حضرت ابراہیم
تاریخِ انسانیت کی وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں جنہیں قرآنِ کریم نے توحید، وفاداری، حلم، استقامت اور کامل اطاعتِ الہٰی کا روشن نمونہ قرار دیا ہے۔ آپ
کی سیرت صرف ایک فردِ واحد کی دعوتی جدوجہد نہیں بلکہ شرک، بت پرستی، مظاہر پرستی اور جابر سیاسی اقتدار کے مقابلے میں دینِ حنیف کی فکری، عملی اور تہذیبی بنیادوں کا اعلان ہے۔ آپ
نے اپنی قوم کو بتوں، ستاروں اور انسانی خدائی کے باطل تصورات سے نکال کر اس ربِ حقیقی کی طرف متوجہ کیا جو آسمانوں اور زمین کا خالق، مالک اور مدبر ہے۔ اس مضمون میں اسلامی مصادر، قرآنی آیات، تاریخی روایات اور تورات کے بیانات کی روشنی میں حضرت ابراہیم
کے اسم، نسب، جائے ولادت، دعوتِ توحید، نمرود سے مناظرہ، آتشِ نمرود، ہجرت، عائلی زندگی اور فضائل و خصائل کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ حضرت ابراہیم
کی زندگی ہر دور کے اہلِ ایمان کے لیے عقیدہ، دعوت، قربانی اور استقامت کا جامع اسوہ ہے۔
حضرت ابراہیم
کے اسم گرامی کے بارے میں مختلف آراء منقول ہیں۔ بعض اہلِ لغت کے نزدیک یہ سریانی لفظ ہے جو "اب رحیم" سے مرکب ہے، یعنی مہربان باپ۔ دوسری رائے کے مطابق یہ عبرانی لفظ ہے جو "اب رہام" سے مرکب ہے، "اب" بمعنی باپ اور "رہام" بمعنی جمہور یا کثرت ہے، یعنی قوموں کا باپ۔ بعض محققین کے نزدیک یہ عجمی (غیر عربی) لفظ ہے جسے عربی میں اسی حالت میں استعمال کیا گیا۔ ایک اور قول یہ ہے کہ یہ برہمۃ (بمعنی دقّتِ نظر) سے مشتق ہے۔ 1
کی جائے ولادتاسی طرح آپ
کی جائے ولادت کے بارے میں بھی کئی اقوال ہیں۔ بعض مؤرخین کے نزدیک اہوازمیں سوس کے مقام پر پیدا ہوئے جبکہ بعض کے نزدیک کوثی، مقامِ ورکاء یا حران میں پیدا ہوئے۔ 2 صحیح قول کے مطابق آپ
بابل میں پیدا ہوئے۔ 3
کا نسباسلامی مؤرخین کے مطابق حضرت ابراہیم
کا نسب حضرت نوح
تک یوں پہنچتا ہے: ابراہیم (
) بن تارخ بن ناخور بن ساروغ بن ارغو بن فالغ بن غابر بن شالخ بن قينان بن ارفخشذ بن سام بن نوح (
)۔ 4 ابن خلدون کے مطابق یہ تمام عبرانی نام ہیں جو تورات سے ماخوذ ہیں۔ ان کے حروف کاعربی مخارج سے مختلف ہونے کے باعث ان کےتلفظ میں تبدیلی آجاتی ہے۔ اسی وجہ سے ان ناموں کی ادائیگی اور نقل میں اختلاف پایا جاتا ہے، 5 حالانکہ اصولاً اسماء میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔
اور اُن کی قوم کے احوالحضرت ابراہیم
نمرود بن کنعان بن کوش کے زمانے میں پیدا ہوئے۔ 6 نمرود بن کنعان کے دور میں بت پرستی اپنے عروج پر تھی۔ لوگ بتوں کے مجسمے بناتے اور انہیں مندروں و معابد میں نصب کرتے، اور ان کے لیے سالانہ تہوار مناتے۔ ان معابد کے اخراجات کے لیے بہت سی زمینیں اور دولت وقف کر دی جاتی تھیں، اور یہ سب کام مذہبی عبادات کے طور پر کیے جاتے تھے۔ لوگ توحید سے اس حد تک ناواقف تھے کہ حکمرانوں کو خدا سمجھ بیٹھے تھے۔ 7 اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم
کو بچپن ہی سے رشد وہدایت اور فہم وفراست سے نوازا، اور اپنی قوم پر آپ
کو حجت عطا فرمائی۔ 8 جب آپ
40 سال کی عمر کو پہنچے اور دعوت وتبلیغ پر قادر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ
کو نبوت کے عظیم منصب سے سرفراز فرمایا اور دینِ حق کی تبلیغ کا فریضہ سونپا۔ آپ
نے اپنی قوم کو بت پرستی، ستارہ پرستی اور دیگر مظاہر پرستی سے باز رہنے کی تعلیم وتلقین شروع کی۔ 9 قرآنِ کریم حضرت ابرہیم
کی اس حقیقت بیّن اور بصیرت افروز رشدوہدایت کا اس طرح ذکر کرتا ہے:
وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ 51إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ 52 قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ 53 قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ 54قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ 55 قَالَ بَلْ رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَى ذَلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ5610
اور بیشک ہم نے پہلے سے ہی ابراہیم () کو ان کے (مرتبہ کے مطابق) فہم و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم ان (کی استعداد و اہلیت) کو خوب جاننے والے تھے۔ جب انہوں نے اپنے باپ (چچا) اور اپنی قوم سے فرمایا: یہ کیسی مورتیاں ہیں جن (کی پرستش) پر تم جمے بیٹھے ہو۔وہ بولے: ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی پرستش کرتے پایا تھا۔ (ابراہیم
نے) فرمایا: بیشک تم اور تمہارے باپ دادا (سب) صریح گمراہی میں تھے۔ وہ بولے: کیا (صرف) تم ہی حق لائے ہو یا تم (محض) تماشا گروں میں سے ہو۔ (ابراہیم
نے) فرمایا: بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان (سب) کو پیدا فرمایا اور میں اس (بات) پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔
کی دعوتحضرت ابراہیم
اپنی قوم کو مسلسل دعوتِ حق دیتے رہے۔ آپ
انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ان سے مناظرے کرتے، اور فطری و منطقی دلائل کے ذریعے ان کے سامنے یہ حقیقت واضح فرماتے کہ ربوبیت کا حق صرف اسی ذات کو زیبا ہے جو ربّ العالمین ہے، زمین و آسمان، علوی و سفلی تمام کائنات کا خالق و مالک ہے۔ جب قوم عناد میں مسلسل ڈٹی رہی اور انکار پر قائم رہی توآپ
نے عملی طور پر ان کے بتوں کو توڑ کر انہیں یہ واضح پیغام دیا کہ یہ بے جان مورتیاں اپنے دفاع کی بھی طاقت نہیں رکھتیں، چہ جائیکہ کسی انسان کو نفع یا نقصان پہنچا سکیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ 58قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ 59قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ 60 قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ 6111
پھر ابراہیم () نے ان (بتوں) کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سوائے بڑے (بُت) کے تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں۔ وہ کہنے لگے: ہمارے معبودوں کا یہ حال کس نے کیا ہے؟ بیشک وہ ضرور ظالموں میں سے ہے۔ (کچھ) لوگ بولے: ہم نے ایک نوجوان کا سنا ہے جو ان کا ذکر (انکار و تنقید سے) کرتا ہے اسے ابراہیم
کہا جاتا ہے۔ وہ بولے: اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ (اسے) دیکھ لیں۔
کا نمرود سے مناظرہجب اس دور کے کاہنوں اور سرداروں تک یہ خبر پہنچی کہ ابراہیم (
) نے ان کے معبودانِ باطلہ کو پاش پاش کردیا ہے، تو ان کے چہروں پر غیظ و غضب کی لالی دوڑ گئی۔ طیش میں آکر انہوں نے ابراہیم کوبھرے مجمع میں بلایا، اوران سے بازپرس کرنے لگے۔ مگر ابراہیم
نہایت وقار اورمتانت کے ساتھ ہر سوال کا ایسا عقلی اور تسلی بخش جواب دیتے رہے کہ وہ لاجواب ہوکر ایک دوسرے کا چہرہ تکتے رہے۔ ابھی یہ مناظرے اور ان کے مشورے ہو ہی رہے تھے کہ بادشاہ نمرود تک بھی یہ باتیں پہنچ گئیں۔ نمرود محض ایک بادشاہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ دیوتا اور خدا کی مانند اپنی رعایا پر حکمرانی کرتا تھا۔ لوگ اسے بھی دوسرے باطل دیوتاؤں کی طرح اپنا معبود مانتے اور اس کی پرستش کیا کرتے تھے۔ نمرود نے حضرت ابراہیم
کو اپنے دربار میں بلایا اور ان سے مناظرہ کیا، مگر ابراہیم
نے نہایت حکمت و متانت کے ساتھ اس کے تمام دلائل کو ایسا باطل کردیا کہ وہ بیچارہ ہکا بکا رہ گیا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ25812
(اے حبیب!) کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس وجہ سے کہ ﷲ نے اسے سلطنت دی تھی ابراہیم () سے (خود) اپنے رب (ہی) کے بارے میں جھگڑا کرنے لگا، جب ابراہیم (
) نے کہا: میرا رب وہ ہے جو زندہ (بھی) کرتا ہے اور مارتا (بھی) ہے، تو (جواباً) کہنے لگا: میں (بھی) زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں، ابراہیم (
) نے کہا: بیشک ﷲ سورج کو مشرق کی طرف سے نکالتا ہے تُو اسے مغرب کی طرف سے نکال لا! سو وہ کافر دہشت زدہ ہو گیا، اور ﷲ ظالم قوم کو حق کی راہ نہیں دکھاتا۔
آگ میںبادشاہ اور اس کی قوم بجائے اس کے کہ ابراہیم
کی بات مان لیتے اور حق کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیتے، قبولِ حق سے مزید منحرف ہو گئے۔ بلکہ اس کے برعکس، اپنی ندامت اور عاجزی کے احساس کو چھپانے کے لیے شدید غیظ و غضب میں آگئے۔ چنانچہ بادشاہ سے لے کر رعایا تک سب نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کر لیا کہ دیوتاؤں کی توہین اور آبائی دین کی مخالفت کے جرم میں ابراہیم
کو دہکتی ہوئی آگ میں جلایا جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی حفاظت فرمانی تھی چنانچہ جب ابراہیم
کو آگ میں ڈالا گیا، تو قدرتِ الٰہی کے حکم سے فوراً آگ گلزار بن گئی، اور دشمنانِ حق آپ کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا سکے۔ یوں خلیل اللہ کی سچائی پر ربّ العالمین کی نصرت کی مُہر ثبت ہو گئی، اور باطل کی ساری قوتیں بےبسی و رسوائی کے اندھیروں میں ڈوب گئیں۔ قرآن کریم میں یہ واقعہ کچھ یوں ذکر ہے:
قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ 68قُلْنَا يَانَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ 69 وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ7013
وہ بولے: اس کو جلادو اور اپنے (تباہ حال) معبودوں کی مدد کرو اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو۔ ہم نے فرمایا: اے آگ! تو ابراہیمپر ٹھنڈی اور سراپا سلامتی ہو جا۔ اور انہوں نے ابراہیم (
) کے ساتھ بری چال کا ارادہ کیا تھا مگر ہم نے انہیں بری طرح ناکام کردیا۔
کی ہجرتجب اللہ تعالی نے دشمنوں کے ارادوں کو ذلیل ورسوا کرکے حضرت ابراہیم
کو بچا لیا تو حضرت ابراہیم
نے ارادہ کیا کہ کسی دوسری جگہ جاکر پیغام الہی سنائیں اور دعوت حق پہنچائیں۔ یہ سوچ کرحضرت ابراہیم
نے اپنی قوم سے ہجرت فرمائی اور فرات کے غربی کنارہ کے قریب ایک بستی (کلدانیین) میں چلے گئے۔ یہاں کچھ عرصہ قیام کیا جہاں حضرت لوط
اور حضرت سارہ
آپ
کے ہم سفر رہے۔ پھر کچھ دنوں کے بعد آپ
یہاں سے حران / حاران کی جانب روانہ ہوگئے اور وہاں دین حنیف کی تبلیغ شروع کردی۔ 14 اور پھر آپ
ایک مقام سے دوسرے مقام تک ہجرت کرتے کرتے فلسطین اور پھر مصر پہنچے۔
کی عائلی زندگیحضرت ابراہیم
کی پہلی شادی حضرت سارہ
سے ہوئی جو آپ
کے چچا ہاران کی بیٹی تھیں۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وہ حران کے بادشاہ کی بیٹی تھیں۔ 15 دوسری شادی حضرت ہاجرہ
سے ہوئی جو بادشاہ مصر نے سارہ کو تحفے میں دی تھیں۔ امام بخاری
تعلیقاً حضرت ابوہریرہ
کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم
نے سارہ (
) کی معیت میں ہجرت کی اور ایک قریہ (گاؤں) میں داخل ہوگئے جہاں کے بادشاہ نے سارہ (
) کو حضرت ہاجرہ
ہدیہ میں دیں۔ 16 قریہ سے مراد مصر ہے اور اس کے بادشاہ کے نام کے حوالے سے دو اقوال ہیں: ایک یہ کہ اس کا نام عمرو بن امریٔ القیس تھا۔ دوسرا یہ کہ اس کا نام صادوق تھا۔ 17 اللہ تعالی نے حضرت ہاجرہ
کو اسماعیل عطا کئے جبکہ اس وقت ابراہیم
کی عمر 99 سال تھی۔ 18 اورحضرت سارہ
تقریبا 90 سال تک بانجھ رہی، پھر اللہ تعالی نے انہیں اسحاق
عطافرمائے۔19 اسلامی مؤرخین کہتے ہیں کہ سارہ
کی وفات کے بعد ابراہیم
نے قطورا نامی عورت سے شادی کی جن سے آپ
کے 6 بیٹے پیدا ہو ئے، اور پھر آپ
نے حجين یا حجون بنت اہيب سے شادی کی جن سے آپ
کے5 بیٹے پیدا ہوئے۔ 20 حضرت ابراہیم
اپنی زندگی دعوتِ حق اور توحید کاپیغام پہنچانے میں گزار کر انتقال فرما گئے۔ وفات کے وقت آپ
کی عمر مبارک 200 سال تھی۔ بعض روایات میں ہے کہ بوقتِ وفات آپ
کی عمر 175 سال تھی۔ آپ
حبرون کے مقام پر حضرت سارہ
کی قبر کے قریب مدفون ہوئے۔ 21
کا تذکرہتورات کے اسفار میں بھی حضرت ابراہیم
کا ذکر ان کی زندگی کے اہم پہلوؤں کے حوالے سے ملتا ہے، جیسے ان کا نام و نسب، پیدائش، ازواج اور اولاد، دعوت وہجرت اور وفات وغیرہ۔ ذیل میں ابراہیم
کی سیرت تورات کے سفر پیدائش سے نقل کی جاتی ہے:
جب تارح 70 برس کا ہوا تو اس کے یہاں ابرام (ابراہیم)، نحور اور حاران پیدا ہوئے۔ 22 ابرام اور نحور نے اپنا بیاہ کرلیا۔ ابرام کی بیوی کا نام سارَی اور نحور کی بیوی کا نام مِلکاہ تھا۔ وہ حاران کی بیٹی تھی جو مِلکاہ اور اِسکہ دونوں کا باپ تھا۔ اور سارَی بانجھ تھی، اس کے یہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ 23 خداوند نے ابرام سے کہا: تو اپنے وطن، اپنے لوگوں اور اپنے باپ کے گھر سے روانہ ہو، اور اس ملک میں چلا جا جو میں تجھے دکھاؤں گا۔ 24 لہذا ابرام خداوند کے کہنےکے مطابق چل دیا، اور لوط (علیہ السلام) اس کے ساتھ گیا۔ جب ابرام حاران سے روانہ ہوا تو وہ 75 برس کا تھا۔ وہ اپنی بیوی سارَی، اپنے بھتیجے لوط، اپنا جمع کیا ہوا مال ومتاع اور ان لوگوں کو جو انہیں حاران میں مل گئے تھے، ساتھ لے کر کنعان کے ملک روانہ ہوگیا اور وہ سب وہاں پہنچ گئے۔ ابرام اس ملک سے سفر کرتا ہوا اِسکم میں اس مقام پر پہنچا جہاں مورہ کا شاہ بلوط کا درخت تھا۔ ان دنوں اس ملک میں کنعانی لوگ رہتے تھے۔ 25 پھر وہاں سے کوچ کرکے وہ ان پہاڑوں کی طرف گیا جو بیت ایل کے مشرق میں ہیں اوراس جگہ خیمہ زن ہوا جس کے مغرب میں بیت ایل اور مشرق میں عَی ہے۔ وہاں اس نے خداوند کے لیے ایک مذبح بنایا اور خداوند سے دعا کی۔ اور ابرام وہاں سے کوچ کرکے جنوب کی طرف بڑھتا گیا۔ ان دنوں اس ملک میں قحط پڑا اور ابرام مصر چلاگیا تاکہ کچھ عرصہ وہاں رہے کیونکہ قحط نہایت شدید تھا۔ 26 جب ابرام مصر میں پہنچا تو مصریوں نے دیکھا کہ وہ عورت (سارَی) نہایت ہی خوبصورت ہے۔ اور جب فرعون کے امراء نے اسے دیکھا تو انہوں نے فرعون سے اس کی تعریف کی اور اسے اس کے محل میں پہنچا دیا۔ فرعون نے سارَی کی خاطر ابرام کے ساتھ نہایت نیک سلوک کیا اور ابرام کو بھیڑ بکریاں، گائے بیل، گدھے گدھیاں، غلام اور کنیزیں اور اونٹ حاصل ہوئے۔ 27 چنانچہ ابرام اپنی بیوی اوراپنے سارے مال و اسباب سمیت مصر سے کنعان کے جنوب کی طرف روانہ ہوا، اور لوط کے ساتھ گیا۔ ابرام مویشی اور سونا چاندی پا کر بہت مالدار ہوگیا تھا۔ پھر وہ کنعان کے جنوب سے سفر کرتا ہوا بیت ایل میں اس مقام پر پہنچا جہاں پہلے بیت ایل اور عَی کے درمیان اس کا ڈیرا تھا۔ 28 ابرام کی بیوی سارَی کی کوئی اولاد نہ ہوئی لیکن اس کی ایک مصری خادمہ تھی جس کا نام ہاجرہ تھا۔ چنانچہ سارَی نے ابرام سےکہا: خداوند نےمجھے تو اولاد سے محروم رکھا ہے لیکن تو میری خادمہ کے پاس جا، شاید اس سے میرا گھر آباد ہوجائے۔ ابرام نے سارَی کی بات مان لی۔ ابرام کو ملک کنعان میں رہتے ہوئے 10 برس گزر چکے تھے تب اس کی بیوی سارَی نے اپنی مصری خادمہ کو اپنے خاوند کے سپرد کردیا تاکہ وہ اس کی بیوی بنے۔ وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی۔ 29 ابرام سے ہاجرہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، اور ابرام نے اس بیٹے کا نام جو ہاجرہ سے پیدا ہوا تھا اسماعیل رکھا۔ جب ابرام سے ہاجرہ کے ہاں اسماعیل پیدا ہواتب ابرام 86 برس کا تھا۔ 30 (جب ابرام 99 برس کا ہوا تب خداوند نے کہا) اب سے تو ابرام نہ کہلائے گا بلکہ تیرا نام ابرہام ہوگا کیونکہ میں نے تجھے کئی قوموں کا باپ ٹھہرایا ہے۔ 31 سارَی جو تیری بیوی ہے اسے اب سے سارَی کہہ کر مت پکارنا، اس کا نام سارہ ہوگا۔ 32 خداوند نے کہا: بے شک تیری بیوی سارہ کو تجھ سے بیٹا ہوگا اور تو اس کا نام اضحاق رکھنا۔ 33 اور خداوند، جیسا کہ اس نےکہا تھا، سارہ پر مہربان ہوا اور خداوند نےسارہ کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا۔ سارہ حاملہ ہوئی اور ابرہام کے لیے اس کے بڑھاپے میں ٹھیک خدا کے مقررہ وقت پر اس کے ہاں بیٹا ہوا۔ اور ابراہام نے اپنے اس بیٹے کا نام جو سارہ سے پیدا ہوا، اضحاق رکھا۔ اور جب اس کا بیٹا اضحاق آٹھ دن کا ہوا تب ابرہام نے خدا کے حکم کے مطابق اس کا ختنہ کیا۔ جب اس کے ہاں اس کا بیٹا اضحاق پیدا ہوا تب ابرہام 100 برس کا تھا۔ 34 سارہ کی عمر 127 برس کی ہوئی۔ اس نے ملک کنعان کے قریب (یعنی حبرون) میں وفات پائی اور ابرہام سارہ کے لیے ماتم اور نوحہ کرنے وہاں گیا۔ 35 ابرہام نے ایک اور بیوی کی جس کا نام قطورہ تھا۔ اور اس سے زمران، یقسان، مدان، مدیان، اسباق اور رسوخ پیدا ہوئے۔ 36 ابرہام کی کل عمر 175 برس کی ہوئی، تب ابرہام نے آخری سانس لی اور عین بڑھاپے میں نہایت ضعیف اور پوری عمر کا ہو کر وفات پائی اور اپنے لوگوں میں جا ملے۔ اور اس کے بیتے اضحاق اور اسماعیل نے مکفیلہ کےغار میں جو ممرے کے نزدیک حتّی صحر کے بیتے عفرون کے کھیت میں ہے، اسے دفن کیا۔ اس کھیت کو ابرہام نے حتّیوں سے خریدا تھا۔ وہیں ابرہام اور اس کی بیوی سارہ دفن ہوئے۔ 37
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم
کو بے شمار اعلیٰ صفات اور فضائل سے ممتاز فرمایا تھا۔ آپ
کی خصوصیات وکمالات بے مثال تھے ۔ 38 اللہ تعالی آپ
کے اوصاف حمیدہ ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ 120 شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ 121وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ12239
بیشک ابراہیم( تنہا ذات میں) ایک اُمت تھے، اللہ کے بڑے فرمانبردار تھے، ہر باطل سے کنارہ کش (صرف اسی کی طرف یک سُو) تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ اس (اللہ) کی نعمتوں پر شاکر تھے، اللہ نے انہیں چن (کر اپنی بارگاہ میں خاص برگزیدہ بنا) لیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما دی۔ اور ہم نے اسے دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرمائی، اور بیشک وہ آخرت میں (بھی) صالحین میں سے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم
کو اپنا خلیل بنایا۔ 40 انسانیت کے لیے اسوہ حسنہ (بہترین نمونۂ عمل) قرار دیا۔ 41 قرآن مجید نے جب آپ
کا ذکر فرمایا تو آپ
کو صدیقاً نبیّا ( یعنی سچے نبی) کے لقب سے یاد کیا۔ 42 مزید آپ
کی مدح میں فرمایا کہ آپ
بڑے متحمل مزاج، آہ و زاری کرنے والےو ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ 43 اللہ تعالیٰ نے آپ
کو مختلف کلمات اور سخت امتحانات کے ذریعے آزمایا، اور آپ
نے ہر آزمائش کو کامل اطاعت اور صبر کے ساتھ پورا کیا۔ 44 اسی وفاداری اور استقامت کے باعث قرآنِ کریم میں آپ
کی صفتِ وفا کا ذکر کیا گیا ہے کہ آپ
وہ ہستی ہیں جنہوں نے اللہ کے ہر حکم کی کامل اطاعت کی اور اپنے رب کے عہد کو پوری طرح نبھایا۔ 45
مذکورہ تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم
کی حیاتِ مبارکہ توحید کی دعوت، باطل کے رد، اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد اور دینی استقامت کا ایک مکمل باب ہے۔ آپ
نے قوم کی موروثی بت پرستی، نمرود کا دعویٰ خدائی، اجتماعی مخالفت، ہجرت کی مشقت اور عائلی آزمائشوں کے باوجود اپنے رب کے حکم سے انحراف نہ کیا۔ قرآنِ کریم نے اسی لیے آپ
کو "صدیق نبی"، "خلیل اللہ" اور انسانیت کے لیے اسوہ قرار دیا ۔ اسی عظیم سلسلۂ توحید و ہدایت کا ایک نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم
کی دعا، دعوت اور ذریت کے باب میں خاتم الانبیاء حضرت محمد
کی بعثت کی بشارت کے طورپربھی موجود ہے۔ یوں آپ
کی سیرت صرف ماضی کی ایک جلیل القدر نبوی تاریخ نہیں بلکہ بعثتِ محمدی
کے لیے ایک تمہیدی، روحانی اور نسبی پس منظر بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ اور اس سے متعلقہ بشارات "بشارات ابراہیم
" کے مقالہ میں تفصیل سے بیان کی جائیں گی۔