encyclopedia

بشاراتِ حضرت ابراہیم علیہ السلام

Published on: 10-Jun-2026

حضرت ابراہیم Alaihis Salam ان جلیل القدر انبیائے کرام Alaihmus Salam میں سے ہیں جن کی شخصیت کو نہ صرف قرآنِ کریم نے توحید، اخلاص اور ملتِ حنیفیہ کے امام کی حیثیت سے پیش کیا ہے بلکہ یہودیت، عیسائیت اور دیگر مذہبی روایات میں بھی انہیں غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ Alaihis Salam سے منسوب بشارات، عہدِ الٰہی اور نسلِ ابراہیمی سے متعلق پیش گوئیاں محض تاریخی بیانات نہیں رہتیں بلکہ ادیانِ عالم کی مشترک مذہبی تاریخ میں ایک بنیادی حوالہ بن جاتی ہیں۔ اگرچہ صحفِ ابراہیم آج اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں، تاہم قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ، تورات، غیر قانونی/اپوکریفائی متون اور قدیم مذہبی روایات میں ان کے بعض آثار اور اشارات موجود ہیں۔ اس تحقیقی مضمون میں انہی نصوص و شواہد کا تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم Alaihis Salam سے منسوب متعدد بشارات، خواہ وہ حضرت اسماعیل Alaihis Salam کی نسل کی کثرت، عہدِ الٰہی، سرزمین کی وراثت، یا آخری زمانے میں ایک موعود شخصیت کے ظہور سے متعلق ہوں، اپنی کامل اور جامع تطبیق نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بعثتِ مبارکہ پر ہی پاتی ہیں۔

حضرت ابراہیم Alaihis Salam اور ادیان عالم

قرآن کریم کی رو سے حضرت ابراہیم Alaihis Salam نہ یہودی تھے نا نصرانی اور نہ بت پرست مشرک تھے بلکہ سیدھے راستےوالے، توحید کے علمبردار، مسلمان تھے۔ 1 تاہم دنیا کے تمام بڑے مذاہب میں آپ Alaihis Salam کو عظیم اورمحترم سمجھا جاتا ہے۔ یہودی آپ Alaihis Salam کو اب الآباء یعنی تمام بنی اسرائیل کا جد امجد مانتے ہیں، اور یہ اعتقاد رکھتےہیں کہ بنی اسرائیل کی نسل اُنہی کی وساطت سے وجود میں آئی ہے۔ 2 کیونکہ تورات میں ہے:

خدا نے ابرہام سے کہا کہ میرا تیرے ساتھ یہ عہد ہے کہ تو کئی قوموں کا باپ ہوگا۔ 3

عیسائیت میں بھی آپ Alaihis Salam کی شخصیت کو اعلی مقام حاصل ہے۔ پولس رسول گلتیوں کے نام خط میں لکھتے ہیں:

ابرہام (Alaihis Salam)کو دیکھو، وہ خدا پر ایمان لایا اور اس کا ایمان اس کے لے راستبازی گنا گیا۔ پس جان لو کہ ایمان لانے والے لوگ ہی ابرہام(Alaihis Salam) کے حقیقی فرزند ہیں۔ (4)

بعض محققین تو یہ قیاس آرائیاں بھی پیش کرتے ہیں کہ ہندو ؤں کی اعلی درجہ کی ذات برہمن بھی شاید حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی نسبت سےہے اور برہما ابراہیمی مذہب کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ 5 چونکہ حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی شخصیت دنیا کے تمام مذاہب میں ایک مستحکم اور بلند مقام کی حامل ہے، اس لیے آپ Alaihis Salam کی بیان کی گئی بشارات کو نہ صرف ایک تاریخی یا مذہبی حوالہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے بلکہ یہ تمام انسانیت کے لیے انتہائی معتبر رہنمائی کا ماخذ بھی ہیں۔

صحفِ ابراہیم

اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آسمانی کتب وصحف میں سے صحفِ ابراہیم بھی ہیں۔ قرآن مجید میں ان صحف کا ذکر موجود ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ الہامی تعلیمات کا حصہ تھے۔ چنانچہ فرمانِ خداوندی ہے:

إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَى 18صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى196
بیشک یہ (تعلیم) اگلے صحیفوں میں (بھی مذکور) ہے جو ابراہیم اور موسٰی (Alaihmas Salam) کے صحائف ہیں۔

حضرت ابو ذر Radi Allah Anho رسول اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم ( Alaihis Salam) پر 10 صحیفے نازل کیے گئے تھے۔ 7 اور حضرت واثلہ بن الاسقع Radi Allah Anho رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابراہیم Alaihis Salam کے صحیفے رمضان کی پہلی رات کو نازل ہوئے تھے۔ 8 صحفِ ابراہیم آج کے دور میں کسی بھی صورت میں محفوظ نہیں ہیں، اور نہ ہی یہود و نصاریٰ کی موجودہ کتبِ مقدسہ میں ان کا کوئی صریح یا واضح ذکر پایا جاتا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان صحف کا کوئی تحریری یا مادی ثبوت اب تک دریافت نہیں ہوا۔ البتہ یہ امکان اپنی جگہ موجود ہے کہ جس طرح قرآنِ کریم میں صحفِ ابراہیم کی تعلیمات کے بعض اجزاء کا تذکرہ موجود ہے، اسی طرح بائبل یا دیگر قدیم مذہبی متون میں بھی ان تعلیمات یا ارشادات کے کچھ اثرات یا نشانات کسی نہ کسی صورت میں محفوظ رہ گئے ہوں۔ تاہم رؤیا ابراہیم کے نام سے ایک کتاب آج بھی موجود ہے جو اہلِ کتاب غیر معتمد اسفار (Apocryphal Scriptures) میں شمار کرتے ہیں۔

پہلی بشارت

تمام انبیاء کرام Alaihmus Salamنے اپنے اپنے ادوار میں رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد سے متعلق بشارات دی ہیں۔ اپنی تعلیمات وارشادات میں آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے جمالی و کمالی اوصاف کو بیان کیا ہے، اور اپنی امّت کو یہ حکم دیا ہے کہ اگر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ان کی امّت میں مبعوث ہوں تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی اتباع، نصرت اور مدد ہر حال میں ان پر لازم ہوگی۔ ان بشارات میں سبقت پانے والی حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی وہ بشارت بھی ہے جب آپ Alaihis Salam نے اہل مکہ کے لیے پُرخلوص دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی قوم میں ایک نبی کو مبعوث فرمائے، جو رہنمائی، ہدایت اور حق کے علمبردار کے طور پر امت کی راہ روشن کرے۔ 9تورات میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم Alaihis Salam سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ میں حضرت اسماعیل Alaihis Salam کی نسل کو بھی بڑھاؤں گا اور انہیں بھی برکت دوں گا، جو تاریخ میں امتِ عرب کی بنیاد اور عظیم امت کی تشکیل کا سبب بنی۔ چنانچہ سفرپیدائش میں ہے:

خدا نے اس (ابراہیم ) سے کہا کہ اس لڑکے اور اپنی خادمہ کے بارے میں اس قدر پریشان نہ ہو۔ جو کچھ سارہ (Alaihas Salam) تجھ سے کہتی ہے اسے مان، کیونکہ اضحاق (Alaihis Salam) سے ہی تیری نسل جاری ہوگی۔ میں اس خادمہ (ہاجرہ ) کے بیٹےسے بھی ایک قوم پیدا کروں گا کیونکہ وہ بھی تیرا بیٹا ہے۔ 10

اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب حضرت اسماعیل Alaihis Salam کی اولاد ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم Alaihis Salam نے رسولا منہم فرماکر اللہ تعالیٰ سے اسی ذریت میں ایک نبی مبعوث فرمانے کی دعا کی۔ 11 ظاہر ہے کہ جب رسول اپنی ہی قوم میں سے ہوگا تو لوگ اس کے حسب و نسب، پیدائش و پرورش سے بخوبی واقف ہوں گے، اور اسی نسبت سے اس کی بات زیادہ آسانی سے قبول کریں گے۔ تمام علما ءو مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس آیت میں جس رسول کا ذکر ہے، اس سے مراد صرف حضرت محمد مصطفیٰ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہیں، کیونکہ ابراہیم Alaihis Salam نے یہ دعا اپنی اولاد کے لیے مکہ مکرمہ میں کی تھی، اور مکہ ہی میں ان کی ذریت میں سے صرف نبی آخرالزماں Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہی مبعوث ہوئے۔ 12

اللہ تعالی نے عرب کی سرزمین میں رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو مبعوث فرماکر ابراہیم Alaihis Salam کی دعا قبول فرمائی۔ رسولِ اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam فرماتے ہیں کہ میں اپنے باپ ابراہیم Alaihis Salam ‏ کی دعا اور عیسی Alaihis Salam کی بشارت ہوں۔ 13 علامہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ابراہیم Alaihis Salam وہ پہلی ہستی ہیں جنہوں نے لوگوں میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمدکا ذکر مشہور کیا، پھر ہر دور میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد وبعثت مشہور ومعروف رہی، یہاں تک کہ خاتمِ انبیاء ِبنی اسرائیل نے آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد کا ذکر کیا اور حضرت عیسی Alaihis Salam نے صاف اور واضح طور پر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا نام لیا۔ 14 اگرچہ یہودی علماء ذاتی اور نسلی تعصب کے پیش نظر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی نبوت کا وارث حضرت اسحاق Alaihis Salam اور ان کے بعد حضرت یعقوب Alaihis Salam کو بنایا، اور نبوت کی وراثت بنی اسرائیل میں منتقل ہوگئی تاہم تورات کی بشارت اور قرآن کریم کی خبر اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اس سے مراد حضرت اسماعیل Alaihis Salam اور پھر آپ Alaihis Salam کی اولاد میں نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہیں۔

دوسری بشارت

تورات کے سفرِ پیدائش میں ہے کہ جب ابراہیم Alaihis Salam کنعان میں قیام پذیر ہوئے اور لوط Alaihis Salam وہاں سے سدوم تشریف لے گئے، اس وقت اللہ تعالی نے ابراہیم Alaihis Salam پر وحی نازل فرمائی :

...ارفع عينيك وانظر من الموضع الذي أنت فيه شمالا وجنوبا وشرقا وغربا؛ لأن جميع الأرض التي أنت ترى لك أعطيها ولنسك إلى الأبد، وأجعل نسلك كتراب الأرض، حتى إذا استطاع أحد أن يعد تراب الأرض فنسلك أيضا يعد. 15
اپنی آنکھیں اٹھاؤ، اور جس جگہ تم ہو وہاں سے اپنی نگاہ اٹھا کر شمال، جنوب، مشرق اور مغرب کی طرف دیکھو، یہ تمام زمین جو تم دیکھ رہے ہو میں اسے تمہیں اور نسل کو ہمیشہ کے لیے عطا کروں گا، اور میں تمہاری نسل کو زمین کے ذرات کی مانند(کثیر) بناؤں گاحتی کہ اگر کوئی شخص زمین کےذرات کو گننے کی طاقت رکھتا ہو تو تیری نسل بھی گنی جاسکے گی۔

تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی نسل، خواہ بنی اسرائیل ہوں یا بنی اسماعیل، اس قدر کثیر ہو گئی کہ ان کا شمار ناممکن ہو گیا۔ اسی طرح تورات میں ایک اور مقام پر حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی نسل کی کثرت کو آسمان کے ستاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت سے تشبیہ دی گئی ہے:

خداوند کے فرشتے نے آسمان سے ایک بار پھر ابرہام ( Alaihis Salam ) کو پکارااور کہا: خداوند فرماتا ہے کہ میں نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ چونکہ تُو نے میرا حکم مانا اور اپنےبیٹے یعنی اپنے اکلوتے بیٹے کو بھی دریغ نہ کیا۔ اس لیے میں یقیناً تجھے برکت دوں گااور تیری اولاد کو آسمان کےستاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند بے شمار بڑھاؤں گا اور تیری اولاد اپنے دشمنوں کےشہروں پر قابض ہوگی۔ 16

چونکہ حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی نسل آپ Alaihis Salam کے دونوں فرزندوں، حضرت اسحاق Alaihis Salam اور حضرت اسماعیل Alaihis Salam ، سے آگے بڑھی ہے یعنی ایک جانب بنی اسرائیل اور دوسری جانب بنی اسماعیل، اس لیے یہاں ممکنہ صورتیں تین ہوسکتی ہیں: پہلی یہ کہ اس سے صرف بنی اسرائیل مراد ہوں، دوسری یہ کہ صرف بنی اسماعیل مراد ہوں، اورتیسری یہ کہ دونوں بالترتیب مراد ہوں۔

پہلی صورت دو وجوہات کی بناپر مراد نہیں ہوسکتی۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل اپنی طویل تاریخ میں کبھی بھی اس وسیع و عریض سرزمین پر ابدی اور مستقل طور پر قابض نہیں رہے۔ اگرچہ انبیائے بنی اسرائیل Alaihmus Salam کے بعض ادوار میں وہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم تھے اور اس وقت انہیں اس خطے پر اقتدار بھی حاصل ہوا، لیکن وہ اقتدار نہ دائمی تھا اور نہ ہی وہ اپنے تسلط کو برقرار رکھ سکے۔ حالانکہ یہاں اللہ تعالیٰ نسلِ ابراہیم Alaihis Salam سے اس سرزمین کی ابدی عطا اور دائمی ملکیت کا وعدہ فرما رہے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے اللہ تعالیٰ ان آیات میں ابراہیم Alaihis Salam کو خوشخبری دے رہے ہیں کہ میں یہ زمین تمہاری نسل کو عطا کروں گااور خوشخبری کا حقیقی مفہوم اس وقت مکمل اور متحقق ہوگا جب اس میں دو چیزیں جمع ہوں۔ ایک زمین کی ملکیت اور دوسرا شریعتِ الٰہی کا قیام، کیونکہ کسی مخصوص نسل کو زمین کی محض ملکیت بغیر شریعت کے عطا کرنا نہ تو اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان ہےاور نہ ہی ابراہیم Alaihis Salam اس سے خوش ہو سکتے ہیں اور نہ ہی یہ شرعی اعتبار سے خوشخبری ہوسکتی ہے کیونکہ اگر زمین کی ملکیت کے ساتھ ہدایت و شریعت نہ ہو تو وہ نعمت کے بجائے سببِ مواخذہ بھی بن سکتی ہے۔ اگر بنی اسرائیل کی تاریخ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہےکہ ان کی شریعت ابدی نہیں تھی بلکہ وہ شریعتِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے منسوخ ہوچکی ہےلہذا یہاں بنی اسرئیل مراد نہیں ہوسکتے ۔

اس کے علاوہ دونوں صورتوں میں یہ بشارت درحقیقت بشارتِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہی قرار پاتی ہے۔ دوسری صورت میں اس لیے کہ بنی اسماعیل وہ امت ہیں جنہیں ابدی شریعت عطا کی گئی، اور تاریخی طور پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سرزمین کی حکومت و ملکیت بھی عطا فرمائی۔ اور تیسری صورت میں بھی یہی مفہوم برقرار رہتا ہے، کیونکہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انبیائے بنی اسرائیل Alaihmus Salam کے ادوار میں ایک مدت تک اس زمین کی ملکیت بنی اسرائیل کو دی تھی، لیکن شریعتِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے ظہور کے بعد یہ امتیاز بنی اسماعیل کی طرف منتقل ہوگیا، اور اب اس سرزمین کی حقیقی نسبت اسی امت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس لیے علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس بشارت کا مصداق امت محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہے، بلکہ اس امت سے قبل اس بشارت کی نہ تو تکمیل ہوئی تھی اورنہ ہی کوئی امت ایسی آئی ہے جو امت محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے عظیم تر ہو۔ 17 اس کی تائید صحیح مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو حضرت ثوبان Radi Allah Anho سے مروی ہےکہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایا:

إن الله ‌زوى ‌لي ‌الأرض، فرأيت مشارقها ومغاربها، وإن أمتي سيبلغ ملكها ما زوى لي منها... 18
اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے زمین کے مشارق اور مغارب(مشرقی اور مغرب سمت) کو دیکھا، اوریقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک میرے لیے زمین سمیٹی گئی۔ ۔ ۔

تیسری بشارت

سفر پیدائش باب نمبر 16 کی آیات میں بھی رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد سے متعلق ایک بشارت مضمر ہے۔ تورات کے مطابق، جب حضرت ہاجرہ Alaihas Salam حاملہ ہوئیں توحضرت سارہ Alaihas Salam نے ان کی موجودگی میں اپنی حقارت محسوس کی اور اس بات پر حضرت ابراہیم Alaihis Salam سے شکایت کی۔ حضرت ابراہیم Alaihis Salam نے سارہ Alaihas Salam سے کہا: یہ تیری لونڈی ہے، جس طرح تم چاہو اس کے ساتھ کرو۔ سارہ Alaihas Salam نے ہاجرہ Alaihas Salam کے ساتھ سختی برتی، جس سے ہاجرہ Alaihas Salam اتنی دکھی ہو گئیں کہ وہ وہاں سے بھاگ کر ایک چشمے کے کنارے آکر بیٹھ گئیں۔ اسی وقت ان کے پاس ایک فرشتہ آیا اور انہیں مندرجہ ذیل بشارت سنائی:

قال لها ملاك الرب: تكثيرا أكثر نسلك فلا يعد من الكثرة. وقال لها ملاك الرب: ها أنت حبلى، فتلدين ابنا وتدعين اسمه إسماعيل؛ لأن الرب قد سمع لمذلتك. وإنه يكون إنسانا وحشيا، يده على كل واحد، ويد كل واحد عليه، وأمام جميع إخوته يسكن.19
اور خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا کہ میں تیری اولاد کو بڑھاؤں گا یہاں تک کہ کثرت کے سبب سے اس کا شمار نہ ہوسکے گا۔ اور خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا کہ تو حاملہ ہے اور تیرا بیٹا ہوگا اس کا نام اسماعیل رکھناا س لیے کہ خداوند نے تیرا دکھ سن لیا، وہ گورخر کی طرح آزاد مرد ہوگا اس کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کے ہاتھ اس کے خلاف ہوں گے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسا رہے گا۔

اس عبارت میں حضرت اسماعیل Alaihis Salam کے بارے میں اصل مرکزی مضمون" بشارت اور کثرتِ نسل" کا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ Alaihas Salam کو یہ خوش خبری دی کہ ان کے بطن سے ایک فرزند پیدا ہوگا، اس کا نام اسماعیل(Alaihis Salam ) رکھا جائے گا، اور اس کی اولاد اس قدر کثیر ہوگی کہ شمار میں نہ آسکے گی۔ البتہ عبارت میں وارد الفاظ "إنسانًا وحشيًا"بظاہر حضرت اسماعیل Alaihis Salam کی شانِ نبوت اور ان کے منصبِ جلیل کے مناسب نہیں، اس لیے بعض مسلم محققین کے نزدیک یہ الفاظ بعد کے محرّفین کی طرف سے حضرت اسماعیل Alaihis Salam اور ان کی نسل کے خلاف عداوت و تعصب کی بنا پر داخل کیے گئے۔ اس کے باوجود اسی آیت کا اصل مفہوم حضرت اسماعیل Alaihis Salam کے لیے ایک عظیم بشارت کو واضح کرتا ہے، کیونکہ اس میں ان کی ولادت، نام، اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ہاجرہ Alaihas Salam کی فریاد سنے جانے، اور ان کی نسل کے غیر معمولی پھیلاؤ کی خبر دی گئی ہے۔ یوں یہ عبارت تحریف شدہ تعبیرات کے باوجود حضرت اسماعیل Alaihis Salam کی عظمت اور ان کے مستقبل کی ایک روشن بشارت الٰہی پر دلالت کرتی ہے۔

بشارت کے دوسرے حصے میں مذکور ہے " اس کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کے ہاتھ اس کے خلاف ہوں گے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسا رہے گا۔ "امام ابنِ تیمیہ بیان فرماتے ہیں کہ بعثتِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے پہلے تک بنی اسماعیل کو بنی اسحاق پر کسی بھی دور میں غلبہ حاصل نہ ہوا تھا۔ نبوت اور آسمانی کتابیں ہمیشہ بنی اسحاق ہی میں رہی تھیں۔ چنانچہ جب حضرت یوسف Alaihis Salam نے مصر میں وزارت پائی، اورحضرت یعقوب Alaihis Salam کے ہمراہ بنی اسرائیل مصر آئے، اس وقت بھی بنی اسماعیل ان پر کسی اعتبار سے فائق نہ تھے۔ پھر جب حضرت موسیٰ Alaihis Salam مبعوث ہوئے تو اس دور میں بھی عزت و سربلندی بنی اسحاق ہی کے حصے میں تھی، اور کسی قوم کو ان پر غالب آنے کی طاقت نہ تھی۔ یہی سلسلہ حضرت یوشع Alaihis Salam سے لے کر حضرت داؤد Alaihis Salam تک جاری رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان Alaihis Salam کو ایک بے مثال حکومت عطا فرمائی، ایسی بادشاہت جو کسی اور کے حصہ میں نہ آئی۔ بعد ازاں جب بخت نصر نے حملہ کیا اور بنی اسرائیل آزمائش میں مبتلا ہوئے، تب بھی بنی اسماعیل کو ان پر کوئی فیصلہ کن غلبہ نصیب نہ ہوا۔ پھر حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کی بعثت کے بعد دوسری مرتبہ بیت المقدس اجڑ گیا اور اسی دور سے بنی اسرائیل کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین کے گوشے گوشے میں منتشر کر دیا اور وہ روم و فارس جیسی بڑی سلطنتوں کے زیر نگیں آ گئے۔ اگرچہ اس زمانے میں عرب بھی اپنی قبائلی حیثیت رکھتے تھے، تاہم انہیں بنی اسرائیل پر کوئی برتری حاصل نہ تھی۔ الغرض، بنی اسماعیل کو نہ اہلِ کتاب پر کوئی غلبہ حاصل ہوا اور نہ ہی دیگر اقوام پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو مبعوث فرمایا اور بنی اسماعیل کا ہاتھ تمام اقوام پر غالب آگیا۔ روئے زمین پر کوئی سلطنت ایسی نہ رہی جو ان کی سلطنت سے زیادہ معزز اور باوقار ہو۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی امّت نے روم و فارس جیسی عظیم طاقتوں کو زیر کرلیا، اور یہود و نصاریٰ، مجوس، مشرکین اور صابئین، سب پر انہیں اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا فرمایا۔ یوں تورات کی وہ بشارت پوری طرح مکمل ہوگئی کہ"اس کا ہاتھ سب پر غالب ہوگا"، اور یہ غلبہ تاقیامت باقی رہے گا۔ 20

دوم: حضرت اسماعیل Alaihis Salam کے ہاتھ کا سب کے خلاف ہونے میں دوسرا احتمال یہ ہے کہ ان کی سیرت و کردار، طرزِ زندگی، عادات و خصائل، اخلاق و اقدار اور معاشرتی رویّے دوسری اقوام سے نمایاں طور پر مختلف ہوں گے۔ یعنی حضرت اسماعیل Alaihis Salam اور ان کی اولاد کا طریقہ(شریعت) حضرت اسحاق Alaihis Salam ودیگر فرزندانِ ابراہیم Alaihis Salam اور ان کی اولاد کے طریقے سے مختلف ہوگا۔ اس عبار ت میں صاف اشارہ ہے کہ حضرت اسماعیل Alaihis Salam کی اولاد میں ایک ایسا نبی مبعوث ہوگا جس کی شریعت عام ہوگی اور بنی اسحاق کی شرائع سے مختلف ہوگی۔ 21یہ نوید درحقیقت رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد کی صورت میں حقیقت بن گئی۔

چوتھی بشارت

سفر پیدائش میں ہے کہ اللہ تعالی نے ابراہیم Alaihis Salam سے وعدہ فرمایا ، جس کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:

وأعطي لك ولنسلك من بعدك أرض غربتك، كل أرض كنعان ملكا أبديا، وأكون إلههم. وقال الله لإبراهيم: وأما أنت فتحفظ عهدي، أنت ونسلك من بعدك في أجيالهم. 22
اور میں تجھے اور تیرے بعد تیری نسل کو تیرے پردیس کی زمین یعنی کنعان کا سارا ملک ایک دائمی میراث کے طور پر عطا کروں گا اور میں ان کا خدا ہوں گا۔ اور اللہ تعالی نےابراہیم ( ) سے فرمایا: پس تم میرے عہد کی پاسداری کرو، تم اور تیرے بعد تیری نسل پشت در پشت(اس عہد کی پاسداری کرو)۔

اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم Alaihis Salam سے یہ وعدہ فرمایاکہ وہ انہیں اور ان کی نسل کو ہمیشہ کے لیے سرزمینِ کنعان عطا کرے گا۔ تاہم اس سے قبل سفرِ پیدائش کے باب 15 میں یہی وعدہ یوں بیان ہوا ہے:

اس روز خداوند نے ابرام کے ساتھ عہد باندھا اور کہا: میں دریائے مصر سے لے کے بڑے دریا یعنی دریائے فرات تک کی زمین تیری نسل کو دے دی ہے۔ 23

یہودی علماء تورات میں مذکور اس وعدے کی تشریح کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ یہ بشارت اور عہد خاص طور پر بنی اسرائیل کے لیے ہے، اور اس میں بنی اسماعیل، بنی قطورہ اور حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی دیگر اولاد شامل نہیں۔ اپنے اس نظریے کے حق میں وہ تورات کے اس آیت سے استدلال کرتے ہیں:

اور اسماعیل (Alaihis Salam ) کے حق میں بھی میں نے تیری دعا سنی۔ میں یقیناً اسے برکت دوں گا۔ میں اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا۔ اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا۔ لیکن میں اپنا عہد اضحاق (Alaihis Salam ) ہی سے باندھوں گا جو اگلے سال اسی وقت تیرے ہاں سارہ Alaihas Salam سے پیدا ہوگا۔ 24

یہود کے اس دعوے کی بنیاد دراصل لفظ "لیکن"پر قائم ہے، جو بظاہر یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ کے اس عہد و پیمان میں صرف حضرت اسحاق Alaihis Salam ہی کو خصوصی حیثیت حاصل تھی اور حضرت اسماعیل Alaihis Salam اس دائرے سے خارج ہیں۔ تاہم اگر عبرانی متن کا جائزہ لیا جائے جس کی بنیاد پر یہ ترجمہ کیا گیا ہے تو ایک مختلف صورتِ حال سامنے آتی ہے، کیونکہ یہاں جس لفظ کا ترجمہ "لیکن"کیا گیا ہے وہ دراصل عبرانی حرف "واو (Vav)" ہے۔ عبرانی قواعدِ زبان میں‘‘واو’’ مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب یہ کسی اسم کے شروع میں آئے تو اسے حرفِ عطف کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو سابقہ کلام اور بعد والے جملے کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے۔ اس لیے سیاق و سباق کے لحاظ سے"واو" کا ترجمہ کبھی"اور" اور کبھی"لیکن" کیا جا سکتا ہے۔ 25 اسی لیے بائبل کے بعض تراجم میں یہاں "لیکن" کے بجائے "اور" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ چنانچہ Young’s Literal Translation میں اس کا ترجمہ "اور (and)" سے کیا گیا ہے:

As to Ishmael, I have heard thee; lo, I have blessed him, and made him fruitful, and multiplied him, very exceedingly; twelve princes doth he beget, and I have made him become a great nation. And my covenant I establish with Isaac, whom Sarah doth bear to thee at this appointed time in the next year. 26
حضرت اسماعیل Alaihis Salam کے بارے میں میں نے تیری بات سن لی ہے؛ دیکھو! میں نے انہیں برکت دی ہے، اور ان کو بہت زیادہ پھلنے پھولنے والا بنایا ہے، اور انہیں بے حد و حساب بڑھایا ہے۔ ان سے بارہ سردار پیدا ہوں گے، اور میں نے انہیں ایک بڑی قوم بنا دیا ہے۔ اور میرا عہد میں حضرت اسحاق Alaihis Salam کے ساتھ قائم کروں گا، جنہیں سارہ Alaihas Salam تمہارے لیے اسی مقررہ وقت پر، آئندہ سال جنم دیں گی۔

اسی طرحInternational Standard Version میں اس آیت کا ترجمہ اس انداز سے کیا گیا ہے جس سے یہ مفہوم واضح ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل Alaihis Salam حضرت اسحاق Alaihis Salam کے ساتھ مل اس عہدِ الٰہی کا حصہ ہیں ۔ 27 ذیل میں اس مؤقف کے دلائل پیش کیے جاتے ہیں کہ بنی اسماعیل بھی اس عہدِ الٰہی میں شریک وشامل ہیں، اور اسی سلسلے کی تکمیل بنی اسماعیل میں ایک نبی کی بعثت کی صورت میں ہوگی، جس کی امت بعد میں اسی سرزمین کی حقیقی وارث قرار پائے گی۔

پہلی دلیل

تورات کی کتابی ترتیب اور داخلی سیاق سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل Alaihis Salam کے بارے میں دی گئی بشارت مستقل اور براہِ راست انہی کے لیے مخصوص ہے، کیونکہ پہلے حضرت ہاجرہ Alaihas Salam سے حضرت اسماعیل Alaihis Salam کی ولادت کا ذکر آتا ہے، پھر حضرت ابراہیم Alaihis Salam حضرت اسماعیل Alaihis Salam کے حق میں دعا کرتے ہیں، اور اس کے جواب میں صاف الفاظ میں فرمایا جاتا ہے کہ حضرت اسماعیل Alaihis Salam کے بارے میں دعا سن لی گئی ہے۔ پھر اسی جواب کے تحت ان کے لیے برکت، کثرتِ نسل، غیر معمولی افزائش، بارہ سرداروں کے ظہور اور ایک بڑی قوم بننے کی خوش خبری دی جاتی ہے۔ اس کے بعد حضرت اسحاق Alaihis Salam کا ذکر الگ بشارت کے طور پر آتا ہے، اور یہاں اصل لفظ "اور" ہے، "لیکن"نہیں۔ اس لیے اس جملے" اور میرا عہد میں حضرت اسحاق Alaihis Salam کے ساتھ قائم کروں گا، جنہیں سارہ Alaihas Salam تمہارے لیے اسی مقررہ وقت پر، آئندہ سال جنم دیں گی" کو حضرت اسماعیل Alaihis Salam کی بشارت کے مقابل یا منسوخ کرنے والا بیان نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کا درست مفہوم یہ ہے کہ حضرت اسماعیل Alaihis Salam کے لیے عظیم قومی بشارت اپنی جگہ ثابت ہے، اور اس کے ساتھ حضرت اسحاق Alaihis Salam کے بارے میں ایک مستقل عہد کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ پس"برکت"، "کثرت"، "بارہ سردار"اور"بڑی قوم" والی بشارت اپنے الفاظ، سیاق اور تاریخی ترتیب کے اعتبار سے صرف حضرت اسماعیل Alaihis Salam ہی کے حق میں ہے۔

دوسری دلیل

تورات کے بیان کے مطابق اس عہد کا مستحق اسی نسل کو قرار دیا گیا ہے جس میں ختنہ کی رسم نشانی کے طور پر قائم ہو۔ چنانچہ تورات میں اس بشارت کے فوراً بعد یہ ذکر آتا ہے:

میرا عہد جو میرے اور تیرے درمیان، اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے اور جسے تم مانوگے، یہ کہ تم میں سے ہر فرزندِ نرینہ کا ختنہ کیا جائے۔ 28

اور اہل کتاب خودبھی ختنہ کرنے والی قوم میں ایک نبی کے منتظر تھے۔ صحیح بخاری میں ہرقل (شاہِ روم) کی حدیث میں ہرقل نے اپنے ہم نشینوں سے کہا:

...إني رأيت الليلة حين نظرت في النجوم ‌ملك ‌الختان قد ظهر، فمن يختن من هذه الأمة؟ قالوا: ليس يختتن إلا اليهود، فلا يهمنك شأنهم، واكتب إلى مداين ملكك، فيقتلوا من فيهم من اليهود، فبينما هم على أمرهم، أتي هرقل برجل أرسل به ملك غسان يخر عن خبر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما استخبره هرقل قال: اذهبوا فانظروا أمختتن هو أم لا؟ فنظروا إليه، فحدثوه أنه مختتن، وسأله عن العرب، فقال: هم يختتنون، فقال هرقل: هذا ملك هذه الأمة قد ظهر...29
میں نے آج رات ستاروں پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ ہمارے ملک پر غالب آ گیا ہے۔ (بھلا) اس زمانے میں کون لوگ ختنہ کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہود کے سوا کوئی ختنہ نہیں کرتا۔ سو ان کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ سلطنت کے تمام شہروں میں یہ حکم لکھ بھیجئے کہ وہاں جتنے یہودی ہوں سب قتل کر دئیے جائیں۔ وہ لوگ انہی باتوں میں مشغول تھے کہ ہرقل کے پاس ایک آدمی لایا گیا۔ جسے شاہ غسان نے بھیجا تھا۔ اس نے رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے حالات بیان کیے۔ جب ہرقل نے (سارے حالات) سن لیے تو کہا کہ جا کر دیکھو وہ ختنہ کیے ہوئے ہے یا نہیں؟ انہوں نے اسے دیکھا تو بتلایا کہ وہ ختنہ کیا ہوا ہے۔ ہرقل نے جب اس شخص سے عرب کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتلایا کہ وہ ختنہ کرتے ہیں۔ تب ہرقل نے کہا کہ یہ ہی (محمدSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ) اس امت کے بادشاہ ہیں جو پیدا ہو چکے ہیں۔

مزید یہ کہ ختنہ بنی اسرائیل کے لیے بطور ایک مستقل الٰہی حکم مقرر نہیں کیا گیا تھا، بلکہ یہ عمل ان کی شریعت میں موروثی روایت کے طور پر باقی رہا۔ چنانچہ انجیل یوحنا میں ہے کہ مسیح Alaihis Salam نے یہودسےفرمایاتھا:

لیکن موسیٰ (Alaihis Salam) نے تمہیں ختنہ کرنے کا حکم دیا ہے، حالانکہ تمہارے آباواجداد نے موسیٰ (Alaihis Salam) سے کہیں پہلے یہ رسم شروع کردی تھی۔ تم سبت کے دن لڑکے کا ختنہ کرتے ہو۔ 30

تیسری دلیل

اس عبارت میں ابدی وراثت کو ایمان اور اطاعت کی شرط کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم Alaihis Salam سے فرمایا: وأكون إلههم،یعنی تمہاری نسل میں سے جو لوگ اس سرزمین کے وارث ہوں گے، وہ مجھے خدائے واحد کے طور پر ماننے والے ہوں گے۔ پس اس وعدے کا استحقاق صرف انہی لوگوں کے لیے تھا جو اللہ پر ایمان رکھتے، اس کی شریعت پر قائم رہتے اور اس کے عہد کو پورا کرتے۔ لیکن جو لوگ شرک میں مبتلا ہوئے، اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا یا اس کے قائم کردہ عہد کو توڑ دیا، وہ اس وعدے کے مستحق نہ رہے، بلکہ ان پر اللہ کی لعنت اور غضب کا استحقاق لازم آگیا۔ اور یہ شرط امتِ محمدیہ Alaihas Salam ہی نے پوری کی، نہ کہ یہود و نصاریٰ نے، کیونکہ ایمانِ خالص، توحیدِ کامل، اطاعتِ الٰہی اور عہدِ الٰہی کی وفاداری وہ صفات ہیں جو اس امت میں برقرار رہیں، جبکہ اہلِ کتاب نے ان میں سے بہت سی بنیادی شرائط کو توڑ دیا۔

خلاصہ یہ کہ مذکورہ بالا تینوں دلائل سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ عہدِ الٰہی صرف بنی اسحاق اور بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص نہیں تھا، بلکہ بنی اسماعیل بھی اس میں شامل تھے۔ پھر بنی اسماعیل میں اس عہد کی تکمیل اس وقت ہوئی جب اسی مبارک نسل میں رسول اللہ Alaihas Salam کی بعثت ہوئی۔ بعد ازاں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے صحابۂ کرام Radi Allah Anhum نے دور دراز علاقوں کو فتح کر کے انہیں اسلامی قلمرو کا حصہ بنا دیا، اور یوں امتِ محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اس الٰہی وعدے کی وارث قرار پائی۔

پانچویں بشارت

حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی ایک بشارت سفرِ رؤیاِ ابراہیم (Apocalypse of Abraham) میں بھی وارد ہوئی ہے۔ تاہم اس بشارت کے فہم و ادراک سے قبل مکاشفہ ابراہیم کا تعارف ضروری ہے، تاکہ اس کے مصدر وماخذ کے حوالےسے کوئی ابہام باقی نہ رہے۔

سفررؤیا ابراہیم

مکاشفہ ابراہیم (The Apocalypse of Abraham) کے نام سے حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی طرف منسوب ایک کتاب ہے جو پہلی صدی عیسوی میں لکھی گی ہے۔ 31 یہ کتاب اپنی مجموعی ساخت کے اعتبار سے خالصتاً یہودی رنگ و آہنگ کی حامل ہے۔ اس کی اصل زبان غالباً عبرانی یا آرامی تھی، جس سے بعد ازاں ایک یونانی ترجمہ تیار ہوا، اور یہی ترجمہ آگے چل کر سلاوونی متن کی بنیاد بنا۔ 32 The Anchor Bible Dictionary میں لکھا ہے کہ مکاشفہ ابراہیم (Apocalypse of Abraham) اپنے فلسطینی ماخذ، تصنیف کے ابتدائی دور، کتابِ اخنوخ کے ساتھ مشترک روایات، اور عہدِ جدید (New Testament) کی تحاریرسے فکری وروایتی ربط کے باعث، پہلی صدی عیسوی کی یہودی دنیا کی نہایت اہم اور نمایاں تصانیف میں اپنا ایک معتبر اور ممتاز مقام رکھتی ہے۔ 33 جبکہ اہلِ کتاب کےبعض محققین اس کتاب کو غیر معتبر صحائف (Apocryphal Scriptures) میں شمار کرتے ہیں اور اسے پہلی صدی عیسوی کی تصنیف قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی تالیف کو اس سے پہلے کے زمانے سے منسوب کرنا درست نہیں، اور وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس میں ہیکل کی تباہی کا ذکر ملتا ہے، جو سن 70عیسوی میں وقوع پذیر ہوئی تھی۔ تاہم یہ استدلال حتمی نہیں، کیونکہ اس نوع کے متعدد کتب و صحائف میں اس واقعے کا تذکرہ موجود ہے جو بلا شبہ اس سانحے سے صدیوں قبل لکھے جا چکے تھے۔

مکاشفہ ابراہیم میں حضرت ابراہیم Alaihis Salam کے ایک روحانی سفر کا ذکر ملتا ہے، جس میں آپ Alaihis Salam نے آسمانوں کی سیر فرمائی۔ اس امر کی صراحت موجود نہیں کہ یہ سیر خواب کی حالت میں تھی یا بیداری میں، تاہم قرینِ قیاس یہی ہے کہ یہ ایک رؤیائی کیفیت تھی، جس میں آپ Alaihis Salam فرشتے کی معیت میں عالمِ علوی کی طرف لے جائے گئے۔ اس سفر کے دوران آپ Alaihis Salam کو عالمِ غیب کے متعدد مناظر دکھائے گئے۔ انہی مشاہداتِ غیبیہ میں واقعہ بشارت بھی مذکور ہے، جس کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔ چنانچہ مکاشفہ ابراہیم کے باب نمبر 29 میں ہے:

فأجبت وقلت: أيها القدير والمقدّس بقدرتك، ارحم صلاتي. لهذا عرّفني وأرني هذا؛ لأنك رفعتني إلى علوك۔ لهذا عرفني أنا خليلك ما أطلب منك: وهل يحدث لهم ما رأيت في أزمنة عديدة؟ فأراني كثرة الشعب وقال لي: لهذا فهو يثير غضبي عبر المداخل الأربعة التي رأيت، وفي هذه المداخل يأتي جزائي لأعمالهم. في المدخل الأربع هناك مئة سنة، وساعة دهر هي أيضا مئة سنة. ستجري في الشر بين الأمم. فقلت: أيها الأزلي القدير، كم تدوم سنة الدهر؟ فقال: أقررت أن اثنتي عشرة ساعة من هذا الدهر تملك على الوثنيين وعلى زرعك. وحتى نهاية الأزمنة يجري ما رأيت، عد، تعلم، وانظر في اللوح. نظر ت فرأيت رجلا يخرج من الجهة اليسرى، من جهة الوثنيين، جاء رجال ونساء وأولاد من جهة الوثنيين في جموع كثيرة، وعبدوه، وإذ كنت أنظر بعد جاء الذين من جهة اليمنى، بعضهم هزأ بهذا الرجل، وآخرون ضربوه، وآخرون غيرهم سجدوا له، ورأيت أن أولئك يسجدون له، فركض عزازيل، وسجد له، وإذ قبله قبلة على وجهه، استدار ووقف وراءه. فقلت: أيها الأزلي القدير، من هو هذا الإنسان الذي يهزأ به الوثنيون، ويضربونه ويسجدون له مع عزازيل؟ فأجاب وقال: اسمع يا إبراهيم: هذا الرجل الذي رأيته يهزأ به، ويضرب ويعبد، هو ذلك الذي يريح من الوثنيين الشعب الذي يأتي منك في الأيام الأخيرة، في هذه الثانية عشرة من الدهر الشرير۔ في الساعة الثانية عشرة من دهري النهائي أقيم هذا الرجل الآتي من زرعك، الذي رأيته خارجا من شعبي، فالجميع يتبعونه، مع أولئك الذي بدلوا مشورتهم؛ لأني دعوتهم. فالذين رأيتهم آتين من عن يمين اللوح وهو يعبدونه، هم عدد كبير من الوثنيين الذين وضعوا رجاءهم فيه. والذين رأيتهم خارجين من زرعك وآتين من جهة اليمين فالكثيرون منهم سوف يستعبدون، ومنهم من هزأ به، ومنهم من ضربه، ومنهم من عبده، وهو يمتحن أولئك الذين من زرعك وقد عبدوه في نهاية الساعة الثانية عشرة هذه؛ ليضع حدا للدهر الكافر. وقبل أن يبدأ دهر البر بالنمو تأتي دينونتي على الوثنيين الأشرار بواسطة شعب ولد من زرعك ففرزته لي. 34
میں(ابراہیم Alaihis Salam) نے جواب دیا اور عرض کیا: اے قدرت والے اور قدوس! اپنی قدرت کے وسیلے سے میری دعا قبول فرما۔ مجھے اس معاملے کی حقیقت دکھا اور اس کی معرفت عطا کر، کیونکہ تو نے مجھے اپنی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ پس مجھے، جو تیرا خلیل ہوں، یہ بتا کہ میں تجھ سے کیا چاہتا ہوں: کیا ان لوگوں کے ساتھ وہی کچھ ہوگا جو میں نے مختلف زمانوں میں دیکھا ہے؟ تو اس نے مجھے لوگوں کی کثرت دکھائی اور فرمایا: اسی وجہ سے وہ ان چار واسطوں کے ذریعے میرے عذاب کا شکار ہوں گے، جو تو نے دیکھے۔ انہی واسطوں سے، ان کے اعمال کی وجہ سے ان پر میرا عذاب نازل ہوگا۔ اور چوتھے واسطے میں 100 سال ہوں گے، اورزمانے کی ایک ساعت (گھڑی) بھی 100 سال کے برابر ہے۔ یہ (زمانہ ) قوموں کے درمیان برائی اور شر میں گزرے گا۔ میں نے کہا: اے ہمیشہ زندہ رہنے والےقادر مطلق! یہ زمانہ کتنی مدت تک باقی رہے گا؟ فرمایا: میں نے زمانے کی 12 ساعتیں (گھڑیاں) مقرر کی ہیں جو بت پرستوں او رتیری نسل پر حکمرانی کریں گی۔ اور جو کچھ تم نے دیکھا ہے، وہ تمام زمانوں کے اختتام تک جاری رہے گا۔ اب شمار کرو، سمجھو اور لوح (تختی) میں دیکھو۔ میں نے غور کیا تو دیکھا کہ بائیں جانب یعنی بت پرستوں کی طرف سے ایک شخص نکل رہے ہے، اس کے ساتھ کثیر تعداد میں مرد، عورتیں اور بچے بت پرستوں کی سمت سے آرہے ہیں۔ اور اسی کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ اورپھر اچانک میں نے دیکھا دائیں جانب سے بھی لوگ آئے، بعض نے اس شخص سے استہزاء کیا، کسی نے مارا اور کچھ ا س کے آگے تسلیم ہوگئے۔ اور جب میں نےدیکھا کہ سب اس کے سامنے تواضع اختیار کر رہے ہیں تب عزازیل دوڑا اور اس کے سامنے تسلیم ہوا، اور چہرے پر بوسہ دیااور پلٹ کر اس کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔ میں نے عرض کیا: اے ہمیشہ زندہ رہنے والےقادر مطلق! یہ انسان کون ہے جس پر بت پرست طنز کرتے ہیں، اسے مارتے ہیں اور عزازیل کے ساتھ مل کر اس کے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ تب (اللہ تعالی ) نے جواب دیا اور فرمایا: سنو، اے ابراہیم! وہ شخص جسے تم نے دیکھا کہ اس پر طنز کیاجارہا ہے، مارا جارہاہے، اور عبادت کی جا رہی ہے، وہی ہے جو آخری زمانوں یعنی شریر زمانے کی بارہویں گھڑی میں تیری ذریت سے پیدا ہونے والے لوگوں کو بت پرستوں کی گرفت سے آزاد کرائے گا۔ اس شخص کو جو تیری نسل سےآئے گا جسے تم نے اپنے قوم سے نکلتے دیکھا، میں اسے اسی آخری زمانے کی بارہویں گھڑی میں اٹھاؤں گا، ، تمام لوگ اس کی پیروی کریں گے، ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے اپنی راہ بدل لی ہے، کیونکہ میں نے انہیں پکارا تھا۔ اورجو لوگ تم نے دائیں جانب سے آتے اور اس کی عبادت کرتے ہوئے دیکھے، ان میں اکثریت ان بت پرستوں کی ہے جنہوں نے اپنی امیدیں اسی سے لگائی ہیں۔ اور جو لوگ تم نے تیری نسل سے نکلے اور دائیں جانب سے آتے دیکھے، ان میں سے اکثر غلام بن جائیں گے، انہیں میں سے کسی نے اس پر طنز کیا، بعض نے اسے مارا، اور کچھ نے اس کی عبادت کی۔ یہ شخص ان لوگوں کو آزمائے گا جو تیری نسل سے ہوں گے حالانکہ انہوں نے بارہویں گھڑی کے اختتام پر اس کی عبادت کی تھی، تاکہ وہ زمانۂ شر کی انتہا کے لیے ایک حد مقرر کرے۔ اور قبل اس کے کہ نیکی کا زمانہ پروان چڑھےان شریر بت پرستوں پر میرا فیصلہ اس قوم کے ذریعے آئے گا جو تیری ذریت میں سے ہوں گے، میں نے اس قوم کو خاص اپنے لیےچنا ہے۔

مذکورہ بشارت اگرچہ سابقہ الہامی اسفار اور قانونی کتب میں نہیں پائی جاتی، تاہم عیسائیت کی ابتدائی صدیوں میں لکھی گئی تحاریر سے اس کی تائید اور تصدیق ہوتی ہے جس سے بخوبی اس کتاب کی قدامت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ چنانچہThe Syriac Clementine Recognitions and Homilies جو عیسائیت کی ابتدائی زمانےکی لکھی گئی تحاریر کا حصہ ہے، اس سے اس بشارت کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ اس کتاب میں ہے:

To Abraham then, while he was concerned and wanting to know the things that exist according to what they are, was revealed the True Prophet, who alone knows the will of each person from among human beings. In one day, everything was revealed to him, and he (the Prophet) convinced him of God, the generation of the world, its beginning, the immortal soul, the observances acceptable to Him, the Resurrection of the Dead and the Judgment, and that those who are found virtuous shall receive hidden blessings for eternity, while those who are wicked are appointed the punishment of fire for eternity. 35
تب ابراہیم Alaihis Salam پر، جب وہ حقائق کو ان کے اصل حال کے مطابق جاننے کے لیے فکرمند تھے، سچا نبی ظاہر ہوا، جو اکیلا ہر انسان کی نیت اور ارادے کو جانتا ہے۔ اسی ایک دن میں سب کچھ ان پر واضح کر دیا گیا، اور نبی نے انہیں خدا پر ایمان لانے کے لیے قائل کیا، دنیا کی پیدائش، اس کا آغاز، لازوال روح، خدا کی پسندیدہ عبادات، مردوں کی قیامت اور حساب و کتاب، یہ سب دکھایا۔ اور بتایا کہ جو لوگ نیک اور صالح پائے جائیں گے وہ ہمیشہ کے لیے پوشیدہ برکات حاصل کریں گے، جبکہ جو برے ہوں گے وہ ہمیشہ کی آگ کے عذاب کے مستحق ہوں گے۔

توضیحِ بشارت

اس بشارت کی توضیح و تشریح سے پہلے چند بنیادی امور کو سمجھ لینا نہایت ضروری ہے، تاکہ اس کے حقیقی مصداق کے تعین میں کسی قسم کا ابہام یا تردد باقی نہ رہے ۔

اول: یہ ہے کہ مذکورہ بالا عبارت میں بیان کردہ احوال، حضرت ابراہیم Alaihis Salam کے اعتبار سے مستقبل سے متعلق ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ باب 26 میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم Alaihis Salam سے فرماتے ہیں:

كذلك أيضا مشورة إرادتي هي فيّ. وهي مستعدة للأيام الآتية قبل أن تعرف ما سيكون في تلك الأيام. سترى بعينيك ما سيكون من زرعك. انظر إلى اللوح! 36
اسی طرح میری مشیئت مجھ ہی کو معلوم ہے۔ اور وہ (میری مشیئت) آنے والے دنوں کے لیے مقرر ہے اس سے قبل کہ تو یہ جان سکے کہ ان دنوں میں کیا کچھ ہونے والا ہے۔ تو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ تیری نسل سے کیا کچھ ہوگا۔ لوح (تختی) کی طرف دیکھ!

دوم: جہۃ الیمین (دائیں جانب) اور جہۃ الشمال (بائیں جانب ) سے کیا مراد ہے؟ یہ الفاظ مذکورہ بالا عبارت میں بھی آئے ہیں جبکہ اس سے قبل باب 27 میں ہے:

نظرت فرأيت، رأيت أن اللوح تمايل، وانقطت من جهة الشمال مجموعة الوثنيين، فسلبوا الذين كانوا عن اليمين، من رجال ونساء وأولاد، قتلوا البعض، واحتفظوا بالآخرين لديهم.37
میں نے غور کیا تودیکھا کہ تختی جھک گئی، اور بائیں جانب سے بت پرستوں کا ایک گروہ نمودار ہوا۔ انہوں نے دائیں جانب والوں پر حملہ کیا، مردوں، عورتوں اور بچوں سب پر، ان میں سے کچھ کو قتل کر دیا اور باقیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

اسفارِ اپوکریفہ کے شارحین و محققین کے نزدیک دائیں جانب والوں سے مراد بنی اسرائیل (یہود) ہیں، جبکہ بائیں جانب والوں سے مراد غیر یہودی اقوام ہیں۔ تاہم یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بائیں جانب والوں کو بت پرستوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 38 اس کی ایک ممکنہ توجیہ یہ ہوسکتی ہے کہ بنی اسرائیل اپنے علاوہ دیگر تمام اقوام کو عموماً بت پرست قرار دیتے ہیں۔

سوم: عزازیل سےمراد جنات اور شیاطین کے سرکش افراد ہیں؛ کیونکہ ابلیس کی ذریت جنات ہی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ 39 اسی لیے امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ شیاطین دراصل انسانوں اور جنوں کے سرکش و نافرمان افراد ہوتے ہیں، جبکہ تمام جنات ابلیس ہی کی اولاد ہیں۔ 40

مداخلِ اربعہ

حضرت ابراہیم Alaihis Salam فرماتے ہیں:فأراني كثرة الشعب وقال لي: لهذا فهو يثير غضبي عبر المداخل الأربعة التي رأيت، وفي هذه المداخل يأتي جزائي لأعمالهم۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے لوگوں کی کثرت دکھائی، اور فرمایا کہ مداخلِ اربعہ تک وہ میرے غضب کو بھڑکائیں گے، اور مداخلِ اربعہ میں ان کے اعمال کی وجہ سے ان پر میرا عذاب نازل ہوگا۔

مداخلِ اربعہ سے کیا مراد ہے؟ یہ لفظ اصل سلاوی متن میں (Schody) کی صورت میں آیا ہے۔ اس کے معنی کے تعین میں مترجمین اور شارحین کے درمیان خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس سے مراد گروہ ہیں، جبکہ بعض اسے نسل کے معنی میں لیتے ہیں۔ 41 بعض محققین کے نزدیک یہ لفظ اگرچہ مختلف صورتوں، جیسے: مصاعد (اوپر چڑھنے کے راستے)، مداخل (داخل ہونے کے مقامات)، اور مصبّات (اترنے کی جگہیں)میں منقول ہوا ہے، 42 تاہم اپنے مفہوم کے اعتبار سے ان سب کا حاصل واسطے یا ذرائع ہی بنتا ہے۔ جبکہ جی۔ ایچ۔ بوکس (G.H Box) اس کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

On their account through four issues, as thou sawest, I shall be provoked by them, and in these my retribution for their deeds shall be (accomplished). 43
جیسا کہ تم نے دیکھا، ان کے معاملے میں چار مسائل ایسے ہیں جن کی بنا پر میں ان پر غضبناک ہوں گا، اور انہی (چار کے ذریعے) ان کے اعمال کی پوری سزا دی جائے گی۔

اور اس کے حاشیہ میں مزید دو احتمالات ذکر کرتے ہیں: پہلا (four descents) یعنی چار مراحلِ نزول، دوسرا (four generations) یعنی چار نسل۔ 44 تاہم اس سے قبل باب 27 میں انہوں نے بھی four entrances(چار مداخل) سے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ 45 سلاوی لفظ (Schody) کے ترجمے میں اگرچہ لفظی اختلاف پایا جاتا ہے، مگراس نکتہ پر تقریباً تمام شارحین کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد چار طرح کے عذاب ہیں، جو بنی اسرائیل پر چار بت پرست سلطنتوں کی صورت میں نازل ہوئے۔ 46

دوسری بات یہ کہ مداخلِ اربعہ (چار عذابوں) کی ابتداء کب سے ہوگی؟ تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ مدخلِ اول( پہلے عذاب) سے اس کی ابتدا ہو۔ اور بنی اسرائیل پر پہلاعذاب بخت نصر کی صورت میں نازل ہوااور تقریبا ً 587 قبل مسیح بیت المقد س کو تباہ و برباد کیا۔ 47 جبکہ نقل (روایات) کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ چنانچہ مکاشفہ ابراہیم میں مداخلِ اربعہ کی ابتداء کے بارے میں مذکور ہے:

نظرت فرأيتهم يركضون نحو أولئك بأربعة مداخل. أشعلوا النار في الهيكل، وسلبوا الأوني المقدسة التي كانت فيه.48
میں نے غور کیا تو دیکھا کہ وہ (بت پرست)ان کی طرف چار (مداخل) سے دوڑتے چلے جا رہے تھے۔ انہوں نے ہیکل میں آگ لگا دی اور اس میں موجود مقدس برتنوں کو لوٹ لیا۔

ہیکل کی تباہی اور اس کے اندر اس نوع کے افعال بخت نصر ہی کے ہاتھوں سرانجام پائے تھے۔ چنانچہ سفر یرمیاہ میں ہے:

شاہ بابل نبوخذنصر (بخت نصر)کے عہد کے 19ویں سال کے پانچویں مہینے کے دسویں دن شاہی پہرہ داروں کا سردار نبوزرادان جو شاہ بابل کا ملازم تھا، یروشلم آیا۔ اس نے خداوند کی ہیکل کو، شاہی محل کو اور یروشلم کے تمام مکانات کو آگ لگادی۔ اس نے ہر اہم عمارت کو جلاڈالا۔ 49

اس کے بعد بیت المقدس پر حملوں کی صورت میں عذاب کا سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ آخری بار 70 عیسوی میں بیت المقدس پر ٹائٹس کی سربراہی میں رمیوں نے حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی کو مکمل طور پر تباہ و برباد کردیا۔

بشارتِ محمدیﷺ

جب حضرت ابراہیم Alaihis Salam کو یہ تمام مناظر دکھائے گئے اور پھر ان کی قلبی اطمینان کے لیے ان کے سوالات کے جوابات بھی دئے گئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے انہیں بعثتِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بارے میں آگاہ فرمایا۔ چنانچہ ابرہیم Alaihis Salam فرماتے ہیں : نظر ت فرأيت رجلا يخرج من الجهة اليسرى، من جهة الوثنيين، جاء رجال ونساء وأولاد من جهة الوثنيين في جموع كثيرة، وعبدوه۔ یعنی میں نے تختی میں دیکھا کہ ایک شخص بائیں جانب سے، یعنی بت پرستوں کی سمت سے نمودار ہوا۔ پھر اسی سمت سے مرد، عورتیں اور بچے کثیر تعداد میں گروہوں کی صورت میں آئے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر گئے۔

علمائے اہلِ کتاب اس عبارت کی تشریح و توضیح میں حیران و پریشان نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عبارت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نجات دہندہ شخص نہ صرف بائیں جانب، یعنی بت پرستوں کے ماحول سے نمودار ہوگا، بلکہ یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ دائیں جانب کے لوگ، یعنی بنی اسرائیل، اسی ہستی کو اذیت و تکلیف پہنچائیں گے۔ 50 اس لیے جی۔ ایچ۔ بوکس (G.H Box) اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

The man is clearly intended to be Jesus. His emerging from the left side of the heathen is curious. 51
یہ امر واضح ہے کہ یہاں "اس شخصیت" سے مراد حضرت عیسیٰ Alaihis Salam ہیں۔ تاہم اس کا Alaihis Salamبائیں جانب، یعنی غیر قوموں کی طرف سے ظاہر ہوناAlaihis Salam ایک حیرت انگیز امر ہے۔

اس کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر متن کواسی ترتیب میں درست مانا جائے تو غالب گمان کے مطابق اس میں عیسیٰ Alaihis Salam کا ابتدائی عیسائی کلیسا کے غیر یہودی اقوام میں ظاہر ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔ پھر یہ مفہوم کسی نسلی ونسبی نسبت کی طرف اشارہ نہیں ہوگا۔ لہذا مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس متن میں تحریف وتبدیلی ہوئی ہے۔ اس لیے بوکس (Box) کہتے ہیں کہ متن میںright side (دائیں جانب) پڑھا جائے اور لفظ heathen (غیرقوموں) کو غلط اضافہ سمجھ کر حذف کردیا جائے۔ 52

حالانکہ اس عبارت کو محرف یا تبدیل شدہ قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اس میں تحریف عیسائی علماء کی طرف سے ہوئی ہوتی تو وہ اپنی روایات کے مطابق اسے حضرت عیسیٰ Alaihis Salam پر منطبق کرنے کی پوری کوشش کرتے، نہ کہ اس تطبیق کو کمزور یا دور کرنے کی۔ اور اگر یہ تحریف یہودی علماء کی طرف سے ہوئی ہوتی تو وہ بھی اپنی توقعات کے مطابق نبیِ موعود یا مسیحِ منتظر کو حضرت داؤد Alaihis Salam کی نسل سے ثابت کرنے کی سعی کرتے، جبکہ اس متن میں ایسا کوئی پہلو موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس عبارت کو تحریف شدہ قرار دینے کے بجائے اسے اپنی اصل حالت میں سمجھنا زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔ 53 تاہم اس کے باوجود یہ کہنا کہ اس کا مصداق حضرت عیسیٰ Alaihis Salam ہیں، یہ دعویٰ سراسر باطل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam بنی اسرائیل ہی میں سے تھے، نہ کہ غیر اقوام میں سے، خصوصاً کسی مشرک یا بت پرست قوم سے ان کا تعلق بالکل بھی نہیں تھا۔ 54

چونکہ اس عبارت میں یہ بات واضح طور پر مذکور ہے کہ وہ شخص بائیں جانب، یعنی بت پرست اور مشرک قوم کے ماحول سے ظاہر ہوگا، اس لیے اس کا اطلاق نہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam پر ہوتا ہے اور نہ بنی اسرائیل کاکوئی اور نبی اس کا حقیقی مصداق بنتا ہے۔ اگر اس عبارت کو تاریخی اور سماجی تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا حقیقی مصداق وہی نبی قرار پاتا ہے جو حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی نسل سے ہونے کے باوجود ایک ایسے معاشرے میں مبعوث ہوئے جو شرک اور بت پرستی میں ڈوبا ہوا تھاجو کہ تاریخی طور پر قدیم عرب کے لئے ثابت ہیں۔ نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت بھی اسی مشرک معاشرہ میں ہوئی اوراسی تاریک ماحول میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے نشوونما پائی، پھر اسی قوم کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور بالآخر پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا پیغام لے کر آئے۔ اس اعتبار سے اس وصف کی کامل اور جامع تطبیق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam پر ہی صادق آتی ہے۔ ذیل میں اس کے دلائل ذکرکیے جاتے ہیں۔

پہلی دلیل

حضرت ابراہیم Alaihis Salam نے جب فسق و فجور کی مدت کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے 12 ساعات (گھڑیوں) کا ذکر کیا گیا۔ جبکہ اس سے قبل ایک ساعت کو 100 سال کے برابر قرار دیا ہے۔ پھر ان 12 ساعات کی ابتداء اس وقت سے ہوئی جب بخت نصر نے بیت المقدس کو نذرِ آتش کیا، اور یہ واقعہ تقریباً 586 قبل مسیح میں پیش آیا۔ اب اگر اس تناظر میں اس ہستی کے زمانۂ ظہور کا تعین کیا جائے تو لازم آتا ہے کہ بیت المقدس کی اس تباہی کے 12 سو سال بعد ظاہر ہونے والی ہستی کو اس کا مصداق قرار دیا جائے۔ چنانچہ جب 586 قبل مسیح میں 610 عیسوی کا اضافہ کیا جائے تو مجموعی طور پر تقریباً 1196 سال کا عرصہ بنتا ہے، جو بارہویں صدی کے اختتامی زمانہ بنتا ہے۔ اسی زمانی تقابل کی بنیاد پر یہ بات قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے کہ بیت المقدس کی پہلی تباہی کے تقریباً 12 سو سال بعد جس عظیم ہستی کی بعثت ہوئی، وہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ذاتِ گرامی ہے، اور یوں یہ پیش گوئی اپنی کامل تعبیر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بعثتِ مبارکہ میں پاتی ہے۔ 55

دوسری دلیل

اگر اس بشارت کی عبارت کا بغور سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس میں بنی اسرائیل کو زمانۂ فجور میں پیش آنے والی تباہیوں اور ہلاکتوں کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ مخلص اور نجات دہندہ کا تذکرہ اس کے بعد آتا ہے۔ اس ترتیب سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ ہستی ایسی غیر معمولی قدرت کی حامل ہوگی جو ان تباہ کار اور مہلک قوتوں کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اور اگر وہ بنی اسرائیل کے زمانے میں ظاہر ہوتی تو انہیں غالب اقوام کے تسلط سے نجات دلا دیتی۔ رہا معاملہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کا، تو اگرچہ وہ بنی اسرائیل ہی کی طرف مبعوث کیے گئے تھے، مگر جب انہوں نے اپنی قوم کو دعوتِ حق دی تو کچھ لوگوں نے اسے قبول کیا اور کچھ نے انکار کر دیا۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں اس کا ذکر یوں کیا گیا ہے:

...فَآمَنَتْ طَائِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَتْ طَائِفَةٌ... 56
۔ ۔ ۔ پس بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا اور دوسرا گروہ کافر ہوگیا۔ ۔ ۔

ابن کثیر Rehmatullah Alaih فرماتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ Alaihis Salam نے اپنی قوم کو دعوت دی، تو بنی اسرائیل دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک گروہ نے آپ Alaihis Salam کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول کیا اور راہِ راست پا گیا، جبکہ دوسرا گروہ گمراہ ہوکر آپ Alaihis Salam کی تعلیمات سے منحرف ہوگیا۔ انہوں نے نہ صرف آپ Alaihis Salam کی نبوت کا انکار کیا بلکہ آپ Alaihis Salam اور آپ Alaihis Salam کی والدہ ماجدہ حضرت مریم Alaihas Salam پر سنگین الزامات بھی عائد کیے۔ یہ وہی یہودی تھے جن پر قیامت تک پے در پے لعنتیں رہیں گی۔ دوسری طرف ایک گروہ ایسا بھی تھا جو آپ Alaihis Salam پر ایمان لایا، مگر وہ بھی غلو کا شکار ہوگیا اور آپ Alaihis Salam کو اس مقام سے بڑھا دیا جو اللہ تعالیٰ نے آپ Alaihis Salam کو بطور نبی عطا فرمایا تھا۔ یوں وہ مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے؛ بعض نے کہا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں، بعض نےتثلیث، باپ، بیٹا اور روح القدس، کا عقیدہ اپنایا، اور بعض تو یہاں تک کہہ بیٹھے کہ وہی خدا ہیں۔ 57 اگرچہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam پر بعض لوگوں نے ایمان لایاتھا، تاہم انہیں ایسی ظاہری قوت و اقتدار حاصل نہ تھا کہ وہ رومیوں اور ان یہودیوں کا مقابلہ کر سکتے جو آپ Alaihis Salam کے قتل کے درپے تھے۔

اس کے برعکس جب رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam مبعوث ہوئے تو نہ صرف عرب کے لوگوں نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam پر ایمان لائے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے صحابہ کرام Radi Allah Anhum کو ایسی غیر معمولی قوت عطا فرمائی کہ انہوں نے فارسی اور رومی دونوں عظیم سلطنتوں کو شکستِ فاش دی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو کافروں پر غلبہ اور برتری عطا فرما دی۔ 58

تیسری دلیل

عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ Alaihis Salam (العیاذ باللہ) یا تو خدا ہیں یا خدا کے بیٹے۔ لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے انسانیت کو نجات دی، تو وہ اسی حیثیت میں مانی جاتی ہے جو عیسائی عقیدے میں ان کے بارے میں اختیار کی گئی ہے۔ جبکہ مذکورہ عبارت میں "رجل" یعنی ایک انسان کا ذکر ہے، اس لیے اس کا اطلاق حضرت عیسیٰ Alaihis Salam پر درست نہیں ہے۔ 59اس کے برعکس رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بارے میں کسی بھی طبقے کا یہ عقیدہ نہیں کہ وہ خدا ہیں یا خدا کے بیٹے؛ بلکہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کے آخری پیغمبر ہی مانا گیا ہے۔ اور اسی حیثیت سے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے انسانیت کو ظلم و جبر سے نجات دلائی اور ہدایت کا راستہ دکھایا۔

چوتھی دلیل

اس عبارت کے الفاظ "وإذ كنت أنظر بعد جاء الذين من جهة اليمنى، بعضهم هزأ بهذا الرجل، وآخرون ضربوه، وآخرون غيرهم سجدوا له" (یعنی میں دیکھتا ہوں کہ دائیں جانب (بنی اسرائیل) سے لوگ آئے؛ بعض نے اس شخص کا تمسخر اڑایا، بعض نے اسے مارنے کی کوشش کی، جبکہ کچھ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم ہو گئے)، درحقیقت اس امر کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کا مصداق رسول اکرم Alaihis Salam کی ذاتِ گرامی ہے۔ یہ دراصل عہدِ نبوی میں یہود کے مختلف رویّوں کی عکاسی ہے۔ 60 چنانچہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے زمانے میں یہودیوں کا ایک گروہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی شان میں گستاخی اور بدزبانی پر اتر آیا، دوسرے گروہ نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو نقصان پہنچانے حتیٰ کہ قتل کی سازشیں کیں، جبکہ ایک اور طبقہ ایسا بھی تھا جس نے حق کو پہچان کر ایمان قبول کیا اور سرِ تسلیم خم کر دیا۔

پانچویں دلیل

سعیدبن حسن اسکندرانی (سابق یہودی عالم، متوفیٰ 698ہجری بمطابق 1298 عیسوی) کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم Alaihis Salam کے صحیفے میں ایک بشارت وارد ہے جو رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی نبوت پر دلالت کرتی ہے۔ بشارت کچھ یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم Alaihis Salam کو حکم دیا کہ چار پرندے، چار گائے اور چار جنگلی جانور لے کر انہیں اپنے پاس جمع کریں۔ پھر ہر ایک جانور کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں، البتہ پرندوں (عصفور) کو تقسیم نہ کریں، اور پھر انہیں اپنے پاس بلائیں۔ حضرت ابراہیم Alaihis Salam نے حکمِ خداوندی کی تعمیل فرمائی۔ چنانچہ جب آپ Alaihis Salam نے انہیں پکارا تو وہ سب زندہ حالت میں دوڑتے ہوئے ان کی طرف آ گئے، جیسے وہ پہلے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اسی طرح میں مردوں کو زندہ کروں گا، اور قبروں میں پڑے ہوئے لوگوں کو دوبارہ اٹھاؤں گا۔ 61 اسی بشارت کا ذکر رؤیا ابراہیم میں بھی آیا ہے۔ حضرت ابراہیم Alaihis Salam فرماتے ہیں:

وصلت إلى جبال الله، إلى حوريب المجيد. فقلت للملاك: يا منشد الأزلي، ها أنا بدون ضحيّة، ولا أعرف مذبحا على الجبل، فكيف أتمّ ذبيحتي؟ فقال لي: التفت. فالتفتُّ، فإذا جميع الحيوانات المفروضة للذبيحة تتبعنا: الثور الصغير، العنزة، الكبش، اليمامة الحمامة. فقال لي الملاك: إبراهيم! فقلت: هاأنذا. فقال لي: كل هذه الحيوانات، اقتلها واقطعها، وضع النصف تجاه النصف الآخر. أما العصفوران فلا تقطعهما. أعط القطع للبشر الذين أدلك عليهم والذين يكونون واقفين بقربك، فهم المذبح على الجبل حيث تقدم ذبيحة للأزلي. أما اليمامة والحمامة، فتعطيني إياهما فأصعد على أجنحة الطيور لأريك ما في السماء وعلى الأرض، في البحر والغمار، في أعماق الأرض، في جنة عدن وأنهارها، في ملء العالم فترى دائرة العالم كلها.62
میں حوریب کے مقدس پہاڑوں تک پہنچا۔ میں نے فرشتے سے کہا: اے ازلی مالک کے ثناء خواں! میں یہاں بغیر قربانی کے آیا ہوں اور مجھے پہاڑ پر کوئی مذبح بھی معلوم نہیں، تو میں اپنی قربانی کیسے کروں گا ؟ اس نے کہا: ادھر دیکھو۔ میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ قربانی کے لیے مقرر تمام جانور ہمارے پیچھے آ رہے تھے: چھوٹا بیل، بکری، مینڈھا، فاختہ اور کبوتر ۔ فرشتے نے مجھ سے کہا: ابراہیم(Alaihis Salam)! میں نے جواب دیا: میں حاضر ہوں۔ اس نے کہا: ان سب جانوروں کو ذبح کرو، ان کے ٹکڑے کرو اور ہر ایک کے نصف کو دوسرے نصف کے مقابل رکھ دو۔ لیکن پرندوں کو مت کاٹو۔ جو حصے میں تمہیں بتاؤں گا، وہ ان لوگوں کو دو جو تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ یہی پہاڑ کا وہ مذبح ہے جہاں تم ازلی بادشاہ کےلیے قربانی پیش کرو گے۔ پھر اس نے کہا: کبوتر اور فاختہ مجھے دے دو، تاکہ میں پرندوں کے پروں پر چڑھ کر تمہیں آسمان و زمین کی سیر کراؤں، سمندر اور خشکی میں، زمین کی گہرائیوں میں، عدن کی جنت اور اس کے دریاؤں میں، اور پوری کائنات کی بھرپور وسعت میں۔ تاکہ تم پوری دنیا کے دائرے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو۔

تورات میں بھی اس بشارت کی طرف اشارہ پایا جاتاہے ۔ چنانچہ سفر تکوین میں ہے:

خذ لي عجلة ثلاثية، وعنزة ثلاثية، وكبشا ثلاثيا، ويمامة وحمامة. فأخذ هذه كلها وشقها من الوسط، وجعل شق كل واحد مقابل صاحبه.وأما الطير فلم يشقه.63
میرے لیے ایک تین سال کی گائے، ایک تین سال کی بکری، اور ایک تین سال کا مینڈھا لے آؤ، اور ساتھ ایک فاختہ اور ایک کبوتر بھی۔ اس (حضرت ابراہیم Alaihis Salam) نے یہ سب جانور لے کر انہیں درمیان سے دو حصوں میں تقسیم کیا، اور ہر جانور کے ایک حصے کو دوسرے کے مقابل رکھا۔ البتہ پرندوں کو انہوں نے نہیں چیرا۔

قدیم یہودی مفسرین نے تورات میں میں مذکور جانوروں کو محض حیوانات نہیں سمجھا، بلکہ انہیں دنیا کی بڑی اقوام و سلطنتوں کی علامت قرار دیا ہے۔ چنانچہ مدراش رباہ (Midrash Rabbah) میں ہے کہ تین سالہ گائے سے مراد سلطنتِ بابل ہے، جس میں تین نامور بادشاہ گزرے، بخت نصر، اویل مردوخ اور بلشاضر۔ اسی طرح تین سالہ بکری مادی سلطنت کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس کےحکمرانوں میں تین مشہور حکمران شامل تھے، کورش، دارا اور اخسویرس ۔ جبکہ تین سالہ مینڈھا یونانی سلطنت کی طرف اشارہ ہے، جو اپنے زمانے کی ایک عظیم اور غالب قوت تھی۔ 64

سوال یہ ہے کہ اس پرندے سے کیا مراد ہے جسے زندہ چھوڑا گیا تھا؟ سعیدبن حسن اسکندرانی (سابق یہودی عالم، متوفیٰ 698ہجری بمطابق 1298 عیسوی) کہتے ہیں کہ جن مختلف جانوروں کے ذریعے دنیا کی عظیم سلطنتوں کو بیان کیا گیا، وہ سب کی سب حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بعثت سے پہلے ہی زوال کا شکار ہو کر تاریخ کا حصہ بن چکی تھیں۔ جبکہ وہ پرندہ جسے زندہ چھوڑا گیا، اس سے مراد نسلِ اسماعیل اور ان کی قائم ہونے والی سلطنت ہے، جو دیگر سلطنتوں کی طرح مٹنے والی نہیں، بلکہ قیامت تک باقی رہنے والی ہے۔ 65

خلاصہ یہ کہ حضرت ابراہیم Alaihis Salam سے متعلق مذکورہ بشارات کا مجموعی مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ نسلِ اسماعیل کو دی گئی برکت، کثرتِ نسل، عظیم قوم بننے کی نوید، عہدِ الٰہی میں شمولیت، اور ایک ایسی ہستی کے ظہور کی خبر جو بت پرستی کے ماحول سے اٹھ کر اقوامِ عالم کو ہدایت و غلبۂ حق کی طرف لے جائے، سب ایک ہی مرکزی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ حقیقت رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بعثتِ مبارکہ ہے، جس کے ذریعے حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی دعا قبول ہوئی، نسلِ اسماعیل کو دائمی شریعت عطا ہوئی، امتِ محمدیہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو عالمی دینی و تاریخی امتیاز حاصل ہوا، اور سابقہ بشارات اپنے حقیقی انجام تک پہنچیں۔ اس بنا پر یہ بشارات نہ صرف اسلامی عقیدۂ ختمِ نبوت کی تائید کرتی ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ بعثتِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کوئی جداگانہ یا غیر مربوط واقعہ نہیں، بلکہ سلسلۂ نبوتِ ابراہیمی کی وہ تکمیل ہے جس کی خبر سابقہ الہامی و تاریخی روایات میں مختلف اسالیب کے ساتھ محفوظ رہی۔


  • 1  القرآن، سورة آل عمران 3: 67
  • 2  التلمود البابلي: مسرد المصطلحات، ج-1، مطبوعة: مركز دراسات الشرق الأوسط، عمان، الأردن، 2011م، ص: 86
  • 3  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش، 17: 4 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 14)
  • 4  کتابِ مُقدس، گلتیوں کےنام پولس رسول کا خط3: 6-7 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1172)
  • 5  Steven J. Rosen (2006), Essential Hinduism, Praeger, Connecticut, USA, Pg. 12.
  • 6  القرآن، سورة الأعلى 87: 19-18
  • 7  أبو حاتم محمد بن حبان البستي، صحيح ابن حبان، حديث: 807، ج-1، مطبوعة: دار ابن حزم، بيروت، لبنان، 2012م، ص: 534
  • 8  أبو عبد ﷲ أحمد بن محمد ابن حنبل الشیباني، مسند أحمد، حديث: 16984، ج-28، مطبوعة: مؤسسة الرسالة، بیروت، لبنان، 2001م، ص: 191
  • 9  الدكتور عبد الوهاب عبد السلام طويلة، بشارات الأنبياء بمحمد ﷺ، مطبوعة: دار السلام، القاهرة، مصر، 2005م، ص: 20
  • 10  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش21: 12-13 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 18)
  • 11  القرآن، سورة البقرة 2: 129
  • 12  أبو الحسن علي بن محمد الشيحي الخازن، لباب التأويل في معاني التنزيل المعروف بتفسير الخازن، ج-1، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1415هـ، ص: 82
  • 13  أبو داؤد سليمان بن داؤد الطيالسي، مسند الطيالسي، حديث: 1236، ج-2، مطبوعة: دار هجر، الجيزة، مصر، 1999م، ص: 458
  • 14  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، تفسير القرآن العظيم المعروف بتفسير ابن كثير، ج-1، مطبوعة: دار الکتب العلمیة، بیروت، لبنان، 1419هـ، ص: 317
  • 15  الكتاب المقدس، سفر التكوين 13: 16-14 (الترجمة البيروتية، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=1&chapter=13)
  • 16  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش22: 15- 17 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 19)
  • 17  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، قصص الأنبياء، ج-1، مطبوعة: مطبعة دار التأليف، القاهرة، مصر، 1968م، ص: 199
  • 18  أبو الحسین مسلم بن الحجاج النيسابوري، صحیح مسلم، حديث: 7258، مطبوعة: دار السلام، الریاض، السعودیة، 2000م، ص: 1250
  • 19  الكتاب المقدس، سفر التكوين 16: 12-10 (الترجمة البيروتية، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=1&chapter=16)
  • 20  أبو العباس أحمد بن عبد الحليم ابن تيمية الحراني، الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح، ج-5، مطبوعة: دار العاصمة، السعودية، 1999م، ص: 225
  • 21  شیخ رحمت اللہ کیرانوی، ازالۃ الاوہام (مترجم: مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل عارفی)، ج-2، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم، کراچی، پاکستان، 2010ء، ص: 345-346
  • 22  الكتاب المقدس، سفر التكوين 17: 9-8 (الترجمة البيروتية، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=1&chapter=17)
  • 23  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش15: 18 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 13)
  • 24  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش17: 20- 21 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 14)
  • 25  Adnan Rashid, Abu Zakariya & Zakir Husain (2024), Abraham Fulfilled: A Biblical Study of God’s Plan for Ishmael and Arabia, Sapience Publishing, London, U.K., Pg. 9-10.
  • 26  The Bible, Genesis 17: 20-21 (Young’s Literal Translation)
  • 27  The Bible, Genesis 17: 20-21 (International Standard Version)
  • 28  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 17: 10 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 14)
  • 29  أبو عبد اﷲ محمد بن إسماعیل البخاري، صحیح البخاري، حديث: 7، مطبوعة: دار السلام، الریاض، السعودیة، 1999م، ص: 4
  • 30  کتابِ مُقدس، انجیل یوحنا 7: 22 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1075)
  • 31  James H. Charlesworth (Ed.) (1983), The Old Testament Pseudepigrapha: Apocalyptic Literature and Testaments (Translated by An International Team of Scholars), Doubleday & Company Inc., New York, USA, Vol. 1, Pg. 683.
  • 32  George Herbert Box (Ed. & Trans.) (1919), The Apocalypse of Abraham, Society for Promoting Christian Knowledge, London, U.K., Pg. 7.
  • 33  David Noel Freedman (Ed.) (1992), The Anchor Bible Dictionary, Doubleday, New York, USA, Vol. 1, Pg. 43.
  • 34  سفر رؤيا إبراهيم ) ( 28: 1- 3، 29: 12-6 )الخوري بولس الفغالي، رؤيا باروك في السريانية واليونانية، رؤيا إبراهيم، رؤيا إيلياء، مطبوعة: مؤسسة دكاش، كسروان، لبنان، 2000م، ص: 177-175)
  • 35  Joseph Glen Gebhardt (2014), The Syriac Clementine Recognitions and Homilies, Grave Distractions Publications, Tennesse, USA, Pg. 25.
  • 36  سفر رؤيا إبراهيم ( )26: 4- 5 )الخوري بولس الفغالي، رؤيا باروك في السريانية واليونانية، رؤيا إبراهيم، رؤيا إيلياء، مطبوعة: مؤسسة دكاش، كسروان، لبنان، 2000م، ص: 174)
  • 37  سفر رؤيا إبراهيم ( )27: 1)الخوري بولس الفغالي، رؤيا باروك في السريانية واليونانية، رؤيا إبراهيم، رؤيا إيلياء، مطبوعة: مؤسسة دكاش، كسروان، لبنان، 2000م، ص: 174- 175)
  • 38  فيصل بن علي الكاملي، يجدونه مكتوبا عندهم، مطبوعة: مكتبة الملك فهد الوطنية، الرياض، السعودية، 1434هـ، ص: 65
  • 39  الدكتور أبو طالب نصر الله عبد الرحمن، تباشير الإنجيل والتوراة بالإسلام ورسوله محمد ﷺ ، مطبوعة: مؤسسة الريان، بيروت، لبنان، 2009م، ص: 230
  • 40  أبو العباس أحمد بن عبد الحليم ابن تيمية الحراني، مجموع الفتاوي، ج-15، مطبوعة: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة المنورة، السعودية، 2004م، ص: 7
  • 41  فيصل بن علي الكاملي، يجدونه مكتوبا عندهم، مطبوعة: مكتبة الملك فهد الوطنية، الرياض، السعودية، 1434ه، ص: 73
  • 42  الدكتور أبو طالب نصر الله عبد الرحمن، تباشير الإنجيل والتوراة بالإسلام ورسوله محمد ﷺ ، مطبوعة: مؤسسة الريان، بيروت، لبنان، 2009م، ص: 224
  • 43  Herbert Box (Ed. & Trans.) (1919), The Apocalypse of Abraham, Society for Promoting Christian Knowledge, London, U.K., Pg. 49.
  • 44  George Herbert Box (Ed. & Trans.) (1919), The Apocalypse of Abraham, Society for Promoting Christian Knowledge, London, U.K., Pg. 49.
  • 45  George Herbert Box (Ed. & Trans.) (1919), The Apocalypse of Abraham, Society for Promoting Christian Knowledge, London, U.K., Pg. 47.
  • 46  الدكتور أبو طالب نصر الله عبد الرحمن، تباشير الإنجيل والتوراة بالإسلام ورسوله محمد ﷺ ، مطبوعة: مؤسسة الريان، بيروت، لبنان، 2010م، ص: 225
  • 47  مجموعة الأساتذة اللاهوتيين، قاموس الكتاب المقدس، مطبوعة:دار الثقافة ، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 954-955
  • 48  سفر رؤيا إبراهيم ( )27: 2)الخوري بولس الفغالي، رؤيا باروك في السريانية واليونانية، رؤيا إبراهيم، رؤيا إيلياء، مطبوعة: مؤسسة دكاش، كسروان، لبنان، 2000م، ص: 175)
  • 49  کتابِ مُقدس، سفر یرمیاہ 52: 12-13)مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 824)
  • 50  فيصل بن علي الكاملي، يجدونه مكتوبا عندهم، مطبوعة: مكتبة الملك فهد الوطنية، الرياض، السعودية، 1434هـ، ص: 79
  • 51  George Herbert Box (Ed. & Trans.) (1919), The Apocalypse of Abraham, Society for Promoting Christian Knowledge, London, U.K., Pg. 50.
  • 52  Ibid.
  • 53  الدكتور أبو طالب نصر الله عبد الرحمن، تباشير الإنجيل والتوراة بالإسلام ورسوله محمد ﷺ، مطبوعة: مؤسسة الريان، بيروت، لبنان، 2009م، ص: 228
  • 54  فيصل بن علي الكاملي، يجدونه مكتوبا عندهم، مطبوعة: مكتبة الملك فهد الوطنية، الرياض، السعودية، 1434ه، ص: 80
  • 55  فيصل بن علي الكاملي، يجدونه مكتوبا عندهم، مطبوعة: مكتبة الملك فهد الوطنية، الرياض، السعودية، 1434هـ، ص: 80- 81
  • 56  القرآن، سورة الصف 61: 14
  • 57  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، تفسير القرآن العظيم المعروف بتفسير ابن كثير، ج-8، مطبوعة: دار الکتب العلمیة، بیروت، لبنان، 1419هـ، ص: 139- 140
  • 58  فيصل بن علي الكاملي، يجدونه مكتوبا عندهم، مطبوعة: مكتبة الملك فهد الوطنية، الرياض، السعودية، 1434هـ، ص: 82
  • 59  ایضاً
  • 60  فيصل بن علي الكاملي، يجدونه مكتوبا عندهم، مطبوعة: مكتبة الملك فهد الوطنية، الرياض، السعودية، 1434هـ، ص: 85
  • 61  سعید بن حسن الإسکندرانی، مسالک النظر فی نبوة سید البشر ﷺ (تعريب: الدكتور محمد عبد الله الشرقاوي)، مطبوعة: مكتبة الزهراء، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 68
  • 62  سفر رؤيا إبراهيم ( )12: 3- 8 )الخوري بولس الفغالي، رؤيا باروك في السريانية واليونانية، رؤيا إبراهيم، رؤيا إيلياء، مطبوعة: مؤسسة دكاش، كسروان، لبنان، 2000م، ص: 159- 160)
  • 63  الكتاب المقدس، سفر التكوين 15: 9- 10(الترجمة البيروتية، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=1&chapter=15)
  • 64  H. Freedman and Maurice Simon (Trans. & Ed.) (1961), Midrash Rabbah, The Soncino Press, London, U.K., Vol. 1, Pg. 370.
  • 65  سعید بن حسن الإسکندرانی، مسالک النظر فی نبوة سید البشر ﷺ (تعريب: الدكتور محمد عبد الله الشرقاوي)، مطبوعة: مكتبة الزهراء، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 68