encyclopedia

مذہب کی تحقیق و تقسیم – تعریف، اقسام، اسلامی تصور اور الحاد

Published on: 30-Dec-2025

مذہب کی لغوی و فکری اساس، اس کی اقسام اور اس کی تصوراتی ونظریاتی حدود کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ روایتی الحاد (Old Atheism) کی درجہ بندی اور اس سے متعلق امور ہمیشہ سے فکری و فلسفیانہ مباحث کا موضوع رہے ہیں۔ سیسرو(Cicero)، آگسٹین(Augustine)، ڈرکھائم(Durkheim) اور جان ہک(John Hick) جیسےمغربی مفکرین و فلسفیوں نے اس کو مختلف زاویوں سے بیان کیا ہے۔ کوئی اسے خدا سے عقیدت، کوئی مقدس ذات کے گرد منظم اجتماعی نظام، اور کوئی اسےانسان کی ذندگی کی حقیقی غرض و غایت قرار دیتا ہے۔ مغربی تناظر میں بالعموم مذہب کو عقائد و عبادات کے محدود مجموعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جب کہ اسلامی اصطلاح "الدِّین" ایک الہامی اور ہمہ گیر طرزِ حیات کو ظاہر کرتی ہے جو انسان کی فکری، اخلاقی، معاشرتی اور قانونی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔ مذہب کی اقسام میں الٰہی (Theistic) اور غیر الٰہی (Non-Theistic) تقسیم نمایاں ہیں، تاہم ایسے نظریات بھی موجود ہیں جو بظاہر مذہب نہیں ہیں مگر مذہبی نوعیت رکھتے ہیں۔ الحاد، اگرچہ عبادات، تقدس اور تصورِ ماورائیت جیسے مذہبی عناصر سے خالی ہے لیکن پھر بھی بعض اوقات مذہبی طرزِ عمل اختیار کر لیتا ہے ۔ حقیقی اعتبار سے یہ ایک ردِّعمل ہے جو خدائی تصور کے انکار پر قائم ہے اور سیکولر دنیا میں ضدِّ مذہب کے طور پر اپنا اظہار کرتا ہے۔ چنانچہ الحاد کو مذہب کے روایتی مفہوم میں شامل نہیں کیا جاتا لیکن شبہِ مذہب یا ضدِّ مذہب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مذہب کے لغوی و اصطلاحی معنی

لفظ مذہب لاطینی لفظ "Religio" سے ماخوذ ہے، 1 جس کے معنی "ضمیر کی پختگی، درست فہمی، اخلاقی ذمہ داری یا فرض" کے ہیں۔ 2سیسرو کے مطابق یہ لفظ relegare سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے "دوبارہ پڑھنا" یا "دوبارہ غور کرنا" ہے۔ پھر سیسرو نے اس کے مفہوم میں وسعت پیدا کی اور اس کو ان عبادات اور عقائد سے متعلق کیاجو خدا سے وابستہ ہیں۔ 3 آگسٹین نے بھی religio کو عبادت، عقیدہ، اخلاقیات اور خدا سے تعلق کے ساتھ جوڑا ہے۔ 4 مغرب کے مختلف اہلِ علم نے مذہب کی تعریف کے حوالہ سے مختلف آراء پیش کی ہیں، تاہم اس بات پر کم و بیش سب نے ہی اتفاق کیا ہے کہ تمام مذاہب خواہ وہ کامل ہوں یا ناقص احترام کے مستحق ہیں 5 تاہم یہ ایک علیحدہ بات ہے کے اسلام کے حوالے سے ان کا رویہ عموماً معاندانہ رہا ہے جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

مذہب کی تعریف بائبل کے تناظر میں

بائبل کے تناظر میں مذہب محض رسوم و عبادات پر مشتمل ایک نظام نہیں ہے بلکہ خدا کی اطاعت و بندگی پر مبنی ایک طرزِ زندگی ہے جو اخلاقی پاکیزگی، ہمدردی اور عدل کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔ عہد نامہ قدیم میں انگریزی لفظ religion کا کوئی براہِ راست متبادل موجود نہیں، بلکہ وہاں "Emunah" (ایمان داری و وفاداری)، 6 "Brit" (عہد و پیمان) 7 اور "Yirat Hashem" (خدا کا خوف و خشیت) 8 جیسے تصورات اور عقائد موجود ہیں جن میں مذہب سے مشابہ مفاہیم پائے جاتے ہیں ۔ عہدِنامہ جدید میں مذہب کا مفہوم زیادہ تر یونانی اصطلاحات "Threskeia" (ظاہری مذہبی عبادات یا رسومات) 9 اور "Eusebeia" (پرہیزگاری یا تقویٰ) 10 کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔تھریسکیا ( Threskeia) ظاہری عبادات و رسوم پر مبنی ہے جبکہ یوسیبیا (Eusebeia)خدا کے حضور باطنی عقیدت، خشوع اور اخلاقی طرزِ عمل پر دلالت کرتا ہے۔ ان دونوں اصطلاحات کے مجموعی مفہوم سے واضح ہوتا ہے کہ بائبل میں "مذہب"محض رسمی عبادات کا نام نہیں بلکہ خدا سے تعلق پر مبنی خلوصِ نیت، اخلاقی دیانت اور انسانیت کے ساتھ ہمدردی و خیرخواہی سے بھرپور طرزِ زندگی کا نام ہے۔

مغربی مفکرین کے مطابق مذہب کی تعریف

عمومی طور پر "مذہب" سے مراد ایک ایسی بالاتر اور ماورائی قوت کا اعتراف ہے جو کائنات کی خالق و نگران ہے۔ اس ہی نے انسان کو روحانی فطرت عطا کی ہےجو جسم کی محتاج نہیں۔ نہ اسے موت آتی ہے نا نیند اور اس کی اطاعت کرنا تمام انسانوں پر لازم ہے۔ تاہم، مغربی ماہرِ عمرانیات ایمیل ڈرخائم جس کی بات قطعی حجت اور سند تو نہیں لیکن مغربی طرز فکر کو ظاہر کرتی ہے، لکھتا ہے کہ کسی مذہب کو ماننے کے لئے ضروری نہیں کہ خدا جیسی ذات پر ایمان لایا جائے۔ اس کے مطابق مذہب ایک نظام کا نام ہے جو اُن عقائد اور اعمال پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں ایک جماعت "مقدس"سمجھتی ہے خواہ وہ اخلاقی اصول ہوں، علامتیں ہوں یا اجتماعی اقدار۔ اس تعریف کی رو سے مذہب کا مرکز "الٰہیاتی" پہلو سے ہٹ کر اس کے سماجی اور ثقافتی کردار کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جس کی بدولت غیر الٰہی یا لادینی نظام بھی مذہبی نوعیت کے حامل قرار دیے جاتے ہیں۔ 11

ہیبلیتھ ویٹ (Hebblethwaite) کے مطابق مذہب کو اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ انسان کے اس شعور اور ردِ عمل کا نام ہے جو وہ ظاہری دنیا سے ماورا کسی برتر طاقت یعنی خالق یا طاقتوں کے وجود کو محسوس کرتا ہے۔ ثانیا وہ اس بات پر بھی یقین رکھتا ہے کہ ان طاقت یا طاقتوں پر ایمان رکھنے سے اس کو دُکھوں سے نجات ملتی ہے۔ ساتھ ساتھ اس کوروحانیت اور اخلاقی تعلیم کے علاوہ زندگی کا کامل ترین معنی حاصل ہوتا ہے جو اس پر واضح کرتا ہے کہ زندگی موت پر ختم نہیں ہوتی اور موت کسی اندھیرے کا نام نہیں ہے۔ اس کے برعکس یہ موت کے بعد کے احوال بھی بیان کرتا ہے۔ مذہب کی ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ یہ ایک باطنی تجربہ ہے یعنی یہ وہ گہرا احساس ہے جو زندگی کے اعلی مقصد، حقیقی غایت اور ان اقدار و اصولوں کی پاسداری سے جڑا ہوا ہے جو زندگی کی رہنمائی کرتے ہیں۔گویا دوسرا نظریہ یہ واضح کرتا ہے کہ مذہب صرف ماورائی ہستی پر ایمان کا نام نہیں بلکہ اُس خلوص، وابستگی اور وفاداری کا بھی مظہر ہے جو انسان اپنے نظریات اور مقاصد کے لیے ظاہر کرتا ہے۔ اسی معنی میں بعض سیکولر نظریات جیسے کمیونزم، مارکسزم یا دیگر اِزمز بھی مذہبی خصوصیات کے حامل سمجھے جا سکتے ہیں، کیونکہ وہ انسانوں سے عقیدت، وفاداری اور ایک جامع فکری و اخلاقی نظام کی پیروی کا تقاضا کرتے ہیں۔ 12 تاہم پال ٹلچ (Paul Tillich) نے ایسے نظریات کے لئے quasi-religions یا pseudo-religions کے الفاظ استعمال کئے ہیں کس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مذہبی خصائل تو رکھتے ہیں مگر انہیں حقیقی مذہب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 13

جان ہک اور مذہبی تکثریت (Pluralism)

جان ہک (John Hick) نے مذاہبِ عالم کی تاریخ کے بارے میں ایک ایسا نظریہ پیش کیا جوتکثریت یا کثرتیت(Pluralism) پر مبنی ہے۔ 14 اس کے مطابق عیسائیت خدا تک پہنچنے کا واحد راستہ نہیں ہے بلکہ وہ انسان کے خدا سے تعلق کے کئی راستوں میں سے صرف ایک راستہ ہے۔ ہک کے مطابق تمام مذاہب خواہ وہ بظاہر ایک دوسرے سے کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں دراصل ایک ہی روحانی حقیقت کے ساتھ حقیقی رابطے کے مظاہر ہیں، جسے مختلف انداز میں خدا (God)، ابدی ہستی (The Eternal One)، حقیقتِ مطلقہ (Ultimate Reality)، ماورائی ذات(The Transcendent) یاالحقیقت(The Real) کہا جاتا ہے۔اپنے فکری ارتقا کے دوران ہک نے "The Real" کی اصطلاح کو "God" کی اصطلاح پر ترجیح دی تاکہ دونوں طرح کے مذہبی تصورات، الٰہی (Theistic) اور غیر الٰہی (Non-Theistic) کا احاطہ کرلے۔ 15

ہک کا کثرتیتی مفروضہ بظاہر مغربی مفکرین کے نزدیک پُرکشش ہے کیونکہ وہ کسی بھی مذہب کو رد نہیں کرتا اور تمام مذاہب کو "حقیقت اعلیٰ" تک پہنچنے کے مختلف مگر مساوی راستے قرار دیتا ہے۔ تاہم سالمون( Salamon) نے نشاندہی کی ہے کہ ہک کے نظریے کو مذاہب میں موجود متضاد عقائد کی صداقت کے مسئلے سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ہک کا یہ کہنا کہ ان اختلافات کی نوعیت محض سطحی و علامتی ہے، اس کے نظریے کو کمزور کر دیتا ہے کیونکہ اگر مذہبی عقائد کو محض علامتی سمجھ لیا جائے تو ان کی قضیّائی صداقت (Propositional Truth) مجروح ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ ہک کا یہ مفروضہ کہ تمام مذاہب کا مقصد نجات (soteriological goal) 16 ایک ہی ہے — یعنی انسان کو خود غرضی سے نکال کر حقیقت مرکزیت (Reality-centeredness) 17بنانا — بھی کافی قابلِ اعتراض ہے، کیونکہ مختلف مذاہب کے نجات کے تصورات یکساں نہیں۔ 18یوں ہک کا نظریہ اگرچہ ایک جامع اور ہم آہنگ تصور پیش کرتا ہے، مگر اس میں فکری تضاد اور عملی سطح پر ایمان کے حقیقی تجربات سے دوری پائی جاتی ہے۔

مذکورہ تفصیلات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ دنیا میں مذہب کی مختلف صورتیں موجود ہیں مثلاً الٰہیاتی(Theistic)،غیر الٰہیاتی(Non-Theistic)، شبہ مذاہب (Quasi-Religions) یا ظاہری مذاہب (Pseudo-Religions)البتہ حقیقی مذہب یا "الدِّین" جس کو اسلام پیش کرتا ہے وہ واحد اور منفرد نظریہ ہے جو دیگر مذاہب سے اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ وہ انسانیت کے اہم ترین سوالات کے کامل و جامع جوابات دیتا ہے، ایک ہمہ گیر فکری و اخلاقی نظام فراہم کرتا ہے، اور زندگی کے ہر پہلو میں واضح راہنمائی پیش کرتا ہے۔

اسلامی تصور مذہب: "الدّین"

عربی زبان میں لفظ "الدِّین" اطاعت، فرمانبرداری، اور کسی اصول یا ضابطۂ حیات کی پابندی کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ جزا و سزا یا بدلہ کے معنی میں بھی آتا ہے جیسا کہ سورۃ الفاتحہ میں استعمال ہوا ہے۔ 19 اسلامی اصطلاح میں "الدِّین" اس آخری اور مکمل خدائی پیغام و نظام کو کہا جاتا ہے 20جو رسول اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اس دنیا میں لے کر آئے اور انسانوں کو شعور کے ساتھ قبول کرنے کی دعوت دی۔ 21 اس دین کی بنیادی باتیں وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سابقہ انبیاءِ کرام Alaihmus Salam پر بھی وحی فرمائی تھیں لیکن اس پیغام کی تکمیل نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam پر ہوئی۔عصرِ حاضر میں "الدِّین" کا انگریزی ترجمہ "Religion" کیا جاتا ہے، مگر "الدین" کا مفہوم، جو قرآن و سنت میں موجود ہے انگریزی لفظ religion سے کہیں زیادہ وسیع تراور ہمہ گیر ہے۔ انگریزی میں "Religion" سے مراد فقط عقائد اور عبادات کا مجموعہ ہوتا ہے جبکہ اسلام میں "الدِّین" سے مرادایک مکمل خدائی ضابطۂ حیات ہے جو عقیدہ، عبادات، اخلاق، قانونی و معاشرتی نظام یعنی شریعت کے ساتھ ساتھ آخرت میں جواب دہی کے تصور کو بھی شامل کرتا ہے۔یوں اسلامی مفہوم میں "الدِّین" ایمانیات، قانون اور اخلاقیات کو ایک متحد وحدت میں سمو دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت و بندگی پر مبنی طرزِ حیات ہے۔ اس طرح "الدّین" مغربی تصورِ religion کی نسبت بہت زیادہ جامع اور ہمہ گیر اصطلاح ہے جو انسان کی تمام فکری و عملی جہتوں کو الہامی نظم کے تابع کرتی ہے۔

مذاہب کی اقسام

عمومی طور پر مذاہب کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: الٰہیاتی (Theistic) اور غیر الٰہیاتی (Non-Theistic)۔الٰہیاتی مذاہب وہ نظریات و عقائد ہیں جو ایک خدا یا متعدد خداؤں کے وجود کے قائل ہیں، جیسے اسلام، عیسائیت، یہودیت، سکھ مت، زرتشتیت، ہندو مت کی بعض شکلیں اور شِنٹو ازم وغیرہ۔اس کے برعکس، غیر الٰہیاتی مذاہب کسی خالق خدا کے وجود کے منکر ہوتے ہیں یا حقیقتِ مطلقہ کو غیر شخصی تصور کرتے ہیں، جیسے: بدھ مت، جین مت، فلسفیانہ داؤ مت، کنفیوشس ازم اور ہندو مت کے بعض مکتبۂ فکر مثلاً سانکھیہ (Sankhya) اور میمامسا (Mimamsa)۔چونکہ "الحاد"بذاتِ خود کوئی منظم مذہب نہیں بلکہ ایک غیر الٰہیاتی نظریہ ہے اس لیے اس کو تحقیقی مآخذات میں بالعموم الگ سے بیان کیا جاتا ہے۔

الٰہیاتی مذاہب (Theistic Religions)

الٰہیاتی مذاہب وہ مقدس ادیان ہیں جن میں ایک ماورائی اور برتر ہستی یعنی خدا کے وجود کا یقین، عقیدہ اور عمل،دونوں کی اساس قرار پاتا ہے۔تصور الٰہیات (Theism) اس عقیدہ کی نمائندگی کرتا ہے کہ خدا ہی وجود، اخلاقی نظم اور نجات کا ذریعہ ہے۔ الٰہی مذاہب میں انسان کی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داریاں انسان کے بنائے ہوئے تصورات و اصولوں کے بجائے خدا سے متعلق تعلیمات پر منحصر ہوتی ہیں ۔ 22 یوں، الٰہیاتی مذاہب میں مشترک عقیدہ یہ ہے کہ خدا کائنات کا خالق، پالنے والا اور عبادت کے لائق حقیقی معبودہے۔

اس سیاق و سباق میں تھیسٹ (Theist) وہ شخص ہوتا ہے جو خدا یا خداؤں کے وجود پر ایمان رکھتا ہے۔تاہم موجودہ مغربی مفکرین کے ہاں خود الٰہیات کے اندر بھی مختلف نظریاتی تقسیمات پائی جاتی ہیں جیسےپروسس تھیازم (Process Theism) جس کے معنی ہیں کہ خدا تغیر پذیر ہو سکتا ہے اور اوپن تھیازم ( Open Theism) یعنی خدا انسان کے آزاد اعمال پر مکمل اختیار نہیں رکھتا وغیرہ 23 جو کہ اسلامی تعلیمات کے تو خلاف ہیں مگر دیگر مذاہب میں اپنا وجود رکھتی ہیں۔

غیر الٰہیاتی مذاہب (Non-Theistic Religions)

غیر الٰہیاتی مذاہب میں خدا پر ایمان ان کے نظریۂ حیات کا مرکزی حصہ نہیں ہوتا۔ان میں بدھ مت اور ہندو مت کے بعض فلسفیانہ مکتبۂ فکر نمایاں ہیں جہاں توجہ کسی خالق یا خدا پر نہیں بلکہ نروان، دھرم یا غیر شخصی طور پر سمجھے جانے والے اعلیٰ حقائق پر مرکوز ہوتی ہے۔ان مذاہب میں اخلاقی اور روحانی مقاصد تو الٰہیاتی مذاہب سے مشابہ ہیں، لیکن ان کے ما بعد الطبیعی (Metaphysical) تصورات میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ کسی ذاتی یا شعوری خدا کے تصور کو رد یا کمزور کرتے ہیں۔مثلاً بدھ مت میں نجات (Soteriology) خالق کے ساتھ تعلق یا مغفرت کے بجائے دُکھ سے نجات اور روشن ضمیری (Enlightenment) کے حصول پر مبنی ہے۔ ہیبلیتھ ویٹ اس بات پر زور دیتا ہے کہ غیر الٰہیاتی مذاہب کے اس نقطۂ نظر کو تسلیم کرنا بین المذاہب فہم کے لیے نہایت ضروری ہے، تاہم وہ اس بات پر تنقید بھی کرتا ہے کہ اس میں خدا سے تعلق کا وہ پہلو مفقود ہے جو الٰہیات کو منفرد بناتا ہے۔ 24 یوں، الٰہیاتی اور غیر الٰہیاتی دونوں اقسام کے مذاہب انسان کی حیات، اخلاق اور انجامِ کار سے متعلق بنیادی سوالات کے جوابات فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ان کے طریقِ کار میں بنیادی فرق ہے۔جہاں غیر الٰہیاتی مذاہب جیسے بدھ مت یا ہندو مت کے بعض فلسفیانہ مکاتب غیر شخصی حقائق اور خود سے ماورائی طریقوں پر زور دیتے ہیں، وہیں الٰہیاتی مذاہب نجات کے تصور کو ایک شخصی، خالق و نجی خدا کے ساتھ تعلق میں دیکھتے ہیں جو پیدا کرتا ہے، پالتا ہے اور آخرکار نجات دیتا ہے۔

الحاد اور مذہب

الحاد کی درجہ بندی اِک طویل عرصےسے علمی مباحث کا موضوع رہی ہے۔ ماہرین کے مابین یہ سوال طویل عرصے سے زیرِ بحث رہا ہےکہ آیا الحاد کو مذہب سمجھا جائے، ضدِّ مذہب سمجھا جائے یا محض ایک فلسفیانہ موقف۔ حقائق و واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ الحاد اصل معنی میں کوئی مذہب نہیں ہے، تاہم سماجیاتی طور پر یہ بعض اوقات ایک شبہ مذہب یا ردِّ الٰہیات (Anti-Theism)پر مبنی طرزِ فکر کے طور پر کام کرتا ہے۔

الحاد اور مذہب: فکری سرحدیں

مشہور ماہرِ عمرانیات ایمیل ڈرخائم کے مطابق مذہب ایک مقدس شے سے متعلق عقائد اور اعمال کا نظام ہے جس کے تحت الحاد مذہب کی فہرست سے خارج ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ "مقدس"کے تصور ہی کو رد کرتا ہے۔ 25 تاہم اسٹینفورڈ انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی (Stanford Encyclopedia of Philosophy) میں مذہب کی تعریف کے تحت مذکور ہے کہ بدھ مت اور کنفیوشس ازم کے مطابق "خدا پر ایمان" مذہب کا لازمی جز نہیں۔ 26 اس بنا پر الحاد کو مذاہب کی فہرست سے کلیۃ خارج نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح اسٹیفن بُلیوینٹ (Stephen Bullivant) اور مائیکل روس (Michael Ruse) کے مطابق منظم الحادی جماعتیں بعض اوقات مذہبی انداز میں ہی سماجی ڈھانچے اپناتی ہیں جو کہ ان کے اجتماعات، اخلاقی ضابطے، اورسیکولر رسوم میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ ڈھانچے سماجی سطح پر مذہب جیسا کردار ہی ادا کرتے ہیں۔ 27

الحاد محض ایک ردِّ عمل

تاریخی طور پرالحادنے ہمیشہ غالب خدا پرست مذہبی روایتوں کے بالمقابل ایک ردِعمل کے طور پر ہی جنم لیا ہے۔ مارٹن (Martin) کے مطابق، الحاد بنیادی طور پر تھیسٹک ما بعد الطبیعیاتی دعوؤں کے انکار کے طور پر ابھرا ہے۔ 28اسی طرح، چارلس ٹیلر (Charles Taylor) نےالحاد کو جدید سیکولر دنیا کے امانینٹ فریم (Immanent Frame)29 کے اندر سمجھا ہے جہاں ماورائیت (Transcendence) کو شعوری طور پر رد کیا جاتا ہے۔ 30فریزر (Fraser) تو یہاں تک کہتا ہے کہ الحاد ایک پیرا سائیٹک (Parasitic) تصور ہے— یعنی اس کی شناخت اس چیز کے انکار پر قائم ہے جسے وہ رد کرتا ہے۔ 31 یوں الحاد بذاتِ خود کوئی خودمختار مذہب نہیں بلکہ الٰہیات کے مقابلے میں باغیانہ فکری نظام ہے جو تھیازم کے ساتھ جدلیاتی تعلق (Dialectical Relationship) میں وجود پاتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ الحاد کو کلی طور پر مذہب قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس میں نہ تو عبادات پائی جاتی ہیں، نہ تقدیس اور نہ ہی ماورائی ذات پر ایمان۔البتہ سماجیاتی لحاظ سے بعض اوقات یہ مذہب جیسا کردار ادا کرتا ہے، خصوصاً منظم الحادی یا انسانیت پسند تحریکوں میں۔حقیقتا الحاد ایک ردِّ الٰہیات پر مبنی موقف ہے — جس کا مفہوم اور وجود تھیازم کے انکار سے متعین ہوتا ہے۔یوں اسے مذہب مخالف (Counter-Religious) طرزِ فکر کہا جا سکتا ہے جو بسا اوقات مذہبی ساخت کے بعض پہلوؤں کو اپناتا ضرور ہے، مگر بذاتِ خود کوئی مذہب نہیں ہے۔


  • 1  Wilfred Cantwell Smith (1978), The Meaning and End of Religion, SPCK, London, U.K., Pg. 19.
  • 2  T. Lewis Charlton (1891), An Elementary Latin Dictionary, Harper & Brothers, New York, USA, Pg. 716.
  • 3  Cicero (1967), De Natura Deorum Academia (Translated by H. Rackham), Harvard University Press, London, U.K., Pg. 193.
  • 4  Boniface Ramsey (2005), The Works of Saint Augustine: A Translation for the 21st Century, New City Press, New York, USA, Pg. 20-22.
  • 5  F. Max Muller (1873), Introduction to the Science of Religion, Longman’s, Green & Co, London, U.K., Pg. 6.
  • 6  The Bible, Habakkuk 2: 4 (Orthodox Jewish Bible)
  • 7  The Bible, Exodus 19: 5 (Orthodox Jewish Bible)
  • 8  The Bible, Proverbs 1: 7 (Orthodox Jewish Bible)
  • 9  The Bible, Acts 26: 5 (Greek Interlinear Bible)
  • 10  The Bible, 1 Timothy 4: 8 (Greek Interlinear Bible)
  • 11  Emile Durkheim (1995), The Elementary Forms of Religious Life (Translated by Karen E. Fields), The Free Press, New York, USA, Pg. 27-33.
  • 12  Brian Hebblethwaite (1989), The Ocean of Truth, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 116.
  • 13  Paul Tillich (1969), Christianity and the Encounter of World Religions, Columbia University Press, New York, USA, Pg. 5.
  • 14  ریلیٹوزم ایک فکری نظریہ ہے جس کے مطابق سچائی، اخلاقیات، اور اقدار مطلق (absolute) نہیں ہوتیں بلکہ ان کا انحصار نقطۂ نظر، ثقافت، یا فرد کے ذاتی موقف پر ہوتا ہے۔ اس تصور کے تحت یہ ممکن ہے کہ ایک معاشرے یا شخص کے نزدیک جو چیز درست، غلط یا سچی سمجھی جاتی ہے، وہ کسی دوسرے کے نزدیک مختلف ہو۔ یوں، ریلیٹوزم کسی ایسی آفاقی یا عالمی معیار (universal standard) کو تسلیم نہیں کرتا جو تمام انسانوں پر یکساں طور پر لاگو ہو۔
  • 15  John Hick (2004), An Interpretation of Religion: Human Responses to the Transcendent, Palgrave Macmillan, New York, USA, Pg. 233-236.
  • 16  "سوتیریولوجیکل" (Soteriological) سے مراد نجات یا خلاصی سے متعلق تصورات ہیں۔ یہ اصطلاح اس بات کی وضاحت کے لیے استعمال ہوتی ہے کہ مختلف مذاہب یا فلسفیانہ نظام انسان کے نجات پانے، آزادی حاصل کرنے یا آخری کمال تک پہنچنے کے طریقے کو کس طرح بیان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، عیسائیت میں ابدی زندگی (Eternal Life)، اسلام میں نجات، اور ہندو مت و بدھ مت میں موکشا (Moksha) یا نروان (Nirvana) ایسے ہی سوتیریولوجیکل تصورات ہیں جو انسان کی آخری کامیابی اور روحانی تکمیل کی راہ کو واضح کرتے ہیں۔
  • 17  انسان کی سوچ، عقیدہ، اور عمل کا محور حقیقت ہو، نہ کہ خواہش، مفاد، یا محض احساسات۔
  • 18  Janusz Salamon (2003), John Hick's Philosophy of Religious Pluralism - A Critical Examination, Forum Philosophicum, Krakow, Poland, Vol. 8, Pg. 167-182.
  • 19  أبو الفضل محمد بن مكرم ابن منظور الإفریقی، لسان العرب، ج-13، مطبوعۃ: دار صادر، بیروت، لبنان، 1414ھ، ص: 169
  • 20  القرآن، سورۃ المائدہ 5: 3
  • 21  علی بن محمد بن علی الشريف الجرجانی، کتاب التعریفات، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1983م، ص: 105
  • 22  Brian Hebblethwaite (1989), The Ocean of Truth, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 30.
  • 23  Joseph W. Koterski & Graham Oppy (2019), Theism and Atheism: Opposing Arguments in Philosophy, Gale, New York, USA, Pg. 1-2.
  • 24  Brian Hebblethwaite (1989), The Ocean of Truth, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 32-33.
  • 25  Emile Durkheim (1995), The Elementary Forms of Religious Life (Translated by Karen E. Fields), The Free Press, New York, USA, Pg. 44.
  • 26  Stanford Encyclopedia of Philosophy (Online): https://plato.stanford.edu/entries/concept-religion/: 18-08-2025
  • 27  Stephen Bullivant & Michael Ruse (2013), Atheism, Oxford University Press, Oxford, U.K., Pg. 26-30.
  • 28  Michael Martin (2007), The Cambridge Companion to Atheism, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 29.
  • 29  "امانینٹ فریم" ایک فکری اور ثقافتی ذہنیت ہے جو جدید سیکولر معاشروں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے تحت دنیا کو سمجھنے کا بنیادی طریقہhuman-centered ہوتا ہے جس میں انسان کو مرکزیت حاصل ہو تی ہے اور خدا، ماورائیت یا ما فوق الفطرت عناصر کا حوالہ شامل نہیں ہوتا۔ یہ تصور لوگوں کو لازمی طور پر ملحد بننے پر مجبور نہیں کرتا، بلکہ ایک ایسا مشترکہ فکری ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جس میں ایمان اور الحاد، دونوں کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ تاہم، حقیقت کو سمجھنے اور اس کی توجیہ کرنے کا عمومی طریقہ، اسی سانچے کے اندر رہتے ہوئے، فطری اور دنیاوی حدود میں مقید ہوتا ہے۔
  • 30  Charles Taylor (2007), A Secular Age, The Belknap Press of Harvard University Press, London, U.K., Pg. 543.
  • 31  Liam Jerrold Fraser (2018), Atheism, Fundamentalism and the Protestant Reformation, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 7.

Powered by Netsol Online