حضرت ابراہیم
ان جلیل القدر انبیائے کرام
میں سے ہیں جن کی شخصیت کو نہ صرف قرآنِ کریم نے توحید، اخلاص اور ملتِ حنیفیہ کے امام کی حیثیت سے پیش کیا ہے بلکہ یہودیت، عیسائیت اور دیگر مذہبی روایات میں بھی انہیں غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ
سے منسوب بشارات، عہدِ الٰہی اور نسلِ ابراہیمی سے متعلق پیش گوئیاں محض تاریخی بیانات نہیں رہتیں بلکہ ادیانِ عالم کی مشترک مذہبی تاریخ میں ایک بنیادی حوالہ بن جاتی ہیں۔ اگرچہ صحفِ ابراہیم آج اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں، تاہم قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ، تورات، غیر قانونی/اپوکریفائی متون اور قدیم مذہبی روایات میں ان کے بعض آثار اور اشارات موجود ہیں۔ اس تحقیقی مضمون میں انہی نصوص و شواہد کا تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم
سے منسوب متعدد بشارات، خواہ وہ حضرت اسماعیل
کی نسل کی کثرت، عہدِ الٰہی، سرزمین کی وراثت، یا آخری زمانے میں ایک موعود شخصیت کے ظہور سے متعلق ہوں، اپنی کامل اور جامع تطبیق نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ
کی بعثتِ مبارکہ پر ہی پاتی ہیں۔
اور ادیان عالمقرآن کریم کی رو سے حضرت ابراہیم
نہ یہودی تھے نا نصرانی اور نہ بت پرست مشرک تھے بلکہ سیدھے راستےوالے، توحید کے علمبردار، مسلمان تھے۔ 1 تاہم دنیا کے تمام بڑے مذاہب میں آپ
کو عظیم اورمحترم سمجھا جاتا ہے۔ یہودی آپ
کو اب الآباء یعنی تمام بنی اسرائیل کا جد امجد مانتے ہیں، اور یہ اعتقاد رکھتےہیں کہ بنی اسرائیل کی نسل اُنہی کی وساطت سے وجود میں آئی ہے۔ 2 کیونکہ تورات میں ہے:
خدا نے ابرہام سے کہا کہ میرا تیرے ساتھ یہ عہد ہے کہ تو کئی قوموں کا باپ ہوگا۔ 3
عیسائیت میں بھی آپ
کی شخصیت کو اعلی مقام حاصل ہے۔ پولس رسول گلتیوں کے نام خط میں لکھتے ہیں:
ابرہام ()کو دیکھو، وہ خدا پر ایمان لایا اور اس کا ایمان اس کے لے راستبازی گنا گیا۔ پس جان لو کہ ایمان لانے والے لوگ ہی ابرہام(
) کے حقیقی فرزند ہیں۔ (4)
بعض محققین تو یہ قیاس آرائیاں بھی پیش کرتے ہیں کہ ہندو ؤں کی اعلی درجہ کی ذات برہمن بھی شاید حضرت ابراہیم
کی نسبت سےہے اور برہما ابراہیمی مذہب کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ 5 چونکہ حضرت ابراہیم
کی شخصیت دنیا کے تمام مذاہب میں ایک مستحکم اور بلند مقام کی حامل ہے، اس لیے آپ
کی بیان کی گئی بشارات کو نہ صرف ایک تاریخی یا مذہبی حوالہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے بلکہ یہ تمام انسانیت کے لیے انتہائی معتبر رہنمائی کا ماخذ بھی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آسمانی کتب وصحف میں سے صحفِ ابراہیم بھی ہیں۔ قرآن مجید میں ان صحف کا ذکر موجود ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ الہامی تعلیمات کا حصہ تھے۔ چنانچہ فرمانِ خداوندی ہے:
إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَى 18صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى196
بیشک یہ (تعلیم) اگلے صحیفوں میں (بھی مذکور) ہے جو ابراہیم اور موسٰی () کے صحائف ہیں۔
حضرت ابو ذر
رسول اکرم
سے روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم (
) پر 10 صحیفے نازل کیے گئے تھے۔ 7 اور حضرت واثلہ بن الاسقع
رسول اللہ
سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابراہیم
کے صحیفے رمضان کی پہلی رات کو نازل ہوئے تھے۔ 8 صحفِ ابراہیم آج کے دور میں کسی بھی صورت میں محفوظ نہیں ہیں، اور نہ ہی یہود و نصاریٰ کی موجودہ کتبِ مقدسہ میں ان کا کوئی صریح یا واضح ذکر پایا جاتا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان صحف کا کوئی تحریری یا مادی ثبوت اب تک دریافت نہیں ہوا۔ البتہ یہ امکان اپنی جگہ موجود ہے کہ جس طرح قرآنِ کریم میں صحفِ ابراہیم کی تعلیمات کے بعض اجزاء کا تذکرہ موجود ہے، اسی طرح بائبل یا دیگر قدیم مذہبی متون میں بھی ان تعلیمات یا ارشادات کے کچھ اثرات یا نشانات کسی نہ کسی صورت میں محفوظ رہ گئے ہوں۔ تاہم رؤیا ابراہیم کے نام سے ایک کتاب آج بھی موجود ہے جو اہلِ کتاب غیر معتمد اسفار (Apocryphal Scriptures) میں شمار کرتے ہیں۔
تمام انبیاء کرام
نے اپنے اپنے ادوار میں رسول اللہ
کی آمد سے متعلق بشارات دی ہیں۔ اپنی تعلیمات وارشادات میں آپ
کے جمالی و کمالی اوصاف کو بیان کیا ہے، اور اپنی امّت کو یہ حکم دیا ہے کہ اگر آپ
ان کی امّت میں مبعوث ہوں تو آپ
کی اتباع، نصرت اور مدد ہر حال میں ان پر لازم ہوگی۔ ان بشارات میں سبقت پانے والی حضرت ابراہیم
کی وہ بشارت بھی ہے جب آپ
نے اہل مکہ کے لیے پُرخلوص دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی قوم میں ایک نبی کو مبعوث فرمائے، جو رہنمائی، ہدایت اور حق کے علمبردار کے طور پر امت کی راہ روشن کرے۔ 9تورات میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم
سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ میں حضرت اسماعیل
کی نسل کو بھی بڑھاؤں گا اور انہیں بھی برکت دوں گا، جو تاریخ میں امتِ عرب کی بنیاد اور عظیم امت کی تشکیل کا سبب بنی۔ چنانچہ سفرپیدائش میں ہے:
خدا نے اس (ابراہیم ) سے کہا کہ اس لڑکے اور اپنی خادمہ کے بارے میں اس قدر پریشان نہ ہو۔ جو کچھ سارہ () تجھ سے کہتی ہے اسے مان، کیونکہ اضحاق (
) سے ہی تیری نسل جاری ہوگی۔ میں اس خادمہ (ہاجرہ ) کے بیٹےسے بھی ایک قوم پیدا کروں گا کیونکہ وہ بھی تیرا بیٹا ہے۔ 10
اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب حضرت اسماعیل
کی اولاد ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم
نے رسولا منہم فرماکر اللہ تعالیٰ سے اسی ذریت میں ایک نبی مبعوث فرمانے کی دعا کی۔ 11 ظاہر ہے کہ جب رسول اپنی ہی قوم میں سے ہوگا تو لوگ اس کے حسب و نسب، پیدائش و پرورش سے بخوبی واقف ہوں گے، اور اسی نسبت سے اس کی بات زیادہ آسانی سے قبول کریں گے۔ تمام علما ءو مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس آیت میں جس رسول کا ذکر ہے، اس سے مراد صرف حضرت محمد مصطفیٰ
ہیں، کیونکہ ابراہیم
نے یہ دعا اپنی اولاد کے لیے مکہ مکرمہ میں کی تھی، اور مکہ ہی میں ان کی ذریت میں سے صرف نبی آخرالزماں
ہی مبعوث ہوئے۔ 12
اللہ تعالی نے عرب کی سرزمین میں رسول اللہ
کو مبعوث فرماکر ابراہیم
کی دعا قبول فرمائی۔ رسولِ اکرم
فرماتے ہیں کہ میں اپنے باپ ابراہیم
کی دعا اور عیسی
کی بشارت ہوں۔ 13 علامہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ابراہیم
وہ پہلی ہستی ہیں جنہوں نے لوگوں میں آپ
کی آمدکا ذکر مشہور کیا، پھر ہر دور میں آپ
کی آمد وبعثت مشہور ومعروف رہی، یہاں تک کہ خاتمِ انبیاء ِبنی اسرائیل نے آپ
کی آمد کا ذکر کیا اور حضرت عیسی
نے صاف اور واضح طور پر آپ
کا نام لیا۔ 14 اگرچہ یہودی علماء ذاتی اور نسلی تعصب کے پیش نظر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم
کی نبوت کا وارث حضرت اسحاق
اور ان کے بعد حضرت یعقوب
کو بنایا، اور نبوت کی وراثت بنی اسرائیل میں منتقل ہوگئی تاہم تورات کی بشارت اور قرآن کریم کی خبر اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اس سے مراد حضرت اسماعیل
اور پھر آپ
کی اولاد میں نبی کریم
ہیں۔
تورات کے سفرِ پیدائش میں ہے کہ جب ابراہیم
کنعان میں قیام پذیر ہوئے اور لوط
وہاں سے سدوم تشریف لے گئے، اس وقت اللہ تعالی نے ابراہیم
پر وحی نازل فرمائی :
...ارفع عينيك وانظر من الموضع الذي أنت فيه شمالا وجنوبا وشرقا وغربا؛ لأن جميع الأرض التي أنت ترى لك أعطيها ولنسك إلى الأبد، وأجعل نسلك كتراب الأرض، حتى إذا استطاع أحد أن يعد تراب الأرض فنسلك أيضا يعد. 15
اپنی آنکھیں اٹھاؤ، اور جس جگہ تم ہو وہاں سے اپنی نگاہ اٹھا کر شمال، جنوب، مشرق اور مغرب کی طرف دیکھو، یہ تمام زمین جو تم دیکھ رہے ہو میں اسے تمہیں اور نسل کو ہمیشہ کے لیے عطا کروں گا، اور میں تمہاری نسل کو زمین کے ذرات کی مانند(کثیر) بناؤں گاحتی کہ اگر کوئی شخص زمین کےذرات کو گننے کی طاقت رکھتا ہو تو تیری نسل بھی گنی جاسکے گی۔
تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ حضرت ابراہیم
کی نسل، خواہ بنی اسرائیل ہوں یا بنی اسماعیل، اس قدر کثیر ہو گئی کہ ان کا شمار ناممکن ہو گیا۔ اسی طرح تورات میں ایک اور مقام پر حضرت ابراہیم
کی نسل کی کثرت کو آسمان کے ستاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت سے تشبیہ دی گئی ہے:
خداوند کے فرشتے نے آسمان سے ایک بار پھر ابرہام (
) کو پکارااور کہا: خداوند فرماتا ہے کہ میں نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ چونکہ تُو نے میرا حکم مانا اور اپنےبیٹے یعنی اپنے اکلوتے بیٹے کو بھی دریغ نہ کیا۔ اس لیے میں یقیناً تجھے برکت دوں گااور تیری اولاد کو آسمان کےستاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند بے شمار بڑھاؤں گا اور تیری اولاد اپنے دشمنوں کےشہروں پر قابض ہوگی۔ 16
چونکہ حضرت ابراہیم
کی نسل آپ
کے دونوں فرزندوں، حضرت اسحاق
اور حضرت اسماعیل
، سے آگے بڑھی ہے یعنی ایک جانب بنی اسرائیل اور دوسری جانب بنی اسماعیل، اس لیے یہاں ممکنہ صورتیں تین ہوسکتی ہیں: پہلی یہ کہ اس سے صرف بنی اسرائیل مراد ہوں، دوسری یہ کہ صرف بنی اسماعیل مراد ہوں، اورتیسری یہ کہ دونوں بالترتیب مراد ہوں۔
پہلی صورت دو وجوہات کی بناپر مراد نہیں ہوسکتی۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل اپنی طویل تاریخ میں کبھی بھی اس وسیع و عریض سرزمین پر ابدی اور مستقل طور پر قابض نہیں رہے۔ اگرچہ انبیائے بنی اسرائیل
کے بعض ادوار میں وہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم تھے اور اس وقت انہیں اس خطے پر اقتدار بھی حاصل ہوا، لیکن وہ اقتدار نہ دائمی تھا اور نہ ہی وہ اپنے تسلط کو برقرار رکھ سکے۔ حالانکہ یہاں اللہ تعالیٰ نسلِ ابراہیم
سے اس سرزمین کی ابدی عطا اور دائمی ملکیت کا وعدہ فرما رہے ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے اللہ تعالیٰ ان آیات میں ابراہیم
کو خوشخبری دے رہے ہیں کہ میں یہ زمین تمہاری نسل کو عطا کروں گااور خوشخبری کا حقیقی مفہوم اس وقت مکمل اور متحقق ہوگا جب اس میں دو چیزیں جمع ہوں۔ ایک زمین کی ملکیت اور دوسرا شریعتِ الٰہی کا قیام، کیونکہ کسی مخصوص نسل کو زمین کی محض ملکیت بغیر شریعت کے عطا کرنا نہ تو اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان ہےاور نہ ہی ابراہیم
اس سے خوش ہو سکتے ہیں اور نہ ہی یہ شرعی اعتبار سے خوشخبری ہوسکتی ہے کیونکہ اگر زمین کی ملکیت کے ساتھ ہدایت و شریعت نہ ہو تو وہ نعمت کے بجائے سببِ مواخذہ بھی بن سکتی ہے۔ اگر بنی اسرائیل کی تاریخ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہےکہ ان کی شریعت ابدی نہیں تھی بلکہ وہ شریعتِ محمدی
سے منسوخ ہوچکی ہےلہذا یہاں بنی اسرئیل مراد نہیں ہوسکتے ۔
اس کے علاوہ دونوں صورتوں میں یہ بشارت درحقیقت بشارتِ محمدی
ہی قرار پاتی ہے۔ دوسری صورت میں اس لیے کہ بنی اسماعیل وہ امت ہیں جنہیں ابدی شریعت عطا کی گئی، اور تاریخی طور پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سرزمین کی حکومت و ملکیت بھی عطا فرمائی۔ اور تیسری صورت میں بھی یہی مفہوم برقرار رہتا ہے، کیونکہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انبیائے بنی اسرائیل
کے ادوار میں ایک مدت تک اس زمین کی ملکیت بنی اسرائیل کو دی تھی، لیکن شریعتِ محمدی
کے ظہور کے بعد یہ امتیاز بنی اسماعیل کی طرف منتقل ہوگیا، اور اب اس سرزمین کی حقیقی نسبت اسی امت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس لیے علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس بشارت کا مصداق امت محمدیہ
ہے، بلکہ اس امت سے قبل اس بشارت کی نہ تو تکمیل ہوئی تھی اورنہ ہی کوئی امت ایسی آئی ہے جو امت محمدیہ
سے عظیم تر ہو۔ 17 اس کی تائید صحیح مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو حضرت ثوبان
سے مروی ہےکہ رسول اللہ
نے فرمایا:
إن الله زوى لي الأرض، فرأيت مشارقها ومغاربها، وإن أمتي سيبلغ ملكها ما زوى لي منها... 18
اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے زمین کے مشارق اور مغارب(مشرقی اور مغرب سمت) کو دیکھا، اوریقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک میرے لیے زمین سمیٹی گئی۔ ۔ ۔
سفر پیدائش باب نمبر 16 کی آیات میں بھی رسول اللہ
کی آمد سے متعلق ایک بشارت مضمر ہے۔ تورات کے مطابق، جب حضرت ہاجرہ
حاملہ ہوئیں توحضرت سارہ
نے ان کی موجودگی میں اپنی حقارت محسوس کی اور اس بات پر حضرت ابراہیم
سے شکایت کی۔ حضرت ابراہیم
نے سارہ
سے کہا: یہ تیری لونڈی ہے، جس طرح تم چاہو اس کے ساتھ کرو۔ سارہ
نے ہاجرہ
کے ساتھ سختی برتی، جس سے ہاجرہ
اتنی دکھی ہو گئیں کہ وہ وہاں سے بھاگ کر ایک چشمے کے کنارے آکر بیٹھ گئیں۔ اسی وقت ان کے پاس ایک فرشتہ آیا اور انہیں مندرجہ ذیل بشارت سنائی:
قال لها ملاك الرب: تكثيرا أكثر نسلك فلا يعد من الكثرة. وقال لها ملاك الرب: ها أنت حبلى، فتلدين ابنا وتدعين اسمه إسماعيل؛ لأن الرب قد سمع لمذلتك. وإنه يكون إنسانا وحشيا، يده على كل واحد، ويد كل واحد عليه، وأمام جميع إخوته يسكن.19
اور خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا کہ میں تیری اولاد کو بڑھاؤں گا یہاں تک کہ کثرت کے سبب سے اس کا شمار نہ ہوسکے گا۔ اور خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا کہ تو حاملہ ہے اور تیرا بیٹا ہوگا اس کا نام اسماعیل رکھناا س لیے کہ خداوند نے تیرا دکھ سن لیا، وہ گورخر کی طرح آزاد مرد ہوگا اس کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کے ہاتھ اس کے خلاف ہوں گے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسا رہے گا۔
اس عبارت میں حضرت اسماعیل
کے بارے میں اصل مرکزی مضمون" بشارت اور کثرتِ نسل" کا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ
کو یہ خوش خبری دی کہ ان کے بطن سے ایک فرزند پیدا ہوگا، اس کا نام اسماعیل(
) رکھا جائے گا، اور اس کی اولاد اس قدر کثیر ہوگی کہ شمار میں نہ آسکے گی۔ البتہ عبارت میں وارد الفاظ "إنسانًا وحشيًا"بظاہر حضرت اسماعیل
کی شانِ نبوت اور ان کے منصبِ جلیل کے مناسب نہیں، اس لیے بعض مسلم محققین کے نزدیک یہ الفاظ بعد کے محرّفین کی طرف سے حضرت اسماعیل
اور ان کی نسل کے خلاف عداوت و تعصب کی بنا پر داخل کیے گئے۔ اس کے باوجود اسی آیت کا اصل مفہوم حضرت اسماعیل
کے لیے ایک عظیم بشارت کو واضح کرتا ہے، کیونکہ اس میں ان کی ولادت، نام، اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ہاجرہ
کی فریاد سنے جانے، اور ان کی نسل کے غیر معمولی پھیلاؤ کی خبر دی گئی ہے۔ یوں یہ عبارت تحریف شدہ تعبیرات کے باوجود حضرت اسماعیل
کی عظمت اور ان کے مستقبل کی ایک روشن بشارت الٰہی پر دلالت کرتی ہے۔
بشارت کے دوسرے حصے میں مذکور ہے " اس کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کے ہاتھ اس کے خلاف ہوں گے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسا رہے گا۔ "امام ابنِ تیمیہ بیان فرماتے ہیں کہ بعثتِ محمدی
سے پہلے تک بنی اسماعیل کو بنی اسحاق پر کسی بھی دور میں غلبہ حاصل نہ ہوا تھا۔ نبوت اور آسمانی کتابیں ہمیشہ بنی اسحاق ہی میں رہی تھیں۔ چنانچہ جب حضرت یوسف
نے مصر میں وزارت پائی، اورحضرت یعقوب
کے ہمراہ بنی اسرائیل مصر آئے، اس وقت بھی بنی اسماعیل ان پر کسی اعتبار سے فائق نہ تھے۔ پھر جب حضرت موسیٰ
مبعوث ہوئے تو اس دور میں بھی عزت و سربلندی بنی اسحاق ہی کے حصے میں تھی، اور کسی قوم کو ان پر غالب آنے کی طاقت نہ تھی۔ یہی سلسلہ حضرت یوشع
سے لے کر حضرت داؤد
تک جاری رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان
کو ایک بے مثال حکومت عطا فرمائی، ایسی بادشاہت جو کسی اور کے حصہ میں نہ آئی۔ بعد ازاں جب بخت نصر نے حملہ کیا اور بنی اسرائیل آزمائش میں مبتلا ہوئے، تب بھی بنی اسماعیل کو ان پر کوئی فیصلہ کن غلبہ نصیب نہ ہوا۔ پھر حضرت عیسیٰ
کی بعثت کے بعد دوسری مرتبہ بیت المقدس اجڑ گیا اور اسی دور سے بنی اسرائیل کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین کے گوشے گوشے میں منتشر کر دیا اور وہ روم و فارس جیسی بڑی سلطنتوں کے زیر نگیں آ گئے۔ اگرچہ اس زمانے میں عرب بھی اپنی قبائلی حیثیت رکھتے تھے، تاہم انہیں بنی اسرائیل پر کوئی برتری حاصل نہ تھی۔ الغرض، بنی اسماعیل کو نہ اہلِ کتاب پر کوئی غلبہ حاصل ہوا اور نہ ہی دیگر اقوام پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ
کو مبعوث فرمایا اور بنی اسماعیل کا ہاتھ تمام اقوام پر غالب آگیا۔ روئے زمین پر کوئی سلطنت ایسی نہ رہی جو ان کی سلطنت سے زیادہ معزز اور باوقار ہو۔ آپ
کی امّت نے روم و فارس جیسی عظیم طاقتوں کو زیر کرلیا، اور یہود و نصاریٰ، مجوس، مشرکین اور صابئین، سب پر انہیں اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا فرمایا۔ یوں تورات کی وہ بشارت پوری طرح مکمل ہوگئی کہ"اس کا ہاتھ سب پر غالب ہوگا"، اور یہ غلبہ تاقیامت باقی رہے گا۔ 20
دوم: حضرت اسماعیل
کے ہاتھ کا سب کے خلاف ہونے میں دوسرا احتمال یہ ہے کہ ان کی سیرت و کردار، طرزِ زندگی، عادات و خصائل، اخلاق و اقدار اور معاشرتی رویّے دوسری اقوام سے نمایاں طور پر مختلف ہوں گے۔ یعنی حضرت اسماعیل
اور ان کی اولاد کا طریقہ(شریعت) حضرت اسحاق
ودیگر فرزندانِ ابراہیم
اور ان کی اولاد کے طریقے سے مختلف ہوگا۔ اس عبار ت میں صاف اشارہ ہے کہ حضرت اسماعیل
کی اولاد میں ایک ایسا نبی مبعوث ہوگا جس کی شریعت عام ہوگی اور بنی اسحاق کی شرائع سے مختلف ہوگی۔ 21یہ نوید درحقیقت رسول اللہ
کی آمد کی صورت میں حقیقت بن گئی۔
سفر پیدائش میں ہے کہ اللہ تعالی نے ابراہیم
سے وعدہ فرمایا ، جس کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
وأعطي لك ولنسلك من بعدك أرض غربتك، كل أرض كنعان ملكا أبديا، وأكون إلههم. وقال الله لإبراهيم: وأما أنت فتحفظ عهدي، أنت ونسلك من بعدك في أجيالهم. 22
اور میں تجھے اور تیرے بعد تیری نسل کو تیرے پردیس کی زمین یعنی کنعان کا سارا ملک ایک دائمی میراث کے طور پر عطا کروں گا اور میں ان کا خدا ہوں گا۔ اور اللہ تعالی نےابراہیم ( ) سے فرمایا: پس تم میرے عہد کی پاسداری کرو، تم اور تیرے بعد تیری نسل پشت در پشت(اس عہد کی پاسداری کرو)۔
اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم
سے یہ وعدہ فرمایاکہ وہ انہیں اور ان کی نسل کو ہمیشہ کے لیے سرزمینِ کنعان عطا کرے گا۔ تاہم اس سے قبل سفرِ پیدائش کے باب 15 میں یہی وعدہ یوں بیان ہوا ہے:
اس روز خداوند نے ابرام کے ساتھ عہد باندھا اور کہا: میں دریائے مصر سے لے کے بڑے دریا یعنی دریائے فرات تک کی زمین تیری نسل کو دے دی ہے۔ 23
یہودی علماء تورات میں مذکور اس وعدے کی تشریح کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ یہ بشارت اور عہد خاص طور پر بنی اسرائیل کے لیے ہے، اور اس میں بنی اسماعیل، بنی قطورہ اور حضرت ابراہیم
کی دیگر اولاد شامل نہیں۔ اپنے اس نظریے کے حق میں وہ تورات کے اس آیت سے استدلال کرتے ہیں:
اور اسماعیل () کے حق میں بھی میں نے تیری دعا سنی۔ میں یقیناً اسے برکت دوں گا۔ میں اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا۔ اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا۔ لیکن میں اپنا عہد اضحاق (
) ہی سے باندھوں گا جو اگلے سال اسی وقت تیرے ہاں سارہ
سے پیدا ہوگا۔ 24
یہود کے اس دعوے کی بنیاد دراصل لفظ "لیکن"پر قائم ہے، جو بظاہر یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ کے اس عہد و پیمان میں صرف حضرت اسحاق
ہی کو خصوصی حیثیت حاصل تھی اور حضرت اسماعیل
اس دائرے سے خارج ہیں۔ تاہم اگر عبرانی متن کا جائزہ لیا جائے جس کی بنیاد پر یہ ترجمہ کیا گیا ہے تو ایک مختلف صورتِ حال سامنے آتی ہے، کیونکہ یہاں جس لفظ کا ترجمہ "لیکن"کیا گیا ہے وہ دراصل عبرانی حرف "واو (Vav)" ہے۔ عبرانی قواعدِ زبان میں‘‘واو’’ مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب یہ کسی اسم کے شروع میں آئے تو اسے حرفِ عطف کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو سابقہ کلام اور بعد والے جملے کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے۔ اس لیے سیاق و سباق کے لحاظ سے"واو" کا ترجمہ کبھی"اور" اور کبھی"لیکن" کیا جا سکتا ہے۔ 25 اسی لیے بائبل کے بعض تراجم میں یہاں "لیکن" کے بجائے "اور" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ چنانچہ Young’s Literal Translation میں اس کا ترجمہ "اور (and)" سے کیا گیا ہے:
As to Ishmael, I have heard thee; lo, I have blessed him, and made him fruitful, and multiplied him, very exceedingly; twelve princes doth he beget, and I have made him become a great nation. And my covenant I establish with Isaac, whom Sarah doth bear to thee at this appointed time in the next year. 26
حضرت اسماعیلکے بارے میں میں نے تیری بات سن لی ہے؛ دیکھو! میں نے انہیں برکت دی ہے، اور ان کو بہت زیادہ پھلنے پھولنے والا بنایا ہے، اور انہیں بے حد و حساب بڑھایا ہے۔ ان سے بارہ سردار پیدا ہوں گے، اور میں نے انہیں ایک بڑی قوم بنا دیا ہے۔ اور میرا عہد میں حضرت اسحاق
کے ساتھ قائم کروں گا، جنہیں سارہ
تمہارے لیے اسی مقررہ وقت پر، آئندہ سال جنم دیں گی۔
اسی طرحInternational Standard Version میں اس آیت کا ترجمہ اس انداز سے کیا گیا ہے جس سے یہ مفہوم واضح ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل
حضرت اسحاق
کے ساتھ مل اس عہدِ الٰہی کا حصہ ہیں ۔ 27 ذیل میں اس مؤقف کے دلائل پیش کیے جاتے ہیں کہ بنی اسماعیل بھی اس عہدِ الٰہی میں شریک وشامل ہیں، اور اسی سلسلے کی تکمیل بنی اسماعیل میں ایک نبی کی بعثت کی صورت میں ہوگی، جس کی امت بعد میں اسی سرزمین کی حقیقی وارث قرار پائے گی۔
تورات کی کتابی ترتیب اور داخلی سیاق سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل
کے بارے میں دی گئی بشارت مستقل اور براہِ راست انہی کے لیے مخصوص ہے، کیونکہ پہلے حضرت ہاجرہ
سے حضرت اسماعیل
کی ولادت کا ذکر آتا ہے، پھر حضرت ابراہیم
حضرت اسماعیل
کے حق میں دعا کرتے ہیں، اور اس کے جواب میں صاف الفاظ میں فرمایا جاتا ہے کہ حضرت اسماعیل
کے بارے میں دعا سن لی گئی ہے۔ پھر اسی جواب کے تحت ان کے لیے برکت، کثرتِ نسل، غیر معمولی افزائش، بارہ سرداروں کے ظہور اور ایک بڑی قوم بننے کی خوش خبری دی جاتی ہے۔ اس کے بعد حضرت اسحاق
کا ذکر الگ بشارت کے طور پر آتا ہے، اور یہاں اصل لفظ "اور" ہے، "لیکن"نہیں۔ اس لیے اس جملے" اور میرا عہد میں حضرت اسحاق
کے ساتھ قائم کروں گا، جنہیں سارہ
تمہارے لیے اسی مقررہ وقت پر، آئندہ سال جنم دیں گی" کو حضرت اسماعیل
کی بشارت کے مقابل یا منسوخ کرنے والا بیان نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کا درست مفہوم یہ ہے کہ حضرت اسماعیل
کے لیے عظیم قومی بشارت اپنی جگہ ثابت ہے، اور اس کے ساتھ حضرت اسحاق
کے بارے میں ایک مستقل عہد کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ پس"برکت"، "کثرت"، "بارہ سردار"اور"بڑی قوم" والی بشارت اپنے الفاظ، سیاق اور تاریخی ترتیب کے اعتبار سے صرف حضرت اسماعیل
ہی کے حق میں ہے۔
تورات کے بیان کے مطابق اس عہد کا مستحق اسی نسل کو قرار دیا گیا ہے جس میں ختنہ کی رسم نشانی کے طور پر قائم ہو۔ چنانچہ تورات میں اس بشارت کے فوراً بعد یہ ذکر آتا ہے:
میرا عہد جو میرے اور تیرے درمیان، اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے اور جسے تم مانوگے، یہ کہ تم میں سے ہر فرزندِ نرینہ کا ختنہ کیا جائے۔ 28
اور اہل کتاب خودبھی ختنہ کرنے والی قوم میں ایک نبی کے منتظر تھے۔ صحیح بخاری میں ہرقل (شاہِ روم) کی حدیث میں ہرقل نے اپنے ہم نشینوں سے کہا:
...إني رأيت الليلة حين نظرت في النجوم ملك الختان قد ظهر، فمن يختن من هذه الأمة؟ قالوا: ليس يختتن إلا اليهود، فلا يهمنك شأنهم، واكتب إلى مداين ملكك، فيقتلوا من فيهم من اليهود، فبينما هم على أمرهم، أتي هرقل برجل أرسل به ملك غسان يخر عن خبر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما استخبره هرقل قال: اذهبوا فانظروا أمختتن هو أم لا؟ فنظروا إليه، فحدثوه أنه مختتن، وسأله عن العرب، فقال: هم يختتنون، فقال هرقل: هذا ملك هذه الأمة قد ظهر...29
میں نے آج رات ستاروں پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ ہمارے ملک پر غالب آ گیا ہے۔ (بھلا) اس زمانے میں کون لوگ ختنہ کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہود کے سوا کوئی ختنہ نہیں کرتا۔ سو ان کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ سلطنت کے تمام شہروں میں یہ حکم لکھ بھیجئے کہ وہاں جتنے یہودی ہوں سب قتل کر دئیے جائیں۔ وہ لوگ انہی باتوں میں مشغول تھے کہ ہرقل کے پاس ایک آدمی لایا گیا۔ جسے شاہ غسان نے بھیجا تھا۔ اس نے رسول اللہکے حالات بیان کیے۔ جب ہرقل نے (سارے حالات) سن لیے تو کہا کہ جا کر دیکھو وہ ختنہ کیے ہوئے ہے یا نہیں؟ انہوں نے اسے دیکھا تو بتلایا کہ وہ ختنہ کیا ہوا ہے۔ ہرقل نے جب اس شخص سے عرب کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتلایا کہ وہ ختنہ کرتے ہیں۔ تب ہرقل نے کہا کہ یہ ہی (محمد
) اس امت کے بادشاہ ہیں جو پیدا ہو چکے ہیں۔
مزید یہ کہ ختنہ بنی اسرائیل کے لیے بطور ایک مستقل الٰہی حکم مقرر نہیں کیا گیا تھا، بلکہ یہ عمل ان کی شریعت میں موروثی روایت کے طور پر باقی رہا۔ چنانچہ انجیل یوحنا میں ہے کہ مسیح
نے یہودسےفرمایاتھا:
لیکن موسیٰ () نے تمہیں ختنہ کرنے کا حکم دیا ہے، حالانکہ تمہارے آباواجداد نے موسیٰ (
) سے کہیں پہلے یہ رسم شروع کردی تھی۔ تم سبت کے دن لڑکے کا ختنہ کرتے ہو۔ 30
اس عبارت میں ابدی وراثت کو ایمان اور اطاعت کی شرط کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم
سے فرمایا: وأكون إلههم،یعنی تمہاری نسل میں سے جو لوگ اس سرزمین کے وارث ہوں گے، وہ مجھے خدائے واحد کے طور پر ماننے والے ہوں گے۔ پس اس وعدے کا استحقاق صرف انہی لوگوں کے لیے تھا جو اللہ پر ایمان رکھتے، اس کی شریعت پر قائم رہتے اور اس کے عہد کو پورا کرتے۔ لیکن جو لوگ شرک میں مبتلا ہوئے، اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا یا اس کے قائم کردہ عہد کو توڑ دیا، وہ اس وعدے کے مستحق نہ رہے، بلکہ ان پر اللہ کی لعنت اور غضب کا استحقاق لازم آگیا۔ اور یہ شرط امتِ محمدیہ
ہی نے پوری کی، نہ کہ یہود و نصاریٰ نے، کیونکہ ایمانِ خالص، توحیدِ کامل، اطاعتِ الٰہی اور عہدِ الٰہی کی وفاداری وہ صفات ہیں جو اس امت میں برقرار رہیں، جبکہ اہلِ کتاب نے ان میں سے بہت سی بنیادی شرائط کو توڑ دیا۔
خلاصہ یہ کہ مذکورہ بالا تینوں دلائل سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ عہدِ الٰہی صرف بنی اسحاق اور بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص نہیں تھا، بلکہ بنی اسماعیل بھی اس میں شامل تھے۔ پھر بنی اسماعیل میں اس عہد کی تکمیل اس وقت ہوئی جب اسی مبارک نسل میں رسول اللہ
کی بعثت ہوئی۔ بعد ازاں آپ
کے صحابۂ کرام
نے دور دراز علاقوں کو فتح کر کے انہیں اسلامی قلمرو کا حصہ بنا دیا، اور یوں امتِ محمدیہ
اس الٰہی وعدے کی وارث قرار پائی۔
حضرت ابراہیم
کی ایک بشارت سفرِ رؤیاِ ابراہیم (Apocalypse of Abraham) میں بھی وارد ہوئی ہے۔ تاہم اس بشارت کے فہم و ادراک سے قبل مکاشفہ ابراہیم کا تعارف ضروری ہے، تاکہ اس کے مصدر وماخذ کے حوالےسے کوئی ابہام باقی نہ رہے۔
مکاشفہ ابراہیم (The Apocalypse of Abraham) کے نام سے حضرت ابراہیم
کی طرف منسوب ایک کتاب ہے جو پہلی صدی عیسوی میں لکھی گی ہے۔ 31 یہ کتاب اپنی مجموعی ساخت کے اعتبار سے خالصتاً یہودی رنگ و آہنگ کی حامل ہے۔ اس کی اصل زبان غالباً عبرانی یا آرامی تھی، جس سے بعد ازاں ایک یونانی ترجمہ تیار ہوا، اور یہی ترجمہ آگے چل کر سلاوونی متن کی بنیاد بنا۔ 32 The Anchor Bible Dictionary میں لکھا ہے کہ مکاشفہ ابراہیم (Apocalypse of Abraham) اپنے فلسطینی ماخذ، تصنیف کے ابتدائی دور، کتابِ اخنوخ کے ساتھ مشترک روایات، اور عہدِ جدید (New Testament) کی تحاریرسے فکری وروایتی ربط کے باعث، پہلی صدی عیسوی کی یہودی دنیا کی نہایت اہم اور نمایاں تصانیف میں اپنا ایک معتبر اور ممتاز مقام رکھتی ہے۔ 33 جبکہ اہلِ کتاب کےبعض محققین اس کتاب کو غیر معتبر صحائف (Apocryphal Scriptures) میں شمار کرتے ہیں اور اسے پہلی صدی عیسوی کی تصنیف قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی تالیف کو اس سے پہلے کے زمانے سے منسوب کرنا درست نہیں، اور وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس میں ہیکل کی تباہی کا ذکر ملتا ہے، جو سن 70عیسوی میں وقوع پذیر ہوئی تھی۔ تاہم یہ استدلال حتمی نہیں، کیونکہ اس نوع کے متعدد کتب و صحائف میں اس واقعے کا تذکرہ موجود ہے جو بلا شبہ اس سانحے سے صدیوں قبل لکھے جا چکے تھے۔
مکاشفہ ابراہیم میں حضرت ابراہیم
کے ایک روحانی سفر کا ذکر ملتا ہے، جس میں آپ
نے آسمانوں کی سیر فرمائی۔ اس امر کی صراحت موجود نہیں کہ یہ سیر خواب کی حالت میں تھی یا بیداری میں، تاہم قرینِ قیاس یہی ہے کہ یہ ایک رؤیائی کیفیت تھی، جس میں آپ
فرشتے کی معیت میں عالمِ علوی کی طرف لے جائے گئے۔ اس سفر کے دوران آپ
کو عالمِ غیب کے متعدد مناظر دکھائے گئے۔ انہی مشاہداتِ غیبیہ میں واقعہ بشارت بھی مذکور ہے، جس کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔ چنانچہ مکاشفہ ابراہیم کے باب نمبر 29 میں ہے:
فأجبت وقلت: أيها القدير والمقدّس بقدرتك، ارحم صلاتي. لهذا عرّفني وأرني هذا؛ لأنك رفعتني إلى علوك۔ لهذا عرفني أنا خليلك ما أطلب منك: وهل يحدث لهم ما رأيت في أزمنة عديدة؟ فأراني كثرة الشعب وقال لي: لهذا فهو يثير غضبي عبر المداخل الأربعة التي رأيت، وفي هذه المداخل يأتي جزائي لأعمالهم. في المدخل الأربع هناك مئة سنة، وساعة دهر هي أيضا مئة سنة. ستجري في الشر بين الأمم. فقلت: أيها الأزلي القدير، كم تدوم سنة الدهر؟ فقال: أقررت أن اثنتي عشرة ساعة من هذا الدهر تملك على الوثنيين وعلى زرعك. وحتى نهاية الأزمنة يجري ما رأيت، عد، تعلم، وانظر في اللوح. نظر ت فرأيت رجلا يخرج من الجهة اليسرى، من جهة الوثنيين، جاء رجال ونساء وأولاد من جهة الوثنيين في جموع كثيرة، وعبدوه، وإذ كنت أنظر بعد جاء الذين من جهة اليمنى، بعضهم هزأ بهذا الرجل، وآخرون ضربوه، وآخرون غيرهم سجدوا له، ورأيت أن أولئك يسجدون له، فركض عزازيل، وسجد له، وإذ قبله قبلة على وجهه، استدار ووقف وراءه. فقلت: أيها الأزلي القدير، من هو هذا الإنسان الذي يهزأ به الوثنيون، ويضربونه ويسجدون له مع عزازيل؟ فأجاب وقال: اسمع يا إبراهيم: هذا الرجل الذي رأيته يهزأ به، ويضرب ويعبد، هو ذلك الذي يريح من الوثنيين الشعب الذي يأتي منك في الأيام الأخيرة، في هذه الثانية عشرة من الدهر الشرير۔ في الساعة الثانية عشرة من دهري النهائي أقيم هذا الرجل الآتي من زرعك، الذي رأيته خارجا من شعبي، فالجميع يتبعونه، مع أولئك الذي بدلوا مشورتهم؛ لأني دعوتهم. فالذين رأيتهم آتين من عن يمين اللوح وهو يعبدونه، هم عدد كبير من الوثنيين الذين وضعوا رجاءهم فيه. والذين رأيتهم خارجين من زرعك وآتين من جهة اليمين فالكثيرون منهم سوف يستعبدون، ومنهم من هزأ به، ومنهم من ضربه، ومنهم من عبده، وهو يمتحن أولئك الذين من زرعك وقد عبدوه في نهاية الساعة الثانية عشرة هذه؛ ليضع حدا للدهر الكافر. وقبل أن يبدأ دهر البر بالنمو تأتي دينونتي على الوثنيين الأشرار بواسطة شعب ولد من زرعك ففرزته لي. 34
میں(ابراہیم) نے جواب دیا اور عرض کیا: اے قدرت والے اور قدوس! اپنی قدرت کے وسیلے سے میری دعا قبول فرما۔ مجھے اس معاملے کی حقیقت دکھا اور اس کی معرفت عطا کر، کیونکہ تو نے مجھے اپنی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ پس مجھے، جو تیرا خلیل ہوں، یہ بتا کہ میں تجھ سے کیا چاہتا ہوں: کیا ان لوگوں کے ساتھ وہی کچھ ہوگا جو میں نے مختلف زمانوں میں دیکھا ہے؟ تو اس نے مجھے لوگوں کی کثرت دکھائی اور فرمایا: اسی وجہ سے وہ ان چار واسطوں کے ذریعے میرے عذاب کا شکار ہوں گے، جو تو نے دیکھے۔ انہی واسطوں سے، ان کے اعمال کی وجہ سے ان پر میرا عذاب نازل ہوگا۔ اور چوتھے واسطے میں 100 سال ہوں گے، اورزمانے کی ایک ساعت (گھڑی) بھی 100 سال کے برابر ہے۔ یہ (زمانہ ) قوموں کے درمیان برائی اور شر میں گزرے گا۔ میں نے کہا: اے ہمیشہ زندہ رہنے والےقادر مطلق! یہ زمانہ کتنی مدت تک باقی رہے گا؟ فرمایا: میں نے زمانے کی 12 ساعتیں (گھڑیاں) مقرر کی ہیں جو بت پرستوں او رتیری نسل پر حکمرانی کریں گی۔ اور جو کچھ تم نے دیکھا ہے، وہ تمام زمانوں کے اختتام تک جاری رہے گا۔ اب شمار کرو، سمجھو اور لوح (تختی) میں دیکھو۔ میں نے غور کیا تو دیکھا کہ بائیں جانب یعنی بت پرستوں کی طرف سے ایک شخص نکل رہے ہے، اس کے ساتھ کثیر تعداد میں مرد، عورتیں اور بچے بت پرستوں کی سمت سے آرہے ہیں۔ اور اسی کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ اورپھر اچانک میں نے دیکھا دائیں جانب سے بھی لوگ آئے، بعض نے اس شخص سے استہزاء کیا، کسی نے مارا اور کچھ ا س کے آگے تسلیم ہوگئے۔ اور جب میں نےدیکھا کہ سب اس کے سامنے تواضع اختیار کر رہے ہیں تب عزازیل دوڑا اور اس کے سامنے تسلیم ہوا، اور چہرے پر بوسہ دیااور پلٹ کر اس کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔ میں نے عرض کیا: اے ہمیشہ زندہ رہنے والےقادر مطلق! یہ انسان کون ہے جس پر بت پرست طنز کرتے ہیں، اسے مارتے ہیں اور عزازیل کے ساتھ مل کر اس کے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ تب (اللہ تعالی ) نے جواب دیا اور فرمایا: سنو، اے ابراہیم! وہ شخص جسے تم نے دیکھا کہ اس پر طنز کیاجارہا ہے، مارا جارہاہے، اور عبادت کی جا رہی ہے، وہی ہے جو آخری زمانوں یعنی شریر زمانے کی بارہویں گھڑی میں تیری ذریت سے پیدا ہونے والے لوگوں کو بت پرستوں کی گرفت سے آزاد کرائے گا۔ اس شخص کو جو تیری نسل سےآئے گا جسے تم نے اپنے قوم سے نکلتے دیکھا، میں اسے اسی آخری زمانے کی بارہویں گھڑی میں اٹھاؤں گا، ، تمام لوگ اس کی پیروی کریں گے، ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے اپنی راہ بدل لی ہے، کیونکہ میں نے انہیں پکارا تھا۔ اورجو لوگ تم نے دائیں جانب سے آتے اور اس کی عبادت کرتے ہوئے دیکھے، ان میں اکثریت ان بت پرستوں کی ہے جنہوں نے اپنی امیدیں اسی سے لگائی ہیں۔ اور جو لوگ تم نے تیری نسل سے نکلے اور دائیں جانب سے آتے دیکھے، ان میں سے اکثر غلام بن جائیں گے، انہیں میں سے کسی نے اس پر طنز کیا، بعض نے اسے مارا، اور کچھ نے اس کی عبادت کی۔ یہ شخص ان لوگوں کو آزمائے گا جو تیری نسل سے ہوں گے حالانکہ انہوں نے بارہویں گھڑی کے اختتام پر اس کی عبادت کی تھی، تاکہ وہ زمانۂ شر کی انتہا کے لیے ایک حد مقرر کرے۔ اور قبل اس کے کہ نیکی کا زمانہ پروان چڑھےان شریر بت پرستوں پر میرا فیصلہ اس قوم کے ذریعے آئے گا جو تیری ذریت میں سے ہوں گے، میں نے اس قوم کو خاص اپنے لیےچنا ہے۔
مذکورہ بشارت اگرچہ سابقہ الہامی اسفار اور قانونی کتب میں نہیں پائی جاتی، تاہم عیسائیت کی ابتدائی صدیوں میں لکھی گئی تحاریر سے اس کی تائید اور تصدیق ہوتی ہے جس سے بخوبی اس کتاب کی قدامت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ چنانچہThe Syriac Clementine Recognitions and Homilies جو عیسائیت کی ابتدائی زمانےکی لکھی گئی تحاریر کا حصہ ہے، اس سے اس بشارت کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ اس کتاب میں ہے:
To Abraham then, while he was concerned and wanting to know the things that exist according to what they are, was revealed the True Prophet, who alone knows the will of each person from among human beings. In one day, everything was revealed to him, and he (the Prophet) convinced him of God, the generation of the world, its beginning, the immortal soul, the observances acceptable to Him, the Resurrection of the Dead and the Judgment, and that those who are found virtuous shall receive hidden blessings for eternity, while those who are wicked are appointed the punishment of fire for eternity. 35
تب ابراہیمپر، جب وہ حقائق کو ان کے اصل حال کے مطابق جاننے کے لیے فکرمند تھے، سچا نبی ظاہر ہوا، جو اکیلا ہر انسان کی نیت اور ارادے کو جانتا ہے۔ اسی ایک دن میں سب کچھ ان پر واضح کر دیا گیا، اور نبی نے انہیں خدا پر ایمان لانے کے لیے قائل کیا، دنیا کی پیدائش، اس کا آغاز، لازوال روح، خدا کی پسندیدہ عبادات، مردوں کی قیامت اور حساب و کتاب، یہ سب دکھایا۔ اور بتایا کہ جو لوگ نیک اور صالح پائے جائیں گے وہ ہمیشہ کے لیے پوشیدہ برکات حاصل کریں گے، جبکہ جو برے ہوں گے وہ ہمیشہ کی آگ کے عذاب کے مستحق ہوں گے۔
اس بشارت کی توضیح و تشریح سے پہلے چند بنیادی امور کو سمجھ لینا نہایت ضروری ہے، تاکہ اس کے حقیقی مصداق کے تعین میں کسی قسم کا ابہام یا تردد باقی نہ رہے ۔
اول: یہ ہے کہ مذکورہ بالا عبارت میں بیان کردہ احوال، حضرت ابراہیم
کے اعتبار سے مستقبل سے متعلق ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ باب 26 میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم
سے فرماتے ہیں:
كذلك أيضا مشورة إرادتي هي فيّ. وهي مستعدة للأيام الآتية قبل أن تعرف ما سيكون في تلك الأيام. سترى بعينيك ما سيكون من زرعك. انظر إلى اللوح! 36
اسی طرح میری مشیئت مجھ ہی کو معلوم ہے۔ اور وہ (میری مشیئت) آنے والے دنوں کے لیے مقرر ہے اس سے قبل کہ تو یہ جان سکے کہ ان دنوں میں کیا کچھ ہونے والا ہے۔ تو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ تیری نسل سے کیا کچھ ہوگا۔ لوح (تختی) کی طرف دیکھ!
دوم: جہۃ الیمین (دائیں جانب) اور جہۃ الشمال (بائیں جانب ) سے کیا مراد ہے؟ یہ الفاظ مذکورہ بالا عبارت میں بھی آئے ہیں جبکہ اس سے قبل باب 27 میں ہے:
نظرت فرأيت، رأيت أن اللوح تمايل، وانقطت من جهة الشمال مجموعة الوثنيين، فسلبوا الذين كانوا عن اليمين، من رجال ونساء وأولاد، قتلوا البعض، واحتفظوا بالآخرين لديهم.37
میں نے غور کیا تودیکھا کہ تختی جھک گئی، اور بائیں جانب سے بت پرستوں کا ایک گروہ نمودار ہوا۔ انہوں نے دائیں جانب والوں پر حملہ کیا، مردوں، عورتوں اور بچوں سب پر، ان میں سے کچھ کو قتل کر دیا اور باقیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔
اسفارِ اپوکریفہ کے شارحین و محققین کے نزدیک دائیں جانب والوں سے مراد بنی اسرائیل (یہود) ہیں، جبکہ بائیں جانب والوں سے مراد غیر یہودی اقوام ہیں۔ تاہم یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بائیں جانب والوں کو بت پرستوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 38 اس کی ایک ممکنہ توجیہ یہ ہوسکتی ہے کہ بنی اسرائیل اپنے علاوہ دیگر تمام اقوام کو عموماً بت پرست قرار دیتے ہیں۔
سوم: عزازیل سےمراد جنات اور شیاطین کے سرکش افراد ہیں؛ کیونکہ ابلیس کی ذریت جنات ہی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ 39 اسی لیے امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ شیاطین دراصل انسانوں اور جنوں کے سرکش و نافرمان افراد ہوتے ہیں، جبکہ تمام جنات ابلیس ہی کی اولاد ہیں۔ 40
حضرت ابراہیم
فرماتے ہیں:فأراني كثرة الشعب وقال لي: لهذا فهو يثير غضبي عبر المداخل الأربعة التي رأيت، وفي هذه المداخل يأتي جزائي لأعمالهم۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے لوگوں کی کثرت دکھائی، اور فرمایا کہ مداخلِ اربعہ تک وہ میرے غضب کو بھڑکائیں گے، اور مداخلِ اربعہ میں ان کے اعمال کی وجہ سے ان پر میرا عذاب نازل ہوگا۔
مداخلِ اربعہ سے کیا مراد ہے؟ یہ لفظ اصل سلاوی متن میں (Schody) کی صورت میں آیا ہے۔ اس کے معنی کے تعین میں مترجمین اور شارحین کے درمیان خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس سے مراد گروہ ہیں، جبکہ بعض اسے نسل کے معنی میں لیتے ہیں۔ 41 بعض محققین کے نزدیک یہ لفظ اگرچہ مختلف صورتوں، جیسے: مصاعد (اوپر چڑھنے کے راستے)، مداخل (داخل ہونے کے مقامات)، اور مصبّات (اترنے کی جگہیں)میں منقول ہوا ہے، 42 تاہم اپنے مفہوم کے اعتبار سے ان سب کا حاصل واسطے یا ذرائع ہی بنتا ہے۔ جبکہ جی۔ ایچ۔ بوکس (G.H Box) اس کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
On their account through four issues, as thou sawest, I shall be provoked by them, and in these my retribution for their deeds shall be (accomplished). 43
جیسا کہ تم نے دیکھا، ان کے معاملے میں چار مسائل ایسے ہیں جن کی بنا پر میں ان پر غضبناک ہوں گا، اور انہی (چار کے ذریعے) ان کے اعمال کی پوری سزا دی جائے گی۔
اور اس کے حاشیہ میں مزید دو احتمالات ذکر کرتے ہیں: پہلا (four descents) یعنی چار مراحلِ نزول، دوسرا (four generations) یعنی چار نسل۔ 44 تاہم اس سے قبل باب 27 میں انہوں نے بھی four entrances(چار مداخل) سے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ 45 سلاوی لفظ (Schody) کے ترجمے میں اگرچہ لفظی اختلاف پایا جاتا ہے، مگراس نکتہ پر تقریباً تمام شارحین کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد چار طرح کے عذاب ہیں، جو بنی اسرائیل پر چار بت پرست سلطنتوں کی صورت میں نازل ہوئے۔ 46
دوسری بات یہ کہ مداخلِ اربعہ (چار عذابوں) کی ابتداء کب سے ہوگی؟ تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ مدخلِ اول( پہلے عذاب) سے اس کی ابتدا ہو۔ اور بنی اسرائیل پر پہلاعذاب بخت نصر کی صورت میں نازل ہوااور تقریبا ً 587 قبل مسیح بیت المقد س کو تباہ و برباد کیا۔ 47 جبکہ نقل (روایات) کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ چنانچہ مکاشفہ ابراہیم میں مداخلِ اربعہ کی ابتداء کے بارے میں مذکور ہے:
نظرت فرأيتهم يركضون نحو أولئك بأربعة مداخل. أشعلوا النار في الهيكل، وسلبوا الأوني المقدسة التي كانت فيه.48
میں نے غور کیا تو دیکھا کہ وہ (بت پرست)ان کی طرف چار (مداخل) سے دوڑتے چلے جا رہے تھے۔ انہوں نے ہیکل میں آگ لگا دی اور اس میں موجود مقدس برتنوں کو لوٹ لیا۔
ہیکل کی تباہی اور اس کے اندر اس نوع کے افعال بخت نصر ہی کے ہاتھوں سرانجام پائے تھے۔ چنانچہ سفر یرمیاہ میں ہے:
شاہ بابل نبوخذنصر (بخت نصر)کے عہد کے 19ویں سال کے پانچویں مہینے کے دسویں دن شاہی پہرہ داروں کا سردار نبوزرادان جو شاہ بابل کا ملازم تھا، یروشلم آیا۔ اس نے خداوند کی ہیکل کو، شاہی محل کو اور یروشلم کے تمام مکانات کو آگ لگادی۔ اس نے ہر اہم عمارت کو جلاڈالا۔ 49
اس کے بعد بیت المقدس پر حملوں کی صورت میں عذاب کا سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ آخری بار 70 عیسوی میں بیت المقدس پر ٹائٹس کی سربراہی میں رمیوں نے حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی کو مکمل طور پر تباہ و برباد کردیا۔
جب حضرت ابراہیم
کو یہ تمام مناظر دکھائے گئے اور پھر ان کی قلبی اطمینان کے لیے ان کے سوالات کے جوابات بھی دئے گئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے انہیں بعثتِ محمدی
کے بارے میں آگاہ فرمایا۔ چنانچہ ابرہیم
فرماتے ہیں : نظر ت فرأيت رجلا يخرج من الجهة اليسرى، من جهة الوثنيين، جاء رجال ونساء وأولاد من جهة الوثنيين في جموع كثيرة، وعبدوه۔ یعنی میں نے تختی میں دیکھا کہ ایک شخص بائیں جانب سے، یعنی بت پرستوں کی سمت سے نمودار ہوا۔ پھر اسی سمت سے مرد، عورتیں اور بچے کثیر تعداد میں گروہوں کی صورت میں آئے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر گئے۔
علمائے اہلِ کتاب اس عبارت کی تشریح و توضیح میں حیران و پریشان نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عبارت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نجات دہندہ شخص نہ صرف بائیں جانب، یعنی بت پرستوں کے ماحول سے نمودار ہوگا، بلکہ یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ دائیں جانب کے لوگ، یعنی بنی اسرائیل، اسی ہستی کو اذیت و تکلیف پہنچائیں گے۔ 50 اس لیے جی۔ ایچ۔ بوکس (G.H Box) اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
The man is clearly intended to be Jesus. His emerging from the left side of the heathen is curious. 51
یہ امر واضح ہے کہ یہاں "اس شخصیت" سے مراد حضرت عیسیٰہیں۔ تاہم اس کا
بائیں جانب، یعنی غیر قوموں کی طرف سے ظاہر ہونا
ایک حیرت انگیز امر ہے۔
اس کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر متن کواسی ترتیب میں درست مانا جائے تو غالب گمان کے مطابق اس میں عیسیٰ
کا ابتدائی عیسائی کلیسا کے غیر یہودی اقوام میں ظاہر ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔ پھر یہ مفہوم کسی نسلی ونسبی نسبت کی طرف اشارہ نہیں ہوگا۔ لہذا مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس متن میں تحریف وتبدیلی ہوئی ہے۔ اس لیے بوکس (Box) کہتے ہیں کہ متن میںright side (دائیں جانب) پڑھا جائے اور لفظ heathen (غیرقوموں) کو غلط اضافہ سمجھ کر حذف کردیا جائے۔ 52
حالانکہ اس عبارت کو محرف یا تبدیل شدہ قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اس میں تحریف عیسائی علماء کی طرف سے ہوئی ہوتی تو وہ اپنی روایات کے مطابق اسے حضرت عیسیٰ
پر منطبق کرنے کی پوری کوشش کرتے، نہ کہ اس تطبیق کو کمزور یا دور کرنے کی۔ اور اگر یہ تحریف یہودی علماء کی طرف سے ہوئی ہوتی تو وہ بھی اپنی توقعات کے مطابق نبیِ موعود یا مسیحِ منتظر کو حضرت داؤد
کی نسل سے ثابت کرنے کی سعی کرتے، جبکہ اس متن میں ایسا کوئی پہلو موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس عبارت کو تحریف شدہ قرار دینے کے بجائے اسے اپنی اصل حالت میں سمجھنا زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔ 53 تاہم اس کے باوجود یہ کہنا کہ اس کا مصداق حضرت عیسیٰ
ہیں، یہ دعویٰ سراسر باطل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ
بنی اسرائیل ہی میں سے تھے، نہ کہ غیر اقوام میں سے، خصوصاً کسی مشرک یا بت پرست قوم سے ان کا تعلق بالکل بھی نہیں تھا۔ 54
چونکہ اس عبارت میں یہ بات واضح طور پر مذکور ہے کہ وہ شخص بائیں جانب، یعنی بت پرست اور مشرک قوم کے ماحول سے ظاہر ہوگا، اس لیے اس کا اطلاق نہ حضرت عیسیٰ
پر ہوتا ہے اور نہ بنی اسرائیل کاکوئی اور نبی اس کا حقیقی مصداق بنتا ہے۔ اگر اس عبارت کو تاریخی اور سماجی تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا حقیقی مصداق وہی نبی قرار پاتا ہے جو حضرت ابراہیم
کی نسل سے ہونے کے باوجود ایک ایسے معاشرے میں مبعوث ہوئے جو شرک اور بت پرستی میں ڈوبا ہوا تھاجو کہ تاریخی طور پر قدیم عرب کے لئے ثابت ہیں۔ نبی کریم
کی ولادت بھی اسی مشرک معاشرہ میں ہوئی اوراسی تاریک ماحول میں آپ
نے نشوونما پائی، پھر اسی قوم کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور بالآخر پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا پیغام لے کر آئے۔ اس اعتبار سے اس وصف کی کامل اور جامع تطبیق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ
پر ہی صادق آتی ہے۔ ذیل میں اس کے دلائل ذکرکیے جاتے ہیں۔
حضرت ابراہیم
نے جب فسق و فجور کی مدت کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے 12 ساعات (گھڑیوں) کا ذکر کیا گیا۔ جبکہ اس سے قبل ایک ساعت کو 100 سال کے برابر قرار دیا ہے۔ پھر ان 12 ساعات کی ابتداء اس وقت سے ہوئی جب بخت نصر نے بیت المقدس کو نذرِ آتش کیا، اور یہ واقعہ تقریباً 586 قبل مسیح میں پیش آیا۔ اب اگر اس تناظر میں اس ہستی کے زمانۂ ظہور کا تعین کیا جائے تو لازم آتا ہے کہ بیت المقدس کی اس تباہی کے 12 سو سال بعد ظاہر ہونے والی ہستی کو اس کا مصداق قرار دیا جائے۔ چنانچہ جب 586 قبل مسیح میں 610 عیسوی کا اضافہ کیا جائے تو مجموعی طور پر تقریباً 1196 سال کا عرصہ بنتا ہے، جو بارہویں صدی کے اختتامی زمانہ بنتا ہے۔ اسی زمانی تقابل کی بنیاد پر یہ بات قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے کہ بیت المقدس کی پہلی تباہی کے تقریباً 12 سو سال بعد جس عظیم ہستی کی بعثت ہوئی، وہ رسول اللہ
کی ذاتِ گرامی ہے، اور یوں یہ پیش گوئی اپنی کامل تعبیر آپ
کی بعثتِ مبارکہ میں پاتی ہے۔ 55
اگر اس بشارت کی عبارت کا بغور سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس میں بنی اسرائیل کو زمانۂ فجور میں پیش آنے والی تباہیوں اور ہلاکتوں کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ مخلص اور نجات دہندہ کا تذکرہ اس کے بعد آتا ہے۔ اس ترتیب سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ ہستی ایسی غیر معمولی قدرت کی حامل ہوگی جو ان تباہ کار اور مہلک قوتوں کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اور اگر وہ بنی اسرائیل کے زمانے میں ظاہر ہوتی تو انہیں غالب اقوام کے تسلط سے نجات دلا دیتی۔ رہا معاملہ حضرت عیسیٰ
کا، تو اگرچہ وہ بنی اسرائیل ہی کی طرف مبعوث کیے گئے تھے، مگر جب انہوں نے اپنی قوم کو دعوتِ حق دی تو کچھ لوگوں نے اسے قبول کیا اور کچھ نے انکار کر دیا۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں اس کا ذکر یوں کیا گیا ہے:
...فَآمَنَتْ طَائِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَتْ طَائِفَةٌ... 56
۔ ۔ ۔ پس بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا اور دوسرا گروہ کافر ہوگیا۔ ۔ ۔
ابن کثیر
فرماتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ
نے اپنی قوم کو دعوت دی، تو بنی اسرائیل دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک گروہ نے آپ
کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول کیا اور راہِ راست پا گیا، جبکہ دوسرا گروہ گمراہ ہوکر آپ
کی تعلیمات سے منحرف ہوگیا۔ انہوں نے نہ صرف آپ
کی نبوت کا انکار کیا بلکہ آپ
اور آپ
کی والدہ ماجدہ حضرت مریم
پر سنگین الزامات بھی عائد کیے۔ یہ وہی یہودی تھے جن پر قیامت تک پے در پے لعنتیں رہیں گی۔ دوسری طرف ایک گروہ ایسا بھی تھا جو آپ
پر ایمان لایا، مگر وہ بھی غلو کا شکار ہوگیا اور آپ
کو اس مقام سے بڑھا دیا جو اللہ تعالیٰ نے آپ
کو بطور نبی عطا فرمایا تھا۔ یوں وہ مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے؛ بعض نے کہا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں، بعض نےتثلیث، باپ، بیٹا اور روح القدس، کا عقیدہ اپنایا، اور بعض تو یہاں تک کہہ بیٹھے کہ وہی خدا ہیں۔ 57 اگرچہ حضرت عیسیٰ
پر بعض لوگوں نے ایمان لایاتھا، تاہم انہیں ایسی ظاہری قوت و اقتدار حاصل نہ تھا کہ وہ رومیوں اور ان یہودیوں کا مقابلہ کر سکتے جو آپ
کے قتل کے درپے تھے۔
اس کے برعکس جب رسول اللہ
مبعوث ہوئے تو نہ صرف عرب کے لوگوں نے آپ
پر ایمان لائے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ
اور آپ
کے صحابہ کرام
کو ایسی غیر معمولی قوت عطا فرمائی کہ انہوں نے فارسی اور رومی دونوں عظیم سلطنتوں کو شکستِ فاش دی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو کافروں پر غلبہ اور برتری عطا فرما دی۔ 58
عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ
(العیاذ باللہ) یا تو خدا ہیں یا خدا کے بیٹے۔ لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے انسانیت کو نجات دی، تو وہ اسی حیثیت میں مانی جاتی ہے جو عیسائی عقیدے میں ان کے بارے میں اختیار کی گئی ہے۔ جبکہ مذکورہ عبارت میں "رجل" یعنی ایک انسان کا ذکر ہے، اس لیے اس کا اطلاق حضرت عیسیٰ
پر درست نہیں ہے۔ 59اس کے برعکس رسول اللہ
کے بارے میں کسی بھی طبقے کا یہ عقیدہ نہیں کہ وہ خدا ہیں یا خدا کے بیٹے؛ بلکہ آپ
کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کے آخری پیغمبر ہی مانا گیا ہے۔ اور اسی حیثیت سے آپ
نے انسانیت کو ظلم و جبر سے نجات دلائی اور ہدایت کا راستہ دکھایا۔
اس عبارت کے الفاظ "وإذ كنت أنظر بعد جاء الذين من جهة اليمنى، بعضهم هزأ بهذا الرجل، وآخرون ضربوه، وآخرون غيرهم سجدوا له" (یعنی میں دیکھتا ہوں کہ دائیں جانب (بنی اسرائیل) سے لوگ آئے؛ بعض نے اس شخص کا تمسخر اڑایا، بعض نے اسے مارنے کی کوشش کی، جبکہ کچھ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم ہو گئے)، درحقیقت اس امر کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کا مصداق رسول اکرم
کی ذاتِ گرامی ہے۔ یہ دراصل عہدِ نبوی میں یہود کے مختلف رویّوں کی عکاسی ہے۔ 60 چنانچہ آپ
کے زمانے میں یہودیوں کا ایک گروہ آپ
کی شان میں گستاخی اور بدزبانی پر اتر آیا، دوسرے گروہ نے آپ
کو نقصان پہنچانے حتیٰ کہ قتل کی سازشیں کیں، جبکہ ایک اور طبقہ ایسا بھی تھا جس نے حق کو پہچان کر ایمان قبول کیا اور سرِ تسلیم خم کر دیا۔
سعیدبن حسن اسکندرانی (سابق یہودی عالم، متوفیٰ 698ہجری بمطابق 1298 عیسوی) کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم
کے صحیفے میں ایک بشارت وارد ہے جو رسول اللہ
کی نبوت پر دلالت کرتی ہے۔ بشارت کچھ یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم
کو حکم دیا کہ چار پرندے، چار گائے اور چار جنگلی جانور لے کر انہیں اپنے پاس جمع کریں۔ پھر ہر ایک جانور کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں، البتہ پرندوں (عصفور) کو تقسیم نہ کریں، اور پھر انہیں اپنے پاس بلائیں۔ حضرت ابراہیم
نے حکمِ خداوندی کی تعمیل فرمائی۔ چنانچہ جب آپ
نے انہیں پکارا تو وہ سب زندہ حالت میں دوڑتے ہوئے ان کی طرف آ گئے، جیسے وہ پہلے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اسی طرح میں مردوں کو زندہ کروں گا، اور قبروں میں پڑے ہوئے لوگوں کو دوبارہ اٹھاؤں گا۔ 61 اسی بشارت کا ذکر رؤیا ابراہیم میں بھی آیا ہے۔ حضرت ابراہیم
فرماتے ہیں:
وصلت إلى جبال الله، إلى حوريب المجيد. فقلت للملاك: يا منشد الأزلي، ها أنا بدون ضحيّة، ولا أعرف مذبحا على الجبل، فكيف أتمّ ذبيحتي؟ فقال لي: التفت. فالتفتُّ، فإذا جميع الحيوانات المفروضة للذبيحة تتبعنا: الثور الصغير، العنزة، الكبش، اليمامة الحمامة. فقال لي الملاك: إبراهيم! فقلت: هاأنذا. فقال لي: كل هذه الحيوانات، اقتلها واقطعها، وضع النصف تجاه النصف الآخر. أما العصفوران فلا تقطعهما. أعط القطع للبشر الذين أدلك عليهم والذين يكونون واقفين بقربك، فهم المذبح على الجبل حيث تقدم ذبيحة للأزلي. أما اليمامة والحمامة، فتعطيني إياهما فأصعد على أجنحة الطيور لأريك ما في السماء وعلى الأرض، في البحر والغمار، في أعماق الأرض، في جنة عدن وأنهارها، في ملء العالم فترى دائرة العالم كلها.62
میں حوریب کے مقدس پہاڑوں تک پہنچا۔ میں نے فرشتے سے کہا: اے ازلی مالک کے ثناء خواں! میں یہاں بغیر قربانی کے آیا ہوں اور مجھے پہاڑ پر کوئی مذبح بھی معلوم نہیں، تو میں اپنی قربانی کیسے کروں گا ؟ اس نے کہا: ادھر دیکھو۔ میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ قربانی کے لیے مقرر تمام جانور ہمارے پیچھے آ رہے تھے: چھوٹا بیل، بکری، مینڈھا، فاختہ اور کبوتر ۔ فرشتے نے مجھ سے کہا: ابراہیم()! میں نے جواب دیا: میں حاضر ہوں۔ اس نے کہا: ان سب جانوروں کو ذبح کرو، ان کے ٹکڑے کرو اور ہر ایک کے نصف کو دوسرے نصف کے مقابل رکھ دو۔ لیکن پرندوں کو مت کاٹو۔ جو حصے میں تمہیں بتاؤں گا، وہ ان لوگوں کو دو جو تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ یہی پہاڑ کا وہ مذبح ہے جہاں تم ازلی بادشاہ کےلیے قربانی پیش کرو گے۔ پھر اس نے کہا: کبوتر اور فاختہ مجھے دے دو، تاکہ میں پرندوں کے پروں پر چڑھ کر تمہیں آسمان و زمین کی سیر کراؤں، سمندر اور خشکی میں، زمین کی گہرائیوں میں، عدن کی جنت اور اس کے دریاؤں میں، اور پوری کائنات کی بھرپور وسعت میں۔ تاکہ تم پوری دنیا کے دائرے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو۔
تورات میں بھی اس بشارت کی طرف اشارہ پایا جاتاہے ۔ چنانچہ سفر تکوین میں ہے:
خذ لي عجلة ثلاثية، وعنزة ثلاثية، وكبشا ثلاثيا، ويمامة وحمامة. فأخذ هذه كلها وشقها من الوسط، وجعل شق كل واحد مقابل صاحبه.وأما الطير فلم يشقه.63
میرے لیے ایک تین سال کی گائے، ایک تین سال کی بکری، اور ایک تین سال کا مینڈھا لے آؤ، اور ساتھ ایک فاختہ اور ایک کبوتر بھی۔ اس (حضرت ابراہیم) نے یہ سب جانور لے کر انہیں درمیان سے دو حصوں میں تقسیم کیا، اور ہر جانور کے ایک حصے کو دوسرے کے مقابل رکھا۔ البتہ پرندوں کو انہوں نے نہیں چیرا۔
قدیم یہودی مفسرین نے تورات میں میں مذکور جانوروں کو محض حیوانات نہیں سمجھا، بلکہ انہیں دنیا کی بڑی اقوام و سلطنتوں کی علامت قرار دیا ہے۔ چنانچہ مدراش رباہ (Midrash Rabbah) میں ہے کہ تین سالہ گائے سے مراد سلطنتِ بابل ہے، جس میں تین نامور بادشاہ گزرے، بخت نصر، اویل مردوخ اور بلشاضر۔ اسی طرح تین سالہ بکری مادی سلطنت کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس کےحکمرانوں میں تین مشہور حکمران شامل تھے، کورش، دارا اور اخسویرس ۔ جبکہ تین سالہ مینڈھا یونانی سلطنت کی طرف اشارہ ہے، جو اپنے زمانے کی ایک عظیم اور غالب قوت تھی۔ 64
سوال یہ ہے کہ اس پرندے سے کیا مراد ہے جسے زندہ چھوڑا گیا تھا؟ سعیدبن حسن اسکندرانی (سابق یہودی عالم، متوفیٰ 698ہجری بمطابق 1298 عیسوی) کہتے ہیں کہ جن مختلف جانوروں کے ذریعے دنیا کی عظیم سلطنتوں کو بیان کیا گیا، وہ سب کی سب حضرت محمد
کی بعثت سے پہلے ہی زوال کا شکار ہو کر تاریخ کا حصہ بن چکی تھیں۔ جبکہ وہ پرندہ جسے زندہ چھوڑا گیا، اس سے مراد نسلِ اسماعیل اور ان کی قائم ہونے والی سلطنت ہے، جو دیگر سلطنتوں کی طرح مٹنے والی نہیں، بلکہ قیامت تک باقی رہنے والی ہے۔ 65
خلاصہ یہ کہ حضرت ابراہیم
سے متعلق مذکورہ بشارات کا مجموعی مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ نسلِ اسماعیل کو دی گئی برکت، کثرتِ نسل، عظیم قوم بننے کی نوید، عہدِ الٰہی میں شمولیت، اور ایک ایسی ہستی کے ظہور کی خبر جو بت پرستی کے ماحول سے اٹھ کر اقوامِ عالم کو ہدایت و غلبۂ حق کی طرف لے جائے، سب ایک ہی مرکزی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ حقیقت رسول اللہ
کی بعثتِ مبارکہ ہے، جس کے ذریعے حضرت ابراہیم
کی دعا قبول ہوئی، نسلِ اسماعیل کو دائمی شریعت عطا ہوئی، امتِ محمدیہ
کو عالمی دینی و تاریخی امتیاز حاصل ہوا، اور سابقہ بشارات اپنے حقیقی انجام تک پہنچیں۔ اس بنا پر یہ بشارات نہ صرف اسلامی عقیدۂ ختمِ نبوت کی تائید کرتی ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ بعثتِ محمدی
کوئی جداگانہ یا غیر مربوط واقعہ نہیں، بلکہ سلسلۂ نبوتِ ابراہیمی کی وہ تکمیل ہے جس کی خبر سابقہ الہامی و تاریخی روایات میں مختلف اسالیب کے ساتھ محفوظ رہی۔