انسان کی ابتدا ءکے سوال کو سائنس اور وحی دونوں زاویوں سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ارتقائی حیاتیات، فوسلز (fossils)، 1 جینیات اور جسمانی مشابہتوں پر مبنی تمام تر نمونے براہِ راست مشاہدے پر نہیں بلکہ اندازوں، اور استنباط پر قائم ہیں۔ ان کی محدودیت جیسے ابتدا کا ناقابلِ تکرار ہونا، احتمالی مفروضوں پر انحصار کرنا، اور ماورائے طبیعی اسباب کا اخراج وغیرہ انہیں نامکمل اور ناقابلِ بھروسہ بنا دیتی ہے۔ بعض سائنس دان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دو انسانوں یعنی آدم اور حوّا
سے موجودہ جینیاتی تنوع پیدا نہیں ہو سکتا جس میں اتنے رنگ و نسل اور مختلف محاسن و خصائل کے انسان موجود ہوں، لیکن حالیہ منطقی اور عددی تحقیق یہ دکھاتی ہے کہ کروموسومی 2 تنوع، تیز رفتار جینیاتی بہاؤ، آبادی میں سکڑاؤ، منتخب خصوصیات کا غالب آنا، بعض نسلوں کا ختم ہو جانا، مختلف گروہوں کا پھیلاؤ، اور تولیدی خلیوں کی تخلیقی ساخت جیسے عوامل اس تنوع کو بخوبی پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ الہامی کتابوں میں تخلیقِ آدم
کا بیان فقط علامتی ہے، کیونکہ قرآن و بائبل دونوں میں یہ روایت تاریخی نثر کے انداز میں پیش کی گئی ہے۔ علمِ بشریات کی تحقیق بھی بتاتی ہے کہ آدم و حوّا
کی داستان انسانی اخلاق، شعور اور ذمہ داری سے متعلق ایسے عالمی حقائق رکھتی ہے جو اس کے تاریخی اور حقیقی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس مجموعی فہم سے یہ حقیقت اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ سائنس فطرت کے اندر موجود عمل کی وضاحت تو کرتی ہے، مگر انسان کے اصل آغاز، مقصد اور شعوری بیداری کی وضاحت صرف وحی فراہم کرتی ہے۔ وحی بتاتی ہے کہ انسانیت کی ابتدا آدم اور حوّا
سے ہوئی اور اسی کے ساتھ پہلی ہدایتِ الٰہی، یعنی اسلام، کا آغاز بھی ہوا۔
ارتقائی حیاتیات (Evolutionary Biology) اور قدیم انسانی باقیات کے مطالعے (paleo-anthropology) کے بعد سائنس یہ دعوی کرتی ہے کہ جدید انسان کی ابتدا ہوموسیپینز (Homo sapiens) سے ہوئی ہے۔ افریقہ بھر سے دریافت ہونے والے فوسلز، مختلف انواع کے جسمانی ڈھانچوں کا تقابلی جائزہ، اور جینیاتی معلومات، سب مل کر اس نظریہ کی تائید کرتے ہیں کہ انسان لاکھوں سال پر مشتمل ایک ارتقائی سلسلے سے گزرتا ہوا وجود میں آیا ہے۔ 3 مراکش کے علاقے جبل اِرہود سے ملنے والے ابتدائی انسانی فوسلز کے مطابق موجودہ انسان تقریباً 3 لاکھ سال پہلے افریقہ میں نمودار ہوا۔ 4 اِن جدید انسانوں سے پہلے کئی مختلف قسم کے قدیم انسان موجود تھےجو انسان کی ارتقائی شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔یہ سب دو ٹانگوں پر چلنے والے، بڑھتے ہوئے دماغ اور انسان جیسے خدوخال کی وجہ سے ایک ہی خاندان میں شمار کئے جاتےہیں جیسےاوسٹرالوپیتھیکس (Australopithecus) 5 اور ہومو ایریکٹیکس (Homo erectus)۔ 6 سائنس دانوں کے مطابق ان مخلوقات کے موجود ہونے کے شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان کا ورود یکایک ایک دفعہ میں اچانک نہیں ہوا بلکہ انسان ایک شاخ دار ارتقائی سلسلے کے اندر بتدریج ظہور میں آیا ہے۔ 7
جینیاتی شواہد (Genetic Evidence) بھی اسی زمانی ترتیب کی تائید کرتے ہیں کیونکہ انسانی ڈی این اے(DNA) 8 بڑی حد تک دوسرے بڑے بندروں سے ملتا جلتا ہے، اور جینیاتی گھڑیاں یہ دکھاتی ہیں کہ جدید انسان اور چمپینزی کا مشترکہ جدّ اعلیٰ تقریباً 60 سے 70 لاکھ سال پہلے موجود تھا۔ 9 انہی شواہد کی بنیاد پر ماہرینِ حیاتیات اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسان دیگر مخلوقات کے ساتھ بتدریج وجود میں آیا ہے، نہ کہ الگ سے یکایک پیدا ہوا ہے۔
سائنسی برادری میں یہ بات وسیع پیمانے پر قبول کی جاتی ہے کہ انسان اور معدوم انسانی اقسام جیسے نیئنڈرتھلز (Neanderthals) 10 مشترکہ قدیم آباء سے تعلق رکھتے ہیں اور انسان حیاتیاتی طور پر بن مانسوں کے خاندان اور ان کی اقسام کا حصہ ہے۔ 11 اس حوالے سے سائنس دان مختلف ذرائع کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ فوسلز جو درمیانی شکلوں کی نشاندہی کرتے ہیں، ارضیاتی تاریخ کے ذریعے عمر کا تعین، 12 اور تقابلی جینیات مثلاً انسان کے کروموسوم نمبر 2 کا جڑاؤ — ان سب کو ملا کر انسان کے دوسرے بندروں کے ساتھ مشترکہ جد کاا ثبات کرتے ہیں۔ 13 لہذاسائنس دانوں کے مطابق یہ تمام شواہد ایک دوسرے کی توثیق کرتے ہوئے انسانی ارتقاء کی سائنسی توضیح کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ سائنسی تحقیقات کا اثبات کسی اور نظریے کے مقابلے میں ارتقائی نمونہ ذیادہ بہتر طور پر کرتا ہے، اور اسی وجہ سے اسے انسانی تنوع اور تخلیق کی تشریح کے لیے مضبوط نمومہ سمجھا جاتا ہے۔
اپنے دلائل کے اثبات کے لئےحیاتیاتی (Biological) سائنس دان منطق اور ریاضی کا سہارہ لیتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق قطعی اور حتمی ثبوت صرف منطق اور ریاضی کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ قدرتی سائنسِز میں کسی نظریے کو اُس وقت قبول کیا جاتا ہے جب وہ وافر تجرباتی شواہد سے ثابت ہو جائے۔ اس معیار کے مطابق انسانی ارتقاء کا نظریہ سائنسی دنیا میں ایک ایسے تصور کی حیثیت رکھتا ہے جو ثبوت کے سب سے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اس نظریاتی ڈھانچے کی تعمیر جاری ہے لیکن موجودہ شواہد کا حجم اور تنوع اتنا زیادہ ہے کہ اسے بیک وقت "نظریہ" بھی کہا جاتا ہے اور "حقیقت"بھی۔ 14 اسی بنیاد پر سائنس، نوعِ انسان کی ابتداء کو ایک بتدریج، طویل اور قدرتی عمل قرار دیتی ہے ، ایک ایسا ارتقائی سفر جو لاکھوں برس پر محیط ہے اور جس میں تبدیلیوں، قدرتی انتخاب اور طویل زمانی عمل نے انسانی نسل کو قدیم بندر نما آباء سے آج کے جدید انسان تک پہنچایا۔ سائنسی بیانیہ اس ارتقائی تسلسل کو بغیر کسی رکاوٹ کے، ایک مسلسل حیاتیاتی زنجیر کے طور پر پیش کرتا ہے جس میں انسان کی موجودہ حالت تک پہنچنے کے لیے لاکھوں سالوں پر مشتمل ارتقائی مراحل موجود ہیں، حالانکہ اس میں کئی پیچیدگیاں موجود ہیں جن کا محاکمہ آگے چل کر کیا جائے گا۔
مزید یہ کہ سائنس دان اکثر وضاحت کرتے ہیں کہ سائنس میں "نظریہ" سے مراد کوئی اندازہ یا قیاس نہیں ہوتا بلکہ شواہد کی بنیاد پر قائم ایک مضبوط اور اچھی طرح ثابت شدہ تشریح ہوتی ہے۔ انہی معیارات کے مطابق انسانی ارتقاء کو ایک نظریہ بھی سمجھا جاتا ہے اور حقیقت بھی۔ اگرچہ ریاضی کی طرح قطعی حتمیت تجرباتی علوم میں ممکن نہیں، لیکن سائنس دانوں کے نزدیک انسانی ارتقا ءکے حق میں موجود شواہد اتنے وسیع اور متنوع ہیں کہ سائنسی برادری اسے عمومی معنوں میں "ثابت شدہ" مانتی ہے۔ 15 چنانچہ سائنسی بیانیہ انسانی آغاز کو ایک بتدریج اور فطری عمل کے طور پر پیش کرتا ہے جو کروڑوں سال پر پھیلا ہوا ہے—ایک ایسا حیاتیاتی تسلسل جو بظاہر بندر نما جانداروں سے موجودہ انسان تک بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا ہے۔
اگرچہ سائنسی ڈھانچہ قابلِ مشاہدہ شواہد پر قائم ہے لیکن اس کی معرفتی حدود نہایت محدود ہیں۔ 16 تجربی سائنس (empirical science) اپنی تعریف کے مطابق اُن مظاہر کا مطالعہ کرتی ہے جنہیں مشاہدے، تجربے اور استدلال کے ذریعے جانچا جا سکے 17 لیکن انسان کی ابتداء ایک ایسا واقعہ ہے جسے براہِ راست کبھی دیکھا ہی نہیں گیا۔ فوسلز اور ڈی این اے کے نمونے حقیقت کے محض کچھ بکھرے ہوئےاجزا ہیں جن سے سائنس دان ایک بڑے بیانیے کو اخذ (infer) کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے نتائج خود ان کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق براہِ راست ثابت شدہ حقیقت نہیں ہوتے بلکہ تخلیقی تشریحات ہوتے ہیں۔ 18
مشہور فلسفی کارل پوپر (Karl Popper) کہتا ہے کہ اگرچہ ارتقائی نظریہ بہت سی وضاحتیں فراہم کرتا ہے، لیکن یہ تجرباتی طور پر قابلِ آزمائش (testable) سائنسی نظریہ نہیں بلکہ ایک مابعد الطبیعاتی تحقیقی پروگرام ہے کیونکہ ڈارون کا بنیادی اصول that the fittest survive — (سب سے طاقتور (موزوں) ہی بچتے ہیں )ایک طرح کا منطقی دائروی قول (logical truism) 19 بن جاتا ہے: یعنی "جو زندہ رہتا ہے وہی طاقتور (یا موزوں) ہے"، اور " طاقتور (یا موزوں) وہی ہے جو زندہ رہتا ہے"۔ اس بنا پرنظریہءِ ارتقاء کارل پوپر کے نزدیک اُس معیارِ تکذیب (falsifiability) پر پورا نہیں اترتا جو تجرباتی سائنس کی بنیادی شرط ہے۔ 20
اسی طرح یہ بھی قابلِ غور ہے کہ سائنسی حلقہ جو انسانی ارتقاء کو تقریباً طے شدہ اتفاقِ رائے کے طور پر پیش کرتا ہے، اس میں کئی تصوّری اور تجرباتی کمزوریاں ایسی ہیں جو تنقیدی جائزے کی متقاضی ہیں۔ ڈاروَنی نمونہ جو اتفاقی تبدیلی (random mutation) اور قدرتی انتخاب (natural selection) پر قائم ہے، انواع کے اندر تبدیلیوں یعنی مائیکرو ایوولوشن (micro evolution) کی وضاحت تو بخوبی کرتا ہے، لیکن انواع میں موجودبڑے بڑےتغیرات یعنی میکرو ایوولوشن(macro evolution)—مثلاً نئی ساختوں، نئے حیاتیاتی نظاموں، یا شعور کے ظہورکی وضاحت نہیں کرپاتا ہے۔ 21 مزید برآں، مائیکل ڈینٹن (Michael Denton) کا استدلال ہے کہ فوسلز کےریکارڈ بڑے حیاتیاتی گروہوں کے درمیان گہری اور نمایاں خَلا دکھاتے ہیں، نہ کہ وہ مسلسل تدریجی سلسلہ جس کی پیش گوئی ڈارون کے ارتقائی نظریے میں کی گئی تھی۔ وہ کہتاہے کہ ان خلیجوں کو پُر کرنے کے لیے درکار بے شمار عبوری انواع کا مسلسل نہ ملنا ارتقائی بیانیے کی ایک بنیادی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔ فوسلریکارڈ کا نامکمل ہونا اس بات کا ثبوت ہےکہ یہ کم و بیش نا ممکن ہے کہ پیچیدہ جانداربالخصوص "انسان"محض ارتقائی مراحل سے بتدریج وجود میں آگیا ہو۔ یہ خلا اس نظریے کی قطعیّت کو مشکوک بنادیتا ہے۔ 22
مزید یہ کہ فوسلز اور جینیاتی ڈیٹا کی ہر سائنسی تعبیر ایک مخصوص نظری سانچے پر منحصر ہوتی ہے—جس میں ارضیاتی تاریخ کے تعین، جینیاتی تبدیلی کی رفتار، اورارتقائی نسب نامہ سازی (phylogenetic modelling) جیسے بنیادی مفروضات شامل ہوتے ہیں۔ چونکہ ہر فوسل کی عمر کے تعین میں کچھ نہ کچھ ابہام موجود ہوتا ہے، اور ارتقائی نسب نامے کی تعمیر میں غلطی کا امکان رہتا ہے، اس لیے ان مفروضات میں معمولی تبدیلی بھی انسانی ارتقاء کی پوری زمانی ترتیب کو تبدیل کر سکتی ہے۔ 23یہی وجہ ہے کہ سائنسی بیانیہ یقینی نہیں بلکہ احتمالی ہوتا ہےاور اسے حقیقت مطلق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 2017 میں جبل اِرہود کے فوسلز کی نئی تاریخ بندی جو تقریباً 1لاکھ 60 ہزارسال سے بڑھ کر 3لاکھ سال قرار دی گئی—اس بات کی روشن مثال ہے کہ بہتر ہوتی ہوئی ڈیٹنگ تکنیکیں (dating techniques)کس طرح طے شدہ انسانی ارتقاء کی زمانی ترتیب کو بدل دیتی ہیں۔ ہبلن(Hublin) وغیرہ کی تحقیق مزید کہتی ہے کہ پہلےاِرہود فوسلز کی عمر تقریباً 160 ہزار سال کے لگ بھگ سمجھی جاتی تھی لیکن پتھریلے اوزاروں کی نئی تھرمو لومی نیسینس ڈیٹنگ (thermoluminescence dating) اُن کی عمر تقریباً 315 ± سے334 ہزار سال ظاہر کرتی ہے۔ 24 اس طرح وہی طریقے جو ارتقائی مطالعات کو سائنسی مضبوطی فراہم کرتے ہیں جیسے درجہ بندی کے اصول و ضوابط، طبقہ بندیِ ارضیات (stratigraphy)، اور مالیکیولر ڈیٹنگ(molecular dating) وغیرہ— وہی انہیں عارضی اور نظرثانی کے قابل بھی ثابت کرتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جو چیز "مستند حقیقت"کے طور پر پیش کی جاتی ہے، وہ دراصل احتمالات اور اندازوں پر مبنی استدلال پر کھڑی ہوئی ہے جس کے غلط ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
اس کے علاوہ ارتقائی نظریہ خود زندگی اور زندہ چیزوں کے آغاز سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کرتا، یعنی کہ غیر جاندار شے سے خود نقل کرکے بڑھنے والی (self-replicating organisms) خلیہ نما زندگی کیسے وجود میں آئی۔ اسی لئے بہت سے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نظریۂ ارتقاء صرف "زندگی کے پھیلاؤ"کی وضاحت کرتا ہے، "زندگی کے آغاز" کی نہیں۔ لیزکانو اور پیریتو (Lazcano and Pereto )واضح کرتے ہیں کہ نظریۂ ارتقا ءزندگی کی ابتدا ءکی کوئی وضاحت فراہم نہیں کرتا، 25 جبکہ یہی پیریتو، کیتالا (Catala) کے ساتھ مل کر کی گئی تحقیق میں لکھتا ہے کہ ڈارون اور وازمن (Wasmann) دونوں نے زندگی کے آغاز کو ارتقائی بیانیے سے خارج رکھا تھا۔ 26 اس طرح مادّی نقطۂ نظر کے اندر بھی سائنس اس مقام پر خاموش ہو جاتی ہے کہ زندگی—اور بالآخر انسان—کا آغاز کیسے ہوا۔
مزید یہ کہ جدید سائنس کا بنیادی اصول "منہجی فطرت پسندی" (methodological naturalism) تمام توضیحات کو صرف قدرتی و فطری اسباب تک محدود کرتا ہے۔ اس اصول کے تحت الوہی مداخلت یا کسی ماورائی سبب کو اصولاًسائنسی دائرے سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ 27 یہ خود ساختہ حد بندی تحقیق کے لیے بظاہر تو مفید ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ سائنس وجود، مقصد، شعور، اخلاق اور حتمی آغاز جیسے ماورائی سوالات پر خاموش رہتی ہے یعنی اس کے پاس ان انتہائی اہم سوالات کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔
اَلوِن پلان تنگا (Alvin Plantinga) کے مطابق اگر انسانی عقل بجائے خودمحض فطری عمل کا نتیجہ ہے، تو پھر طبیعیّت (naturalism) انسانی ادراک(cognition) کی قابلِ اعتماد صلاحیت کو خود ثابت نہیں کر سکتی—یعنی انسان کی سوچ پر اعتماد کا کوئی بنیادی جواز نہیں بچتا۔ 28اس طرح سائنس کا پیش کردہ منظرنامہ وضاحتی تو ہے، لیکن مکمل نہیں ہے کیونکہ سائنس جسمانی نسب (physical ancestry) تو بیان کر تی ہے مگر عقل، زبان، اخلاقی شعور اور ارادے کے ظہور کی کوئی حتمی وضاحت فراہم نہیں کرتی حالانکہ یہ وہ خصوصیات ہیں جو انسان کو تمام دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ ملحد فلسفی تھامس نیگل(Thomas Nagel) بھی اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ مادّیاتی نیو ڈاروِنیت (Materialist Neo-Darwinism) "باشعور ہستیوں کے وجود"کی تشریح کرنےسے قاصر ہے 29 کہ وہ کب، کہاں اور کیسے وجود میں آئیں۔
ان تفصیلات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ارتقائی نظریہ اگرچہ کہ مشاہدے اور استدلال پر مبنی ہے، پھر بھی اپنی اصل میں محض ایک احتمالی کوشش ہےجس کے نتائج ایسی مفروضاتی بنیادوں پر قائم ہیں جن میں مسلسل ترمیم کا امکان ہے۔ فوسلریکارڈ اب بھی انواع کے بڑے گروہوں کے درمیان قابلِ ذکر خلاء دکھاتے ہیں، جنہیں پُر کرنے والی بہت سی "درمیانی کڑیاں" موجود ہی نہیں، جس کے باعث زندگی کی مرحلہ وار پیش رفت کا بیانیہ حتمی نہیں بلکہ استنباطی ٹھہرتاہے۔ مزید یہ کہ نظریۂ ارتقاء زندگی کے آغاز کی وضاحت نہیں کرتا، اور اپنا بیانیہ اُس وقت سے شروع کرتا ہے جب زندگی پہلے ہی ظاہر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس طرح اپنی تمام تر ترقی کے باوجود سائنسی بیانیہ حیاتیاتی عمل کی ایک معقول وضاحت تو پیش کرتا ہے، مگر نہ یہ بتا سکتا ہے کہ زندگی کیسے شروع ہوئی، اور نہ ہی انسانی ذندگی کے مقصد اور شخصیت کی مکمل تفہیم فراہم کرپاتا ہے۔
سائنس کی حدود واضح ہوجانے کے بعد اب اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تاریخی استنباط(historical inference) اور مدوّن روایات بھی حصول علم کے معتبر ذرائع ہیں اور اپنے دائرہ کارمیں تجرباتی سائنس کی مثل ہی معتبر ہیں۔ 30 انسانیت کے آغاز جیسے منفرد اور یکبارگی وقوع پذیر ہونے والے واقعات قابلِ تکرار تجربات نہیں ہوتے۔ ان کا علم گواہی، تحریری ریکارڈ اور اجتماعی حافظہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ مورخین ہمیشہ دستاویزی اور آثارِ قدیمہ کے شواہد سے حقائق اخذ کرتے ہیں؛ 31 مثال کے طور پر ہم جولیس سیزر، جالینوس، ہومر جیسی تاریخی شخصیات یا قدیم بادشاہتوں کے وجود کو صرف اُن تحریری نوشتوں اور مادی آثار کی بنیاد پر ہی تسلیم کرتے ہیں جو اُن سے منسوب ہیں، حالانکہ ہم اُن تاریخی حقائق پر کوئی ذاتی تجربہ یا مشاہدہ نہیں کر سکتے۔
اسی طرح دنیا کی قدیم ترین روایات اور انسانی تہذیبوں کی مشترکہ یادداشت میں اوّلین انسانی جوڑے کا ذکر بھی ایک قسم کا تاریخی ورثہ ہے، جسے اسی طرح دیکھا جا سکتا ہے جیسے سائنس فوسلز یا ڈی این اے کو بطور شہادت استعمال کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، انسانیت کی سب سے قدیم یادیں جو اساطیر، مقدس تاریخوں اور روایات کی صورت میں محفوظ ہیں—انسانی آغاز کے سوال پر غور کرتے ہوئے قابلِ توجہ بنیاد رکھتی ہیں، اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ ماضی کے اُس باب سے تعلق رکھتی ہیں جس تک تجرباتی سائنس کی رسائی براہِ راست ممکن نہیں۔
دنیا کی تقریباً ہر قدیم تہذیب، الہامی مذاہب و غیر الہامی مذاہب میں انسانیت کے آغاز سے متعلق ایسی روایات ملتی ہیں جن کا مرکز ایک ابتدائی مرد و عورت—ایک اولین جوڑا—ہوتا ہے جو کسی ازلی جنت یا اولین مسکن میں رہتا تھا۔ اگرچہ ان روایات کی جزئیات مختلف ہیں لیکن بنیادی عناصر حیران کن طور پر آدم و حوّا
کے قصے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں، جیسا کہ مٹی سے انسان کی تخلیق، موت سے پاک مثالی باغ یا سنہری دور میں زندگی، فریب دینے والا سانپ یا دھوکے باز کردار، کسی ممنوعہ عمل کا ارتکاب اور زوال وغیرہ۔ ان عناصر کی عالم گیر موجودگی—میسوپوٹیمیا اور مصر سے لے کر چین، یونان اور براعظم امریکا کی تہذیبوں تک—اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانیت کی ابتدائی یادداشت کے پیچھے کوئی مشترکہ سرچشمہ یا اجتماعی تاریخی حافظہ موجود ہے۔اس ہم آہنگی کو واضح کرنے کے لیے ہم چند قدیم مثالوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں:
قدیم دنیا کی غیر الہامی تہذیبوں میں بھی انسانیت کے آغاز کے بارے میں حیرت انگیز طور پر یکساں روایات ملتی ہیں—ایک پہلے مرد اور عورت کا ذکر جو کسی اعلیٰ قوت کے ذریعے پیدا کیے گئے، انہوں نے ایک جنت نما مقام میں زندگی گزاری، اور نافرمانی یا فریب کے باعث اس نعمت سے محروم ہوگئے۔ اگرچہ یہ روایات علامتی انداز میں بیان کی گئی ہیں، مگر ان کے بنیادی خد و خال ایک مشترکہ یادداشت کی طرف اشارہ کرتے ہیں—ایک ایسی ازلی، الٰہی تخلیق کی یاد جو وقت کے ساتھ اساطیر میں تبدیل ہوگئی، لیکن اس کے کچھ نقوش باقی رہے، اور بعد میں وحی نے انہی حقائق کی مکمل اور حتمی تصدیق کی اور ان کی تفاصیل سے لوگوں کو آگاہ کیا۔
انسانی تاریخ کی قدیم ترین تحریروں میں سے وہ تحریریں جو میسوپوٹیمیا سے تعلق رکھتی ہیں، ایک ایسے پہلے انسان کا ذکر کرتی ہیں جسے خدا نے تخلیق کیا تھا۔ اکادین(Akkadian) روایت (تقریباً 14 قبل مسیح ) میں اَداپا (Adapa)یا اَدَمو (Adamu)کا ذکر ملتا ہے جو حکمت کے دیوتا اِیا/ اَنکی (Enki/Ea) کے ہاتھوں تخلیق ہوا اور انسانیت کے نمائندے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس داستان میں بتایا گیا ہے کہ اسے ابدی زندگی کی پیشکش ہوئی تھی لیکن وہ اسے کھو بیٹھا۔ جب اسے آسمانی بادشاہ اَنو کے حضور بلایا گیا تو اس نے "زندگی کی روٹی اور پانی"قبول کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ اِیا نے اسے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ یہ چیزیں اس کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔ اس طرح اُس نے دائمی زندگی پانے کا موقع گنوا دیا۔ 32 اَداپا/اَدَمو کا نام عبرانی لفظ آدم سے لسانی اور صوتیاتی بنیاد پر ملتا جلتا ہے، اور دونوں الفاظ کے معنی "انسان" یا "مرد"کے ہیں۔ 33 یہ مماثلت محض اتفاقی نہیں ہے بلکہ ایک مشترکہ قدیم روایت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اسی خطے کی ایک اور سُومیری روایت "دلْمُن" (Myth of Dilmun)، ایک ایسے باغ کا ذکر کرتی ہے جہاں موت کا کوئی وجود نہ تھا، یہاں تک کہ ایک حکم الٰہی کے خلاف ورزی کے بعد پہلی دفعہ موت دنیا میں داخل ہوئی۔ یہ جنتِ عدن کے تصور کی ایک قدیم ترین بازگشت تھی۔ 34 مزید یہ کہ میسوپوٹیمیا کے ایک قدیم سلنڈر سیل (Cylinder Seal) جس پر وہاں کے لوگ نقش و نگاری کیا کرتے تھے، ایک مرد اور عورت کو ایک درخت کے پاس بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ ان کے پیچھے ایک سانپ کھڑا ہے۔ انیسویں صدی کے مشہور آشوریات دان(Assyriologist) جارج اسمتھ، جس نے قدیم میسوپوٹیمیا کی تہذیبوں کا عمیق مطالعہ کیا، نے اسے "گناہِ انسانی"یعنی زوالِ آدم کی ایک ابتدائی صورت قرار دیا ہے۔ 35 ان تمام میسوپوٹیمیائی علامات—جنت نما باغ، سانپ، ممنوعہ شجر، اور کھوئی ہوئی لازوال زندگی—کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ عناصر بائبل میں پائے جانے والے پیدائش کی کتاب میں موجود بیانیے سے نمایاں مشابہت رکھتے ہیں۔ دونوں روایات یکساں مرکزی موضوعات اور علامتی نقشہ پیش کرتی ہیں، گویا انسانیت کے ابتدائی حافظہ میں کسی مشترکہ بنیادی واقعے کی بازگشت موجود رہی ہو۔
قدیم فارس میں موجود زرتشتی مذہب کی تعلیمات کے مطابق اوستا اور بعد کے پَہلوی متون بیان کرتے ہیں کہ ابتدائی وجود گیومَرْد(Gayomard) کی موت کے بعد اس کے نطفے سے ایک پودا اُگا، اور اسی پودے سے مشیہ(Mashye) اور مشیانہ (Mashyane) پیدا ہوئے—جو پہلے مرد اور عورت اور پوری انسانیت کے جدِّ امجد و جدّہ سمجھے جاتے ہیں۔ ابتداء میں یہ دونوں پاکیزہ اور اَہورا مَزدا (Ahura Mazda)کے فرمانبردار تھے، لیکن بدروح اَنگرہ مَینو (Angra Mainyu) نے انہیں دھوکے اور جھوٹ میں مبتلا کر دیا، اور یوں بدی پہلی بار دنیا میں داخل ہوئی۔ 36 ان کی یہ داستان آدم و حوّا
کے آزمائش، وسوسے اور زوال کے واقعے سے مماثلت رکھتی ہے۔
جنوبی ایشیائی روایت—جو بڑی حد تک دیگر تہذیبوں سے الگ اور خودمختار طور پر پروان چڑھی، اس میں بھی آدم و حوّا
کے قصے سے ملتا جلتا بیانیہ موجود ہے، جسے بھگوت پُران (Bhagavata Purana) میں بیان کیا گیا ہے۔ اس روایت کے مطابق جب برہما نے دیکھا کہ تخلیق ابھی نامکمل ہے، تو اس نے سویَمبھُو مَنو(Svayambhuva Manu) اور شَتاروپا(Satarupa) کو پیدا کیا، جو پہلے مرد اور عورت تھے۔ وہ پاکیزگی اور ہم آہنگی کی حالت میں زندگی گزارتے اور زمین کو آباد کرنے اور الٰہی نظام کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے۔ 37 آدم و حوّا
کی طرح، یہی دونوں شخصیات انسانی تاریخ کے آغاز کی علامت ہیں جو براہِ راست خدائی تخلیق سے پیدا کیے گئے، معصومیت اور اخلاقی ذمہ داری کے حامل تھے، اور انہوں نے ہی وہ نسل شروع کی جس سے پوری انسانیت وجود میں آئی۔
مشرقِ بعید (Far East)میں بھی تخلیقِ انسان سے متعلق اسی نوعیت کی روایات موجود ہیں۔ چینی روایت کے مطابق دیوی نُوکوَا (Nu Kua) نے زرد مٹی سے پہلے انسانوں کو تشکیل دیا اور انہیں زندگی بخشی۔ یہ روایت مٹّی سے آدم
کی تخلیق کے تصور سے نمایاں مماثلت رکھتی ہے۔ بعد کے تانگ دور (Tang era) کے بیانیوں میں نُوکوَا کو پہلی فانی خاتون ہستی کے طور پر دوبارہ پیش کیا گیا ہے جو اپنے بھائی کے ساتھ مل کر شادی کے ادارے کو قائم کرتی ہے اور انسانیت کی جدّہ کے طور پر سامنے آتی ہے۔ 38 اس بعد کی روایت میں بھی جنتِ عدن کی طرح معصومیت، خطا اور اخلاقی بیداری جیسے عناصر واضح طور پر موجود ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطوں میں انسانیت کی ابتداء سے متعلق مشہور روایات اکثر ایک مرد اور عورت کے ساتھ شروع ہوتی ہیں جو آسمان سے اُترے یا کسی پودے سے ظاہر ہوئے۔ 39 اسی طرح کئی جنوبی افریقی اقوام کی اساطیر میں پہلے آباء کے قصے ملتے ہیں—ایک مرد جو آسمان سے اترا اور ایک عورت جو درخت سے پیدا ہوئی۔ 40
الہامی روایات انسان کی ابتدا کو براہِ راست خدا کی طرف سے تخلیقی عمل قرار دیتی ہیں، نہ کہ ارتقائی مراحل کے نتیجے میں وجود میں آنے والی کوئی ہستی۔ الہامی صحیفے جیسا کہ تورات، انجیل اور قرآنِ مجید،اس بات پر متفق ہیں کہ آدم اور حوّا
کو اللہ تعالیٰ نے براہِ راست پیدا کیا، اور انہیں عقل، شعور، اخلاق اور مقصد عطا کیا۔
یہودی-عیسائی بیانیے میں آدم
کو خدا نے "زمین کی مٹی"سے پیدا کیا، 41 اور حوّا
کو آدم
کے پہلو سے ان کی رفیقہ کے طور پر تخلیق کیا۔ 42 وہ دونوں جنتِ عدن میں رہتے تھے یہاں تک کہ سانپ نے انہیں دھوکہ دیا اور وہ ممنوعہ پھل کھا بیٹھے۔ اس نافرمانی کے نتیجے میں انہیں جنت سے نکال دیا گیا اور انسانی زندگی میں موت، محنت اور تکلیف جیسے عناصر داخل ہوئے۔ 43 بائبل میں آدم اور حوّا
کو پوری انسانیت کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔ "آدم" نام خود عبرانی میں "انسان"یا "انسانی نوع" کے معنی رکھتا ہے، جو اس داستان کو پوری انسانیت کے ساتھ جوڑتا ہے۔

قرآن مجید میں آدم اور حوّا
کی تخلیق کا بیان انسانیت کے آغاز کو ایک تخلیقی عمل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے اعلان فرمایا کہ وہ زمین میں اپنا ایک خلیفہ یعنی نائب و نمائندہ مقرر کرنے والا ہے۔ 44 چنانچہ اللہ نے آدم
کو مٹی سے بنایا اور پھر اُس مٹی کے جسم میں روح پھونکی۔ 45 آدم کی علمی فضیلت ثابت کرنے کے لیے اللہ نے انہیں تمام اشیاء کے نام سکھائے 46جو عقل، شعور اور علم کی صلاحیتوں کی علامت ہیں۔ پھر فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ آدم
کے سامنے سجدہ کریں۔ سب نے اطاعت کی، سوائے ابلیس کے، جس نے تکبّر کی بنا پر انکار کیا 47 اور یوں یہ پہلا بغاوتی عمل الٰہی نظم کے خلاف وقوع پذیر ہوا۔
آدم
کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اُن کے ہی وجودسے ایک خاتون پیدا کیں تاکہ وہ اُس سے سکون و راحت پائیں۔ 48 احادیثِ طیبہ اور ان کی شروحات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ آدم
کی پسلی سے پیدا کی گئیں۔ 49 پھر دونوں کو ایک جنتی باغ میں رکھا گیا اور انہیں ہر چیز کھانے کی اجازت دی گئی سوائے ایک مخصوص درخت کے پھل کے۔ 50 شیطان نے حسد کے باعث انہیں دھوکے میں ڈالا، انہیں دائمی زندگی اور فرشتوں جیسی رفعت کے جھوٹے وعدے سنائے، یہاں تک کہ دونوں نے اس مانع پھل کو کھا لیا۔ اس عمل کے بعد انہیں اس راحت والی جگہ سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا گیا۔ 51
اپنی لغزش کا احساس ہونے پر دونوں نے فوراً اپنے رب کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کیا اور اللہ نے اُن کی توبہ قبول فرما لی۔ 52 پھر انہیں یہ وعدہ دیا گیا کہ ان کی نسلوں تک ہدایت کا سلسلہ جاری رہے گا، اور جو اس ہدایت کو قبول کرے گا، نہ اسے کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی کوئی غم۔ 53 اس طرح آدم
کا دنیا میں آنا کسی نعمت کے زوال کی سزا نہیں بلکہ انسان کی اخلاقی ذمہ داری کے آغاز کا نام ہےیعنی جنت سے زمین پر منتقل ہونا دراصل انسانی خلافت اور آزمائش کا مرحلہ شروع ہونا ہے۔
یوں اسلامی روایت آدم اور حوّا
دونوں کو حقیقی و تاریخی شخصیتوں اور پوری انسانیت کے جد و جدّہ کے طور پر پیش کرتی ہے۔ قرآنی بیانیہ بائبل کی روایت کے بنیادی عناصر یعنی مٹی سے تخلیق، الٰہی آزمائش، شیطان کا دھوکا، اور جنت سے خروج کو تو برقرار رکھتا ہے مگر اسے خالص توحیدی، اخلاقی اور تربیتی پس منظر میں پیش کرتا ہے۔ دونوں روایات میں قدیم، باہمی مربوط یادداشتیں موجود ہیں- ایک ابتدائی انسانی جوڑا، جنتی آغاز، اور انسانی موت و آزمائش کا اخلاقی پس منظر۔ تاہم، اسلامی روایت کو زیادہ مستند اس لیے سمجھا جاتا ہے کہ قرآن مجید کے بارے میں تاریخی طور پر ثابت ہے کہ یہ ہر طرح کی انسانی تحریف اور تغیّر سے محفوظ ہے اور اسی بنا پر ابتدائے انسان کے باب میں بالخصوص اور دیگر موضوعات پر بالعموم سب سے قابلِ اعتماد الہامی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔
پیش کردہ تمام شواہد ایک ہی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ سے مشرقِ بعید تک اور قدیم دور سے جدید دور تک، انسانی تہذیبیں تواتر کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتی چلی آئی ہیں کہ انسان کی ابتداء ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے ہوئی۔ اس جوڑے کے نام مختلف ہو سکتے ہیں: جیسے آدم اور حوّا
، اداپا اور ٹیٹی، مشیہ اور مَشیانہ، اَسک اور ایمبلا، یا سویَمبھُو مَنواور شَتاروپا—لیکن ان کی بنیادی شناخت ایک ہی ہے۔ اسلامی اصطلاح میں یہ تمام روایتیں آدم
اور ان کی زوجہ کا ہی تذکرہ ہیں جو مختلف قوموں میں زمانی و مکانی فاصلوں کی وجہ سے مختلف ناموں کے ساتھ بکھری ہوئی ہیں۔اتنی وسیع ومشترک گواہی اور تواتر محض اتفاق یا اختراع نہیں ہوسکتا ۔ اس کے برعکس یہ واضح ہوتا ہے کہ پہلے انسانوں یعنی آدم و حوّا
کی روایت آغازِ تخلیق سے ہی انسانی شعور پر نقش کر دی گئی ہو اور جب انسان دنیا کے مختلف خطّوں میں پھیلے تو یہ کہانی اپنی اپنی زبان، ثقافت اور اسلوب میں بیان ہوتی چلی گئی۔ جس طرح ماہرِ لسانیات مختلف زبانوں کا موازنہ کر کے ایک اصل یا ابتدائی زبان (proto-language) کا تصور قائم کرتے ہیں، اسی طرح مختلف تہذیبوں کی ان ہم شکل کہانیوں کے مشترک عناصر سے انسان کی اصل داستانِ پیدائش کا ایک ابتدائی خاکہ سامنے آتا ہے—جو وحی میں بیان کردہ حقیقت کے ساتھ گہری مطابقت رکھتا ہے۔
کی نبوتاسلامی تعلیمات میں آدم
کو صرف پہلا انسان ہی نہیں بلکہ پہلے صاحبِ وحی اور اولین نبی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں "کلمات" عطا کیے جانے کا ذکر 54 ایک براہِ راست الٰہی خطاب کا اظہارہے جو نبوت کی بنیادی علامت ہے۔ اس کے فوراً بعد اللہ انسانیت سے وعدہ فرماتا ہے کہ اُس کی نسلوں تک ہدایت کا سلسلہ مسلسل جاری رہے گا، 55 جس سے واضح ہوتا ہے کہ وحی کا آغاز آدم
سے ہوا اور ان کی اولاد کے ذریعے جاری رہا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اس نے آدم
، نوح
اور آلِ ابراہیم
کو اپنی رحمت خاص کے لئےمنتخب فرما لیا ہے۔ 56 اسی طرح احادیثِ نبویہﷺ بھی آپ کی نبوت کی تصدیق کرتی ہیں۔ مسند احمد، 57 مستدرک للحاکم 58اور دیگر معتبر احادیث کی کتب میں آدم
کے نبی ہونے کا صاف تذکرہ موجود ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ براہِ راست وحی الٰہی کے مخاطب تھے۔ یہ تمام روایات اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ حضرت آدم
کی بعثت کا مقصد توحیدِ الٰہی کی تعلیم اور اپنی اولاد کو اخلاقی، عملی اور دینی مسائل سکھانا تھا۔ اسی لیے اسلامی روایت میں وہ ابو البشر یعنی تمام انسانوں کے والد بھی ہیں اور بیک وقت پہلے معلم اور پہلے نبی بھی۔ آپ ہی کے ذریعے نبوت کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو بالآخر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر مکمل ہوا۔
کی تخلیق کا سائنسی و بشریاتی جائزہماضی قریب اور دورِجدید کے کچھ سائنس دان اور فلسفی یہ رائے رکھتے ہیں کہ آدم اور حوّا
کی پیدائش کا واقعہ انسان کی ابتداء کا تاریخی بیان نہیں ہے کیونکہ ان کے خیال میں یہ واقعہ حقیقت میں پیش ہی نہیں آیا۔ ان کے مطابق یہ ایک علامتی، استعاراتی یا تمثیلی بیان ہے 59 جسے الفاظ کے ظاہری معنوں کے مطابق اس لئے قبول نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے نزدیک صرف 2 افراد سےاتنا وسیع جینیاتی تنوع پیدا ہونا ممکن نہیں جو آج پوری انسانیت میں پایا جاتا ہے۔ 60 حالانکہ اسکے بر عکس جان سینفرڈ (John Sanford) اور ان کے ساتھیوں کی پیش کردہ تحقیق منطقی استدلال اور عددی نمومنوں کے ذریعےیہ بتاتی ہے کہ ایسے کئی طریقے موجود ہیں جن کے مطابق حقیقی آدم و حوّا
انسانی آبادی میں نظر آنے والے جینیاتی پھیلاؤ کو جنم دے سکتے تھے۔ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ آدم اور حوّا
سے پوری انسانیت کا جینیاتی تنوع پیدا ہونا ناممکن نہیں بلکہ سائنسی طور پر بھی عین ممکن ہے۔ اس تحقیق میں عددی نمونوں کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ اگر آغاز میں آدم اور حوّا
کے کروموسومز میں پہلے سے متنوع جینیاتی معلومات رکھی گئی ہوں، پھر وقت کے ساتھ آبادی کے کم اور زیادہ ہونے کے مراحل، چند جینیاتی خصوصیات کا غالب آجانا، بعض نسلوں کا ختم ہو جانا، اور مختلف گروہوں کا پھیلاؤ جیسے عوامل مِل کر وہی جینیاتی تنوع پیدا کر سکتے ہیں جو آج دنیا میں نظر آتا ہے۔ اسی طرح ان کے تولیدی خلیوں میں موجود ابتدائی جینیاتی تنوع بھی اس قول کو تقویت دیتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ شواہد اس دعوے کو رَد کرتے ہیں کہ دو افراد سے انسانوں میں اتنا تنوع پیدا ہونا ناممکن تھا؛ بلکہ یہ ممکن تھا اور ایک منصوبہ بند تخلیقی نظام کے مطابق واضح طور پرسمجھ میں آتا ہے۔ 61
مزید برآں، یہ دعویٰ کہ کائنات کی تخلیق اور انسان کی تخلیق کے بارے میں الہامی متون میں جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں وہ محض مجازی یا علامتی ہیں—حقائق کے خلاف ہے۔ خود صحیفے کا متن واضح طور پر بتاتا ہے کہ وہ نہ شاعرانہ ہے، نہ علامتی، بلکہ سراسر تاریخی بیان ہے۔ لہٰذا بغیر کسی ٹھوس دلیل کے ان تفصیلات کو تمثیل یا محض ادبی تشکیل کہنا غیر معقول بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم و فلسفہ کے بعض داعی اس بیانیے کو علامتی ثابت کرنے پر اس لیے مُصر ہیں کہ اگر آدم اور حوّا
حقیقی تاریخی شخصیات مان لی جائیں تو ڈارون کے پیش کردہ ارتقائی نظریے کی عمارت منہدم ہو جاتی ہے، 62 اور یہ وہ نظریہ ہے جس پر سائنس دانوں اور دیگر دانش وروں نے بے شمار وسائل خرچ کردئے ہیں—تانکہ وہ وجودِ خدا کا انکار کر کے اپنے آپ کو روزِ آخرت کے محاسبہ کے تصور سے بچا سکیں— مگر یہ اب تک صرف قیاس آرائیوں، مفروضوں، اور نامکمل شواہد پر کھڑا ہے جو کہ اس کے کمزور اور کھوکھلے ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
علمِ بشریات (Anthropology) کے مطالعے میں بھی یہ بات واضح طور پر تسلیم کی گئی ہے کہ آدم اور حوّا
کا واقعہ انسانی تاریخ سے متعلق ایسے دعوے پر مشتمل ہے جو تجرباتی طور پر قابلِ تصدیق اور دنیا کی تمام اقوام میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔ 63 مثلاً خاندان کا تصور، مرد و عورت کی تکمیلِ باہمی، اخلاقی ذمہ داری، غلطی اور توبہ کا شعور—یہ تمام عناصر تقریباً ہر انسانی معاشرے میں مشترک نظر آتے ہیں جوایک ہی تاریخی اصل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ حقیقت اس بات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ آدم اور حوّا
محض علامتی یا تمثیلی کردار نہیں تھے بلکہ اُن کا وجود حقیقی تھا اور اُن کی داستان انسانیت کے اصل آغاز کا ایک درست تاریخی بیان ہے۔
الغرض، جدید سائنس فوسلز، جینیات اور جسمانی ساخت کے تقابلی مطالعے کے ذریعے انسان کی ابتدا کو براہِ راست مشاہدے سے نہیں، بلکہ استنباط (inference: یعنی موجود شواہد سے نتیجہ اخذ کرنا) کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی طرح نظریۂ ارتقاء، اگرچہ وسیع طور پر قبول کیا جاتا ہے، لیکن یہ شواہد کے چھوٹے چھوٹےٹکڑے، فوسل باقیات، جینیاتی نمونے اور جسمانی مشابہتوں کو جوڑ کر بنایا جانے والا ایک تشریحی نمونہ ہے جو تغیر کے ساتھ نسل در نسل منتقلی کی ایک ممکنہ تصویر پیش کرتا ہے۔ تاریخی علوم کی طرح یہ بھی بالواسطہ دلائل پر قائم ہے، جو یہ بتا تو سکتے ہیں کہ عمل کیسے ہوتا ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتےکہ یہ عمل کیوں شروع ہوا یا اس کا مقصد کیا تھا۔ اگر تجرباتی سائنس(Empirical Science) ادھورے مگر باہمی طور پر ہم آہنگ شواہد سے سچائی اخذ کرنے کو درست سمجھتی ہے، تو فکری دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ انسانیت کی عالمگیر تاریخی یادداشت اور قدیم تہذیبوں میں موجود اُن یکساں روایات کو بھی اہمیت دے جن میں ایک مرد اور ایک عورت کی خدا کی طرف سے تخلیق کا تصور بار بار دہرایا گیا ہے۔ ایسی عالمی حقیقت نہ محض اتفاق قرار دی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے علامتی کہانیاں کہہ کر رد کیا جا سکتا ہے۔ یہ دراصل انسانیت کی ابتدا کی اجتماعی یادداشت کا نقش ہے۔ اسلامی الٰہیات میں اس دیرپا یکسانیت کو اساطیری پھیلاؤ نہیں بلکہ خدائی حقیقت کے نشانات سمجھا جاتا ہے یعنی کہ انسان واقعی آدم اور حوّا
کی اولاد ہے اور ان دونوں کی تخلیق انسانی شعور کے آغاز کا بنیادی حصہ تھی۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ قوموں نے اس سچائی کو اساطیر اور مقامی روایات میں لپیٹ دیا، لیکن اصل حقیقت پھر بھی باقی رہی۔ مزید یہ کہ حالیہ تحقیقی کام، منطقی نمونوں اور جینیاتی تخمینوں کی مدد سےیہ دیکھا جا چکا ہے کہ ایک حقیقی آدم اور حوّا
جدید انسانی تنوع کا منبع ہو سکتے ہیں کیونکہ کروموسومی تنوع، تیز رفتار جینیاتی بہاؤ، منتخب خصوصیات کے غالب آنے اور تخلیقی تولیدی خلیوں جیسے ڈیزائن شدہ میکانزم اس ممکنہ عمل کی سائنسی وضاحت پیش کرتے ہیں۔ یوں یہ دعویٰ باطل ہو جاتا ہے کہ دو افراد سے موجودہ جینیاتی تنوع ممکن نہیں۔ سائنس تخلیق کے اندر جاری عمل کو سمجھتی اور سمجھاتی ہے، جبکہ وحی تخلیق کےاصل محرک اور مقصد کو ظاہر کرتی ہے، وہ مقصد جس تک کوئی فوسل یا ڈی این اے ٹیسٹ نہیں پہنچ سکتا۔ اس روشنی میں آدم
صرف پہلے حیاتیاتی انسان نہیں بلکہ پہلے باشعور عبادت گزار بندے اور اللہ کے پہلے نبی تھے، جنہیں علم، اخلاق اور خدائی ہدایت عطا کی گئی تھی۔ یوں انسانیت کا آغاز کسی غیر شعوری حیاتیاتی عمل کا آخری مرحلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی دنیا کے آغاز کا اعلان تھا۔ یہاں انسان کا پہلا کام صرف جینا نہیں بلکہ اپنے رب کو پہچان کر اس کے سامنے جھک جانا تھا۔ اس طرح سائنس اگر انسان کے جسم کا سراغ دیتی ہے تو وحی اس کی روح اور پوشیدہ معاملات کو ظاہر کرتی ہے کہ انسانیت کی ابتدا ایک خاص مقصد، عقل، ہدایت اور عبادت کے ساتھ ہوئی جس کے مطابق پہلا انسان آدم
تھا، اور اس کی اوّلین ذمے داری اسلام یعنی خالق کے حضور کامل فرماں برداری تھی۔