encyclopedia

مذہب کی اہمیت و کردار

Published on: 07-Jan-2026

مذہب ہمیشہ سے انسانی تاریخ، معاشرت اور فکریات کا بنیادی ستون رہا ہے جو فرد کو ذندگی کےمعنی، اخلاقی سمت، ذہنی سکون اور نجات کی امید فراہم کرتا ہے اور معاشروں کو اخلاقی رشتوں، قوانین اور تہذیبی بنیادوں کے ذریعہ جوڑے رکھتا ہے۔ جدید دور میں جب اثباتیت (Positivism)، سیکولر عقلیت (Secular Rationality) اور مادّی نظریات نے الہیات(Theology) کو غیر اہم قرار دیا، اور مابعد جدیدیت (Postmodernism) نے سچائی کو نسبتی (Relative) بنا کر فکری انتشار پیدا کیا، تب بھی مذہب انسانی مقصد، حقیقت اور اخروی انجام کے سوالات کا جواب دینے میں سب سے معتبر حوالہ رہا۔ اسلام اس تناظر میں ایک متوازن فکری و عملی نظام پیش کرتا ہے جو سچائی کے واضح تصور کے ساتھ انسانی محدودیت کا اعتراف بھی کرتا ہے، اور وحی کی روشنی میں اخلاقی رہنمائی اور عقل کے ذریعے غوروفکر، دونوں کو یکجا کرتا ہے۔ اس میں روحانی وابستگی اور عقلی جستجو ایک دوسرے کے مددگار بن کر انسان کی باطنی نشوونما اور سماجی ذمہ داری کو استحکام بخشتے ہیں۔ عصرِ حاضر کی عالمی اور کثیرالثقافتی دنیا (Pluralistic World) میں اسلام توحید کے عقیدے میں استقامت کے ساتھ ساتھ بین المذاہب احترام اور مکالمے کے لیے بھی کشادگی رکھتا ہے، یوں وہ فرد اور معاشرے کے مادی و روحانی تقاضوں کو ہم آہنگ کرنے والا جامع اندازِ زندگی فراہم کرتا ہے۔ مذہب کی یہی ہمہ جہتی افادیت اسے، جدید (Modern)، مابعد جدید (Postmodern) اور میٹاماڈرن(Metamodern) سمیت ہر دور میں، انسان کی لازمی ضرورت کے طور پر برقرار رکھتی ہے۔

مذہب: ماقبلِ نشاۃِ ثانیہ سے دورِ میٹاموڈرن تک

مذہب ہمیشہ سے انسان کے لئے مرکزی حیثیت رکھتا آیا ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک مذہب الوہی ذات سے عقیدت کا نام ہے اور دیگر افراد اسے زندگی گزارنے کا طریقہ، اخلاقی راہنما یا ایک اجتماعی شناخت سمجھتے ہیں۔ قدیم رومی فلسفی سیسرو (Cicero) نے مذہب کا تعلق ماورائی قوتوں سے جوڑا ہے۔ 1 پھر آگسٹین (Augustine) نے اس نظریہ کو آگے بڑھاتے ہوئے مذہب کو یوں بیان کیا ہے کہ یہ انسان کی روح کو خدا کے ساتھ باندھنے والا رشتہ ہے اور یہی وابستگی انسان کو حتمی سکون بخشتی ہے۔ 2 جدید سماجیات علوم میں ایمیل ڈرخائم (Emile Durkheim) نے مذہب کو "مقدس اشیاء" سے متعلق عقائد و اعمال کا ایک متحد نظام قرار دیا ہے جو سماجی قوت بن کر یکجہتی اور اجتماعی ضمیر پیدا کرتاہے۔

تاہم جدید اور مابعد جدید دنیا میں مذہب کا نظریہ اور مقام شدید بحث و نزاع کا شکار رہا ہے۔ سیکولرائزیشن کے نظریہ سازوں نے پیشگوئی کی تھی کہ مذہبی عقائد بتدریج زوال پذیر ہو جائیں گے اور سائنس و عقل پسندی ایمان کو فرسودہ کر دیں گی لیکن اس کے برعکس دیکھا یہ گیا کہ مذہب نہ صرف باقی رہا بلکہ بعض پہلوؤں میں پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ہو گیا، اور اس نے عالمگیریت (globalization) اور نئے ثقافتی منظرناموں کے ساتھ خود کو ڈھال لیا۔ 3 مزید برآں، میروسلاو وولف (Miroslav Volf) کا کہنا ہے کہ عالمی مذاہب محض گلوبلائزیشن کا ردِ عمل نہیں بلکہ شناخت، اخلاقی بصیرت اور انسانی فلاح و بہبود کے لازمی محرک ہیں اور یوں تکثریت (Pluralism) اور سیکولر نقطۂ نظر کے دور میں بھی ناگزیر حیثیت و اہمیت رکھتے ہیں۔ 4

آج کا فکری ماحول، جو مابعد جدیدیت (Post modernism) سے آگے بڑھ کر 'میٹاماڈرن' (Meta Modern) عہد میں داخل ہو چکا ہے۔ میٹا ماڈرن ایک ایسا نظریہ ہے جو جدیدیت کے یقین، امید اور جوش کے ساتھ ساتھ پوسٹ ماڈرن دور کی طنزیہ نگاہ، شکوک اور تنقیدی رویّے کے درمیان مسلسل اُتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ یعنی انسان نہ تو محض جدید یقین میں ٹھہرتا ہے اور نہ ہی مکمل پوسٹ ماڈرن انکار میں؛ بلکہ دونوں کے بیچ جھولتے ہوئے ایک ایسا رویہ اختیار کرتا ہے جس میں امید بھی ہے، تذبذب بھی، تعمیر کا جذبہ بھی ہے اور خود تنقیدی کی گنجائش بھی۔ 5 میٹا ماڈرن ازم کو سادہ الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ایسا فکری رجحان ہے جو بڑی نظریاتی بیانیوں اور قطعی سچائیوں پر شدید شک کرتا ہے، یعنی یہ ہر اُس دعوے سے محتاط رہتا ہے جو اپنے آپ کو حتمی یا آفاقی سچ کہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ رجحان حقیقت کو نسبتی / اضافی (relativistic) انداز میں دیکھتا ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ اسی شُبے اور نسبتیت / اضافیت کے ماحول میں انسان کے اندر پھر بھی معنی، مقصد، روحانیت، اور کسی مضبوط سہارے یا جڑ سے جڑنے کی خواہش موجود رہتی ہے۔ یوں میٹا ماڈرن ازم شک اور تلاش، دونوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے— نہ مکمل انکار، نہ مکمل ایمان؛ بلکہ مسلسل جھول، سوال اور امید کا ملا جلا سفر۔

ایسے پیچیدہ میٹاموڈرن پس منظر میں بھی ڈیوڈ رے گرفن (David Ray Griffin) کی رائے آج بھی متعلق (relevant) ہے۔ اس کے نزدیک مابعد جدید (postmodern) الہیات دراصل اُس عدمِ اطمینان سے جنم لیتی ہے جو ایک طرف جدیدیت کی سخت عقلیت (rigid rationalism) سے ہے، اور دوسری طرف اس ادھورے اور سطحی نستبیت پسندی (shallow relativism) سے۔ اسی لیے وہ ایسی فکری تعمیر کی دعوت دیتے ہیں جو مذہب کے ساتھ تعمیری مکالمہ کرے، ایسا مکالمہ جو نہ سائنس کا انکار کرتا ہو اور نہ ایمان کو بے وقعت سمجھتا ہو۔ 6

اسی طرح پال ہائیبرٹ (Paul Hiebert) بھی معرفت کے اُن تغیرات کی طرف اشارہ کرتا ہے جو مثبتّیت (positivism) کے دعوؤں اور مابعد جدیدیت کے نہلزم (nihilism)، دونوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ تنقیدی حقیقت پسندی (critical realism) کو بطور راستہ تجویز کرتا ہے—ایک ایسا طریقۂ فکر جو سچائی کے وجود کو مانتا ہے، مگر ساتھ یہ بھی سمجھتا ہے کہ انسان کی ثقافتی حدود اور علمی کمزوریاں بھی حقیقت کے فہم پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ 7 یوں مذہب آج بھی ایک ناگزیر کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ یہ انسانی نظریۂ حیات کو معنی اور ماورائی جہتیں فراہم کرتا ہے جن کے بغیر کوئی بھی عالمی نقطۂ نظر نامکمل رہ جاتا ہے۔

مذہب کا اجتماعی کردار

مذہب، محض انفرادی عقیدے کا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ تاریخ میں ہمیشہ انسانی اجتماعی زندگی کو تشکیل دینے والی فیصلہ کُن قوتوں میں سے ایک رہا ہے۔ یہ ایک مرکزی دھاگے کی طرح کام کرتا ہے جو افراد کو اخلاقی برادریوں میں پروتا ہے، سماجی نظم قائم کرتا ہے اور وہ اخلاقی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جس پر تہذیبوں کی بنیاد اٹھائی گئی ہے۔ دنیا کے بڑے مذاہب انسانیت کو خدا کے زیرِ سایہ ایک کنبہ قرار دیتے ہوئے مذہب کے اسی اجتماعی پہلو کی تصدیق کرتے ہیں۔ یوں مذہب بطور سماجی گوند، انسانی تہذیب کی بنیاد، ترقیٔ تہذیب کا محرک اور عالمگیریت کا عامل جیسے عنوانات دراصل ایک ہی ابدی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں یعنی مذہب ہمیشہ انسانی زندگی کو، چاہے وہ معاشرتی ہو یا تہذیبی، تشکیل دینے اور قائم رکھنے میں مرکزی مقام کا حامل رہا ہے۔

مذہب: معاشرے کو جوڑنے والی قوت

ابتدائی انسانی معاشروں سے ہی مذہب وہ قوت رہا ہے جو لوگوں کو ایک اجتماعی وحدت میں باندھتا ہے۔ فرانسیسی سماجی مفکر ایمیل ڈرخائم جو علمِ عمرانیات کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے، اس کا مؤقف بھی یہی ہے کہ مذہب بنیادی طور پر سماجی گوند (Social Glue) کا کردار ادا کرتا ہے۔ اپنی معروف کتاب The Elementary Forms of the Religious Life میں وہ مذہب کومقدس چیزوں سے متعلق عقائد و اعمال کا ایک مربوط نظام قرار دیتا ہے جس کے ذریعے افراد ایک اخلاقی برادری میں جُڑ جاتے ہیں۔ 8 اس معنی میں رسوم و عبادات وہ اجتماعی مشقیں قرار پاتی ہیں جو سماجی ہم آہنگی اور یکجہتی کو مضبوط کرتی ہیں۔ مذہب نجی جذبات کو اجتماعی اظہار میں ڈھال کر اتحاد اور وابستگی کا احساس پیدا کرتا ہے جو معاشروں کو ٹوٹ پھوٹ یا انتشار (anomie) کا شکار ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔ 9

حالیہ دور میں میروسلاو وولف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمگیریت کے زمانے میں بھی مذاہب معاشروں کو تسلسل کے ساتھ "خوشحال زندگی کا تصور" فراہم کرتے ہیں، یعنی ایسی اخلاقی قوتیں مہیا کرتے ہیں جن کے ذریعے ثقافتی اور قومی سرحدوں سے ماورا یکجہتی قائم رہ سکتی ہے۔ 10 یوں مذہب نہ صرف قدیم معاشروں کو باندھنے والی قوت تھی بلکہ یہ آج کی جدید اور عالمی سطح پر جڑے ہوئے معاشروں کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، مذہب صرف مافوق الفطری ہستیوں پر عقیدے کا نام نہیں بلکہ ایک سماجی قوت ہے جو لوگوں کو بامعنی برادریوں میں جوڑے رکھتی ہے۔

اس کی عملی مثالیں دنیا کے دو سب سے بڑے مذاہب یعنی عیسائیت اور اسلام میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ عیسائیت میں یہ تعلیم کہ تمام انسانوں کو خدا نے اپنی صورت پر پیدا کیا ہے 11 اور یہ کہ خدا نے "ایک انسان سے تمام قوموں کو بنایا" 12 انسانی مساوات اور مشترکہ وقار کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس تعلیم کا عملی اظہار ابتدائی کلیسا میں یوں ہوا کہ یہودی و غیرِ یہودی اور امیر و غریب سب مسیح میں ایک کر دیے گئے۔ 13اسی طرح مشترکہ کھانوں اور دعوتوں میں شرکت اور بیواؤں و یتیموں کی خبرگیری کے ذریعے بھی اس اخوت کو تقویت دی گئی۔ 14

اسی طرح اسلام بھی انسانوں کی وحدت کو نظری اور عملی دونوں سطحوں پر مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ قرآن واضح طور پر بتاتا ہے کہ تمام انسان آدم اور حوّا Alaihmas Salam کی اولاد ہیں، 15 اور عزت و برتری کا معیار نہ رنگ و نسل ہے، نہ مال و زر بلکہ تقویٰ ہے۔ 16 یہ تعلیم انسانیت کی یکسانیت اور مساویت کو براہِ راست مضبوط کرتی ہے۔اسلام اس وحدت کو صرف اصولی طور پر بیان نہیں کرتا بلکہ روزمرہ زندگی میں قابلِ مشاہدہ اداروں کے ذریعے عملی صورت دیتا ہے۔ روزانہ کی باجماعت نماز میں سب مسلمان چاہےامیر ہوں یا غریب، حکمران ہوں یا مزدور، ایک ہی صف میں، کندھے سے کندھا ملا کر برابری کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں۔ حج میں یہ برابری اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ لاکھوں مسلمان ایک ہی لباس (احرام) میں، ایک ہی میدان میں، ایک ہی ارادے سے جمع ہوتسے ہیں، جہاں نسل، قومیت، زبان اور معاشرتی مرتبے کی تمام تفریق مٹ جاتی ہے۔یوں اسلام میں وحدتِ انسانی کوئی مجرد نظریہ نہیں، بلکہ ایک زندہ، تجرباتی حقیقت ہے جو عبادات اور اجتماعی شعائر کے ذریعے مسلسل قائم رہتی ہے۔ اخوت کے حوالہ سےقرآن مجید اعلان کرتا ہے:

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ 1017
بات یہی ہے کہ (سب) اہلِ ایمان (آپس میں) بھائی ہیں۔ سو تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

اس آیت میں زور دیا گیا ہے کہ ایمان کا رشتہ قبیلہ یا نسل سے بالاتر ہو کر ایک اخوت قائم کرتا ہے۔ نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے بھی اس تصور کو مضبوط کرتے ہوئے فرمایا:

ترى المؤمنين: في تراحمهم، وتوادهم، وتعاطفهم، كمثل الجسد، إذا اشتكى عضوا، تداعى له سائر جسده بالسهر والحمى. 18
تم مومنوں کو آپس کی رحمدلی، محبت اور ہمدردی میں ایک جسم دیکھوگے؛ جب اس جسم کے کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار کے ساتھ اس کی تکلیف میں شریک ہو جاتا ہے۔

ابتدائی مسلم مفکرین نے بھی معاشرے میں مذہب کی اسی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے:

واعلموا أن الملك والدين أخوان توأمان. لا قوام لأحدهما إلا بصاحبه، لأن الدين أس الملك وعماده، وصار الملك بعد حارس الدين، فلا بد للملك من أسه، ولا بد للدين من حارسه، فإن ما لا حارس له ضائع، وإن مالا أس له مهدوم. 19
اور جان لو کہ حکومت اور دین دو جڑواں بھائی ہیں؛ ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ دین حکومت کی بنیاد اور ستون ہے اور حکومت دین کی محافظ۔ اس لیے حکومت اپنی بنیاد کے بغیر بےسہارا ہے اور دین اپنے محافظ کے بغیر غیرمحفوظ؛ چنانچہ جس کا کوئی محافظ نہ ہو وہ کھو جاتا ہے اور جس کی بنیاد نہ ہو وہ ڈھے جاتا ہے۔

مذکورہ عبارات میں مذہب اور اقتدار کے باہمی انحصار و ربط کا گہرا شعور نظر آتا ہے۔ مذہب سیاسی اقتدار کو اخلاقی بنیاد اور مشترکہ اقدار فراہم کرتا ہے جن سے اس کی حاکمیت کو جواز ملتا ہے جبکہ حکومت معاشرے کے دائرے میں مذہب کی حفاظت اور سرپرستی کرتی ہے۔ ایسی اخلاقی بنیاد کے بغیر سیاسی طاقت ظلم یا استبداد میں تبدیل ہو سکتی ہے، اور ادارہ جاتی سرپرستی کے بغیر مذہب کے بکھر جانے یا پسماندگی میں چلے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ باہمی تعلق سماجی گوند کی ایک شکل میں کام کرتا ہے، یعنی مذہب انصاف اور مقصد کا ایک متحدہ نظریہ مہیا کرتا ہے اور سیاسی اختیار اسے معاشرتی نظم و قانون میں عملی شکل دیتا ہے۔ ڈرخائم کے الفاظ میں، مذہب نجی عقائد کو اجتماعی اظہار میں ڈھال دیتا ہے، جس سے معاشرتی ہم آہنگی اور یکجہتی جنم لیتی ہے اور یوں معاشرے انفرادیت یا انتشار میں مبتلاء ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ اس طرح مذہب اور سیاسی اقتدار کی شراکت افراد کو ایک مشترکہ اخلاقی جماعت میں باندھ دیتی ہے اور روحانی و دنیوی دونوں اعتبار سے استحکام کو یقینی بناتی ہے۔ یعنی مذہب کوئی الگ تھلگ روحانی مشغلہ نہیں بلکہ وہ جوڑنے والی قوت ہے جو افراد کو امت کی شکل میں متحد کرتی ہے، ایک ایسی اخلاقی برادری میں جو خدا کی ہدایت کے زیرِ سایہ یکجا ہوتی ہے۔ اسلامی روایت میں بھی مذہب کو سماج کی شیرازہ بندی کی قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو معاشرے کے اخلاقی تانے بانے اور اجتماعی یکجہتی دونوں کو تشکیل دیتا ہے۔

مذہب: انسانی تہذیب کی بنیاد

انسان فطرتاً سماجی مخلوق ہے مگر اس کے اندر خود غرضی، حرص اور مقابلہ بازی بھی پائی جاتی ہے۔ اگر اس کو بے قابو چھوڑدیا جائے تو معاشرہ فساد، ٹکراؤ اور تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ قدیم مفکر آگسٹین نے انسان کو "طبعاً سماجی مگر بگاڑ کے باعث ضدِّ اجتماعی" قرار دیا ہے، اور علمائے اسلام نے بھی یہی واضح کیا ہے کہ بے لگام انسان کی زندگی "مختصر، درندہ صفت اور تباہ کن" ہوجاتی ہے۔ مگر ہابز (Hobbs) کے مطابق انسانی عقل خود اخلاقیات کے اصول وضع کرسکتی ہے جس کو دوسرے انسانوں پر نافذ کیا جاسکتا ہے لیکن اسلام کی تعلیمات اس نظریہ کو مسترد کرتی ہیں کیونکہ قرآنی تعلیمات کے مطابق کوئی انسان کسی دوسرے پر اپنی طرف سے اخلاقی یا قانونی ذمہ داری عائد نہیں کرسکتا۔ حقیقی قانون اور اخلاق صرف اللہ کی جناب سے وحی کی صورت میں اس کے پیغمبروں پر نازل ہوتا ہے۔ اسی لیے وحی ناگزیر ہے، یہ انسان کو وہ حکمت دیتی ہے جو اس کے پاس نہیں اور جنت و جہنم کی طاقتور بشارت و وعید سےسرکش خواہشات کو روکتی ہے۔ مزید یہ کہ انبیاء Alaihmus Salam تہذیب کے بانی تھے، جنہوں نے انسانیت کوجینے کا ڈھنگ، تمدن اور اخلاقی نظم سکھایا۔ وحی کے بغیر انسان وقتی مفادات کے مطابق قوانین تو بنا سکتا ہے مگر ان قوانین کے تحت نہ ہی انسان کو حقیقی اخلاق پر عمل کروایا جاسکتا ہے نا ہی آخرت میں نجات اور دنیا میں راحت، کیونکہ انسان کے بس میں ہی نہیں کہ وہ ایسے عالمگیر قوانین مرتب کرسکے جس سے یہ ممکن ہوسکے۔ ثانیا کوئی عمل فی نفسہٖ اچھا یا برا نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہی اس کے تعین کا معیار ہے نہ کہ انسان کی عقل۔ اسی لیے مذہب کوئی ثقافتی اضافہ نہیں بلکہ سماجی نظم، اخلاقی زندگی اور انسانی بقا کی بنیادی شرط ہے؛ اور جب الہامی ہدایت ہٹا دی جائے تو انسانیت اخلاقی اور معاشرتی طور پر بکھر جاتی ہے۔ 20

مذہب اور تہذیب کی تعمیر

مذہب نے نہ صرف گروہوں کو باہم باندھ کر رکھا بلکہ یہ تہذیب کی محرک قوت کے طور پر بھی ثابت ہوا ہے۔ تقریباً ہر بڑی تہذیب نے اپنے ادارے، قوانین اور ثقافتی اقدار کسی نہ کسی مذہبی سانچے سے اخذ کیے ہیں۔ قدیم مصر، 21 ہندوستان 22 اور چین 23 میں سیاسی اقتدار مقدس کائناتی تصورات یعنی مذہب کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ یورپ میں عیسائیت نے یہ کردار یوں ادا کیا کہ قرونِ وسطیٰ کی تہذیب کو اخلاقی اور فکری بنیادیں فراہم کیں۔ آگسٹین اس بات پر زور دیتا ہے کہ حقیقی مذہب عبادت، عقیدہ اور اخلاق کو یکجا کرتا ہے اور اسی وجہ سے وہ عیسائیت کو فلسفے کی معقول تکمیل کے طور پر پیش کرتا تھا۔ اس تصور نے عملی شکل اس وقت اختیارکی جب اس کے زیرِ اثر گِرجا گھروں سے ملحق مدرسے قائم ہوئے اور آگے چل کر جامعات وجود میں آئیں — یہی ادارے علم، سائنس اور مسیحی ثقافتی فلسفے کو پروان چڑھاتے رہے کیونکہ ان کا ایمان تھا کہ خدائی مشیّت سچائی اور دانائی کی طرف لے جاتی ہے۔ 24

اسلامی تہذیب مذہب کو ایك برتر تہذیبی محرک کے طور پر پیش کرتی ہے۔ 25 خلافتِ راشدہ کے دور سے ہی قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ نے ایک ہمہ جہتی ڈهانچہ فراہم کیا جس نے سیاست، قانون، اخلاق اور روحانیت کو ایک مربوط نظام میں پرو دیا۔ 26 دیگر تہذیبوں کے برعکس جہاں مذہب اور عقل میں اکثر کھچاؤ رہا، اسلام نے عقلی جستجو کو وحی کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا، 27 جس سے ایک ایسا معاشرتی نظام تشکیل پایا جہاں عدل، 28 شوریٰ (مشاورت) 29 اور حصولِ علم 30 بیک وقت دینی و دنیاوی فرائض بن گئے۔ 31 یہ امتزاج خلافتِ عباسیہ کے تحت اپنے عروج کو پہنچا، جب بغداد میں ”بیت الحکمہ“ جیسے ادارے ترجمہ، تحریر اور علمی تحقیق کے مراکز بن گئے۔ یہ بات مسلم دانش وروں نے اپنے کام سے ثابت کی کہ ایمان اور علم میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ کائنات اور اس سے متعلقہ امور کے حوالے سے تفکر اور تدبر کرنا خود ایمان کا حصّہ ہے۔ مثلاً جَزَری نے میکانکس میں، اثیرالدین اَبہری، مؤيد الدين العرضی اور نصیرالدین طوسی نے منطق، ریاضی اور فلکیات میں، شمس الدین الخفری نے بصریات میں، کمال الدین الفارسی نے ادویات سازی میں، اور ابن النفیس نے طب میں جو غیر معمولی ترقی کی، وہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ اسلام عقل کے استعمال، تحقیق اور کائنات میں غور و فکر کو عبادت کا درجہ دیتا ہے۔ یوں علم کی تلاش مسلمانوں میں محض ایک دلچسپی نہیں بلکہ دینی فریضہ رہی ہے۔ 32 یوں اسلام نے ایمان کو ایک متحرک تہذیبی قوت میں ڈھال دیا، جہاں وحی روحانی زندگی اور سائنسی ترقی دونوں کا سرچشمہ بن گئی۔

مذہب کا اثر جدید دور میں بھی، جب سیکولر قوم پرستی نے مذہبی وابستگیوں کی جگہ لینے کی کوشش کی ہے، تہذیبوں، قانونی ڈھانچوں اور اجتماعی شناختوں کی تشکیل میں برقرار ہے۔ پال ہائبَرٹ کے مطابق روایت، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی گہری لہریں آج بھی باہم ٹکراتی ہیں جبکہ مذہب کو کسی معمولی قوت کے طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا؛ یہ بدستور انسانوں کے فکری و ثقافتی زاویوں، ان کی خودی، اور ان کے عالمی تصور کو فیصلہ کن انداز میں تشکیل دیتا ہے۔ 33

مذہب اور عالمگیریت

موجودہ دنیامیں بھی مذاہب نہ صرف باقی ہیں بلکہ عالمی کردار ادا کر رہے ہیں۔ میروسلاو وولف کا استدلال ہے کہ مذاہب عالمگیریت (globalization) سے باہر کوئی بیرونی چیز نہیں بلکہ اس کے اصل محرکات میں شامل رہے ہیں کیونکہ انہی مذاہب نے تاریخ میں براعظموں تک پھیل کر تجارت، اخلاقیات اور ثقافتی تبادلوں کو شکل دینے میں کردار ادا کیا ہے۔ عیسائیت، بدھ مت اور بالخصوص اسلام سرحدوں سے ماورا تبلیغی تحریکوں، تجارتی راستوں اور سیاسی سلطنتوں کے ذریعے پھیلے، جس کے نتیجے میں عالمگیری رابطوں کی ابتدائی صورتیں قائم ہوئیں۔ 34 یوں مذہب کو عالمگیریت سے متاثر نظریہ نہیں بلکہ اس کا ابتدائی معمار اور دیرپا تشکیل دینے والا عامل سمجھنا چاہے جو اس کی اصل حقیقت اور مقام ہے۔

مذہب کا انفرادی کردار

مذہب فرد کی زندگی کو معنی، اخلاقی راہنمائی اور نفسیاتی آسودگی کا سانچہ دے کر اس کی تعمیر کرتا ہے۔ یہ نجی زندگی کو ایک وسیع تر اخلاقی اور کائناتی نظم کا حصہ بناتا ہے، جس سےمذاہب کے ماننے والوں کو عارضی چیلنجوں سے گزرنے اور دائمی اہمیت کے اہداف پانے میں مدد ملتی ہے۔ اعمال، تعلیمات اور اخلاقی اصولوں کی پابندی کے ذریعے مذہب انسان میں مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت، امید اور قلبی اطمینان پیدا کرتا ہے۔

مذہب بطور زندگی کا معنی و مقصد

انسانی حیات کے آخری مقصد کو محض عارضی کامیابیوں یا شہوانی لذتوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا 35 کیونکہ یہ سب موت کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہیں اور یوں وجود کو کوئی پائیدار معنویت نہیں دے پاتیں۔ سیکولر نظریے، خواہ مادہ پرستانہ ہوں یا انسانیت پسندانہ، زندگی کے مقصد کے وقتی یا جزوی جواب تو فراہم کر سکتے ہیں لیکن وہ اکثر انسان کو کامل معنی و مقصد دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ فرانسیسی مفکر بلیز پاسکل (Blaise Pascal) نے اپنی کتاب پنسیز(Pensees) میں لکھا ہے کہ انسانی قلب کے اندر ایک لامحدود خلا ہے جسے صرف خدا ہی پُر کرسکتا ہے۔ 36 صدیوں پہلے، آگسٹین نے اپنی کتابConfessions میں یہ تأمل ظاہر کیا تھا کہ انسانی دل اس وقت تک بےقرار رہتا ہے جب تک وہ اپنے خدا میں سکون نہ پالے۔ 37 یہ دونوں نقطۂ نظر مل کر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مذہب ہی انسانی زندگی کو ایک بلند معنوی اُفق فراہم کرتا ہے جو اس کے وجود کو لغویات یا عَدمیت (nihilism) میں ڈوبنے سے بچاتا ہے اور انسانی سفر کو سچائی، بامقصد ذندگی اور حتمی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

مابعد جدید دور میں، جہاں بہت سے لوگ زندگی کو لغو اور بے مقصد محسوس کرتے ہیں، معنی اور مقصد کی تلاش انتہائی ضروری بن چکی ہے۔ ڈیوڈ رے گرفن اس بات پر زور دیتا ہے کہ الہیات کو دوبارہ عوامی دائرے میں آنا چاہیے کیونکہ حتمی وابستگی (ultimate concern) جیسے سوالات کو صرف ذاتی جذبات تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ مذہب کے بغیر انسان محض انہی پالیسیوں اور اقدار کے رحم و کرم پر رہ جاتا ہے جو خود غرضی، صارفیت اور سرمایہ داریت طےکرتی ہیں، اور یہ نہ انسان کی روح کو سہارا دے سکتی ہیں اور نا ہی کسی معاشرے کو قائم رکھ سکتی ہیں۔ 38 آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ اگر مذہبی فکر کو عوامی مکالمے سے نکال دیا جائے تو معاشرہ صرف مفاد پرستی، سرمایہ داریت اور مارکیٹ کے اصولوں کا تابع بن کر رہ جائے گا جو روحانی، اخلاقی اور سماجی سطح پر انسانیت کو سنبھالنے کے لیے بالکل ناکافی ہیں۔ چنانچہ مذہب فرد کی زندگی کو پھر سے معنوی ربط عطا کرتا ہے، یعنی ذاتی حیات کو ایک وسیع تر اخلاقی اور کائناتی نظم کے اندر مربوط کر دیتا ہے۔ بیان کردہ خصوصیات اسلام کے بتائے ہوئے مقصدِ زندگی میں نمایاں طور پر ملتی ہیں۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ 5639
اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسانی زندگی کا بنیادی مقصد اللہ کی بندگی ہے۔ یہاں بندگی کا مفہوم محض نماز، روزے جیسی عبادات تک محدود نہیں بلکہ مکمل اطاعت، فرماں برداری اور زندگی کو الٰہی مرضی کے تابع کر دینے تک پھیلا ہوا ہے۔ باقی تمام مخلوقات تو خدا کے حکم کے تابع ہیں، مگر انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی حاصل ہے، اس لیے اس کا فرض ہے کہ شعوری طور پر رضائے الٰہی کے آگے جھک جائے۔ دنیاوی طاقتوں، باطل خداؤں یا نفس کی غلامی میں زندگی گزارنا اس کے مقصدِ تخلیق سے انحراف کے مترادف ہے جس کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا۔ صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو یہ آیت عبادت کو انسانی حیات کے ہمہ گیر نصب العین کے طور پر پیش کرتی ہے جو روحانی وفاداری اور اخلاقی طرزِ عمل دونوں کو ایک وحدت میں پرو دیتی ہے اور انسان کی پوری زندگی کا رخ اللہ کی طرف کر دیتی ہے۔ 40 اس طرح اسلام کوئی جزوی یا عارضی جواب نہیں بلکہ ایک جامع نظامِ حیات عطا کرتا ہے جو انسانی دل کی سب سے گہری پیاس کو سیراب کرتا ہے۔ زندگی کے مقصد کو خدا کی شعوری بندگی سے وابستہ کر کے اسلام انفرادی اور اجتماعی، عارضی اور ابدی تمام دائروں کو باہم مربوط کردیتا ہے اور یوں عارضی لذتوں کی دوڑ سے نکال کر وجود کو سچائی، جوابدہی اور ابدی فلاح کے بامعنی سفر پر گامزن کر دیتا ہے۔

مذہب : اخلاقی رہنمائی کا سرچشمہ

مذہب، خصوصا اسلام، انسان کو نہ صرف ایمانی جذبہ فراہم کرتا ہے بلکہ صحیح (خیر) اور غلط (شر) کے تعین کے لئے ایک پیمانہ بھی مہیا کرتا ہے۔ 41 بدلتے ثقافتی رجحانات کے ساتھ تغیر پذیر سیکولر اخلاقیات کے برعکس مذہبی اخلاقیات ابدی اصولوں پر قائم ہیں۔ 42 سیسرو کے نزدیک بھی اخلاقی قانون خدائی نظم سے جدا نہیں ہو سکتا۔ 43 عیسائی فکر میں آگسٹین کا بھی اصرارہے کہ سچا انصاف خدا کے تعلق اور نسبت کے بغیر ممکن نہیں۔ 44 اسلامی فکر میں اخلاقیات اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کے اعتراف سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ اسلامی اخلاق کسی ثقافت، نسل یا تاریخ کا محتاج نہیں بلکہ اس کا اختیار براہِ راست وحی الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔ سیکولر یا انسانیت پسند اخلاقیات جو ہر دور کے ساتھ بدل جاتی ہیں، ان کے برعکس اسلامی اخلاق توحید اور تقویٰ کے اٹل اصولوں پر قائم ہیں، جو صحیح (خیر) اور غلط (شر) کا تعین کرنے کے لیے ایک دیرپا معیار فراہم کرتے ہیں۔ 45 اس لیے انسان بحیثیت مُکلّف اپنے خالق کو جواب دہ ہے اور قرآن مجید ہدایت کو اسی چیز سے تعبیر کرتا ہے جو نیکی کی اور حق کی راہ دکھائے۔ اخلاقیات کو سیکولر بنیاد پر قائم کرنے کی کوششیں عارضی اتفاقِ رائے تو پیدا کر سکتی ہیں لیکن حاکمِ اعلیٰ کے سامنے جوابدہی کے تصور کے بغیر بالآخر اخلاقی نسبتیت (relativism) ہی غالب آتی ہے جو معاشرے میں عدم استحکام پیدا کرتی ہے۔ مذہب اخلاقیات کو انفرادی پسند اور نا پسند سے بالاتر کر کے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے اور فرد کو واضح راہنمائی بھی دیتا ہے جس میں خدا کے حضور جوابدہی کا احساس شامل ہوتا ہے۔

مذہب روحانی شفا اور خوشحالی کا ذریعہ

زندگی کا معنی و مفہوم سمجھنے میں اور اخلاق سے آگے بڑھ کر انسانی شخصیت کے جذباتی، روحانی اور نفسیاتی پہلو میں بھی مذہب رہنمائی کرتا ہے۔ میروسلاو وولف کا کہنا ہے کہ مذہب انسانی سماج کو اچھی زندگی کا ایسا تصور فراہم کرتا ہے جس کا کوئی سیکولر متبادل نہیں ہو سکتا۔ 46

نفسیات پر کی گئی تحقیقات بھی ثابت کرتی ہیں کہ مذہب اور ایمان ذہنی صحت، نفسیاتی لچک (resilience) اور امید کو تقویت بخشتے ہیں۔ 47 دعا، مراقبہ اور اجتماعی عبادت جیسے معمولات اضطراب، افسردگی اور ناامیدی کے خلاف دفاع کابہترین کام کرتے ہیں۔ 4849 غیر یقینی صورتِ حال سے پُر عالمگیری (globalized) دنیا میں مذہب اندرونی سکون اور ثبات مہیا کرتا ہے۔ 50 جہاں صارفیت (consumerism) مستقل بے اطمینانی پیدا کرتی ہے 51 اور عَدمیت (nihilism) مایوسی کو جنم دیتی ہے، وہاں مذہب شکرگزاری، قناعت اور امید کی آبیاری کرتا ہے۔

مذہب اور اخروی نجات

پال ہائیبرٹ کے مطابق جدیدیت کا سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ وہ زندگی اور موت سے متعلقہ انتہائی اہم سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ 52 مابعد جدید نسبتیت(Post Modern Relativism) کا حال بھی مختلف نہیں، کیونکہ وہ سچائی کو بےشمار زاویوں میں تحلیل کر دیتی ہے۔ ان کے برعکس مذہب اس بات پر زور دیتا ہے کہ زندگی ایک بے معنی حادثہ نہیں بلکہ ایک بامقصد سفر ہے جس کے نتائج دائمی ہیں۔ لہذا اس حقیقت کا انکار انسانی دل کو تشنہ اور انسانی داستان کو نامکمل چھوڑ دینے کے مترادف ہے۔ مزید یہ کہ انسان فطری طور پر نہ صرف عارضی مسرت بلکہ ابدی نجات بھی چاہتا ہے۔ مختلف مذاہب نجات (soteriology) کے مختلف تصورات پیش کرتے ہیں: ہندو مت موکش 53 یعنی مُکتی کا تصور دیتا ہے، بدھ مت نیروان 54 یعنی روشن ضمیری کی بات کرتا ہے، عیسائیت مسیح کے ذریعے نجات پر زور دیتی ہے، 5556 اور اسلام اللہ کے حضور سر تسلیم خم کرنے میں دنیا و آخرت کی کامیابی وفلاح کا اعلان کرتا ہے۔ 57

اسلام اور مابعد جدیدیت / میٹاموڈرنزم کا چیلنج

جدید (modern) اور مابعد جدید (postmodern) ادوار نے شک (skepticism)، نسبتیت (relativism) اور لادینیت (secularism) کو جنم دیا ہے۔ پال ہائیبرٹ کا مشاہدہ ہے کہ مغربی فکر مثبتیت (positivism) یعنی تجربہ اور مشاہدہ کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے علم پر متکبرانہ یقین اور مابعد جدید نسبتیت (Postmodern relativism) یعنی ہر قدر کو بے معنی بنا دینے والی عَدمیت کے درمیان جھولتی رہی ہے، اور یہ دونوں ہی انسانی زندگی کو معنی دینے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ 58 اس کے برعکس اسلام " تنقیدی حقیقت پسندی" (critical realism) کا نمونہ پیش کرتا ہے— یعنی وہ حقیقتِ مطلق، خداکے وجود کو مانتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ انسان عاجز ہے اور اس کی سمجھ محدود ہے۔ 59

ڈیوڈ رے گرفن کے مطابق، جدیدیت نے الہیات کو یا تو غیر سائنسی قرار دے کر نظرانداز کردیا، یا اسے غیر متعلقہ سمجھا؛ لیکن مابعد جدیدیت نے خدا، اخلاقیات اور حقیقت کی ایک نئی، معقول اور تجرباتی فہم کے لیے دوبارہ جگہ پیدا کی ہے۔ مابعد جدید الہیات یہ تسلیم کرتی ہے کہ علم صرف حسی تجربات یا ثقافتی تناظر تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ انسان غیر حسی بصیرت (non-sensory insights) اور اخلاقی شعور بھی رکھتا ہے۔ 60 اسلام اس حوالہ سے رہنمائی کرتا ہے کہ انسان محدود حواس کے ذریعہ دنیا کو جانتا ہے لیکن خدا کی عطا کردہ ہدایت سے ہی حقیقتِ مطلق تک رسائی پا سکتا ہے، یعنی ما بعد جدیدیت کے اس نظریہ کی ایک حد تک تائید کرتا ہے۔اس ہدایت کو پانے کے لئے انسان کو وحی کی صورت میں قرآن کریم عطا کیا گیا لیکن عقل کے استعمال کی نفی نہیں کی گئی، بلکہ عقل کو وحی کے تابع رکھا گیا تاکہ انسان اپنے اعمال کو الوہی اصولوں کے مطابق ڈھالے اور با معنی زندگی گذارے۔ یوں اسلام حقیقت، اخلاق اور انسانی مقصد کے فہم کے لیے ایک مربوط سانچہ فراہم کرتا ہے جو مابعد جدید فکر کی بصیرتوں سے کسی حد تک ہم آہنگ ہے۔

ایک ایسی دنیا میں جہاں فکری و مذہبی تنوع نے انسان کو بکھیر دیا ہے، اسلام ایک ایسا راستہ دکھاتا ہے جس میں انفرادیت بھی ہے اور وسعتِ نظر بھی۔ اس کی انفرادیت توحید کے اس عقیدے میں ہے کہ اللہ ایک ہے اور صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ 61اس کی وسعت اس بات میں ہے کہ وہ تمام انبیاء Alaihmus Salam کی تصدیق کرتا ہے، 62 مذہبی آزادی کو تسلیم کرتا ہے 63 اور مختلف مذاہب کے ساتھ مکالمے کو فروغ دیتا ہے۔ 64 اس طرح اسلام نہ تو قدیم ادوار کے جابرانہ جمود کی نمائندگی کرتا ہے اور نہ ہی مابعد جدیدیت کی بے معنویت اور نسبتیت پسندی میں گرتا ہے، بلکہ اعتدال اور درمیان کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

غرض یہ کہ مذہب انسانی تہذیب کا کوئی اتفاقی یا ضمنی پہلو نہیں، بلکہ اجتماعی اور انفرادی سطحوں پر ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اجتماعی طور پر مذہب معاشروں کو جوڑتا ہے، تہذیبوں کی اساس و محرک ہے، اور عالمگیر انصاف و امن کی سمت رہنمائی کرتا ہے۔ انفرادی طور پر یہ انسان کومقصدیت و معنی، اخلاقی اصول، ذہنی مضبوطی اور نجات کی امید فراہم کرتا ہے۔ مابعد جدید اور میٹاموڈرن دنیااپنے تمام تر شکوک و شبہات کے باوجود انسان کو مذہب کی ضرورت سے آزاد نہیں کر پائے؛ بلکہ اس کی ناگزیریت آج پہلے سے بھی کہیں زیادہ واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔ بہت سے مذاہب انسانی ضروریات کے کچھ پہلوؤں کا جواب دیتے ہیں، مگر اسلام ان سب میں سب سے جامع اور پائیدار تصورِ مذہب پیش کرتا ہے۔ بطورِ ”الدِّین“، اسلام ایک ایسا مربوط نظام فراہم کرتا ہے جو دنیاوی زندگی کو ابدی مقصد کے ساتھ، فرد کی آزادی کو معاشرتی بھلائی کے ساتھ اور عقل کو روحانی بصیرت کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔ اس کی دیرپا معنویت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بدلتے فکری و تہذیبی تناظر میں انسان کو ہمیشہ کسی ماورائی سہارے اور اٹل سچائی کی ضرورت رہتی ہے جو خدا کی صورت میں اسے ہما وقت اور ہر دور میں میسر رہتی ہے۔


  • 1  Marcus Tullius Cicero (1967), De Natura Deorum Academia (Translated by: H. Rackham), Harvard University Press, London, U.K., Pg. 193.
  • 2  Saint Augustine (2004), Letters 156–210 (Epistulae) (Translated by Roland Teske, Ed. Boniface Ramsey), New City Press, New York, USA, Part-II, Vol. 3, Pg. 20-22.
  • 3  Peter. L. Berger (1999), The Desecularization of the World, Ethics and Public Policy Center, Washington D. C., USA, Pg. 2-3.
  • 4  Miroslav Volf (2015), Flourishing: Why We Need Religion in a Globalized World, Yale University Press, London, U.K., Pg. 1–3.
  • 5  Timotheus Vermeulen & Robin van den Akker (2010), Notes on Metamodernism, Journal of Aesthetics & Culture, Routledge, New York, USA, Vol. 2, Pg. 1.
  • 6  David Ray Griffin (1989), God and Religion in the Postmodern World: Essays in Postmodern Theology, State University of New York Press, Albany, USA, Pg. XIII-XIV.
  • 7  Paul G. Hiebert (1999), The Missiological Implications of Epistemological Shifts: Affirming Truth in a Modern/Postmodern World, Trinity Press International, Pennsylvania, USA, Pg. XV.
  • 8  Emile Durkheim (1995), The Elementary Forms of Religious Life (Translated by Karen E. Fields), The Free Press, New York, USA, Pg. 44.
  • 9  Ibid, Pg. 420-421.
  • 10  Miroslav Volf (2015), Flourishing: Why We Need Religion in a Globalized World, Yale University Press, London, U.K., Pg. 2–3.
  • 11  کتاب مقدس، پیدائش، باب 1، آیت نمبر: 27
  • 12  کتاب مقدس، رسولوں کےاعمال، باب 17، آیت نمبر: 26
  • 13  کتاب مقدس، گلتیوں، باب 3، آیت نمبر: 28
  • 14  کتاب مقدس، رسولوں کےاعمال، باب 2، آیت نمبر: 44-47
  • 15  القرآن، سورۃ النساء 4:1
  • 16  القرآن، سورۃ الحجرات 49: 13
  • 17  لقرآن، سورۃ الحجرات 49: 10
  • 18  محمد بن إسمعیل البخاری، صحیح البخاری، حدیث: 6011، مطبوعۃ: دار السلام للنشر والتوزیع، الریاض، السعودیۃ، 1999م، ص: 1051
  • 19  ابو علی احمد ابن محمد مسكویه الرازی، تجارب الامم و تعاقب الهمم، مطبوعۃ: دار سروش للطباعة والنشر، طهران، ایران، 2000-2002م، ج-1، ص: 125
  • 20  Patricia Crone (2005), Medieval Islamic Political Thought, Edinburgh University Press, Edinburgh, Scotland, Pg. 261-266.
  • 21  . James Ferguson (2016), The Ancient Egyptian Concept of Maat: Reflections on Social Justice and Natural Order, CEWCES Research Papers, Bond University, Queensland, Australia, Research Paper 15, Pg. 1.
  • 22  Patrick Olivelle & Jr. Donald R. Davis (Ed.). (2018), Hindu Law—A New History of Dharmasastra, Oxford University Press, Oxford, U.K., Pg. 21-22.
  • 23  Li Feng (2006), Landscape and Power in Early China: The Crisis and Fall of the Western Zhou, 1045–771 BC, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 1-2.
  • 24  Saint Augustine (2004), Letters 156–210 (Epistulae) (Translated by Roland Teske, Ed. Boniface Ramsey), New City Press, New York, USA, Part-II, Vol. 3, Pg. 20-22.
  • 25  Marshall G. S. Hodgson (1977), The Venture of Islam: Conscience and History in a World Civilization, The University of Chicago Press, Chicago, USA, Vol. 1, Pg. 103.
  • 26  Patricia Crone and Martin Hinds (2003), God's Caliph: Religious Authority in the First Centuries of Islam, Cambridge University Press, Cambridge, U.K., Pg. 27-28.
  • 27  Seyyed Hossein Nasr (2001), Science and Civilization in Islam, ABC International Group, Inc., Illinois, USA, Pg. 23-25.
  • 28  القرآن، سورۃ المائدۃ 5: 8
  • 29  القرآن، سورۃ الشوریٰ 42: 38
  • 30  القرآن، سورۃ طه 20: 114
  • 31  عبد الشافى محمد عبد اللطيف، السيرة النبوية والتاريخ الإسلامي، مطبوعۃ: دار السلام، القاهرة، مصر، 1428ھ، ص: 309
  • 32  George Saliba (2007), Islamic Science and the Making of the European Renaissance, The MIT Press, London, U.K., Pg. 21.
  • 33  Paul G. Hiebert (1999), The Missiological Implications of Epistemological Shifts: Affirming Truth in a Modern/Postmodern World, Trinity Press International, Pennsylvania, USA, Pg. XV.
  • 34  Miroslav Volf (2015), Flourishing: Why We Need Religion in a Globalized World, Yale University Press, London, U.K., Pg. 1–3.
  • 35  Stanford Encyclopedia of Philosophy (Online): https://plato.stanford.edu/entries/life-meaning/: Retrieved: 28-08-25
  • 36  Blaise Pascal (1958), Pensees (Introduction by T. S. Eliot), E. P. Dutton & Co., Inc., New York, USA, Pg. 113.
  • 37  Saint Augustine (1966), Confessions (Translated by R. S. Pine-Coffin), Penguin Books, Middlesex, U.K., Pg. 21.
  • 38  David Ray Griffin (1989), God and Religion in the Postmodern World: Essays in Postmodern Theology, State University of New York Press, Albany, USA, Pp. XIII–XIV.
  • 39  القرآن، سورۃ الذاریات 51:56
  • 40  سید ابو الاعلیٰ مودودی، تفہیم القرآن، مطبوعہ: ترجمان القرآن، لاہور، پاکستان، 2008م، ج-5، ص: 155-156
  • 41  القرآن، سورۃ الفرقان 25: 1
  • 42  Edward Langerak (2022), How Do Theological and Secular Ethics Relate and Compare?, MDPI, Basel, Switzerland, Vol. 13, Issue: 10, Pg. 12.
  • 43  Marcus Tullius Cicero (1929), On the Commonwealth (Translated by George Holland Sabine & Stanley Barney Smith), The Bobbs Merrill Company Inc., New York, USA, Pg. 90.
  • 44  Saint Augustine (2004), Letters 156–210 (Epistulae) (Translated by Roland Teske, Ed. Boniface Ramsey), New City Press, New York, USA, Part-II, Vol. 3, Pg. 21-22.
  • 45  Ismael Raji Al-Faruqi (1992), Al-Tawhid: Its Implications for Thought and Life, International Institute of Islamic Thought, Virginia, USA, Pg. 71-74.
  • 46  Miroslav Volf (2015), Flourishing: Why We Need Religion in a Globalized World, Yale University Press, London, U.K., Pg. IX–XI.
  • 47  Hatice Tuba Akbayram & Hamit Sirri Keten (2024), The Relationship between Religion, Spirituality, Psychological Well-Being, Psychological Resilience, Life Satisfaction of Medical Students in the Gaziantep, Turkey, Journal of Religion and Health, Springer, New York, USA, Vol. 63, Pg. 2847.
  • 48  Ellen Goodwin & Kathryn Kraft (2022), Mental health and Spiritual Well‑being in Humanitarian Crises: The Role of Faith Communities Providing Spiritual and Psychosocial Support during the COVID‑19 Pandemic, Journal of International Humanitarian Action, Springer, New York, USA, Vol. 7, Issue 1, Pg. 15.
  • 49  Fayez Azez Mahamid & Dana Bdier (2021), The Association Between Positive Religious Coping, Perceived Stress, and Depressive Symptoms During the Spread of Coronavirus (COVID‑19) Among a Sample of Adults in Palestine: Across Sectional Study, Journal of Religion and Health, Springer, New York, USA, Vol. 60, Pg. 34.
  • 50  القرآن، سورۃ الرعد 13: 28
  • 51  Luisa Soares & Sara Moniz (2023), Overconsumption and the Effects on Mental Health and Well-Being: A Review, Current Research in Diabetes & Obesity Journal, Juniper Publishers, California, USA, Vol. 17, Issue: 2, Pg. 2.
  • 52  Paul G. Hiebert (1999), The Missiological Implications of Epistemological Shifts: Affirming Truth in a Modern/Postmodern World, Trinity Press International, Pennsylvania, USA, Pg. 1–3.
  • 53  Bhagavad Gita, Sankhya Yog 2:50–51
  • 54  Digha Nikaya (Pali Canon), Mahaparinibbana Sutta: 16–17
  • 55  کتاب مقدس، یوحنا، باب 3، آیت نمبر: 16
  • 56  کتاب مقدس، رومیوں، باب 10، آیت نمبر: 9-10
  • 57  القرآن، سورۃ المائدۃ 5: 9
  • 58  Paul G. Hiebert (1999), The Missiological Implications of Epistemological Shifts: Affirming Truth in a Modern/Postmodern World, Trinity Press International, Pennsylvania, USA, Pg. 68–69.
  • 59  Matthew L. N. Wilkinson (2013), Introducing Islamic Critical Realism: A Philosophy for Underlabouring Contemporary Islam, Journal of Critical Realism, Routledge, New York, USA, Vol. 12, Issue: 4, Pg. 440-441.
  • 60  David Ray Griffin (1989), God and Religion in the Postmodern World: Essays in Postmodern Theology, State University of New York Press, Albany, USA, Pg. 1–4.
  • 61  القرآن، سورۃ البقرۃ 2: 163
  • 62  القرآن، سورۃ البقرۃ 2:285
  • 63  القرآن، سورۃ البقرۃ 2: 256
  • 64  القرآن، سورۃ النحل 16:125

Powered by Netsol Online