encyclopedia

قدیم عرب کا سیاسی نظام – دور جاہلیت کی سیاسی تشکیل و تقسیم

Published on: 16-Nov-2022

جزیرہ نما عرب کے متنوع جغرافیہ اور تہذیبی، تمدنی ، سیاسی اور سماجی تغیر ات کی وجہ سے یہاں کے سیاسی نظام اور سیاسی تشکیلات میں بھی بہت تفاوت تھا۔نُدرت کا یہ عالم تھا کہ جہاں ایک طرف شمال میں غیر مستحکم ریاستیں اورجنوب میں مستحکم بادشاہتیں اور خودمختار حکومتیں موجود تھیں وہیں جزیرہ نما عرب کے اندرونی علاقوں میں بدوی قبائلی نظام اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم تھا۔اسی قبائلی نظام کے بیچوں بیچ کچھ شہری ریاستیں بھی اہم تجارتی مراکز کے طور پر موجود تھیں جن کی اپنی اپنی سیاسی تشکیلات اور سیاسی نظام تھے۔ ان میں سے کچھ آزاد و خود مختار تھیں جبکہ دیگر کا انحصار بڑی قوتوں سے تعلقات و معاملات پر منحصر تھا۔ ان کے ساتھ ساتھ کچھ سیاسی تشکیلات خود مختاری اور انحصاری کے درمیان ایک متحرک توازن (Moving Equilibrium)کے مقام پر بھی کھڑی تھیں۔ یوں جزیرہ نما عرب کے مختلف خطوں میں سیاسی تنظیم کی خصوصیات اور نظا م ِ حکومت کی اقسام کے لحاظ سے فرق پایا جاتا تھا۔ ماہرین نے انہیں مندرجہ ذیل سیاسی تشکیلات میں منقسم کیا ہے:

  1. قبائلی نظام (Tribal System)
  2. غیر مستحکم ریاستیں (Unstable States)
  3. مستحکم بادشاہتیں (Stable States)
  4. خود مختار شہری ریاستیں (Independent City States) 1

مندرجہ بالا سیاسی تشکیلات کی تفصیلات اگلی فصول میں پیش کی جارہی ہیں۔


  • 1  لطفي عبد الوهاب، العرب في العصور القديمة ، مطبوعۃ: دار المعرفة الجامعية، اسکندریۃ ، مصر، 2000ء، ص: 342-358

ہمدانی، مفتی سیّد شاہ رفیع الدین (2022)۔قدیم عرب کا سیاسی نظام – دور جاہلیت کی سیاسی تشکیل و تقسیم۔ سیرۃ النبی ﷺ انسائیکلوپیڈیا۔ سیرت ریسرچ سینٹر، کراچی، پاکستان۔ جلد: 5، ص: 1081
https://muhammadencyclopedia.com/article/ur/arab-ka-siyasi-nizam