encyclopedia

ملحدین کی اقسام

Published on: 02-Jul-2026

الحاد اور لاادریت (agnosticism) کی مختلف صورتیں جدید فکری دنیا میں ایک وسیع اور متنوع منظرنامہ پیش کرتی ہیں، جہاں غیرایمانی رجحانات محض انکارِ خدا تک محدود نہیں بلکہ عقل، اخلاق، ثقافت اور ذاتی معنویت کے کئی پہلوؤں سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس تنوع کو سمجھنے کے لیے 6 نمایاں اقسام سامنے آتی ہیں: (1) فکری ملحد یا فکری لاادری، جو علم، تحقیق اور عقلی استدلال کے ذریعے حقیقت کی تلاش کرتا ہے اور فلسفیانہ و سائنسی مباحث میں سرگرم رہتا ہے؛(2)متحرک یا سرگرم ملحد، جو اپنے غیر مذہبی مؤقف کو سماجی و سیاسی جدوجہد، سیکولرازم اور انسانی حقوق کے فروغ سے جوڑتا ہے؛ (3) متلاشی لاادریہ ، جو انسانی علم کی حدود کو تسلیم کرتے ہوئے یقین اور انکار کے درمیان فکری کشادگی برقرار رکھتا ہے؛ (4)مخالفِ مذہب ملحد، جو مذہب کو سماجی یا فکری نقصان کا سبب سمجھ کر اس کی مخالفت کو اپنا مقصد بناتا ہے؛ (5) غیر مذہبی ملحد، جو مذہبی سوالات اور مباحث سے کنارہ کش رہتے ہوئے عملی زندگی گزارتا ہے؛ اور (6) رسمی ملحد یا لاادریہ، جو اعتقادی انکار کے باوجود ثقافتی، سماجی یا علامتی رسومات سے تعلق برقرار رکھتا ہے۔ یہ فکری تقسیم اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ غیرایمانی رویے انسانی ذہن کے مختلف میلانات اور سماجی تجربات کا عکس ہیں، تاہم اسی تنوع کے اندر انسان کی بنیادی فکری بے اطمینانی، معنویت کی تلاش اور محض انسانی عقل پر قائم نظاموں کی محدودیت بھی نمایاں رہتی ہے، جو بالآخر حقیقتِ اعلیٰ اور ماورائی جواب کی جستجو کو زندہ رکھتی ہے۔

انٹیلیکچوئل ایتھیسٹ اگناسٹک (Intellectual Atheist Agnostic-IAA)

عقلی ملحد ، لاادریہ یا انٹیلیکچوئل ایتھیسٹ اگناسٹک وہ شخص ہوتا ہے جس کی شخصیت علم کی جستجو اور عقلی تحقیق سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ یہ طبقہ ایمان، عدمِ ایمان اور حقیقتِ مطلقہ جیسے بنیادی سوالات کو محض جذبات یا روایت کی بنیاد پر قبول یا رد نہیں کرتا بلکہ مطالعہ، مکالمہ اور تنقیدی غور و فکر کے ذریعے ان کا جائزہ لیتا ہے۔ ایسے افراد عموماً فلسفہ، سائنس، الٰہیات اور سماجی و سیاسی افکار سے دلچسپی رکھتے ہیں اور دلیل پر مبنی گفتگو اور مہذب اختلافِ رائے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ مذہبی اور غیر مذہبی دونوں طرح کے لٹریچر سے واقف ہوتے ہیں اور اکثر اپنے مؤقف کی تائید کے لیے مختلف مفکرین، مکاتبِ فکر یا علمی حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ 1 ان کے نزدیک عدمِ ایمان کوئی سادہ یا اتفاقی کیفیت نہیں بلکہ ایک شعوری اور فکری طور پر تشکیل پانے والا مؤقف ہوتا ہے جو طویل غور و فکر اور نظریات کے تقابلی مطالعے سے جنم لیتا ہے۔ 2خلاصہ یہ کہ فکری ملحد یا لاادریہ اپنے نزدیک سچ کی تلاش کو عقل کے ذریعے ممکن سمجھتا ہے اور مختلف عالمی نظریات کے مابین فکری تبادلے کو زندگی کے معنی اور فہم کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔

لہٰذا فکری ملحد یا لاادریہ (IAA) سے مکالمہ کرنے کے لیے بھی اسی درجے کی فکری سنجیدگی، کشادہ ذہنی اور علمی دیانت درکار ہوتی ہے۔ مضبوط علمی تحقیق، فلسفہ، سائنس اور الٰہیات کے دلائل سے مدلل گفتگو، باہمی مکالمے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اسی تناظر میں اسلامی فکری روایت ، مثلاً علمِ کلام اور فلسفہ کو عالمی عقلی ورثے میں ایک سنجیدہ علمی شراکت کے طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے، تاکہ فکری ملحد یا لاادریہ ایمان کو محض جامد عقیدہ یا جذباتی وابستگی کے بجائے ایک زندہ، مربوط علم پر مبنی خدا کی طرف سے عطا کردا کامل نظام زندگی سمجھ سکے اور اسے اپنے بنیادی اور آخری سوالات کے معقول جوابات سے آشنا ہونے کا موقع ملے۔

ایکٹیوسٹ ایتھیسٹ/اگناسٹک (Activist Atheist / Agnostic – AAA)

متحرک ملحد، لاادریہ یا ایکٹیوسٹ ایتھیسٹ/اگناسٹک وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنے عدمِ ایمان کو صرف ذاتی عقیدے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے سماجی اور سیاسی عمل کے میدان میں بھی منتقل کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک الحاد یا لاادریت محض ایک نجی فکری مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے جس کے تحت وہ معاشرے میں موجود نا انصافیوں، عدمِ توازن اور مذہبی بالادستی کو چیلنج کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سرگرمی اکثر سیکولرازم کے فروغ، مذہب اور ریاست کی علیحدگی، اور تعلیم، قانون یا سیاست میں مذہبی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ بہت سے متحرک ملحد یا لاادریہ افراد خود کو وسیع تر سماجی تحریکوں کے ساتھ جوڑتے ہیں، جیسے فیمینزم، ایل جی بی ٹی کیو+، ماحولیاتی تحفظ، یا ہیومن رائٹز کی جدوجہد، اور اپنے غیر مذہبی تشخص کو سماجی اصلاح اور مساوات کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ سمجھتے ہیں۔ 3

ان کی عملی شرکت مختلف صورتیں اختیار کر سکتی ہے مثلا: کبھی ذاتی سطح پر لوگوں کو قائل کرنے اور آگاہی دینے کی کوشش، کبھی بائیکاٹ اور کبھی عوامی مظاہروں یا قانونی جدوجہد میں حصہ لینا۔ ان سب کو جو چیز متحد کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ مذہبی مداخلت یا سماجی ناہمواری کے سامنے خاموش رہنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ یہی تحریکی مزاج انہیں غیر مذہبی طبقے میں سب سے زیادہ نمایاں اور عوامی سطح پر نظر آنے والا گروہ بنا دیتا ہے، کیونکہ وہ اپنے عدمِ ایمان کو ایک وسیع انسانی یا فطرت پسند اخلاقی تصور سے جوڑتے ہیں۔ اس زاویے سے ان کے نزدیک الحاد محض ایک ذاتی عقیدہ نہیں بلکہ ایک عوامی شناخت ہے جو معاشرتی تبدیلی اور عملی جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔ 4

سِیکر اگناسٹک (Seeker Agnostic – SA)

متلاشی لاادریہ یا سِیکر اگناسٹک وہ فرد ہوتا ہے جو مختلف امکانات کے لیے ذہن کو کشادہ رکھتا ہے اور غیر یقینی کی کیفیت کو قبول کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔ دیگر اقسام کے برعکس جو خدا کے وجود یا عدمِ وجود کے حق یا مخالفت میں واضح موقف اختیار کر لیتی ہیں، متلاشی لاادریہ حقیقتِ مطلقہ کے باب میں انسانی علم کی حدود کو تسلیم کرتا ہے اور اسی بنا پر کسی قطعی اور جامد نتیجے تک پہنچنے سے گریز کرتا ہے۔ وہ اس بات سے بھی آگاہ ہوتا ہے کہ خدا کے وجود کو ثابت یا رد کرنے میں فلسفیانہ پیچیدگیاں موجود ہیں، اور یہ بھی کہ انسانی تجربات معنی کی تشکیل میں ذاتی اور داخلی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو نسبتاً لچکدار اصطلاحات میں بیان کرتا ہے، جیسےلاادریہ یا لاادریہ ملحد، جو اس کی ابہام اور عدمِ قطعیت کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ 5

ایسے افراد عموماً تجسس اور حیرت کے جذبے سے متحرک ہوتے ہیں اور معنی کی تلاش میں سائنس، فلسفہ اور روحانیت کا سنجیدہ مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ فکری تنوع کو قبول کرتے ہیں اور مختلف عقائد رکھنے والوں کے ساتھ باہمی احترام کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ نیز سائنس، مذہب اور ذاتی تجربے ، تینوں کی بصیرتوں اور حدود ، کو متوازن انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک غیر یقینی کیفیت کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک دیانت دار اور فکری طور پر ثمر آور رویہ ہے جو انہیں نئے خیالات اور زاویہ ہائے نظر کے لیےآزاد رکھتا ہے۔ 6بعض اوقات یہ طرزِ فکر انہیں زیادہ سخت گیر یا قطعی ملحدین سے مختلف راستے پر لے آتا ہے، جو اسے تذبذب سمجھتے ہیں، مگر متلاشی لاادریہ کے نزدیک یہی غیر یقینی کیفیت ایک مثبت اور بامعنی فکری مقام ہے۔

لہٰذا متلاشی لاادری سے مکالمہ کرتے وقت اس کی سچی جستجوِ معنی کی قدر کرنا اور تحقیر یا بے اعتنائی سے اجتناب ضروری ہے۔ اس سےگفتگو میں ایسے وجودی موضوعات کو جگہ دی جانی چاہیے جو اسے وسیع تر حقیقت پر غور کرنے کی دعوت دیں۔ یہاں قرآنی مضامین جیسے تخلیق پر غور و فکر، فطرت میں تدبر، اور انسانی حالت کی آگاہی کو ایسے فکری وسائل کے طور پر پیش کیا جا نا چاہئے جو اس کی جستجو پسند ذہنیت سے ہم آہنگ ہوں۔ اس انداز میں اسلام کو کسی بند اور جامد نظام کے بجائے ایک ایسے رہنما کے طور پر متعارف کرایا جانا چاہئےہے جو علم کے سامنے تواضع کو قدر دیتا ہے اور طالبِ حقیقت کے مسلسل سفر میں اس کا رفیق بنتا ہے۔

اینٹی تھیئسٹ (Anti-Theist – AT)

مخالفِ مذہب ملحد یا اینٹی تھیئسٹ عدمِ ایمان کی سب سے زیادہ جارحانہ اور تصادمی صورت کی نمائندگی کرتا ہے۔ غیر مذہبی شخص کی بے نیازی یا متلاشی لاادریہ کی کھلی جستجو کے برعکس، اینٹی تھیئسٹ مذہب کو سختی سے رد کرتا ہے اور عموماً اسے نقصان دہ، رجعت پسند یا سماجی طور پر خطرناک سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک مذہبی نظام انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے کیونکہ وہ انسان کو جہالت، تنازع اور تنقیدی سوچ سے جوڑتا ہے۔ 7یہی تصور اسے ایک مقابلہ آمیز اندازِ فکر اختیار کرنے پر آمادہ کرتا ہے، جس کا مقصد مذہبی اداروں کو چیلنج کرنا اور ماننے والوں کو عدمِ ایمان کی برتری پر قائل کرنا ہوتا ہے۔

عملی سطح پر بہت سے مخالفِ مذہب ملحد افراد خود کو ”نیو ایتھیسٹ“ تحریک کے ساتھ ہم آہنگ سمجھتے ہیں، جس کی نمائندگی کرسٹوفر ہچنز اور رچرڈ ڈاکنز جیسے لوگوں کی طرف سے کی جاتی ہے۔ یہ حلقہ مذہب کو صرف غلط ہی نہیں بلکہ معاشرے کے لیےعملی طور پر نقصان دہ قرار دیتا ہے۔ اگرچہ ان کی سرگرمی بظاہر فکری اور علمی دکھائی دیتی ہے، مگر اکثر اس میں جذباتی شدت اور تصادمی لب و لہجہ غالب ہوتا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد مذہب یا مذہب کے ماننے والوں کی اُن خامیوں اور "خطرات" کو بے نقاب کرنا ہوتا ہے جنہیں وہ حقیقت سمجھتے ہیں۔ اسی بنا پر یہ گروہ عدمِ ایمان کی اقسام میں سب سے زیادہ نمایاں، متنازع اور مذہب کے خلاف کھلے معاندانہ رویّے کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ 8

مخالفِ مذہب ملحد سے مکالمہ کرتے وقت جوابی جارحیت اختیار کرنے کے بجائے سکون، فکری دیانت اور اخلاقی اعتماد کے ساتھ بات کرنا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ ان کے سخت لہجے کا جواب سختی سے نہیں بلکہ اس انداز میں دیا جانا چاہیے کہ ایمان کو ایک معقول، اخلاقی اور زندگی کو سنوارنے والی حقیقت کے طور پر پیش کیا جائے ، جس کی تائید تاریخی شواہد اور عملی انسانی تجربات دونوں سے ہو۔ اسلام کی علمی خدمات، عدلِ اجتماعی میں اس کا کردار، اور انسانی فلاح و ارتقا ءکے لیے اس کی رہنمائی کو واضح کرتے ہوئے، اور عام غلط فہمیوں کا صبر اور حکمت سے ازالہ کرتے ہوئے گفتگو کو محض مناظرانہ کشمکش کے بجائے علمی اور معنوی سطح پر منتقل کیا جانا چاہئے۔ اس طرح ناقدین کے سامنے مذہب کو محض جامد عقیدہ نہیں بلکہ عقل، ترقی اور معنی کا ایک زندہ سرچشمہ بنا کر پیش کیا جانا چاہئے۔

نان تھیئسٹ (Non-Theist – NT)

غیر مذہبی ملحد یا نان تھیئسٹ فرد وہ ہوتا ہے جو مذہب سے بے نیازی پر ایمان رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک خدا، ایمان یا روحانیت جیسے سوالات اس کے عالمی تصور یا طرزِ زندگی کی تشکیل میں کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کرتے۔ وہ نا مذہبی دعوؤں کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ان کی مخالفت، بلکہ مذہب اس کی روزمرہ زندگی اور ذاتی شناخت کے لیے بڑی حد تک غیر متعلق ہوتا ہے۔ 9فکری ملحدین کے برعکس یہ فکری مناظروں میں دلچسپی نہیں لیتا، اور نا ہی متحرک ملحدین یا مخالفِ مذہب گروہوں کی طرح سماجی یا سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتا ہے۔ اس کا عدمِ ایمان بنیادی طور پر ایک خاموش اور غیر شعوری کیفیت ہوتی ہے ،یعنی شعوری رد کے بجائے محض عدمِ دلچسپی۔

یہی لاتعلقی نان تھیئسٹ کو غیر مذہبی طبقات میں غیر اہم بنا دیتی ہے کیونکہ وہ نہ کسی ملحدانہ تحریک سے وابستگی رکھتا ہے اور نا کسی سیکولر مقصد کے لیے سرگرم ہوتا ہے۔ اس کی سیکولر شناخت سادہ، عملی اور خاموش ہوتی ہے جو مذہب کی عدم موجودگی سے متعین ہوتی ہے نا کہ کسی نظریاتی مخالفت یا علمی مشغولیت سے۔ اس کے نزدیک زندگی کا نظم ماورائیت سے غیر متعلق ہوتا ہے، اور وہ اکثر مذہب اور الحاد دونوں کو اپنی ذاتی ترجیحات کے حاشیے میں رکھتا ہے۔ ایک اعتبار سے یہ عدمِ ایمان کی سب سے سادہ صورت ہے یعنی خدا کے بغیر زندگی گزارنا، نہ اس کے حق میں بحث کی ضرورت محسوس کرنا اور نا اس کے خلاف۔ 10

ایسے افراد سے مکالمہ عملی سطح پر زیادہ مؤثر ہوتا ہے، جہاں مذہب کی روزمرہ زندگی سے متعلق معنویت کو نمایاں کیا جائے۔ خاندان، اخلاقیات، سماجی ذمہ داری اور باہمی خیر خواہی جیسی مشترک اقدار گفتگو کے لیے قدرتی نقطۂ آغاز بن سکتی ہیں۔ جب یہ دکھایا جائے کہ مذہبی اخلاقیات خاموشی سے انہی اقدار کو تشکیل دیتی ہیں جن پر وہ پہلے ہی عمل کر رہے ہوتے ہیں، تو مذہب محض مابعد الطبیعی دعوؤں کے بجائے معنی، اقدار اور انسانی ربط کے ایک زندہ سرچشمے کے طور پر سامنے آتا ہے۔

ریچوئل ایتھیسٹ/اگناسٹک (Ritual Atheist / Agnostic – RAA)

رسمی ملحد، لاادریہ یا ریچوئل ایتھیسٹ/اگناسٹک وہ افراد ہوتے ہیں جو خدا یا الوہیت پر ایمان کو رد کرتے ہیں، لیکن مذہب سے وابستہ رسومات، روایات اور عملی مظاہر میں قدر اور معنویت محسوس کرتے ہیں۔ ان کی عبادات، مذہبی تقریبات، تہواروں میں شرکت، ایمان کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ ثقافتی وابستگی، اخلاقی ذوق یا فکری پسندیدگی سے جڑی ہوتی ہے۔ 11مثال کے طور پر وہ خاندانی ہم آہنگی کی خاطر مذہبی اجتماعات میں شریک ہو تے ہیں، ثقافتی شناخت کے طور پر تہوار مناتے ہیں، یا عبادت، مراقبہ، یوگا اور مشابہ اعمال کو ذاتی سکون یا اجتماعی فائدے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔

رسمی ملحد یا لاادریہ کے نزدیک رسومات، علامت، تسلسل اور مشترک شناخت کے ذریعے معنی پیدا کرتی ہیں، چاہے ان سے ماورائی تقدس نکال بھی دیا جائے۔ وہ مذہبی روایات کو ثقافتی ورثہ، اخلاقی فلسفہ یا جمالیاتی اظہار کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، اور اس پہلو کو سراہتے ہیں کہ یہ انسانوں کے درمیان ربط، اجتماعی ہم آہنگی اور باطنی غور و فکر کو فروغ دیتی ہیں۔ رسمی ملحد یا لاادریہ کھلے طور پر خود کو غیر مؤمن قرار دیتے ہیں، مگر اس کے ساتھ انسانی زندگی میں رسم اور روایت کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ 12

ایسے افراد سے مکالمہ ان کی رسوم اور ثقافتی ورثے سے وابستگی کے اعتراف سے شروع کیا جانا چاہیے۔ جب ان رسومات کو ان کی گہری روحانی بنیادوں سے جوڑا جائے تو یہ محض علامتی اعمال کے بجائے ماورائیت کی طرف رہنمائی کرنے والے راستے کے طور پر سامنے آ سکتی ہیں۔ اس طرح گفتگو ایک ایسے زاویے میں داخل ہوتی ہے جہاں ایمان کو ثقافت کا مخالف نہیں بلکہ اس کی دیرپا معنویت اور روحانی گہرائی کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔

مذکورہ ملحدین اور لاادریوں کی اقسام، فکری ملحد/ لاادریہ (IAA)، متحرک ملحد/لاادریہ (AAA)، متلاشی لاادریہ (SA)، مخالفِ مذہب ملحد (AT)، غیر مذہبی ملحد (NT)، اور رسمی ملحد/لاادریہ (RAA) ، معاصر معاشرے میں عدمِ ایمان کی فکری اور عملی اقسام کو نمایاں کرتی ہیں۔ ہر قسم کے علم، ثقافت اور معنی کے ساتھ مختلف نوعیت کا تعلق ظاہر کرتی ہیں۔ کہیں عقلی تحقیق اور علمی مکالمہ غالب ہے، کہیں سماجی سرگرمی اور جذبہ، کہیں بے نیازی اور لاتعلقی، اور کہیں رسوم و روایت کے ساتھ علامتی وابستگی۔ مجموعی طور پر یہ زاویے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ الحاد اور لاادریت کوئی یکساں یا جامد نظریہ نہیں بلکہ وجود کے بنیادی سوالات کے سامنے مختلف انسانی ردِّعمل کی صورتیں ہیں۔ تاہم یہ تمام درجہ بندیاں بالآخر صرف مسئلے کی نشاندہی کرتی ہیں، حل فراہم نہیں کرتی۔ یہ انسانی ذہن کی بے یقینی، مایوسی اور محض مرکزیتِ انسانی پر مبنی فکری نظاموں کی محدودیت کو ظاہر کرتی ہیں، مگر حتمی حقیقت تک پہنچنے کا کوئی جامع، غیر جانبدار اور ہم آہنگ راستہ فراہم نہیں کرتیں۔ عدمِ ایمان مذہب یا انسانی علم کی غلط تعبیرات اور غلط اطلاقات کی کمزوریوں کی تشخیص تو کر سکتا ہے، مگر وہ خود ان سوالات کے ماورائی اور حتمی جوابات مہیا نہیں کر پاتا جن پر وہ تنقید کرتا ہے۔ تاریخ اور انسانی تجربہ اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ اس تلاش کا پائیدار حل مذہب ہی میں پایا جاتا ہے، بشرطیکہ اسے اخلاص اور فکری دیانت کے ساتھ سمجھا جائے، کیونکہ وہ عقل کی ہم آہنگی بھی فراہم کرتا ہے اور روحانی تسکین بھی۔ چنانچہ حقیقی نجات نہ دائمی تشکیک میں ہے، نا محض سرگرمی یا رسمیت میں، بلکہ سچ کی اس مخلصانہ جستجو میں ہے جو بالآخر الٰہی ہدایت تک پہنچتی ہے، اور یہی رہنمائی اسلام میں اپنی کامل اور متوازن صورت میں دستیاب ہے۔


  • 1  Christopher F. Silver & Et. al (2014), The Six Types of Nonbelief: A Qualitative and Quantitative Study of Type and Narrative, Mental Health, Religion & Culture, Taylor & Francis, London, U.K., Vol. 17, Issue: 10, Pg. 993-994.
  • 2  مفتی یاسر ندیم الواجدی، تحافۃ الملاحدہ (مولف: محمد احمد نور والا)، غیر مطبوعہ، 2021م،ص: 16- 17
  • 3  ایضاً
  • 4  Christopher F. Silver & Et. al (2014), The Six Types of Nonbelief: A Qualitative and Quantitative Study of Type and Narrative, Mental Health, Religion & Culture, Taylor & Francis, London, U.K., Vol. 17, Issue: 10, Pg. 994.
  • 5  Lois Lee (2015), Recognizing the Non-Religious: Reimagining the Secular, Oxford University Press, Oxford, U.K., Pg. 163-165.
  • 6  Christopher F. Silver & Et. al (2014), The Six Types of Nonbelief: A Qualitative and Quantitative Study of Type and Narrative, Mental Health, Religion & Culture, Taylor & Francis, London, U.K., Vol. 17, Issue: 10, Pg. 994-995.
  • 7  Christopher Hitchens (2007), God is Not Great: How Religion Poisons Everything, Allen & Unwin, New York, USA, Pg. 9-13.
  • 8  Stephen Bullivant & Michael Ruse (2013), The Oxford Handbook of Atheism, Oxford University Press, Oxford, U.K., Pg. 217-219.
  • 9  Lori G. Beaman & Steven Tomlins (2015), Atheist Identities - Spaces and Social Contexts, Springer International Publishing, Switzerland, Vol. 2, Pg. 34.
  • 10  مفتی یاسر ندیم الواجدی، تحافۃ الملاحدہ (مولف: محمد احمد نور والا)، غیر مطبوعہ، 2021م،ص: 18
  • 11  Phil Zuckerman (2012), Faith No More: Why People Reject Religion, Oxford University Press, Oxford, U.K., Pg. 5.
  • 12  Christopher F. Silver & Et. al (2014), The Six Types of Nonbelief: A Qualitative and Quantitative Study of Type and Narrative, Mental Health, Religion & Culture, Taylor & Francis, London, U.K., Vol. 17, Issue: 10, Pg. 995-996.