encyclopedia

بشاراتِ حضرت یعقوب علیہ السلام – ایک تحقیقی مطالعہ

Published on: 22-Jun-2026
بشاراتِ حضرت یعقوب علیہ السلامتعارفحضرت یعقوب علیہ السلام تمام آسمانی مذاہب کے ماننے والوں کے نزدیک نبیِ برحق ہیں۔ آپ علیہ السلام نے حضرت محمد ﷺ کے تشریف لانے کی بشارت دی جو تورات، انجیل اور دیگر مذہبی مصادر میں مذکور ہیں۔پہلی بشارتحضرت یعقوب علیہ السلام کے خواب، پانچ درجوں والی سیڑھی اور امتِ اسماعیل کی فضیلت سے متعلق روایات میں نماز اور نبی آخر الزمان ﷺ کی آمد کو بیان کیا گیا ہے۔دوسری بشارت (شیلوہ)سفرِ پیدائش میں مذکور لفظ شیلوہ (Shiloh) کی لغوی، تاریخی اور تفسیری تحقیق پیش کی گئی ہے۔ مختلف علماء کی آراء کی روشنی میں اس کا مصداق جناب رسول اللہ ﷺ کو قرار دیا ہے۔اہلِ کتاب کی تفاسیرسابق یہودی و عیسائی علماء، مثلاً سعید بن حسن اسکندرانی، عبدالسلام مہتدی اور عبدالاحد داؤد کی تشریحات اور ان کے دلائل حضور ﷺ کی آمد کی بشارت دیتے ہیں۔نتیجہحضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارات کا مکمل مصداق رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ تاریخی، لسانی اور مذہبی شواہد اس موقف کی مکمل تائید کرتے ہیں۔

حضرت یعقوب Alaihis Salam تمام آسمانی مذاہب کے ماننے والوں کے نزدیک نبیِ برحق ہیں۔ تورات میں متعدد مقامات پر آپ Alaihis Salam کا اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ذکر ملتا ہے، جو اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آپ Alaihis Salam اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور منتخب رسول تھے۔ سفر پیدائش میں ہے کہ حضرت یعقوب Alaihis Salam کے فدّان ارام سے لوٹنے کے بعد خدانے ان سے کہا :

میں خدائے قادر مطلق ہوں۔ تو برومند ہو اور بڑھتا چلا جا، تجھ سے ایک قوم بلکہ قوموں کا ایک گروہ ہوگا اور تیری نسل سے بادشاہ پیدا ہوں گے، جو ملک میں نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کو دیا وہ تجھے بھی دے رہا ہوں اور میں یہ ملک تیرے بعد تیری نسل کو بھی دوں گا۔ تب خدا جس جگہ اس سے ہمکلام ہوا وہیں سے اس کے پاس سے اوپر چلا گیا۔1

انجیل میں اگرچہ یعقوب Alaihis Salam کی نبوت کا ذکر صراحتاً نہیں ملتا ہے لیکن عیسائیوں کے نزدیک بھی آپ Alaihis Salam مقدس، محترم اور بزرگ شخصیات میں سے تھے۔ اعمال رسل میں ہے:

خدا نے ابراہیم (علیہ السلام) سے ایک عہد باندھا جس کا نشان ختنہ تھا۔ چنانچہ جب اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوا اور 8 دن کا ہوگیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کا ختنہ کیا۔ پھر اسحاق (علیہ السلام) سے یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوا اور یعقوب (علیہ السلام) سے ہماری قوم کے 12 قبیلوں کے بزرگ پیدا ہوئے۔2

جبکہ قرآن کریم کی رو سے نہ صرف آپ Alaihis Salamحضرت ابراہیمAlaihis Salam کی اولاد میں سے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ Alaihis Salam کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا تھا۔3 لہٰذا آپ Alaihis Salam کی پیش کردہ بشارتیں نہ صرف اہلِ اسلام کے لیے رہنمائی اور دلیل ہیں بلکہ اہلِ کتاب کے لیے بھی روشن و براہین کا درجہ رکھتی ہیں۔

پہلی بشارت

تورات کے بیان کے مطابق حضرت اسحاق Alaihis Salam نے اپنے فرزند حضرت یعقوبAlaihis Salam کو تاکید فرمائی کہ وہ کسی کنعانی لڑکی سے بیاہ نہ کریں۔4چنانچہ حضرت یعقوب Alaihis Salam نے اپنے والد کے حکم کی تعمیل میں اپنے ماموں لابان کے قبیلے کی طرف، جو فدانِ ارام میں آباد تھے، سفر کا ارادہ کیا۔ وہ بئر سبع سے حاران کی جانب روانہ ہوئے۔ سفر کے دوران جب ایک مقام پر سورج غروب ہوا اور رات کی تاریکی چھا گئی تو آپ Alaihis Salam نے وہیں قیام کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ رات وہیں گزار سکیں۔ اسی مقام پر حضرت یعقوب Alaihis Salam نیند کی آغوش میں چلے گئے اور ایک عجیب و معنی خیز خواب دیکھا، جس کا ذکر سفرِ پیدائش میں یوں ہے:

رأى حلما، وإذا سلم منصوبة على الأرض ورأسها يمس السماء، وهوذا ملائكة اللّٰه صاعدة ونازلة عليها. وهوذا الرب واقف عليها...5
انہوں (یعقوب Alaihis Salam) نے ایک خواب دیکھا کہ ایک سیڑھی زمین پر نصب تھی، جس کا سرا آسمان کو چھو رہا تھا، اور اس پر اللہ کے فرشتے اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے دکھائی دے رہے تھے۔ اور یہ بھی دیکھا کہ ربِّ کائنات اس سیڑھی کے اوپر جلوہ فرما ہے۔۔۔

حضرت یعقوب Alaihis Salam کے خواب کا اگلا منظر تورات میں یوں وارد ہے:

اور خداوند اس کے پہلو میں کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میں خداوند، تیرے باپ ابرہام (علیہ السلام) کا خدا اور اضحاق (علیہ السلام) کا خدا ہوں۔ میں یہ زمین جس پر تُو لیٹا ہے تجھے اور تیری نسل کو دوں گا۔ تیری نسل خاک کے ذروں کے مانند ہوگی اور تُو مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں پھیل جائے گا۔ زمین کے سب قبیلے تیرے اور تیری نسل کے وسیلہ سے برکت پائیں گے۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تُو جہاں کہیں جائے گا وہاں تیری حفاظت کروں گا اور میں تجھے اس ملک میں واپس لاؤں گا اور جو وعدہ میں نے تجھ سے کیا ہے اسے پورا کرنے تک میں تجھے اکیلا نہ چھوڑوں گا۔ جب یعقوب (علیہ السلام) نیند سے جاگے تو اس نے سوچا کہ ہو نہ ہو خداوند اس جگہ موجود ہے اور مجھے اس کا علم نہ تھا۔6

علمائے یہود و نصاریٰ نے حضرت یعقوب Alaihis Salam کے خواب میں تحریف کرتے ہوئے اس کے اصل مفہوم کو بالکلیہ حذف کردیا، اور اس کی جگہ وہ عہدِ الہٰی پیش کیا جو ان کی خواہشات، آرزوؤں، کینہ اور حسد کے زیادہ موافق اور ہم آہنگ تھا۔ حالانکہ یعقوب Alaihis Salam کو خواب میں جو منظر دکھایا گیا تھا اورخدا تعالیٰ نے ان سے جو گفتگو فرمائی تھی، اسے علمائے اہلِ کتاب نے یکسر نظر انداز کردیا۔ لیکن سابقہ یہودی عالم سعیدبن حسن اسکندرانی (متوفیٰ 698ہجری بمطابق 1298 عیسوی) فرماتے ہیں کہ جب حضرت یعقوب Alaihis Salam اپنے بھائی عیصو سے بھاگ کر حاران کی طرف روانہ ہوئے تو انہوں نے ایک خواب دیکھا۔ وہ لکھتے ہیں:

رأى في منامه سلماً قد نصب من الأرض إلى السماء وله خمس درجات، ورأى في منامه أمة عظيمة صاعدة في ذلك الدرج، والملائكة يعضدونهم وأبواب السماء مفتوحة، فتجلى له ربه قائلا: يا يعقوب، لا تخف، أنا معك أسمع وأرى، تمنّ يا يعقوب. فقال: يا رب، من أولئك الصاعدون في ذلك الدرج؟ فقال اللّٰه له: هم ذرية إسماعيل. فقال: يارب، بماذا وصلوا إليك؟ فقال اللّٰه له: بخمس صلوات فرضتهن عليهم في اليوم والليلة، فقبلوهن وعملوا بهن. 7
اُس (حضرت یعقوب Alaihis Salam) نے خواب میں دیکھا کہ ایک سیڑھی زمین سے آسمان تک نصب ہے جس کے پانچ درجے ہیں، اور اس نے دیکھا کہ ایک عظیم امت اس سیڑھی کے درجوں پر چڑھ رہی ہے، فرشتے ان کی مدد کر رہے ہیں اور آسمان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ پھر اس پر رب تعالیٰ کی تجلی ہوئی اور فرمایا: اے یعقوبAlaihis Salam! ڈرو نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں، میں سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں۔ اے یعقوبAlaihis Salam! مانگو جو تم چاہتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! یہ کون لوگ ہیں جو اس سیڑھی پر چڑھ رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ اسماعیل (Alaihis Salam)کی اولاد ہے۔ اس نے پھر عرض کیا: اے میرے رب! یہ تیرے قریب کیسے پہنچے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس لیے کہ میں نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کیں، انہوں نے انہیں قبول کیا اور ان پر عمل کیا۔

جب حضرت یعقوب Alaihis Salam نیند سے بیدار ہوئے تو انہوں نے اپنی اولاد کو پانچ نمازوں کی تلقین کی۔ اگرچہ تورات میں بنی اسرائیل پر اس صورت میں پانچ نمازوں کی صراحتاً فرضیت مذکور نہیں ملتی، تاہم بنی اسرائیل کے انبیاء Alaihis Salam وعلماء اپنے جدِ امجد حضرت یعقوب Alaihis Salam کی اتباع میں پانچ نمازیں پڑھتے رہے، نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد کی بشارات دیتے رہے اور اس کے منتظر رہے۔ اسی تسلسل میں انبیائے بنی اسرائیل Alaihmus Salam نے یہود کو خبردار کرتے ہوئے امتِ محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی نماز کی صفت بھی بتائی۔8سفر یسعیاہ میں ہے:

فيسكن الذئب مع الخروف، ويربض النمر مع الجدي، والعجل والشبل والمسمن معا...9
بھیڑیا برّے کے ساتھ سکونت اختیار کرے گا، اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ رہے گا، اور بچھڑا، شیر کا بچہ اور خوب پلا ہوا جانور سب اکٹھے رہیں گے۔۔۔

اگرچہ سموأل بن یحییٰ اندلسی (سابق یہودی عالم،شموئیل بن یہوداہ، متوفیٰ 570 ہجری) اس کا معنی کرتے ہیں کہ انبیائے کرام Alaihmus Salamنے ان مثالوں کے ذریعے دینِ مسیح کی عظمت، اس کے ماننے والوں کے سامنے جابروں اور سرکشوں کے سرتسلیم خم کرنے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ 10 تاہم، اس کا اصل معنی وہی ہے جو سعید بن حسن اسکندرانی نے بیان کیا ہے کہ بادشاہ اور فقیر نماز کی صفوں میں ایک ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اسی بنا پر بنی اسرائیل اور ان کے علماء حضرت یعقوب Alaihis Salam کی سنت کی پیروی میں پانچ نمازیں ادا کرتے رہے، جبکہ انبیائے بنی اسرائیل Alaihmus Salam اپنی امتوں کو حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے ظہور کی بشارت دیتے، آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی عظمت و حرمت کا ذکر کرتے، اور یہ تمنا کرتے کہ کاش وہ مبارک زمانہ ان کے اپنے دور میں آ جائے۔ 11

جہاں تک سموأل بن یحییٰ اندلسی کی تفسیر کا تعلق ہے، اگر عیسائیت کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حضرت مسیح Alaihis Salam کی بعثت سے لے کر چوتھی صدی عیسوی تک، جب رومی سلطنت نے عیسائیت کو بطورِ سرکاری مذہب اختیار کیا، نصاریٰ مسلسل ضعف و مغلوبیت کی حالت میں رہے۔ نہ تو اقوامِ عالم ان کے زیرِ نگیں آئیں، اور نہ ہی جابر وسرکش لوگوں نے دینِ عیسائیت کو قبول کیا۔ یہ تاریخی پس منظر اس امر کو واضح کرتا ہے کہ اسکندرانی کی پیش کردہ مثال کی تاویل اور یہ تفسیر کہ اس سے مراد امتِ محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہے، محض ایک فکری احتمال نہیں بلکہ ایک ایسا موقف ہے جس کی تائید خود تاریخ کے مسلمہ حقائق بھی کرتے ہیں۔12

دوسری بشارت

یعقوب Alaihis Salam زندگی کے آخری ایام میں جب بسترِ مرگ پر تھے، انہوں نے اپنے 12 بیٹوں اور ان کے خاندانوں کو اپنے پاس بلایا۔ پھر ہر بیٹے کو برکت کی دعا دی اور اس کی نسل کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی فرمائی۔ یہ بیان وصیتِ یعقوب Alaihis Salam کے نام سے معروف ہے۔ 13اور اسی وصیت میں یعقوب Alaihis Salam نے رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے متعلق بھی بشارت عطا فرمائی۔ چنانچہ سفر تکوین میں ہے کہ یعقوب Alaihis Salam نے اپنے بیٹے یہوداہ کے متعلق فرمایا:

لا يزول قضيب من يهوذا ومشترع من بين رجليه حتى يأتي شيلون وله يكون خضوع شعوب. 14
جب تک شیلوہ نہیں آجاتا، اور تمام قومیں اس کی مطیع نہیں ہو جاتی، تب تک یہوداہ کے ہاتھ سے نہ تو بادشاہی جائے گی، نہ اس کی نسل سے عصائے حکومت موقوف ہوگا۔15

قضیب سے مراد حکمرانوں کی لاٹھی ہے، جسے صولجان بھی کہا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کے قاضی صولجان کو ریاستی منصب اور اختیار کی علامت کے طور پر استعمال کرتے تھے۔16 اور مشترع کا اطلاق راسم، مدبر اور صاحبِ شریعت پر ہوتا ہے۔17 شیلون لفظ عربی کے اس ترجمے میں مذکور ہے جبکہ دیگر تراجم میں شیلون کی جگہ شیلوہ لفظ ہے جیسا کہ اردو ترجمے میں بھی موجود ہے۔ اسی طرح عبرانی نسخوں میں بھی اسی لفظ شیلوہ کا ترجمہ پایا جاتا ہے۔ 18 کنگ جیمز ورژن (King James Version) میں بھی (Shiloh) شیلوہ لفظ مذکورہے۔19

لفظ "شیلوہ" کی تفسیر و معنی کے بارے میں اہلِ کتاب کے علماء آج تک حیران و پریشان ہیں، اور انہوں نے اس کے مختلف معانی و مفاہیم بیان کیے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی راجح تفسیر یہ ہے کہ "شیلوہ" تین الفاظ (شی، ل، وہ )سے مرکب ہے، اور اس کا معنی ہے الذی له یعنی وہ جس کا (حقِ حکومت) ہے۔ 20 اس معنی کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ترجمہ سبعینیہ میں تقریبا ًیہی ترجمہ مذکور ہے۔چنانچہ راہب ابیفانوس مقاری سفر تکوین کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

لا يزول رئيس من يهوذا، ولا مدبر من صلبه، حتى يأتي ما وضع له، وهو انتظار الأمم. 21
یہوداہ (کی نسل ) سے حاکم اور مدبر (صاحبِ شریعت) اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک وہ (ہستی ) نہ آئے جو اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے ، اور تمام اقوام اس کی منتظر ہیں۔

اسی طرح سفرِ حزقیل( Alaihis Salam)سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ کتاب مقدس میں مذکورہے:

خداوند فرماتا ہےمیں اسے (بادشاہت) کو ویران کردوں گا! وہ اس وقت تک بحال نہ کیا جائے گا جب تک کہ اس کا حقیقی مالک نہ آجائے۔ میں اسے اسی کو دوں گا۔22

عربی نسخوں میں یہاں وہی ترجمہ مذکور ہے جو مندرجہ بالا سطور میں ہے: ...حتى يأتي الذي له الحكم فأعطيه إياه .23 یعنی یہاں تک کہ وہ ہستی نہ آئے جس کا حقِ حکومت ہے، میں یہ حکومت اسی کو دوں گا۔

اہلِ کتاب اس عبارت کے الفاظ، بالخصوص لفظ شیلوہ کی تعیین اور اس کے معانی و مفاہیم میں جس طرح اختلاف کا شکار ہیں، اسی طرح اس کے حقیقی مصداق کے تعین میں بھی وہ شدید حیرت اور اضطراب میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ البتہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ یہ آیت یعقوب Alaihis Salam کے بعد آنے والے زمانے میں ایک نبی کی آمد کی بشارت دیتی ہے۔ مگر جس نبی کے متعلق یہ پیشین گوئی ہے، اس میں پھر اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہودیت کے نزدیک اس آیت کا مصداق حضرت داؤد Alaihis Salam ہیں۔24جبکہ عیسائیت حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کو یہوداہ کی نسل سے قرار دیتے ہوئے اس بشارت کا مصداق انہی کو ٹھہراتے ہیں۔ 25 اہلِ اسلام کا مؤقف یہ ہے کہ اس کا صحیح اور حقیقی مصداق اللہ کے آخری نبی، رسولِ اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہیں۔ اور اسی مؤقف کو یہاں مختلف تفاسیر کی روشنی میں واضح اور ثابت کیا جائے گا۔

پہلی تفسیر

مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہوئی کہ قضیب سے مراد حکومت اور عصائےحکومت (صولجان) ہے، اور مشترع سے مراد بنی اسرائیل کے انبیاء Alaihmus Salam اور علماء ہیں، جو لوگوں کو شریعت موسوی کی تعلیم دیتے اور تورات سے احکام استنباط کرتے تھے۔ جبکہ شیلوہ سے مراد وہ منتظر نبی موعود ہے جسے وہ مسیح یامسیا کے لقب سے پکارتے ہیں، اور اس سے مراد نبی اسلام، نبی عربی محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہیں۔ وہ جب تشریف لائیں گے تو تمام اقوام عالم اس کے سامنے سر تسلیم خم کریں گی اور اس کی اطاعت کریں گی۔ اس اعتبار سے بشارت کا مفہوم یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی حکومت زمین پر غالب رہے گی، اور اس حکومت کے سربراہان اور حکمران انہی میں سے ہوں گے۔ اس دوران بنی اسرائیل کے انبیاء Alaihmus Salam اور علماء انہی حکمرانوں کے زیر سایہ لوگوں کو تورات کی تعلیم دیتے رہیں گے۔ یہ سلسلہ اسی وقت تک قائم رہے گا جب تک بنی اسرائیل کے علاوہ کسی اور نسل میں ایک نبی مبعوث نہ ہو، جسے حکومت بھی حاصل ہو اور شریعت بھی۔ اسی نبی کو مذکورہ بشارت میں "شیلوہ" کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس کا حقیقی مصداق رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہیں۔26

اس کی دلیل یہ ہے کہ یعقوب Alaihis Salam نے اپنی اولاد سے یہ فرمایا تھاکہ میں تمہیں وہ حقائق بتاتا ہوں جو تمہیں آخری زمانے میں در پیش ہوں گے۔ 27اور بنی اسرائیل حضرت داؤد Alaihis Salam کے زمانے تک ہی نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کے بعد تک بحیثیت ایک امت کے رہے۔کیونکہ وہ خود یہ دعویٰ کرتےہیں کہ بنی اسرائیل یروشلم کی تباہی تک (سن 70 عیسوی) بحیثیت امت کے متحد رہے، اس کے بعد وہ منتشر ہوگئے۔28 اگر یہودیوں کا یہ قومی وملی امتیاز حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کے بعد بھی قائم تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شیلوہ کا مصداق نہ حضرت داؤد Alaihis Salam ہیں اور نہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam،بلکہ شیلوہ کی آمد اس وقت تک نہیں ہوئی تھی، بلکہ اس کے بعد ہوگی۔ اور عیسیٰ Alaihis Salam کے بعد ایک ہی ہستی اس دنیا میں آئی ہے جو شیلوہ کا مصداق بن سکے اور وہ نبی عربی حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہیں۔ مزید یہ کہ آیت کا جزءِ اخیر ( تمام اقوام ا س کے سامنے سر تسلیم خم کریں گی) بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا مصداق رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہیں ۔ کیونکہ داؤد Alaihis Salam کی حکومت بنی اسرائیل کے علاوہ دیگر اقوام پر قائم نہیں تھی۔ جبکہ عیسیٰ Alaihis Salam نے خود ہی فرمایا تھا:

میں صرف اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس بھیجا گیا ہوں۔29

لہٰذا اس صورت میں ایک ہی نبی ایسا ہے جو یہوداہ کی اولاد کی حکومت کے بعد آئے، جس کی بشارت حضرت ابراہیم Alaihis Salam اور ہاجرہ Alaihas Salam نے دی ہے، 30 اور تمام اقوام نے جس کی تابعداری اور فرمانبرادی کو سعادت سمجھا، جس کا نور سرزمین عرب میں چمکا اوراس نے مشرق ومغرب کو روشن کیا وہ آپﷺ کی ذاتِ گرامی ہی ہے ۔

دوسری تفسیر

مذکورہ بالا بشارت میں حاکم (جس پر ترجمہ سبعینیہ کا لفظ رئیس بھی دال ہے) 31سے مراد موسی Alaihis Salam ہیں ا س لیے کہ آپAlaihis Salam کی شریعت بعض اعتبارات سے سخت اور اجباری تھی اور مشترع ومدبر سے مراد عیسیٰ Alaihis Salam ہے اس لیے کہ آپ Alaihis Salam کی شریعت نہ سخت تھی اور نا اجباری تھی ۔ اور شیلوہ سے مراد رسول اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہیں۔ اور اگر قضیب سے مراد دنیوی سلطنت ہو، اور مدبر ومشترع سے مراد دنیوی حاکم ہو، جیسا کہ فرقہ پروٹسنٹ کے پادریوں کے رسائل اور ان کے بعض تراجم میں ہے تو اس صورت میں بھی نہ ہی شیلوہ سے مسیحِ یہود مراد لینا درست ہے جو یہودیوں کا دعویٰ ہے اور نہ ہی اس کا مصداق حضرت عیسیٰ Alaihis Salam ہیں جو عیسائیوں کا دعویٰ ہے۔ یہود کا دعویٰ اس لیے باطل ہے کہ آلِ یہوداہ سے دنیوی سلطنت اور سیاسی اقتدار بخت نصر کے عہد ہی سے ختم ہو چکا ہے، جسے دو ہزار سال سے زائد عرصہ گزر گیا، مگر اس طویل مدت کے باوجود یہودی جس مسیحِ موعود کے منتظر ہیں، اس کے ظہور کا کوئی نشان تک ظاہر نہیں ہوا۔ عیسائیوں کا دعویٰ ا س لیے باطل ہے کہ یہ دونوں چیزیں خاندانِ یہوداہ سے عیسیٰ Alaihis Salam کی بعثت سے تقریبا 6 سو سال قبل مٹ چکی تھیں، جبکہ بخت نصر نے یہوداہ کی اولاد کو بابل کی طرف جلاوطن کیا اور تقریبا 63 سال تک وہ جلا وطنی میں رہے۔ لہٰذا شیلوہ کا مصداق عیسیٰ Alaihis Salam اس لیے نہیں ہوسکتے کیونکہ آپ Alaihis Salam کے ظہور تک یہوداہ کے خاندان میں بادشاہت ہی نہیں رہی۔اور اگر کوئی یہ کہے کہ سلطنت اور حکومت کے باقی رہنے کا مطلب بشارت میں امتیاز ِقومی ہے تو یہود کی یہ صورتِ حال رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے ظہور تک باقی چلی آرہی تھی۔ چنانچہ ملکِ عرب کے مختلف علاقوں میں ان لوگوں کے بکثرت مضبوط قلعے اور املاک موجود تھیں، اسی طرح یہ کسی کے ماتحت اور مطیع نہیں تھے۔ جیسا کہ خیبر اور دیگر علاقوں کے یہود پر تاریخ شاہد ہے۔ البتہ حضور اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بعثت کے بعد ان یہودیوں پر ذلت ومسکنت مسلط کر دی گئی اور ہر ملک میں دوسروں کی ذلیل رعایا بن گئے ۔ اس لیے شیلوہ کا صحیح اور حقیقی مصداق صرف رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہی ہو سکتے ہیں۔32

تیسری تفسیر

بائبل کے بعض علماء اور شارحین نے شیلوہ کا ایک معنی " امان" بھی کیا ہے۔33 اور اگر اس معنی کی گہرائی پر غور کیا جائے تو یہ بشارت رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے حق میں مزید واضح ہوجاتی ہے۔ چنانچہ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر لفظ "امان" کے حروف کو ابجد کے قاعدے کے مطابق عددی اقدار دی جائیں تو مجموعی قدر وہی بنتی ہے جو نامِ محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے حروف کی عددی مقدار ہے۔ اس طرح دونوں الفاظ کا حسابِ جمّل یا ابجدی حساب ایک ہی نتیجے پرپہنچتاہےجس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

نامابجدی حسابمجموعی تعداد
امانا = 1، م = 40، ا = 1، ن = 5092
محمدم = 40، ح = 8 ، م = 40 ، د = 492

اس اعتبار سے یہ بشارت نہ صرف اشارۃً بلکہ اعداد و حروف کے لحاظ سے بھی پوری طرح حضرت محمد ﷺ پر صادق آتی ہے، اور اس میں کسی دوسرے شخص کی مطابقت نہیں پائی جاتی۔34

عبد السلام مہتدی کی تفسیر

عبد السلام مہتدی ایک یہودی عالم تھے جو سلطان بایزید ثانی کے دور میں اندلس سے ہجرت کر کے دولتِ عثمانیہ کی سرزمین پر آئے تھے۔اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ" خوجہ ایلیا یہودی"کے نام سے مشہور تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام عبدالسلام مہتدی محمدی رکھا۔آپ کی زندگی کا زمانہ سلطان بایزید ثانی سے لے کر سلطان سلیم اوّل کے دور تک پھیلا ہوا ہے۔آپ کا انتقال سن 918 ہجری بمطابق 1512 یا 1513 عیسوی میں ہوا۔ 35بعض حضرات کہتے ہیں کہ آپ سلطان بایزید کے دور حکومت میں دفتردار کی حیثیت سے سرکاری عہدے پر بھی فائز رہے۔ 36 عبدالسلام مہتدی نے رسالہ ہادیہ کے نام سے ایک چھوٹا سے رسالہ لکھا ہے جس میں انہوں نے دیگر بشارات سمیت مذکور بالا بشارت کی اصل عبرانی عبارت، عربی ترجمہ اور لفظ شیلوہ کی تفسیر بیان کی ہے۔ چنانچہ انہوں نے عبرانی عبارت یوں ذکر کی ہے:

ويقْراء يعقوب البانود يومر اليهم هاصفوآء واجيذ لكم اشر يقراء اثكم باحريث هيا ميم لويا سور شبط من يهوده ووحمقق مبين رجلو عذكى يابوشيلو ولو يقهث عميم.
וַיִּקְרָ֥א יַעֲקֹ֖ב אֶל־בָּנָ֑יו וַיֹּ֗אמֶר הֵאָֽסְפוּ֙ וְאַגִּ֣ידָה לָכֶ֔ם אֵ֛ת אֲשֶׁר־יִקְרָ֥א אֶתְכֶ֖ם בְּאַחֲרִ֥ית הַיָּמִֽים. 37 לֹֽא־יָס֥וּר שֵׁ֙בֶט֙ מִֽיהוּדָ֔ה וּמְחֹקֵ֖ק מִבֵּ֣ין רַגְלָ֑יו עַ֚ד כִּֽי־יָבֹ֣א שִׁילֹ֔ה וְל֖וֹ יִקְּהַ֥ת עַמִּֽים. 38

عربی میں اس کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

أخبَر يَعقوب لأولاده وقال لهم: اجتمعوا لأخبركمْ الّذي يعرض لكمْ في آخر الزّمان؛ لا يزول الحاكم من بين يهوديّ ولا راسم من بين رجليه حتى يجيء الّذي له وإليه يجتمع الشعوب.
یعقوب ( Alaihis Salam) نے اپنے بیٹوں کو خبر دی اور ان سے فرمایا: تم سب جمع ہو جاؤ، تاکہ میں تمہیں وہ باتیں بتاؤں جو آخری زمانے میں تم پر پیش آئیں گی۔ یہوداہ سے حاکم (بادشاہ) زائل نہ ہوگا، اور نہ اس کی نسل سے راسم (قانون دینے والا)ختم ہوگا، یہاں تک کہ وہ آ جائے جس کا حق (حکومت) ہے، اور قومیں اسی کے گرد جمع ہوں گی۔

یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ موسیٰ اور عیسیٰ Alaihmas Salamکے بعد محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam تشریف لائیں گے،کیونکہ حاکم سے مراد موسی Alaihis Salam ہیں، اس لیے کہ یعقوب Alaihis Salam کے بعد موسی Alaihis Salamتک کوئی شخص صاحبِ شریعت نہیں آیا۔ اسی طرح راسم (قانون دینے والا) سے مراد عیسیٰ Alaihis Salam ہیں،کیونکہ موسی Alaihis Salam کے بعد عیسیٰ Alaihis Salam تک ان کے سوا کوئی صاحبِ شریعت نہیں آیا۔ اور ان دونوں کے بعد سوائے محمدSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے کوئی بھی صاحبِ شریعت نہیں بنا۔سو یعقوب Alaihis Salam کے قول فی آخر الایام سے معلوم ہوتا ہے کہ ا س کا مصداق پیغمبر اسلام حضرت محمدAlaihis Salam ہیں۔ اس لیے کہ حاکم اور راسم کے حکم ختم ہوجانے کے بعد آخری دور میں سوائے آپ Alaihis Salam کے اور کوئی نہیں آیا۔ نیز اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ لفظ "وہ آجائے جس کے لیے وہ ہے"سے مراد حکم ہے کیونکہ آیت کا سیاق وسباق یہی بتا تا ہے ۔اور لفظ " تمام قومیں اس کی مطیع ہوں گی" اس بات کی صریح اور واضح دلیل ہے کہ ا س کا مصداق یقینا ً حضور اکرم Alaihis Salam ہی ہیں، کیونکہ تمام اقوام آپ Alaihis Salam کے سوا کسی کے جھنڈے کے نیچے جمع نہیں ہوئیں۔39

پروفیسر عبد الاحد داؤد کی تفسیر

عبد الاحد داؤد (1867ء تا 1940ء) کا خاندانی نام ڈیوڈ بنجمن (David Benjamin) تھا۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسی نام کو عربی کے ساتھ بدل کر داؤد بنیامین کر دیا۔ قبولِ اسلام کے بعد انہوں نے اپنے نام کے ساتھ علاقائی نسبت سے کُلدانی بھی جوڑ لیا۔ البتہ مسلمان ہو جانے پر جو اسلامی نام ان کو دیا گیا وہ عبد الاحد ہے، جس کا مقصد ان کے سابقہ عقیدہ تثلیث کی نفی پر زور دینا تھا۔ انہوں نے (Muhammad in the Bible) نامی کتاب لکھی۔ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بائبل کی بہت سی پیشین گوئیاں، جن کو مسیحیوں نے یسوع کے لیے حوالہ کے طور پر سمجھا ہے، حقیقت میں وہ محمدAlaihis Salam کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ عبد الاحد داؤد اپنی کتاب میں لفظ شیلوہ کی تشریح کرنے سے پہلے اصل عبرانی زبان سے اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

The Sceptre shall not depart from Judah, And the Lawgiver from between his feet, Until the coming of Shiloh, And to him belongeth the obedience of peoples. 40
یہودا سے صولجان (عصائے حکومت) نہ زائل ہوگی اور نہ اس کی نسل سے شارع منقطع ہوگایہاں تک کہ شیلوہ آ جائے، اور قوموں کی فرمانبرداری اسی کے لیے ہوگی۔

پروفیسر عبد الاحد داؤد اس آیت میں لفظ شیلوہ (Shiloh) -جیسا کہ کنگ جیمز ورژن (KJV) میں آیا ہے- کی لغوی تحقیق اور تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ لفظ شیلوہ بائبل میں صرف ایک ہی جگہ آیا ہے، اور یہ ش، ل، و، ہ سے مرکب ہے۔ لفظ شیلوہ کے اصل معنی میں تین احتمالات پائے جاتے ہیں:

احتمالِ اول:عہدِ قدیم کے نسخوں میں اگرچہ لفظ شیلوہ کو ویسا ہی رکھا گیا ہے، تاہم سریانی ترجمہ بشیطا (Pshitta) میں اس کا ترجمہ He to whom it belongs یعنی ”وہ جس کا ہے“ کیا گیا ہے اور دراصل مترجم نے یہاں اس لفظ کو دواجزاء میں تقسیم کر کے اس کا ترجمہ کیا ہے۔پہلا جزء "شِ" جوعبرانی لفظ "اشیر" کا مخفف ہے، جس کے معنی " وہ" کے ہیں۔ دوسرا جزء "لوہ" کا مطلب "اس کا" ہے جس کا عربی مترادف لہ ہے۔41 اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یوں ہوگا :

The royal and prophetic character shall not pass away from Judah until he to whom it belongs come, for his is the homage of people. 42
یہوداہ (کی نسل) سے بادشاہت اور نبوت اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک وہ(ہستی) نہ آجائے جس کا اس پر حق ہے، اور قومیں اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گی۔

احتمال ثانی: لفظ شیلوہ شلَہ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے پُرامن، پُر سکون، امانت دار اور قابل اعتماد۔

احتمال ثالث: شیلوہ اصل میں شیلوح تھا (چونکہ حاء اور ہاء میں زیادہ فرق نہیں، خصوصاً عبرانی زبان میں، اس لیے قصداً یا سہواً حاء کو ہاء میں تبدیل کر دیا گیا ہے)۔ اور شیلوح کااسم مفعول شلوح کا ہے جس کا مطلب ہے بھیجا ہوا، رسول، نمائندہ۔ اور اگر واقعی یہ تبدیلی اس لفظ میں کی گئی ہو تو اس صورت میں شیلوح کا اصل شیلواح ہے، جو عربی میں "رسول یاہ" کے مترادف ہے، یعنی اللہ کا رسول۔ اور اس لفظ کا اطلاق صرف حضرت محمد Alaihis Salam پر ہی ہوتا ہے۔43

احتمالِ اول کی تطبیق: احتمالِ اول کے اعتبار سے شیلوہ (Shiloh) کا سریانی ترجمہ یعنی وہ جس کا یہ حق ہے،اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ وہ ہستی جو صولجان (اقتدار) اور شریعت دونوں کی مالک ہو، یا یہ کہ جس کے پاس حاکمیت اور قانون سازی کا اختیار ہو، اور جس کی اطاعت تمام اقوام پر لازم ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ عظیم الشان بادشاہ اور جلیل القدر قانون دینے والا کون ہو سکتا ہے؟

اس میں شک نہیں کہ اس کا مصداق حضرت موسی Alaihis Salam نہیں ہو سکتے ؛ کیونکہ وہ پہلے نبی ہیں جنہوں نے بنی اسرائیل کے 12 قبائل کو منظم کیا جبکہ اس سے قبل یہوداہ کی اولاد میں نہ ہی نبوت تھی اور نہ ہی بادشاہت۔ اور نہ ہی ا س کا مصداق حضرت داؤد Alaihis Salam ہو سکتے ہیں ؛ کیونکہ یہوداہ کی اولاد میں حضرت داؤد Alaihis Salam پہلے نبی ہیں جنہیں بادشاہت دی گئی۔ اور نہ ہی اس کا مصداق حضرت عیسی Alaihis Salam ہیں؛ کیونکہ انہوں نے خود یہود کے اس عقیدے کی تردیدکی کہ مسیحِ منتظرحضرت داؤد Alaihis Salam کی نسل سے ہوگا۔44 علاوہ ازیں عیسی Alaihis Salam نے کوئی تحریری شریعت چھوڑی اور نہ ہی کبھی بادشاہت سنبھالنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ بلکہ انہوں نے یہودیوں کو نصیحت کی کہ قیصر کے مطیع رہو اور اسے ٹیکس ادا کرو۔45 ایک موقع پر جب لوگوں نے انہیں بادشاہ بنانے کی کوشش کی تو وہ وہاں سے نکل کرتنہا پہاڑ کی طرف چلے گئے۔46 انہوں نے اپنا پیغام تحریری طور پر نہیں بلکہ زبانی طور پر سنایا۔47 مزید یہ کہ عیسیٰ Alaihis Salam نے موسیٰ Alaihis Salam کی شریعت کو منسوخ نہیں کیا بلکہ صاف الفاظ میں کہا کہ وہ تو اس کی تکمیل کے لیے آئے ہیں۔ 48اور وہ آخری نبی بھی نہ تھے؛ کیونکہ ان کے بعد پولس خود اپنی کلیسیا میں کئی انبیاء Alaihmus Salam کا ذکر کرتا ہے۔49

اس کے برعکس، رسول عربی حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ایسی شان کے ساتھ تشریف لائے کہ آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے پاس قوتِ اقتدار بھی تھی اور قرآن کی صورت میں کامل شریعت بھی۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے پرانے اور فرسودہ یہودی نظامِ اقتدار اور ناقابلِ عمل شریعت کی جگہ ایک جامع اور قابلِ عمل نظام انسانیت کو دیا۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے توحید کے عقیدے پر مبنی اعلی وبالا دین کی دعوت دی اور انسانیت کے اخلاقی رویوں اور عملی زندگی کے لیے بہترین اصول اور ضوابط بیان فرمائے۔ ان اصول وضوابط پر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اسلام کی بنیاد رکھی جس نے مختلف قوموں اور نسلوں کو یکجا کر کے حقیقی اخوت میں بدل دیا۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے ایسی امت تیار فرمائی جو خدا وحدہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی۔ تمام مسلمان آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی اطاعت کرتے ہیں، آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں،اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو دین متین کا شارع اور بانی مانتے ہیں، مگر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو معبود یا خدائی اوصاف کا حامل نہیں مانتے۔ مزید برآں، آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے یہودی اقتدار کی آخری نشانیوں قریظہ اور خیبر کی ریاستوں کا خاتمہ کر دیا اور ان کے تمام قلعوں اور مضبوط گڑھوں کو تباہ کر دیا۔

احتمالِ ثانی کی تطبیق: لفظ شیلوہ (Shiloh) جس کی آرامی شکل (Shilya) بنتی ہے، جو شلَہ (Shala) سے ماخوذ ہے،جس کے معنی پُر امن، پُر سکون، امانت دار اور قابل اعتماد کے ہیں،اگر اس احتمال کو لیا جائے تب بھی شیلوہ کا صحیح مصداق رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہی ہیں۔ چنانچہ عرب کی تاریخ میں یہ ایک ناقابلِ فرموش حقیقت ہے کہ بعثت سے قبل آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam انتہائی پُرسکون، پُرامن، قابلِ اعتماد، اور دلکش کردار کے مالک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ مکہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو صادق وامین کے لقب سے پکارتے تھے، جبکہ اس وقت اہل مکہ کےخواب و خیال میں بھی شیلوہ کا تصور نہیں تھا، بلکہ وہ اس معنی سے بالکل ناواقف تھے، تاہم اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ناواقفیت کو اہلِ کتاب یہود کے خلاف ایک دلیل کے طور پر استعمال فرمایا، جو اپنی کتابوں سے واقف تھے۔

مزید یہ کہ امین (جو عربی فعل اَمَنَ سےمشتق ہے) اور عبرانی لفظ امن (Aman) دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے، یعنی امانت دار،قابل اعتماد، پرسکون اور وفادار۔ اس لحاظ سے بھی امین اور شیلوہ دونوں میں معنوی ہم آہنگی اور گہرا ربط پایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں، رسول عربی حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam بعثت سےقبل مکہ میں سب سے زیادہ خاموش مزاج، سچے اور امانت دار انسان تھے۔ اس وقت نہ تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam جنگجو تھے اور نہ قانون ساز وشارع تھے۔ لیکن جب آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اعلانِ نبوت فرمایا تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam افصح العرب اور اشجع الناس بن کر سامنے آئے۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اللہ کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جنگ کی، لیکن یہ جنگ ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے تھی۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے دنیا سے بت پرستی کا خاتمہ کیا اور زمین کے بڑے حصے کو توحید کی روشنی سے منور کیا، اور انسانوں کو ایک کامل دین اور بہترین قانون عطا فرمایا۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے بنی اسرائیل سے حکومت اور شریعت کا منصب گویا بنی اسماعیل کی طرف منتقل کیا،حکومت کو مضبوط کیا اور شریعت کو کمال تک پہنچایا۔

احتمالِ ثالث کی تطبیق: جہاں تک لفظ شیلوہ (Shiloh) کی تیسری تفسیر کا تعلق ہے تو اس میں یہ احتمال ہے کہ یہ لفظ شلوحا (Shaluah)کی تحریف شدہ شکل ہو۔ اگر حقیقتاً اس میں یہ تحریف کی گئی ہے تو بلا شبہ یہ لفظ عربی میں لفظ رسول کے لقب کے عین مترادف اور مطابق قرار پاتا ہے، جس کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے۔اور اس کا مطلب وہی ہے جو شلوحا کا ہے، یعنی رسول یا پیغمبر۔ چنانچہ عبرانی ترکیب "شَلوحا الوہیم" (Shaluah Elohim) کا مفہوم وہی ہے جو عربی میں "رسول اللہ "کا ہے، اور یہ اس عربی ترجمہ کو آج بھی دنیا بھر کی مساجد میں مؤذن پانچ وقت اذان میں بلند آواز سے دہراتا ہے۔ قرآن کریم میں متعدد انبیاء Alaihmus Salam ، خصوصاً وہ انبیاء Alaihmus Salam جن پر آسمانی صحائف نازل ہوئے ، ان کے لیے رسول کا لقب ذکر کیا گیا ہے، تاہم عہد قدیم (Old Testament) میں شیلوہ یا شلوحا صرف حضرت یعقوب Alaihis Salam کی وصیت میں ملتا ہے۔

اب کسی بھی زاویہ سے حضرت یعقوب Alaihis Salam کی اس بشارت کابغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس کی مکمل تکمیل حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam پر ہوئی۔ اس لیے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہود بے مقصد کسی دوسرے شیلوہ کے آنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں،اور عیسائی آج بھی اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ شیلوہ عیسیٰ Alaihis Salam تھے، حالانکہ دونوں ہی خیالات حقیقت کے صریح خلاف ہیں۔ 50

مذکورہ بالا ابحاث وتفاسیر سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ جوعصائے حکومت اولادِ یہوداہ کے پاس تھا، بشارتِ یعقوب Alaihis Salam کی رُو سے وہ ان سے چھن جائے گا اور نبی عربی رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے ہاتھ مبارک میں آجائے گا۔ چنانچہ واقعات وحالات نے یہ ثابت کردیا کہ حضرت سلیمان Alaihis Salam کے بعد یہ عصا ہمیشہ کے لیے بنی اسرائیل سے چھن گیا اور آج تک اس کا کوئی وارث نہ ہوا۔ یوں حکومت رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اور آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی امت کے پاس آگئی۔ بلکہ حضرت سلیمان Alaihis Salam کے بعد بنی اسرائیل متفرق ہوگئے اور اس کے بعد کبھی ایک جگہ اکٹھے نہ ہو سکے۔ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam نے بنی اسرائیل کو ایک جگہ اکٹھا کرنے اور ا س منتشر گلہ کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش فرمائی مگر خدا کو ایسا منظور نہ تھا۔ جبکہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے دین پر نصاری، یہود اور دیگر اقوامِ عالم کا کثیر تعداد میں اکٹھا ہو جانا تاریخی واقعات سے ثابت ہے۔ اس طرح پیشگوئی کی دوسری شق کہ "اقوامِ عالم اس کے پاس اکٹھی ہوں گی"پوری ہوگئی۔51


  • 1  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش35: 11-13 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 35)
  • 2  کتابِ مُقدس، رسولوں کے اعمال7: 8 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1102)
  • 3  القرآن، سورة مريم 19: 49
  • 4  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 28: 1(مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 27)
  • 5  الكتاب المقدس، سفر التكوين، 28: 12- 13 (الترجمة البيروتية، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=1&chapter=28
  • 6  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 28: 13- 16 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 27)
  • 7  سعید بن حسن الإسکندرانی، مسالک النظر فی نبوة سید البشر ﷺ (تعريب: الدكتور محمد عبد الله الشرقاوي)، مطبوعة: مكتبة الزهراء، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 57
  • 8  سعید بن حسن الإسکندرانی، مسالک النظر فی نبوة سید البشر ﷺ (تعريب: الدكتور محمد عبد الله الشرقاوي)، مطبوعة: مكتبة الزهراء، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 57- 58
  • 9  الكتاب المقدس، سفر إشعيا 11: 6 (الترجمة البيروتية، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=29&chapter=11)
  • 10  السموأل بن يحيى المغربي، بذل المجهود في إفحام اليهود، مطبوعة: دار القلم، دمشق، السوریۃ، 1989م، ص: 103
  • 11  سعید بن حسن الإسکندرانی، مسالک النظر فی نبوة سید البشر ﷺ (تعريب: الدكتور محمد عبد الله الشرقاوي)، مطبوعة: مكتبة الزهراء، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 58
  • 12  محمد بن عبد الله السحيم، مسلمو أهل الكتاب وأثرهم في الدفاع عن القضايا القرآنية (رسالة الدكتورا)، ج-2، مطبوعة: جامعة الملك محمد بن سعود، الرياض، السعودية، 1413ه، ص: 520- 521
  • 13  عبد الأحد داؤد الآشوري، محمد ﷺ في الكتاب المقدس (تعريب: فهمي شمّا)، مطبوعة: رئاسة المحاكم الشرعية والشؤون الدينية، دولة قطر، 1985م، ص: 77
  • 14  الكتاب المقدس، سفر التكوين 49: 10 (الترجمة البيروتية، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=1&chapter=49)
  • 15  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش49: 10 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 52)
  • 16  مجموعة الأساتذة اللاهوتيين، قاموس الكتاب المقدس، مطبوعة:دار الثقافة ، القاهرة، مصر، د۔ ت ۔ ط، ص: 735
  • 17  الدكتور منقذ بن محمود السقار، هل بشر الكتاب المقدس بمحمد ﷺ؟ مطبوعة: دار الإسلام، القاهرة، مصر، 2007م، ص: 72
  • 18  العهد القديم العبري 49: 10 (الأب بولس الفغالي و الأب أنطوان عوكر، مطبوعة: دكاش، كسروان، لبنان، 2007م، ص: 85)
  • 19  Holy Bible, Genesis 49: 10 (King James Version)
  • 20  مجموعة الأساتذة اللاهوتيين، قاموس الكتاب المقدس، مطبوعة:دار الثقافة ، القاهرة، مصر، د۔ ت ۔ ط، ص: 536
  • 21  الكتاب المقدس، سفر التكوين 49: 10 (الراهب أبيفانوس المقاري، الترجمة السبعينية للكتاب المقدس (يوناني-عربي)، مطبوعة: مطبعة دير القديس أنبا مقار، القاهرة، مصر، 2012م، ص: 348-349)
  • 22  کتابِ مُقدس، سفر حزقی ایل21: 27 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 854)
  • 23  الكتاب المقدس، سفر حزقيال21: 27 (الترجمة البيروتية، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=33&chapter=21)
  • 24  سعد بن منصور ابن كمونة اليهودي، تنقيح الأبحاث للملل الثلاث، مطبوعة: دار الأنصار، بيروت، لبنان، د۔ ت۔ ط، ص: 64
  • 25  قس أسبر عجاج، المسيح مركز النبوات، مطبوعة: نشره موريس سعيد، الإسكندرية، مصر، 2015م، ص: 34
  • 26  الدكتور أحمد حجازي السقا، البشارة بني الإسلام ﷺ في التوراة والإنجيل، ج-1، مطبوعة: دار البيان العربي، القاهرة، مصر، 1977م، ص: 154
  • 27  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش49: 1 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 52)
  • 28  شاهين مكاريوس، تاريخ الإسرائيليين، مطبوعة: مؤسسة هنداوي، القاهرة، مصر، 2012م، ص: 63
  • 29  کتابِ مُقدس، انجیل متی 15: 24 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 988)
  • 30  الدكتور منقذ بن محمود السقار، هل بشر الكتاب المقدس بمحمد ﷺ؟ مطبوعة: دار الإسلام، القاهرة، مصر، 2007م، ص: 73
  • 31  الكتاب المقدس، سفر التكوين 49: 10(الراهب أبيفانوس المقاري، الترجمة السبعينية للكتاب المقدس (يوناني-عربي)، مطبوعة: مطبعة دير القديس أنبا مقار، القاهرة، مصر، 2012م، ص: 348-349)
  • 32  الشيخ محمد رحمت الله بن خليل الرحمن الكيرانوي، إظهار الحق، ج-4، مطبوعة: الرئاسة العامة لإدارات البحوث العلمية والإفتاء والدعوة والإرشاد، الرياض، السعودية، 1989م،ص : 1142-1140
  • 33  الدكتور سمعان كلهون، مرشد الطالبين إلى الكتاب المقدس الثمين، مطبوعة: المطبعة الأمريكانية، بيروت، لبنان، 1967م، ص: 552
  • 34  الأستاذ حفيظ أسليماني، إثبات نبوة محمد ﷺ من خلال التوراة والإنجيل، مطبوعة: المحكمة، القاهرة، مصر، 2013م، ص: 67
  • 35  مجموعة من المحققين (إشراف: أكمل الدين إحسان أوإغلو)، الدولة العثمانية (تعريب: صالح سعداوي)، ج-2، مطبوعة: مركز الأبحاث للتاريخ والفنون والثقافة الإسلامية، إستانبول، تركيا، 1999م، ص: 630
  • 36  Jan Schmidt (1991), Pure Water for thirsty Muslims, Het Oosters Institute, Leiden, Netherland, Pg. 260.
  • 37  הַתָּנָ״ךְ، בְּרֵאשִׁית، פרק49 : 1
  • 38  הַתָּנָ״ךְ، בְּרֵאשִׁית، פרק49 : 10
  • 39  عبد السلام المحمدي المهتدي، الرسالة الهادية، مطبوعة: مركز بيت المقدس، قبرص، تركيا، 2018م، ص: 50-49
  • 40  The Bible, Genesis 49: 10 (King James Version)
  • 41  Abdul Ahad Dawud )1987), Muhammad in the Bible, Penerbitan Pustaka Antara, Kaula Lampur, Malaysia, Pg. 52.
  • 42  Ibid.
  • 43  Ibid.
  • 44  کتابِ مُقدس، انجیل مرقس 12: 35-37 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1022)
  • 45  کتابِ مُقدس، انجیل لوقا 20: 25 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1059)
  • 46  کتابِ مُقدس، انجیل یوحنا 6: 15 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1073)
  • 47  کتابِ مُقدس، انجیل متی 7: 28-29 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 978)
  • 48  کتابِ مُقدس، انجیل متی5: 17 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 975)
  • 49  کتابِ مُقدس، کرنتھیوں کے نام خط 12: 28 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1156)
  • 50  Abdul Ahad Dawud )1987), Muhammad in the Bible, Penerbitan Pustaka Antara, Kaula Lampur, Malaysia, Pg. 53-59.
  • 51  رانا محمد سرور خاں، سیرت سرور کونین ﷺ، ج-3، مطبوعہ: رانا محمد سرور خاں پبلی کیشنز، لاہور، پاکستان،2007ء،ص: 33

Powered by Netsol Online