encyclopedia

بشاراتِ حضرت سلیمان علیہ السلام

Published on: 16-Jun-2026

حضرت سلیمان Alaihis Salam اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اور نبی تھے ۔آپ Alaihis Salam 10ویں صدی قبل مسیح میں بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئےاور تقریباً 930 قبل مسیح میں آپ Alaihis Salam نےوفات پائی ۔ 1 آپ Alaihis Salam کو حکومت وخلافت کے ساتھ منصب نبوت بھی عطا ہواتھا ۔ چنانچہ موجودہ تورات میں سفرا لامثال ، سفر الجامعۃ (واعظ) ، نشید الانشاد (غزل الغزالات) اور سفر الحکمۃکو ا ٓپ Alaihis Salam کی تصنیفات قرار دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی آپ Alaihis Salam کی طرف کچھ کتابیں منصوب ہیں جو کہ مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ ضائع ہو گئیں ہیں ۔ 2 بعض اہل کتاب ”سفر الحکمۃ“ کو قانونی اور معتبر تسلیم نہیں کرتے اسی لیے موجودہ کتابِ مقدس کے بعض نسخوں میں یہ نہیں پایا جاتا ۔ جیسا کہ یہ باب کتاب مقدس کےاردو ترجمے بشمول جو کہ بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی ، دہلی ، انڈیا سے 2005 میں چھپا ہے ، اس میں بھی شامل نہیں ہے ۔ لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ آپ Alaihis Salamکی بیان کردہ بشارات نہ صرف معتبر بلکہ وحی الٰہی سے ماخوذ بشارات ہیں کیونکہ قرآن کریم میں اس بات کی تصریح ہےکہ آپ Alaihis Salam نبی تھے اور آپ Alaihis Salam پر وحی نازل ہوتی تھی ۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَوْحَيْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَى وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ... 1633
(اے حبیب!) بیشک ہم نے آپ Alaihis Salam کی طرف (اُسی طرح) وحی بھیجی ہے جیسے ہم نے نوح ( Alaihis Salam) کی طرف اور ان کے بعد (دوسرے) پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی ۔ اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق و یعقوب Alaihmus Salamاور (ان کی) اولاد اور عیسٰی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان (Alaihmus Salam) کی طرف (بھی) وحی فرمائی ۔ ۔ ۔

پہلی بشارت

حضرت سلیمان Alaihis Salam ، نشید الأنشاد (غزل الغزالات) میں رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے اوصاف اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد سے متعلق بشارت بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں:

حبيبي أبيض وأحمر ، معلم بين ربوة. رأسه ذهب إبريز ، قصصه مسترسلة حالكة كالغراب. عيناه كالحمام على مجاري المياه ، مغسولتان باللبن ، جالستان في وقبيهما ۔ خداه كخميلة الطيب وأتلام رياحين ذكية ، شفتاه سوسن تقطران مرا مائعا. يداه حلقتان من ذهب ، مرصعتان بالزبرجد ، بطنه عاج أبيض مغلف بالياقوت الأزرق. ساقاه عمودا رخام ، مؤسستان على قاعدتين من إبريز ، طلعته كلبنان ، فتى كالأرز. حلقه حلاوة وكله مشتهيات. هذا حبيبي ، وهذا خليلي ، يا بنات أورشليم. 4
میرا محبوب سفید و سرخ ہے ، رفعتوں کے درمیان نمایاں نشانِ راہ ہے ۔ اس کا سر خالص سونے جیسا ہے ، اس کے بال گھنے ، لہراتے ہوئے ، کوّے کی طرح سیاہ ہیں ۔ اس کی آنکھیں پانی کی نہروں پر بیٹھی ہوئی فاختاؤں کی مانند ہیں ، جودودھ سے دھلی ہوئی ،اپنی جگہوں پر (جواہرات کی طرح ) جَڑی گئی ہو ۔ اس کے گال خوشبودار بلسان کی کیاریوں اور ریحان کی خوشبودار قطاروں کی مانند ہیں ۔ اس کے ہونٹ سوسن کے پھول کی مانند ہیں جن سے مُر ٹپک رہا ہو ۔ اس کے ہاتھ سونے کے کڑوں کی مانند ہیں جو زمرد سے مرصع ہو ۔ اس کا بدن ہاتھی دانت سا سفید ہے جو نیلم کے جواہرات سے مزین ہو ۔اس کی ٹانگیں سنگِ مرمر کے ستون کی مانند ہیں جو خالص سونے کی پایوں پر قائم ہو ۔ اس کی صورت (وضع قطع) لبنان (کے پہاڑوں) کی مانند ہے ، دیودار (درخت) کی مانند بلند وباوقار نوجوان ہے ۔اس کا کلام شیریں ہے ، وہ سراپا عشق انگیز ہے ۔یہ ہے میرا حبیب ، یہ ہے میرا خلیل ، اے یروشلم کی بیٹیوں!

حضرت سلیمان Alaihis Salam کی یہ بشارت اپنے کامل اور حقیقی مصداق کے اعتبار سے رسولِ اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ذاتِ اقدس پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے ۔ ذیل میں دلائل و شواہد کی روشنی میں یہ حقیقت واضح کی جاتی ہے کہ اس پیش گوئی کی تمام نمایاں علامات نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہی کی مبارک ہستی میں جلوہ گر ہوئیں ، اور تاریخِ انسانیت نے اس بشارت کی عملی تعبیر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بعثتِ مبارکہ کی صورت میں دیکھی ۔

پہلی دلیل

اس عبارت کی آخری آیت میں اگرچہ مترجمین نے" مشتہیات" کا "سراپا عشق انگیز ہے" ترجمہ کیا ہے ۔ تاہم اصل عبرانی زبان میں یہ لفظ"محمدیم" ہے جو صراحتاً رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ذات مقدسہ پر دلالت کر تاہے ۔ چنانچہ عبرانی عبارت مندرجہ ذیل ہے:

חִכּוֹ֙ מַֽמְתַקִּ֔ים וְכֻלּ֖וֹ מַחֲמַדִּ֑ים זֶ֤ה דוֹדִי֙ וְזֶ֣ה רֵעִ֔י בְּנ֖וֹת יְרוּשָׁלָֽ͏ִם. 5
"هكو ممتكيم وكلو ‌محمديم زه دودي وزه ريعي بنوث يوروشلايم". 6
Hikko mamtaqqim we-khullo Mahamaddim zeh dodi we-zeh re’I benoth-yerushalaym. 7
חִכּוֹמַמְתַקִּיםוְכֻלּוֹמַחֲמַדִּיםזֶהדֹודִיוְזֶהרֵעִי
هِكُوُمَمْتَكِيْمْوْكُلُوُمَحَمَدِيْمْزِهدُوْدِيْوْزِهرِيعِيْ

اس آیت میں لفظ ”محمدیم“ واضح طور پر نبی عربی حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی جانب اشارہ کرتا ہے ۔ اس کے آخر میں موجود "یم" عبرانی زبان میں تعظیم اور بڑائی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ 8 جیسا کہ سفر پیدائش میں لفظ افرایم 9 اور سفر تواریخ اول میں"سحریم" 10 میں بھی نظر آتا ہے ۔اور لفظ محمد عربی اور عبرانی دونوں زبانوں میں "حمد و ستائش کے لائق شخص " کے معنی رکھتا ہے ۔ اسی تناظر میں آیت کا مفہوم یوں ہوگا: اس کا کلام بہترین اور شیریں کلام ہے ، یہی تعریف اور بڑائی والے محمد ہیں ، یہ میرے حبیب اور خلیل ہیں ۔ 11

عبد الخالق شریبہ لکھتے ہیں کہ لفظ محمدیم (Mahamaddim) سے اگر "یم" (im) ہٹا دیا جائے تو وہی حروف رہ جاتے ہیں جو عربی لفظ محمد میں پائے جاتے ہیں ۔ اس کا ترجمہ کبھی حمد و ثناء کے طور پر ، کبھی اشتہاء یعنی محبوب یا پسندیدہ چیز کے مفہوم میں ، یا اس کے قریب دیگر معانی میں کیا جا تاہے ۔ اس اعتبار سے لفظ محمدیم کے دو ممکنہ معنی ہو سکتے ہیں: پہلا یہ کہ یہ مشتہی (محبوب) عظیم ہے ، یہ میرا حبیب اور خلیل ہے ۔ دوسرا یہ کہ یہ محمد العظيم (بڑائی والے) ہیں ، یہ میرے حبیب اور خلیل ہیں ۔ تاہم ، لفظ "یم" کا استعمال جو تعظیم و تعریف کے لیے ہوا ہے ، اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہاں محمدیم کوئی صفت نہیں بلکہ شخصی نام کے طور پر وارد ہے ۔ لہٰذا دوسرا معنی یعنی "محمد العظيم" زیادہ مناسب اور درست معلوم ہوتا ہے ۔ 12

اور اگر اس آیت میں محمدیم سے شخصی نام (محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam) کے بجائے معنی وصفی ( مشتہی) مراد لیا جائے تو اس صورت میں بھی اس کا مصداق رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہی قرار پاتے ہیں ۔ کیونکہ یہی لفظ سفر حجی میں آیا ہے جو رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ذات طیبہ پر دلالت کرتا ہے ۔چنانچہ حجی فرماتے ہیں:

لأنه هكذا قال رب الجنود: هي مرة ، بعد قليل ، فأزلزل السماوات والأرض والبحر واليابسة ، وأزلزل كل الأمم. ويأتي مشتهى كل الأمم ، فأملأ هذا البيت مجدا ، قال رب الجنود. 13
کیونکہ خداوند فرماتا ہے:ایک بار ، کچھ دیر بعد ، میں آسمانوں ، زمین ، سمندر اور خشکی کو ہلا دوں گا ، اور میں سب قوموں کو ہلا دوں گا ۔ اورتمام قوموں کا پسندیدہ آئے گا ، پھر میں اس گھر کو جلال سے بھر دوں گا ۔ یہ فرمایا خداوند نے ۔

عبد الاحد داؤد (سابق ریورنڈ فادر پروفیسر ڈیوڈ بنجمن کلدانی) لکھتے ہیں کہ اگر میں غلط نہیں ہوں تو اصل عبرانی متن میں یہ جملہ (يأتي مشتهى كل الأمم) یوں ہے:

(في يافو حِمْدات كُول هاجُوييم )     ve yavu himdath kol haggoyim.

اور اس کا لفظی معنی یہ ہوگا: اور تمام قوموں کا حِمْدَاا ٓئے گا ۔ عبرانی زبان میں بھی آخری حرف نسبت اور اضافت کی وجہ سے بدلتا رہتا ہے ۔ حالانکہ حمدات اور حمدا ایک ہی لفظ ہے جو قدیم عبرانی یا آرامی لفظ حِمْدْسے ماخوذ ہے ۔ اور حِمْدْعبرانی زبان میں مجموعی طور پر بڑی خواہش ، پسندیدہ ، تعریف یا تمنا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔جیسا کہ احکام عشرہ میں ہے:

(لو تاحمود إش رِئیخا)    Lo tahmod ish reïkha
تم اپنے پڑوسی کی بیوی کی تمنا نہ کرو ۔

پھر عبرانی زبان میں اسی لفظ حِمْدْسے حِمِیْدابھی مشتق ہے ، جس کا مطلب ہے تعریف اور ستائش کے لائق ۔اور اس میں شک نہیں کہ مطلوب ومرغوب اور پسندیدہ چیز ہی سب سے زیادہ ستائش اور تعریف کےلائق ہوتی ہے ۔ چاہے کوئی بھی معنی مراد لیا جائے لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت اور فیصلہ کن امر ہے کہ عبرانی لفظ حِمْدَایا حِمِیْدا دراصل عربی لفظ أحمد کی شکل ہے جو اسی عبرانی لفظ کے معنی ومفہوم پر دلالت کرتاہے ۔ یہی"احمد" رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا اسم مبارک ہے اور اسی لفظ سے تورات وانجیل میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے متعلق بشارات وارد ہیں ۔ 14 جبکہ قرآن کریم میں واشگاف الفاظ میں آیاہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam نے بنی اسرائیل کےسامنے احمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نام لے کر بنی اسرائیل سے فرمایا تھا کہ میرے بعد احمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نبی بن کر آئیں گے:

...يَابَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ... 615
۔ ۔ ۔اے بنی اسرائیل! بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اُس رسولِ (معظّم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam) کی (آمد) کی بشارت سنانے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لا رہے ہیں جن کا نام احمد ( Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam) ہے ۔ ۔ ۔

دوسری دلیل

ان آیات کی ابتدا میں سلیمان نے فرمایا: معلم بين ربوة ۔اگرچہ اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ رفعتوں کے درمیان واضح علامت ہے ، تاہم بائبل کے کاتبین اور شارحین نے لفظ ربوۃ کا ترجمہ 10 سے ہزار سے کیا گیاہے ۔چنانچہ اردو مترجمین لکھتے ہیں کہ وہ 10 ہزار میں ممتاز ہے ۔ 16 کنگ جیمز ورژن (KJV) میں بھی (Ten Thousand) کا ترجمہ پایا جاتا ہے ۔ 17 جبکہ عربی کے دیگر تراجم میں بھی 10 ہزار کا لفظ موجود ہے ۔ 18 اور یہ درحقیقت فتحِ مکہ کے اس عظیم واقعے کی طرف اشارہ ہے ، جب رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam 10 ہزار جانثار صحابہ کرام Radi Allah Anhum کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے اور مکہ کو فتح کیا ۔ 19

تیسری دلیل

کتاب مقدس کے مطابق حضرت سلیمان Alaihis Salam نے محمدیم کے فوراً بعد فرمایا: زه دودي (זֶה דֹודִי) یعنی یہ میرا حبیب ، دوست ہے ۔اگرچہ عبرانی لفظ دودي عام طور پر دوست اور محبوب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، تاہم یہ لفظ خصوصیت کے ساتھ چچا یا باپ کے بھائی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ عبرانی اور انگریزی لغت میں اس لفظ کے مندرجہ ذیل معانی ذکر ہیں:

A friend, A father’s brother, or uncle by the father’s side. 20
دوست ، باپ کا بھائی یا باپ کی طرف سے چچا ۔

چنانچہ حضرت سلیمان لفظ Alaihis Salam دودی (דֹודִי)کے ذریعے محمدیم (حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ) سے اپنے نسبی تعلق کا اظہار کرتے ہیں تاکہ ہر ایک کو بخوبی علم ہوجائے کہ محمدیم ( Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam)ان کے چچیرے بھائیوں میں سے ہیں ، بنی اسرائیل میں سے نہیں؛ کیونکہ حضرت سلیمان Alaihis Salam بنی اسرائیل میں سے تھےاور بنی اسماعیل حضرت سلیمان Alaihis Salamکے چچیرے بھائی ہیں ۔ اس حقیقت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ پیش گوئی رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے علاوہ دنیا میں کسی اور ذات کے حق میں ہوہی نہیں سکتی ۔ 21

چوتھی دلیل

ان آیات میں محمدیم (نبی آخرالزمان Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ) کے جن اوصاف کا بیان ہے ، وہ تمام اوصاف پوری طرح ذاتِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam پر منطبق ہوتے ہیں ۔ یہ بات محض دعوے کی حد تک نہیں بلکہ احادیثِ صحیحہ اس حقیقت کو روشن دلائل کے ساتھ ثابت کرتی ہیں ۔ ذیل میں انہی اوصاف کو احادیثِ نبویہ کی روشنی میں واضح کیا جاتا ہے:

  1. میرا محبوب سفید وسرخ ہے: حضرت جابر بن عبد اللہ Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا رنگ سفیدی اور سرخی کا حسین امتزاج تھا ۔ 22 اسی طرح حضرت ابی امامہ Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے سفید رنگ پر سرخی نمایاں تھی ۔ 23 اور سرخی و سفیدی کا امتزاج دنیوی نقطہ نظر سے حسین ترین رنگ تسلیم کیا جاتاہے ۔ 24
  2. اس کے بال گھنے ، لہراتے ہوئے ، کوّے کی طرح سیاہ ہیں: حضرت علی Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے سرِ مبارک پر بال گھنے اور قدرے لہراتے ہوئے تھے ۔ 25اسی حوالے سے حضرت انس Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بال درمیانہ تھے ، نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے اور نہ گھونگھریالے تھے ۔ 26 اور حضرت ابو ہریرہ Radi Allah Anho فر ماتے ہیں کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بال شدید کالے تھے ۔ 27 یہی رنگ ام المؤمنین حضرت عائشہRadi Allah Anha ، 28اور ام معبد Radi Allah Anha بھی بیان فرماتی ہیں ۔ 29
  3. اس کی آنکھیں پانی کی نہروں پر بیٹھی ہوئی فاختاؤں کی مانند ہیں ، جودودھ سے دھلی ہوئی ،اپنی جگہوں پر (جواہرات کی طرح ) جَڑی گئی ہو: یہ ادبی و شاعرانہ تشبیہ ہے جو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آنکھوں کی غیر معمولی صفائی ، روشن چمک اور اپنی گہرائی میں خوبصورتی کے ساتھ جڑی ہونے کی کیفیت کو بیان کرتی ہے ۔ احادیث شریفہ میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آنکھوں کا وصف أدعج العينين وارد ہے ، جو حضرت عمر Radi Allah Anho ، 30 حضرت علی Radi Allah Anho ، 31 حضرت ابو امامہ Radi Allah Anho ، 32 حضرت ابن مسعود Radi Allah Anho ، 33 اور حضرت ام معبد Radi Allah Anha34 سے مروی ہے ۔ اور الدَّعَجسے مراد آنکھ کی سیاہی کا انتہائی گہرا ہونا اور سفیدی کا نہایت روشن و درخشاں ہونا ہے ۔ 35 اسی وصف کو حضرت جابر Radi Allah Anhoأشكل ‌العين (جس آنکھ کی سیاہی نمایاں اور پرکشش ہو) کے الفاظ ذکر کر کے بیان فرماتے ہیں ۔ 36 اور امام حلبی Rehmatullah Alaih فرماتے ہیں کہ الشکلۃ وہی صفت ہے جس کا ذکر کتب سابقہ میں وارد ہے ۔ 37
  4. اس کے گال خوشبودار بلسان کی کیاریوں اور ریحان کی خوشبودار قطاروں کی مانند ہیں: یہ بھی شاعرانہ اصطلاح ہے جو رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے گال مبارک کی شادابی اور خوش رنگی کو اجاگر کرتی ہے ۔حضرت ہند بن ابی ہالہ Radi Allah Anhoسہل الخدین سے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے گال کا وصف بیان کرتےہیں ۔ 38 اور سہل الخدین کا مطلب ہے کہ گال ہموار ہوں ، ان میں کوئی ابھار یا گہرائی نہ ہو ۔ 39 امام مناوی فرماتےہیں کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے گالوں میں نہ کوئی ابھار تھا اور نہ کوئی اونچائی ، یعنی آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے گال نرم ، ملائم اور قدرے گوشت والے تھے ۔ 40 جبکہ حضرت ابو ہریرہ Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے گال سفید چمک دار تھے ۔ 41 مزید حضرت ابو بکر Radi Allah Anho بھی فرماتے ہیں کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے گال صاف شفاف روشن تھے ۔ 42
  5. اس کے ہونٹ سوسن کے پھول کی مانند ہیں جن سے مُر ٹپک رہا ہو: یعنی آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے ہونٹ گلاب کی طرح سرخ ، نرم اور خوبصورت تھے ، اورنمی ایسی تھی کہ نہ زیادہ خشک اور نہ بہت تر ۔ حضرت عائشہ Radi Allah Anha فرماتی ہیں کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کےہونٹ مبارک سب سے خوبصورت ، نرم اور لطافت والےتھا 43 اور حضرت جابر ضلیع الفم Radi Allah Anho سے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے منہ مبارک کا وصف بیان کرتے ہیں ۔ 44 امام سیوطی Rehmatullah Alaih اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam شاندار منہ والے تھے ۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے ہونٹوں میں جھریاں کم ، نہ زیادہ تر اور نہ خشک ، نرم ونازک اور حسن کامل شامل تھا ۔ 45
  6. اس کے ہاتھ سونے کے کڑوں کی مانند ہیں جو زمرد سے مرصع ہو: یہ ادبی اور شاعرانہ اصطلاح ہے جوآپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے ہاتھوں کی جمالیاتی صفات کو بیان کرتی ہے ، نہ کہ لفظی معنوں میں حقیقی زیورات کی نشاندہی ۔ حضرت انس Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ تو کسی ریشم کو چھوا اور نہ دیباج کو ۔ 46 حضرت ابو جحیفہ Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ میں نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے چہرے پر رکھا ، آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا ہاتھ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ خوشبو دار تھا ۔ 47
  7. اس کا بدن ہاتھی دانت سا سفید ہے جو نیلم کے جواہرات سے مزین ہو: یہ وصف رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے جسمانی حسن اور جمال کو نمایاں کرتا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا جسم مبارک نہایت سفید تھا ۔ 48 اور حضرت محرش کعبی Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے رات کو جعرانہ سے عمرہ کیا ، تو میں نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی پشت کو دیکھا ، جو بالکل چاندی کی سلائی کے مانند روشن اور صاف تھی ۔ 49
  8. اس کی ٹانگیں سنگِ مرمر کے ستون کی مانند ہیں جو خالص سونے کی پایوں پر قائم ہو: یہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے پیراور ٹانگوں کی مضبوطی ، جمال اور سفیدی کی تصویر کشی کر رہا ہے ۔حضرت ابوہریرہ Radi Allah Anho ، 50 اور انس Radi Allah Anho نے اس کو ضخم الساقین (مضبوط ٹانگوں والے) سے تعبیر کیا ہے ۔ 51 حضرت ابو جحیفہ Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دورانِ سفر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam خیمے سے وضو کے لیے نکلے ، ایسا لگ رہاتھا جیساکہ میں آج آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں ۔ 52 ایک روایت میں ہے کہ میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی پنڈلیوں کی چمک دیکھ رہاہوں ۔ 53
  9. اس کی صورت (وضع قطع) لبنان (کے پہاڑوں) کی مانند ہے ، دیودار (درخت) کی مانند بلند و باوقار نوجوان ہے: یہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے خوشنما ، اور بلند قد وقامت کی طرف اشارہ ہے ۔ حضرت انس Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam میانہ قد تھے ، آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نہ لمبے تھے نہ کوتاہ قد ، خوشنما اور خوبصورت جسم والے تھے ۔ 54 اور حضرت ابوہریرہ Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا قد لمبائی کی طرف زیادہ تھا ۔ 55 اور حضرت ہند بن ابی ہالہ Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam درمیانہ قد سے کچھ بلند تھے ۔ 56
  10. اس کا کلام شیریں ہے: یہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے کلام اور گفتگو سے متعلق ہے ۔ یعنی رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کاکلام شیریں اور بولنے کا انداز نرم اور دلنشین ہے ۔ حضرت ام معبد Radi Allah Anha فرماتی ہیں کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آواز میں صحل تھا ۔ 57 یعنی آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آواز ایسی نرم تھی جس میں تیزی نہیں ہو ۔ 58 اور حضرت جبیر بن مطعم Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آواز خوبصور ت او ر دلنشین تھی ۔ 59 حضرت عائشہ Radi Allah Anho فرماتی ہیں کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اس قدر پُر سکون انداز میں گفتگو فرماتے کہ اگر کوئی گننے والا اسے (آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بیان کردہ الفاظ) گِنتا تو گِن سکتا تھا ۔ 60 اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے نطق اور کلام سے متعلق فرماتا ہے کہ وہ (آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam شرعی معاملات کے حوالہ سے)اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے ،اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے ۔ 61 اور وحی الہی دنیا کا بہترین ، دلنشین ، حسین اور شیریں کلام ہے ۔

یہ وہ دس اوصافِ جمیلہ ہیں جنہیں براہِ راست حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے جسمِ مبارک کا مشاہدہ کرنے والے صحابہ کرام Radi Allah Anhum نے ، کتابِ مقدس میں موجود حضرت سلیمان Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی اس بشارت کو جانے اور پڑھے بغیر ، صرف آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو دیکھ کر ہی اپنی نگاہوں سے بیان فرمایا تھا ۔ لیکن وہ تمام اوصاف خود بخود بعینہٖ بشارتِ سلیمان Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا حقیقی مصداق بن گئے ۔

دوسری بشارت

کتاب مقدس میں مذکور ہے کہ حضرت سلیمان Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallamسفر الحکمۃ میں نیکو کار اور بدکار لوگوں کے انجام کے ضمن میں امّت محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے متعلق بشارت بیان کرتےہوئے فرماتے ہیں:

فهم في وقت افتقادهم يتلألأون ، ويسعون سعي الشرار بين القصب ، ويدينون الأمم ويتسلطون على الشعوب ، ويملك ربهم إلى الأبد. المتوكلون عليه سيفهمون الحق ، والأمناء في المحبة سيلازمونه؛ لأن النعمة والرحمة لمختاريه. 62
جب ان (نیک لوگوں) کا وقت آئے گا ، تو وہ چمکیں گے جیسے آگ کی چنگاریاں بھڑک اُٹھتی ہیں ، اور وہ قوموں کے درمیان تیزی سے دوڑیں گے ۔ وہ قوموں پر حکومت کریں گے اور امتوں پر غلبہ پائیں گے ، اور ان کا خدا ہمیشہ کے لیے بادشاہی کرے گا ۔ جو اس پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ حق کو سمجھیں گے ، اور جو محبت میں اس کے وفادار ہیں وہ اس سے جُڑے رہیں گے ، کیونکہ نعمت اور رحمت اس کے برگزیدہ بندوں کے لیے ہے ۔

یہ بشارت درحقیقت رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی امت کے متعلق ایک صریح اور واضح پیش گوئی ہے ، جو نہ صرف امت محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی روحانی بلندی اور اللہ کے ساتھ تعلق کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ ان کے وسیع اثر و اقتدار ، عدل و انصاف اور دین کی سربلندی کی آئندہ منزل کی بھی پیش گوئی کرتی ہے ۔

پہلی دلیل

قرآن کریم کے مطابق ، حضرت سلیمان Alaihis Salam حضرت داؤد Alaihis Salam کے وارث تھے ۔ 63 اور مفسرین کہتے ہیں کہ سلیمان Alaihis Salam کو وراثت میں نبوت اور بادشاہت دونوں چیزیں ملی تھیں ۔ 64 چنانچہ حضرت داؤد Alaihis Salam فرماتےہیں:

سب بادشاہ ا س کے آگے سرنگوں ہوں گے ، اور ساری قومیں اس کی اطاعت کریں گی ۔وہ فریاد کرنے والے محتاجوں ، اوربے یار ومددگار مصیبت کے ماروں کو چھڑائےگا ۔وہ کمزوروں اور محتاجوں پر ترس کھائے گا اور محتاجوں کو موت سے بچائے گا ، اور انہیں ظلم وتشدد سے چھڑائےگا ، کیونکہ ان کا خون اس کی نظر میں بیش بہا ہے ۔ 65

یعنی حضرت سلیمان Alaihis Salam اور داؤ د Alaihis Salam دونوں اس بات کی بشارت دےرہے ہیں کہ ایک ایسانبی آنے والا ہے جن کے سامنے بڑے بڑے بادشاہ اور حکمران سرنگوں ہوں گے ، اور اس کی امت اس زمین کی مالک بنے گی ۔ اس بات کی گواہی خود اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ ہم نے زبور میں لکھا ہے کہ اس زمین کے مالک اور وارث میرے نیک بندے ہوں گے ۔ چنانچہ ارشاد ِ خدواندی ہے:

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ 10566
اور بلا شبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے (بیان کے) بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے ۔

حضرت ابن عباس Radi Allah Anho اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس فرمان الٰہی کا معنی یہ ہے کہ ہم نے تورات کے بعد زبورِ داؤد Alaihis Salam میں لکھ دیا تھا کہ اس زمین کی وراثت امت محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو ملے گی ۔ 67 خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم کی رو سے حضرت داؤد Alaihis Salam کو رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بعثت اور آمد کا علم بھی تھا اور آپ Alaihis Salam نے ا س کی پیش گوئی بھی فرمائی ہے ۔ چنانچہ جو بشارت حضرت داؤد Alaihis Salam نے بیان فرمائی ہے وہی بشارت حضرت سلیمان Alaihis Salam نے بھی بیان فرمائی ہے ۔ قرآن کریم کے مطابق وہ بشارت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اس زمین کے وارث ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے مراد رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam او رخیر القرون کے زمانے میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی امت ہے ۔چنانچہ زمین اورا ٓسمان نےدیکھا کہ خیر القرون کےزمانے میں امت محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو دیگر اقوام وملل ، یہود وہنود ، روم اور فارس کے حکمرانوں اور بادشاہوں پر تسلط اور غلبہ حاصل ہوا اور مسلمانوں نے ان سلطنتوں اور بادشاہتوں کا قلع قمع کر کے تمام روئے زمین پر اسلام کا علم بلند کیا۔

دوسری دلیل

اس عبارت "ويملك ربهم إلى الأبد" کا مصداق امتِ محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہی ہے ۔ اس مقام پر لفظ "رب" دو ممکنہ معنوں کا احتمال رکھتا ہے ۔ اوّل یہ کہ یہاں رب سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہو ، اور یہ استعمال نہایت معروف ہے ۔ اس صورت میں بشارت کا مصداق امتِ محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اس لیے ہے کہ عیسائی حضرات عام طور پر تثلیث کے قائل ہیں ، توحیدِ خالص کے نہیں اورجب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان نہ ہو تو ذاتِ باری تعالیٰ پر حقیقی توکل خود بخود مفقود ہوجاتا ہے ۔ جبکہ امت محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اپنی آغاز سے لے آج تک ایک خدا پرایمان رکھتے ہیں اور اسی پر توکل وبھروسہ کرتے ہیں ، اور ان کا ایمان ہے کہ وہی خدا ہے جو ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا ۔

دوم یہ کہ یہاں لفظ"رب" سے مراد نبی ہو ، جیساکہ بائبل کے عربی نسخوں میں لفظ "رب" حضرت مسیح Alaihis Salam کے لیے استعمال ہوتا ہےتاہم دیگر تراجم میں اس کا ترجمہ سید ، معلّم اور نبی سے کیا جاتا ہے ۔ 68 اس صورت میں بشارت کا مصداق امت محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اس لیے ہے کیونکہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہی وہ نبی ہیں جن کی نبوت ابدی ہے ۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اس وقت بھی نبی تھے جب آدم Alaihis Salam ابھی روح اور جسم کے درمیان تھے 69 اور تا قیامت آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نبی رہیں گے ۔ مزید یہ کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی امت آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam پر ایمان رکھتی ہے ، اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ذات اور بات پر توکل کر کے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے لائے ہوئے دین کی تصدیق کرتی ہے ۔

تیسری دلیل

یہوداہ جو حضرت مسیح Alaihis Salam کے خادم اورحواری تھے ، انہوں نےاپنے خط میں حضرت ادریس Alaihis Salam کی پیش گوئی نقل کی ہے جو اس بشارت کی تائید کرتی ہے ۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

وتنبأ عن هؤلاء أيضا أخنوخ السابع من آدم قائلا: هوذا قد جاء الرب في ربوات قديسيه ، ليصنع دينونة على الجميع ، ويعاقب جميع فجارهم على جميع أعمال فجورهم التي فجروا بها ، وعلى جميع الكلمات الصعبة التي تكلم بها عليه خطاة فجار. 70
اور اخنوخ (حضرت ادریس Alaihis Salam ) ، جو آدم Alaihis Salam سے ساتویں پشت میں تھا ، نے انہی لوگوں کے بابت یہ پیش گوئی کی اور کہا: دیکھو! خداوند اپنے دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آ ئے گا ۔ تاکہ سب پر عدالت کرے ، اور تمام بےدینوں کو ان کے بےدینی کے کاموں کے سبب سزا دےگا ، جو انہوں نے سرکشی کے ساتھ کیے ،اور ان سخت( گستاخانہ اور بے ہودہ ) باتوں پر ان کی گرفت کرلے جو گناہ گار اور بدکار انسانوں نے اس کے خلاف کہیں تھی ۔

اہلِ علم حضرات لکھتے ہیں کہ یہاں رب سے مراد حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہیں ، اور ربواتِ مقدسہ سے مراد صحابۂ کرام Radi Allah Anhum ہیں ۔آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam فتح مکہ کے موقع پر اپنے 10 ہزار اصحاب Radi Allah Anhum کے ساتھ تشریف لائے ۔ اور فتح مکہ کے بعد پورے جزیرہ عرب میں اسلام کا ظہور اور غلبہ ہوا ، اور حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اپنی مقدس جماعت کے ساتھ کافروں پر غالب آئے ۔ 71

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت سلیمان Alaihis Salam کی بیان کردہ یہ بشارات اپنے الفاظ ، مضامین اور تاریخی تحقق کے اعتبار سے نبی آخر الزماں حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی امتِ مبارکہ پر پوری طرح منطبق ہوتی ہیں ۔ نشید الانشاد میں وارد لفظ "محمدیم"نہ صرف لغوی و صوتی اعتبار سے اسمِ محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی طرف واضح اشارہ رکھتا ہے بلکہ اس کے ساتھ مذکور اوصافِ جمال ، کلام کی شیرینی ، محبوبیت ، رفعت اور دس ہزار کے درمیان امتیاز ، سب کے سب احادیثِ صحیحہ میں بیان کردہ شمائلِ نبوی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اور فتحِ مکہ کے تاریخی واقعے سے مطابقت رکھتے ہیں ۔ اسی طرح سفر الحکمۃ میں نیک بندوں کے غلبے ، قوموں پر ان کے اثر و اقتدار ، حق شناسی ، توکل ، رحمت اور برگزیدگی کا جو بیان آیا ہے ، وہ امتِ محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے ظہور ، خیر القرون کے عالمی فتوحات ، توحیدِ خالص کے قیام اور دینِ اسلام کے غلبے کی صورت میں تاریخ کے صفحات پر عملاً ظاہر ہوا ۔ مزید یہ کہ زبورِ داؤد ، پیش گوئیِ اخنوخ اور قرآنی تصریحات بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہیں کہ انبیائے سابقین Alaihmus Salam کو نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد ، آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مقامِ محبوبیت ، آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی امت کے غلبے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی زمین پر وراثت کی خبر دی گئی تھی ۔ لہٰذا حضرت سلیمان Alaihis Salam کی یہ بشارات درحقیقت سلسلۂ بشاراتِ انبیاء Alaihmus Salam کی ایک روشن کڑی ہیں ، جن کا کامل اور حقیقی مصداق صرف رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ذاتِ اقدس اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی امتِ ہے ۔


  • 1  منصور عبد الحكيم ، سليمان النبي الملك ، مطبوعة: دار الكتاب العربي ، دمشق ، السوریۃ ، د ۔ ت ۔ ط ، ص: 167
  • 2  مجموعة الأساتذة اللاهوتيين ، قاموس الكتاب المقدس ، مطبوعة: دار الثقافة ، القاهرة ، مصر ، د ۔ ت ۔ ط ، ص: 482
  • 3  القرآن ، سورة المائدة 4: 163
  • 4  الكتاب المقدس ،سفر نشيد الأنشاد 5: 10- 16(الترجمة البيروتية ، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=26&chapter=5)
  • 5  הַתָּנָ״ךְ ، שיר השירים ה׳5: 16
  • 6  الدكتور سامي عامري ، محمد رسول الله ﷺ في الكتب المقدسة ، مطبوعة: مركز التنوير الإسلامي ، القاهرة ، مصر ، 2006م ، ص: 45
  • 7  ایضاً
  • 8  الدكتور سامي عامري ، محمد رسول الله ﷺ في الكتب المقدسة ، مطبوعة: مركز التنوير الإسلامي ، القاهرة ، مصر ، 2006م ، ص: 45
  • 9  کتابِ مُقدس ، سفر پیدائش41: 52 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی ، دہلی ، انڈیا ، 2005ء ، ص: 43)
  • 10  کتابِ مُقدس ، سفر تواریخ اول8: 8 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی ، دہلی ، انڈیا ، 2005ء ، ص: 386)
  • 11  الدكتور سامي عامري ، محمد رسول الله ﷺ في الكتب المقدسة ، مطبوعة: مركز التنوير الإسلامي ، القاهرة ، مصر ، 2006م ، ص: 45-46
  • 12  الدكتور عبد الخالق شريبة ، محمد رسول الله ﷺ في التوراة والإنجيل ، مطبوعة: مكتبة النافذة ، الجيزة ، مصر ، د ۔ ت ۔ ط ، ص: 93
  • 13  الكتاب المقدس ، سفر حجي 2: 7-6 (الترجمة البيروتية ، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=45&chapter=2)
  • 14  Abdul Ahad Dawud (1987), Muhammad in the Bible, Penerbitan Pustaka Antara, Kaula Lampur, Malaysia, Pg. 24.
  • 15  القرآن ، سورة الصف 61: 6
  • 16  کتابِ مُقدس ، سفر غزل الغزالات5: 10 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی ، دہلی ، انڈیا ، 2005ء ، ص: 671)
  • 17  The Bible, Song of Solomon 5: 10 (King James Version)
  • 18  الكتاب المقدس ، سفر نشيد الأنشاد 5: 10 (ترجمةكتاب الحياة)
  • 19  الدكتور سامي عامري ، محمد رسول الله ﷺ في الكتب المقدسة ، مطبوعة: مركز التنوير الإسلامي ، القاهرة ، مصر ، 2006م ، ص: 51
  • 20  Josiah Willard Gibbs (1832), A Manual Hebrew and English Lexicon, New Haven, Boston, USA, Pg. 48.
  • 21  رانا محمد سرور خاں ، سیرت سرور کونین ﷺ ، ج-3 ، مطبوعہ: رانا محمد سرور خاں پبلی کیشنز ، لاہور ، پاکستان ،2007ء ،ص: 57
  • 22  أبو عبد اﷲ محمد ابن سعد البصري ، الطبقات الکبرى ، ج1- ، مطبوعة: دار الکتب العلمیة ، بیروت ، لبنان ، 1990م ، ص: 321
  • 23  أبو بكر محمد بن هارون الروياني ، مسند الروياني ، حديث: 1280 ، ج-2 ، مطبوعة: مؤسسة قرطبة ، القاهرة ، مصر ، 1416ھ ، ص: 318
  • 24  أحمد بن علي القلشقندي ، صبح الأعشى في صناعة الإنشاء ، ج-2 ، مطبوعة: دار الكتب العلمية ، بيروت ، لبنان ، د ۔ ت ۔ ط ، ص: 7
  • 25  أبو بكر أحمد بن حسين البيهقي ، دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة ﷺ ، ج1- ، مطبوعة: دار الكتب العلمية ، بيروت ، لبنان ، 2008م ، ص: 223
  • 26  أبو عبد اﷲ محمد بن إسماعیل البخاري ، صحیح البخاري ، حديث: 5905 ، مطبوعة: دار السلام ، الریاض ، السعودیة ، 1999م ، ص: 1038
  • 27  أبو بكر أحمد بن حسين البيهقي ، دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة ﷺ ، ج1- ، مطبوعة: دار الكتب العلمية ، بيروت ، لبنان ، 2008م ، ص: 275
  • 28  أیضاً ، ص: 300
  • 29  أبو حاتم محمد بن حبان البستي ، السيرة النبوية وأخبار الخلفاء ، ج1- ، مطبوعة: الكتب الثقافية ، بيروت ، لبنان ، 1417ھ ، ص: 135
  • 30  أبو القاسم علي بن الحسن ابن عساكر الدمشقي ، تاريخ دمشق ، ج-3 ، مطبوعة: دار الفكر ، بيروت ، لبنان ، 1995م ، ص: 264
  • 31  أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي ، جامع الترمذي ، حديث: 3638 ، مطبوعة: دار السلام ، الریاض ، السعودیة ، 2009م ، ص: 1078
  • 32  أبو بكر محمد بن هارون الروياني ، مسند الروياني ، حديث: 1280 ، ج-2 ، مطبوعة: مؤسسة قرطبة ، القاهرة ، مصر ، 1416ھ ، ص: 318
  • 33  أبو القاسم سليمان بن أحمد الطبراني ، المعجم الكبير ، حديث: 10397 ، ج-10 ، مطبوعة: مكتبة ابن تيمية ، القاهرة ، مصر ، 1994م ، ص: 183
  • 34  أبو نعيم أحمد بن عبد الله الأصبهاني ، دلائل النبوة ، مطبوعة: دار النفائس ، بيروت ، لبنان ، 1986م ، ص: 338
  • 35  أبو السعادات المبارك بن محمد مجد الدين ابن الأثير الجزري ، النهاية في غريب الحديث والأثر ، ج-2 ، مطبوعة: المكتبة العلمية ، بيروت ، لبنان ، 1979م ، ص: 119
  • 36  أبو محمد الحسين بن مسعود البغوي ، الأنوار في شمائل النبي المختار ﷺ ، مطبوعة: دار المكتبي ، دمشق ، السوریۃ ، 1995م ، ص: 144
  • 37  أبو الفرج علي بن إبراهیم الحلبي ، إنسان العیون في سیرة الأمین المأمون ﷺ المعروف بالسيرة الحلبية ، ج1- ، مطبوعة: دار الکتب العلمیة ، بیروت ، لبنان ، 1427ھ ، ص: 193
  • 38  أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي ، الشمائل المحمدية والخصائل المصطفوية ، حديث: 8 ، مطبوعة: المكتبة التجارية ، مكة المكرمة ، السعودية ، 1993م ، ص: 36
  • 39  يحيى بن أبي بكر العامري ، بهجة المحافل وبغية الأماثل في تلخيص المعجزات والسير والشمائل ، ج-2 ، مطبوعة: دار صادر ، بيروت ، لبنان ، د ۔ ت ۔ ط ، ص: 184
  • 40  محمد عبد الرؤوف بن تاج العارفين زين الدين المناوي ، فيض القدير ، ج-5 ، مطبوعة: المكتبة التجارية الكبرى ، القاهرة ، مصر ، 1356ھ ، ص: 71
  • 41  أبو زيد عمر بن شبة النميري ، تاريخ المدينة ، ج-2 ، مطبوعة: على نفقة السيد حبيب محمود أحمد ، جدة ، السعودية ، 1399ھ ، ص: 608
  • 42  أبو القاسم علي بن الحسن ابن عساكر الدمشقي ، تاريخ دمشق ، ج-3 ، مطبوعة: دار الفكر ، بيروت ، لبنان ، 1995م ، ص: 264
  • 43  أبو بكر أحمد بن الحسين البيهقي ، دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة ﷺ ، ج1- ، مطبوعة: دار الکتب العلمية ، بیروت ، لبنان ، 2008م ، ص: 303
  • 44  أبو داؤد سليمان بن داؤد الطيالسي ، مسند الطيالسي ، حديث: 802 ، ج-2 ، مطبوعة: دار هجر ، جيزة ، مصر ، 1999م ، ص: 126
  • 45  عبد الرحمن بن أبي بكر جلال الدين السيوطي ، الشمائل الشريفة وشرحها للمناوي ، مطبوعة: دار طائر العلم ، جدة ، السعودية ، 1991م ، ص: 34
  • 46  أبو عبد اﷲ محمد بن إسماعیل البخاري ، صحیح البخاري ، حديث: 3561 ، مطبوعة: دار السلام ، الریاض ، السعودیة ، 1999م ، ص: 597
  • 47  أیضاً ، حديث: 3553
  • 48  أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري ، الأدب المفرد ، حديث: 1155 ، مطبوعة: المطبعة السلفية ومكتبتها ، القاهرة ، مصر ، 1379م ، ص: 395
  • 49  أبو بكر عبد الله بن الزبير الحميدي ، مسند الحميدي ، حديث: 886 ، ج-2 ، مطبوعة: دار السقا ، دمشق ، السوریۃ ، 1996م ، ص: 111
  • 50  أبو عبد اﷲ محمد ابن سعد البصري ، الطبقات الکبرى ، ج1- ، مطبوعة: دار الکتب العلمیة ، بیروت ، لبنان ، 1990م ، ص: 318
  • 51  أبو الحسن خيثمة بن سليمان الأطرابلسي ، من حديث خيثمة بن سليمان ، مطبوعة: دار الكتاب العربي ، بيروت ، لبنان ، 1980م ، ص: 190
  • 52  أبو عبد اﷲ محمد بن إسماعیل البخاري ، صحیح البخاري ، حديث: 3566 ، مطبوعة: دار السلام ، الریاض ، السعودیة ، 1999م ، ص: 598
  • 53  أبو بكر عبد الرزاق بن همام الصنعاني ، المصنف لعبد الرزاق ، حديث: 1806 ، ج1- ، مطبوعة: توزيع المكتب الإسلامي ، بيروت ، لبنان ، 1983م ، ص: 476
  • 54  أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي ، الشمائل المحمدية والخصائل المصطفوية ، حديث: 2 ، مطبوعة: المكتبة التجارية ، مكة المكرمة ، السعودية ، 1993م ، ص: 29
  • 55  أبو عبد اﷲ محمد بن إسماعیل البخاري ، الأدب المفرد ، حديث: 1155 ، مطبوعة: المطبعة السلفية ومكتبتها ، القاهرة ، مصر ، 1379م ، ص: 395
  • 56  أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي ، الشمائل المحمدية والخصائل المصطفوية ، حديث: 8 ، مطبوعة: المكتبة التجارية ، مكة المكرمة ، السعودية ، 1993م ، ص: 35
  • 57  أبو القاسم سليمان بن أحمد الطبراني ، المعجم الكبير ، حديث: 6510 ، ج-7 ، مطبوعة: مكتبة ابن تيمية ، القاهرة ، مصر ، 1994م ، ص: 105
  • 58  أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة الدينوري ، غريب الحديث ، ج1- ، مطبوعة: مطبعة العاني ، بغداد ، العراق ، 1397ھ ، ص: 472
  • 59  أبو عبد الله محمد بن يوسف الصالحي الشامي ، سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد ﷺ ، ج-2 ، مطبوعة: دار الكتب العلمية ، بيروت ، لبنان ، 1993م ، ص: 91
  • 60  أبو عبد اﷲ محمد بن إسماعیل البخاري ، صحیح البخاري ، حديث: 3567 ، مطبوعة: دار السلام ، الریاض ، السعودیة ، 1999م ، ص: 598
  • 61  القرآن ، سورة النجم 53: 4-3
  • 62  الكتاب المقدس ، سفر الحكمة 3: 7- 9 (الترجمة البيروتية ، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=27&chapter=3)
  • 63  القرآن ، سورة النمل 27: 16
  • 64  يحيى بن سلام التيمي البصري ، تفسير يحيى بن سلام ، ج-2 ، مطبوعة: دار الكتب العلمية ، بيروت ، لبنان ، 2004م ، ص: 536
  • 65  کتابِ مُقدس ، زبور 72: 11-14 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی ، دہلی ، انڈیا ، 2005ء ، ص: 563)
  • 66  القرآن ، سورة الأنبياء 21: 105
  • 67  يحيى بن سلام التيمي البصري ، تفسير يحيى بن سلام ، ج1- ، مطبوعة: دار الكتب العلمية ، بيروت ، لبنان ، 2004م ، ص: 350
  • 68  الدكتور منقذ بن محمود السقار ، الله جلّ جلاله واحد أم ثلاثة؟ مطبوعة: دار الإسلام ، القاهرة ، مصر ، 2007م ، ص: 28
  • 69  أبوعیسی محمد بن عیسی الترمذی ، جامع الترمذي ، حدیث: 3609 ، مطبوعۃ: دار السلام ، الریاض ، السعودیۃ ، 2009م ، ص: 1070
  • 70  الكتاب المقدس ، رسالة يهوذا1: 15-14 (الترجمة البيروتية ، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=75&chapter=1)
  • 71  الشيخ محمد رحمت الله بن خليل الرحمن الكيرانوي ، إظهار الحق ، ج-4 ، مطبوعة: الرئاسة العامة لإدارات البحوث العلمية والإفتاء والدعوة والإرشاد ، الرياض ، السعودية ، 1989م ،ص : 1172