملہ اللہ ربّ العزّت نے حضرت آدم
کو بے شمار عظمتوں اور خصوصیات سے نوازا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کواپنے دستِ قدرت سے تخلیق فرمایا۔ فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم
کو سجدۂ تعظیمی کریں۔ آپ کو جنّت میں سکونت عطا فرمائی۔ زمین پر نبوت کے منصب کے لیے انہیں منتخب فرمایا۔ بنی آدم کی حیثیت سے ان کی اولاد کی تکریم کی۔ آپ کو تمام اسماء کی تعلیم دی، جو ملائکہ بھی نہیں جانتے تھے۔ انہیں پہلا نبی بنایا۔ ان کی نسل سے انبیاء و مرسلین، صدیقین، شہداء اور اولیاء کو پیدا فرمایا۔ تاریخی روایات کے مطابق حضرت آدم
نے ایک ہزار برس کی عمر پائی۔ 12
غرض حضرت آدم
جہاں تمام انسانیت کے جدِّ امجد ہیں، وہیں خالقِ کائنات نے آپ کو بے شمار پہلوؤں سے نوعِ انسانی پر فضیلت بھی عطا فرمائی۔ تمام انبیائے کرام اور رسلِ عظام
جو ہدایت و رشد کے چراغ لے کر دنیا میں مبعوث ہوئے، ان کی جسمانی نسبت بھی اسی برگزیدہ انسان سے ملتی ہے۔قرآنِ کریم اور دیگر آسمانی صحائف میں حضرت آدم
اور ان کی نبوت کا ذکر تو موجود ہے، لیکن ان پر نازل ہونے والے صحیفوں کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ بعض احادیثِ نبویہ
اور تاریخی کتب میں ان صحیفوں کا اجمالی تذکرہ ملتا ہے؛ چنانچہ امام طبری کے مطابق حضرت آدم
پر دس صحیفے نازل کیے گئے۔ تاہم ان صحیفوں کا اصل متن، ان کے مضامین اور ان میں موجود تفصیلات ہمارے پاس محفوظ نہیں ہیں۔ اسی بنا پر حضرت آدم
کی جانب منسوب وہ بشارات جو نبی اکرم
کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں، براہِ راست آپ پر نازل ہونے والے صحائف سے نہیں بلکہ دیگر بائبلی اور تاریخی مآخذ کی روشنی میں نقل کی جائیں گی۔