الحاد (Atheism) یونانی لفظ "اےتھیوس" (a-theos) سے ماخوذ ہے جس کے معنی "خدا کے بغیر" کے ہیں۔ یہ لفظ مغرب کے فکری پسِ منظر میں پروان چڑھا اور مختلف ادوار میں خدا سے متعلق بدلتے ہوئے تصورات کے ساتھ اس کا مفہوم بھی بدلتا رہا۔ دور حاضر میں اس کی مختلف اقسام اور درجہ بندیاں پائی جاتی ہیں جس کے تحت الحاد کو عالمی (Global) یا مقامی (Local) الحاد، مضبوط/مثبت (Strong/Positive) یا کمزور/منفی (Weak/Negative) الحاد، اورصریح (Explicit) یا ضمنی (Implicit) الحاد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ کچھ روحانی/ وجدانی (Mystical) افکار اور کچھ دیگر الحاد سے مشابہ نظریات بھی اس ضمن میں شامل کئے جاتے ہیں۔ قدیم الحاد یونانی فلسفیانہ تنقیدات سے لے کر عصرِ نشاۃ ثانیہ اور پھر مارکس، نطشے اور رسل جیسے مفکرین تک پھیلا ہوا ہے جبکہ جدید الحاد اکیسویں صدی کی ایسی تحریک ہے جو ہیریس(Harris)، ڈاکنز(Dawkins)، ڈینیٹ (Dennet) اور ہچنز (Hitchens) جیسے ناموں سے جانی جاتی ہے، جس کی شناخت نئے دلائل سے نہیں بلکہ اپنے جارحانہ لب ولہجے اور سائنٹزم (scienticism) پر غیر معمولی انحصار سے بنی ہے۔
"الحاد" کی کوئی ایک ایسی اتفاقی تعریف موجود نہیں ہے جو اس کے تمام علمی و عملی پہلوؤں کا احاطہ کئے ہوئے ہو۔ 1 اس اصطلاح کا مفہوم وقت کے ساتھ خدا سے متعلقہ بدلتے ہوئے تصورات کے ساتھ تبدیل ہوتا رہا ہے۔ اگرچہ لغات عام طور پر الحاد کو اس عقیدے کے طور پر بیان کرتی ہیں کہ "خدا کا وجود نہیں"، لیکن اس کے یونانی اجزاء اس سے وسیع مفہوم پیش کرتے ہیں یعنی "خدا پر ایمان نہ رکھنا"۔ تاہم عملی طور پر آج دنیا بھر میں یہ دونوں مفاہیم ہی رائج ہیں۔
لفظ atheism قدیم یونانی لفظ atheos سے مشتق ہے جو دو اجزاء پر مشتمل ہے: "a" جس کے معنی "بغیر" یا "فقدان" کے ہیں، اور "theos" جس کے معنی "خدا" یا "معبود" کے ہیں۔ 2 قدیم یونان میں atheos کا بنیادی مفہوم "بے خدا/ خداؤں سے محروم" یا "اُن کی حمایت سے خالی شخص" تھا۔ 3 یہ لفظ عموماً بطور الزام استعمال کیا جاتا تھا نہ کہ بطور ذاتی پہچان کے۔ 4 مثال کے طور پر بعد میں رومی مصنفین نے اس اصطلاح کا اطلاق ملامت کے طور پر ان لوگوں پر کیا جو ریاستی یا شہری مذہب کے معبودوں کا انکار کرتے تھے، جیسے بعض فلسفی، 5 ایپی کیوریائی(Epicurean) مفکرین،یا وہ ابتدائی عیسائی جو یونانی و رومی دیوتاؤں کی پرستش نہیں کرتے تھے۔ 6 اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یونانی ورومی معاشروں میں ریاستی مذہب کے خلاف ورزی بغاوت کے مترادف سمجھی جاتی تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس لفظ کی معنوی جہت تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ اگرچہ atheos کبھی کبھار صرف مذہبی رسم و رواج سے بے توجہی کے معنی میں بھی آتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ یہ لفظ خداؤں کے وجود کے واضح اِنکار کے معنی میں زیادہ استعمال ہونے لگا۔ 7 لاطینی روایت میں یہ لفظ atheus بنا اور اسی الزاماتی مفہوم کے ساتھ استعمال ہوتا رہا۔ 8 نشاۃِ ثانیہ اور ابتدائی جدید دورمیں، جب یورپ مذہبی ابحاث اور فلسفیانہ مناظروں کا مرکز بنا، تو یہ تصور مختلف یورپی زبانوں میں داخل ہواخصوصاً فرانسیسی میں athéisme کی شکل میں جو 16ویں صدی کے وسط سے مستعمل ہے۔ 9 فرانسیسی سے یہ لفظ انگریزی زبان میں داخل ہوا۔ اس کا پہلا استعمال 1540 میں سر جان چیک (Sir John Cheke) کے پلوٹارک (Plutarch) کے ترجمے میں ملتا ہے، اور 1587 تک یہ عام ہو چکا تھا۔ تقریباً 1540 سے 1630 کے درمیان، اس لفظ کا مفہوم ایک بڑے تغیّر سے گزرا۔ پہلے یہ لفظ گمراہی، بدعت یا مذہبی بغاوت کے الزام کے لیے بولا جاتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ—اور پھر فیصلہ کن طور پر—اس کا استعمال خدا کے وجود کے انکار کے مفہوم میں مستحکم ہو گیا۔ یہی مفہوم بعد ازاں عہدِ تنویریا عہد روشن خیالی (Enlightenment) میں پوری طرح راسخ ہو گیا، جب خدا کے وجود، وحی اور مذہب کے بارے میں فلسفیانہ سوالات زیادہ صراحت سے پیش کیے گئے۔ 10 یوں لفظ"atheism"کی لسانی تاریخ کا وسیع ارتقائی سفر ہمیں بتاتا ہے کہ یہ تصور ابتدا میں محض دینی بغاوت کا الزام تھا، قرونِ وسطیٰ اور اوائلِ جدید دور میں یہ بدنامی اور انحراف کی تہمت بن گیا، اور جدید دور میں یہ رفتہ رفتہ ایک منظم فلسفیانہ نقطۂ نظر اور ثقافتی و فکری نظریے کی صورت میں سامنے آیا جو "انکارِ خدا" کے خاص مفہوم میں استعمال ہونے لگا۔
دور حاضر میں الحاد کی مختلف انواع پر مشتمل درجہ بندی کی جاتی ہے جو اس کے مختلف پہلوؤں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ کبھی الحاد عالمی (Global) ہوتا ہے یعنی تمام خداؤں کے وجود کا انکار، اور کبھی مقامی (Local)، یعنی کسی خاص تصورِ خدا کی نفی۔ اعتقادی قوت (doxastic strength) 11 کے لحاظ سے یہ قوی (Strong) یا مثبت (Positive) الحاد کی صورت میں سامنے آتا ہے جو خدا کے عدمِ وجود کا دعویٰ کرتا ہے، اور کمزور (Weak) یا منفی (Negative) الحاد کی شکل میں جو صرف ایمان کو معطل رکھتا ہے مگر عدمِ وجود کا دعویٰ نہیں کرتا۔ بنیاد کے اعتبار سے صریح (Explicit) الحاد وہ ہے جو غور و فکر کے بعد خدا کے تصور کو رَد کرے، جبکہ ضمنی (Implicit) الحاد غیر شعوری عدمِ ایمان ہے جس میں فرد نے اس مسئلے پر کبھی سنجیدہ غور نہیں کیا۔ فلسفیانہ و اخلاقی امتزاجات جیسے انسانیت یا لادینی (Humanistic/Secular) پر مبنی الحاد ایک غیر مذہبی اخلاقی نظام تجویز کرتے ہیں، جبکہ اگناسٹک (Agnostic) الحاد ایمان سے خالی ہونے کے ساتھ علم کے دعوے بھی معطل رکھتا ہے۔ رویّاتی (Attitudinal) اقسام میں اینٹی تھِی اِزم (Anti-theism) خدا کے تصور کی مخالفت اور اَپی تِھی اِزم (Apatheism) خدا کے سوال سے بے نیازی کی نمائندگی کرتا ہے۔ جذباتی و تجرباتی سرحدوں میں مِسوتھی اِزم (Misotheism)— تصورِ خدا کے خلاف منفی جذبات — اور وجدانی الحاد — خدا کے بغیر بھی روحانی تجربے کا دعویٰ — یہ ظاہر کرتے ہیں کہ الحادی رجحانات اپنے زاویہ نظر، طریقۂ کار اور فکری بوجھ کے لحاظ سے آپس میں مل بھی سکتے ہیں اور ایک دوسرے سے مختلف بھی رہتے ہیں۔
عالمی الحاد وہ نظریہ ہے جو تمام الٰہی ہستیوں کے وجود کا انکار کرتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا میں کسی بھی معتبر خدا کا تصور حقیقت میں موجود نہیں۔ الحاد کی یہ صورت کسی ایک خد کے تصور کو رد نہیں کرتی بلکہ توحیدی، مشرکانہ، اور ہمہ اوست (Pantheistic) نظریات میں موجود خدا کے تصور کو بھی رد کرتی ہے۔ اس وسیع دائرہ کار کی وجہ سے عالمی الحاد کو تمام ممکنہ خدائی تصورات کا جامع رَد پیش کرنا پڑتا ہے، جو کہ ایک نہایت مشکل کام ہے۔ اس کے دلائل اکثر مابعدالطبیعیاتی طبعیت سے جڑے ہوتے ہیں جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ حقیقت کو مکمل طور پر طبیعی اسباب سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بحث بھی شامل ہوتی ہے کہ آیا "خدا" ہونا لازماً اس بات کو بھی شامل کرتا ہے کہ وہ "قابلِ عبادت" ہو یا نہیں 12 کیونکہ یہ بحث اصل میں اس نکتہ پر ہے کہ ہر وہ ہستی جو کسی تعریف کے مطابق”خدا“کہلا سکتی ہے، کیا لازماً اخلاقی اور وجودی اعتبار سے ایسی بھی ہونی چاہیے کہ اس کی عبادت واجب یا مناسب قرار پائے۔
مقامی الحاد تمام خداؤں یا ماورائے فطرت ہستیوں کو غلط ثابت نہیں کرتا بلکہ چند خاص اور مخصوص علاقائی خدائی تصورات کی نفی کرتا ہے۔ عصرِ حاضر میں فلسفۂ مذاہب کی بیشتر بحثیں اسی دائرے میں آتی ہیں۔ مقامی الحاد عموماً قدیم روایتی الٰہیات کے خدائی تصورات کو چیلنج کرتا ہے، یعنی اُس خدا کو جو قادرِ مطلق، علیمِ مطلق اور سراپا خیر سمجھا جاتا ہے۔13 اس نظریہ میں "مسئلہ شَر" بہت اہمیت کا حامل ہے۔ مسئلہ شر کے مطابق دنیا میں موجود تکالیف، ظلم اور دکھ اس بات کو مشکوک بناتے ہیں کہ کوئی ایسا خدا موجود ہو جو بیک وقت سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قادر اور سراپا خیر ہو اور اس کی موجود گی میں کوئی کسی کو تکلیف دے سکے، کسی پر ظلم کر سکے یا دُکھی ہو۔ ایک اور اعتراض الٰہیاتی پوشیدگی کا ہے، جس کے مطابق خدا کا بظاہر چھپا رہنا اور اپنے آپ کو واضح طور پر ظاہر نہ کرنا، اُس ہستی کے وجود سے میل نہیں کھاتا جو سراسر محبت کرنے والی اور اپنی مخلوق کی بھلائی چاہنے والی ہو۔
مقامی الحاد کو زیادہ معتدل اور قابلِ دفاع موقف سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ تمام خداؤں کے وجود کی نفی کرنے کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ صرف مخصوص عقائد یا خدائی تصورات کو چیلنج کرتا ہے، اور یوں یہ امکان کھُلا چھوڑ دیتا ہے کہ خدا یا کسی حتمی حقیقت کا کوئی متبادل یا مختلف تصوربھی موجود ہوسکتا ہے۔
قدیم/کلاسیکی الحادکی بنیاد سائنس کے بجائے مضبوط فلسفیانہ دلائل پر قائم تھی۔ اس قسم کےالحاد کی جڑیں قدیم یونانی فلسفی و مفکرین، جیسے ڈیموکریٹَس (Democritus)، لیوسیپس (Leucippus)، اور بعد کے ایپیکیوریائی (Epicureans) فلسفیوں تک جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ لوگ متشدد ملحد نہیں تھے مگر انہوں نے مذہب کو خوف اور بدبختی کی جڑ قرار دے کر اس پربھرپور تنقید کی۔ تحریک نشاۃ ثانیہ کے دور میں ڈینس ڈیڈروٹ (Denis Diderot) اور بیرون ڈولباخ (Baron d’Holbach) جیسے مفکرین نے مذہب پر براہِ راست تنقیدکی، جبکہ ڈیوڈ ہیوم (David Hume) اور وولٹیر (Voltaire) نے شکّی (skeptical) اور ڈائیسٹک (deistic) 14 موقف اختیار کیا۔ انیسویں صدی کے آغاز میں الحاد کے نسبتاً زیادہ جرّی دفاع سامنے آئے، جیسے پرسی بیش شیلی (Percy Bysshe Shelley) کی تحریر The Necessity of Atheism (1811)، اور اس کے بعد کارل مارکس(Karl Marx) اور فریڈرک نطشے (Frederick Nietzsche) کے خدا، اخلاقیات اور معاشرے پر وسیع اور گہرے فکری و تہذیبی اعتراضات۔ یہ تمام لوگ اپنے مقدمات کو بنیادی طور پر فلسفے کے ذریعے مضبوط کرتے رہے۔ بیسویں صدی میں الحاد کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے کا بیڑا اے۔ جے۔ آئیر (A. J. Ayer)، جان ڈیوی (John Dewey)، اور برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell) نے اٹھایا اور یہ تمام ہی لوگ فلسفہ کی بنیاد پر مذہب کو رد کرتے رہے۔ یوں قدیم الحاد کے دلائل، خواہ وہ مخصوص خداؤں کے وجود کے خلاف ہوں یا لادین مادّیت پسندی کے حق میں، فطری طور پر "فلسفیانہ نوعیت" کے حامل تھے۔ 15 گویا اکیسویں صدی میں جدید الحاد (New Atheism) کے ظہور سے پہلے تک، الحاد بنیادی طور پر ایک فلسفیانہ موقف تھا، جو مابعد الطبیعات، اخلاقیات اور علمیات (epistemology) کی مباحث میں زیادہ سرگرم تھا، نہ کہ سائنسی مناظرانہ بیانیے میں۔
جدید الحاد ایک ایسی تحریک کو کہا جاتا ہے جو سیم ہیریس کی کتاب The End of Faith (2004) سے شروع ہوئی اور جسے رچرڈ ڈاکنز (Richard Dawkins)، ڈینیئل ڈینیٹ (Daniel Dennett)، اور کرسٹوفر ہچنز (Christopher Hitchens) کے کاموں نے عام کیا، جنہیں اکثر "جدید الحاد کے چار گُھڑ سوار" کہا جاتا ہے۔ جدید الحاد مذہب کے خلاف کوئی نیا فلسفیانہ استدلال پیش نہیں کرتا کیونکہ ان کے اکثر اعتراضات پہلے کے ملحد مفکرین کے کاموں کا سرقہ یا اس میں معمولی اضافے ہیں۔ جدید الحاد کی نمایاں خصوصیات علم و فلسفہ کے بجائے تند و تیز لہجہ، حکمتِ عملی، سائنس پر مکمل انحصار اور جارحانہ شدت پسندی ہے۔ اس تحریک کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ خدا کے وجود کو ایک سائنسی مفروضے کے طور پر لیا جانا چاہیے 16 جبکہ یہ خود اپنے نظریہ کے حوالہ سے کوئی ٹھوس دلائل نہیں پیش کرسکی ہے۔ اس طرح جدید الحاد کا بنیادی اصول سائنٹسزم ہے(scientism)، یعنی کہ علم کا واحد معتبر ذریعہ سائنس ہے — جس کی بنیاد پر وہ الٰہیات اور فلسفے کو پوری طرح بحث سے خارج قرار دیتے ہیں۔
اس نظریہ کے مطابق کسی خداکا وجود نہیں ہے۔ ایک راسخ العقیدہ ملحد یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ خداکے وجود سے متعلق سارےدعوے غلط ہیں۔ اس موقف میں عام طور پر خدا یا خداؤں کے غیر موجود ہونے کا قطعی اور مثبت دعویٰ شامل ہوتا ہے 17 یعنی محض عدمِ ایمان نہیں بلکہ وجودِ خدا کی صاف اور حتمی نفی۔
یہ کسی بھی خدا پر ایمان نہ رکھنے کا نظریہ ہے۔ ایک کمزور یا منفی ملحد یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ خدا موجود نہیں ہے، بلکہ اس نظریہ کے مطابق اس کے پاس ایمان رکھنے کی کوئی وجہ یا بنیاد موجود نہیں ہوتی۔ یہ غیر اعتقادی حالت ہے، نہ کہ خدا کے عدمِ وجود کا کوئی قطعی دعویٰ۔ 18 اس نظریہ کے تحت اس گروہ میں وہ لوگ بھی شامل کئے جا سکتے ہیں جو اس سوال سے بے پرواہ ہیں، یا جنہوں نے کبھی سنجیدگی سے اس مسئلے پر غور ہی نہیں کیا۔
غیر صریح الحاد سے مراد شعوری طور پر مذہبی دعوؤں کو رد کئے بغیر خدا یا خداؤں پر ایمان نا لانا یعنی یہ صرف عدمِ ایمان ہے نہ کہ خدا کی شعوری نفی۔ یہ کیفیت اُن بچوں، تنہا افراد، دور دراز معاشروں یا اُن افراد میں پائی جا تی ہے جنہوں نے کبھی خدا کے تصور پر سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا۔ دوسرے الفاظ میں غیر صریح الحاد اُس حالت کو بیان کرتا ہے جس میں انسان "ایمان نہیں رکھتا " لیکن یہ نہیں کہ وہ "ایمان کو جان بوجھ کر مسترد کرتا ہے"۔ یہ درجہ بندی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ الحاد صرف عقلی دلائل یا فلسفیانہ انکار پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات یہ صرف لاعلمی یا عدمِ غور و فکر کا نتیجہ بھی ہوتا ہے۔ 19 مذہب کے ماہرین اس امتیاز کو اہم سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے سماجی ماحول، ثقافتی اثرات اور علم کی ترسیل سے مذہبی سوچ پر اثر واضح ہوتا ہے۔
صریح الحاد جسے بعض اوقات مثبت الحاد (Positive Atheism) یا تنقیدی الحاد (Critical Atheism) بھی کہا جاتا ہے، خدا یا معبود کے وجود کے عقیدے کو شعور، ارادے اور سمجھ بوجھ کے ساتھ رد کرتا ہے۔ یہ لاعلمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ مذہبی دعوؤں سے واقفیت اور ان کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد اس لئے پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس کے حاملین کے مطابق یہ دعوے غلط یا ناقابلِ قبول ہوتے ہیں۔ اس اصطلاح کو جارج ایچ اسمتھ (George H. Smith) نے اپنی کتاب Atheism: The Case Against God میں عام کیا، جہاں اس نے صریح الحاد کو "غور و فکر کے بعد ایمان کا شعوری انکار" قرار دیا۔ یہی پہلو اسے غیر صریح یا ضمنی الحاد سے ممتاز کرتا ہے، جس میں فرد خدا کے وجود پر غور کیے بغیر محض ایمان نہ رکھنے کی حالت میں ہوتا ہے۔ 20
تاریخی طور پر صریح الحاد کا تعلق عقلیت پسندی اور تجربیت سے جوڑا گیا ہے۔ اگرچہ پال ایڈورڈز نے اپنی معروف تحریر "Atheism"(انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی) میں صریح یا تنقیدی الحاد جیسی بعد کی اصطلاحات استعمال نہیں کیں، لیکن اس نے الحاد کو “خدا کے وجود کا دلیل کی بنیاد پر انکار“ قرار دیا، جو اسی مفہوم کی ترجمانی کرتا ہے—یعنی ایسا موقف جو عقلی و تجرباتی تنقید کے نتیجے میں تشکیل پاتا ہے نہ کہ محض ایمان کی عدم موجودگی کی بنیاد پر۔ایڈورڈز یہ بھی واضح کرتا ہے کہ صریح ملحدین، خدا کے وجود کی نفی اصولی اور فکری بنیادوں پر کرتے ہیں، اور عام طور پر دینیات کے روایتی دلائل،مثلاً کونیاتی اور غائیاتی (Teleological) دلائل کو منطقی تجزیے کے ساتھ چیلنج کرتے ہیں۔ 21یوں صریح الحاد دراصل ایک اعلانیہ دعوے کی صورت اختیار کرتا ہےکہ "خدا موجود نہیں ہے"جو محض ایمان معطل رکھنے سے علیحدہ اور مستقل نوعیت رکھتا ہے۔
یہ ایک ایسا فلسفہ ہے جو الحاد کو اخلاقی اور عملی نظام کے ساتھ جوڑتا ہے یعنی ایسا نظام جو خدا کی حاکمیت و اختیار کے بجائے انسانی عقل، تصور ہمدردی اور انصاف پر قائم ہو۔ یہ ایک ایسا اخلاقی عالمی نظریہ ہے جو انسانی عقل، سائنسی تحقیق اور ان اخلاقی قدروں پر زور دیتا ہے جو انسانی تجربے سے اخذ ہوتی ہیں، نا کہ مذہبی حاکمیت سے۔ یہ اکثر منشورات (manifestos) اور تنظیمی پروگراموں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جن کا مقصد زندگی کے لیے ایک ہمہ گیر غیر مذہبی فلسفہ پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس کے ماننے والے اچھی اور بامقصد زندگی گزارنے، انسانی خوش حالی اور دنیاوی ترقی پر توجہ دیتے ہیں۔Humanist Manifesto II (1973) جس پر پال کرٹس اور آئیزک ازیموف جیسے فلاسفہ کے دستخط ہیں، اعلان کرتا ہے:
We find insufficient evidence for belief in the existence of a supernatural; it is either meaningless or irrelevant to the question of the survival and fulfillment of the human race. As non-theists, we begin with humans not God, nature not deity. 22
ہمیں ما فوق الفطرت وجود رکھنے والی ہستی کے بارے میں ایمان لانےکے لیے ناکافی ثبوت ملتے ہیں؛ یہ یا تو بے معنی ہے یا نوعِ انسان کی بقا اور تکمیل کے سوال سے غیر متعلق۔ لادین ہونے کے ناتے ہم خدا سے نہیں بلکہ انسان سے آغاز کرتے ہیں، دیوتا سے نہیں بلکہ فطرت سے کرتے ہیں۔
یہ موقف نا خدا کے وجود پر ایمان لانے کی تعلیم دیتا ہے اور نا ہی اس کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ عام طور پر اسے الحاد کے مقابل رکھا جاتا ہے لیکن یہ درست نہیں کیونکہ لاادری الحاد (Agnostic Atheism) اور قوی یا مثبت (Positive Atheism) الحاد ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔قوی ملحد(Strong) کے مطابق خدا موجود نہیں جبکہ لاادری ملحد کا مؤقف ہے کہ خدا کے وجود یا عدمِ وجود کا یقینی علم ممکن نہیں۔ یعنی ایک کے مؤقف کو صحیح ماننے سے دوسرا غلط ہوجاتا ہے۔ اس کے برخلاف، لاادری الحاد کمزور یا منفی الحاد کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، کیونکہ دونوں میں خدا پر ایمان نہ رکھنے کی مشترک حالت پائی جاتی ہے۔ تاہم یہ بات ضروری نہیں کہ ہر منفی ملحد لاادری ملحدبھی ہو کیونکہ یہ ملحد خدا پر ایمان نہ رکھتے ہوئے بھی یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ خدا کا وجود ناقابلِ معلوم ہے۔ 23
اینٹی تھی اِزم اُس طرزِ فکر کو کہا جاتا ہے جس میں انسان اپنی سوچ اور دنیا کو سمجھنے کی بنیاد خدا کے وجود کے انکارپرقائم کرتا ہے۔یہ الحاد سے مختلف ہے، کیونکہ الحاد صرف اس عقیدے کا نام ہے کہ کوئی خدا موجود نہیں، اور اس میں فی نفسہ تھی اِزم کے خلاف دشمنی شامل نہیں ہوتی کیونکہ جس چیز کا وجود ہی نہ مانا جائے اس سے دشمنی منطقی طور پر بے معنی ہے۔ بعض اوقات مذہبی اداروں، مذہبی اکابرین کا اثر، یا تاریخی زیادتیوں پر تنقید فطری ہوتی ہے، لیکن محض دین سے نفرت کو اپنی پوری سوچ کی بنیاد بنا لینا انسان کے فکری دائرے کو بہت محدود کر دیتا ہے۔ ایک انسانی یا سیکولر نقطۂ نظر میں خدا کے وجود کو رَد کرنے کے بعد ایک تعمیری، عقلی اور شواہد پر مبنی تصورِ کائنات اور تصورِ اخلاق پیش کرنا ضروری ہے۔ اس اعتبار سے ردِّ الہیت بہت تنگ دائرہ مؤقف ہےجو کہ ایک مکمل طرزِ زندگی فراہم نہیں کرتا۔ 24 یہ مذہب مخالف لوگ نہ صرف خدا پر ایمان نہیں رکھتے بلکہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مذہب معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ توہم پرستی، غیر عقلیت اور تنازع کو بڑھاتاہے۔ رچرڈ ڈاکنز (Richard Dawkins) اور کرسٹوفر ہچنز (Christopher Hitchens) جیسے مفکرین کی تحریک “نیو ایتھی ازم“کو عام طور پر ردِّ الہٰیت کی ہی ایک شکل سمجھا جاتا ہے۔
یہ مؤقف خدا کے وجود کے سوال کے بارے میں بے رُخی یا عدمِ دلچسپی ظاہر کرتا ہے۔ یہ تھی اِزم، الحاد اور لاادریت سے مختلف ہے جو ایمان یا علم کے دعوؤں سے متعلق ہوتے ہیں۔ اس بے اعتنائی پر مبنی الحاد کا تعلق "اہمیت"سے ہے "سچائی"سے نہیں۔ یہ ایک الگ زاویہءِنگاہ ہے۔ کوئی شخص خدا کا ماننے والا، نہ ماننے والا یا لاعلمی کا قائل ہو کر بھی بے اعتنائی پر مبنی الحاد قبول یا رد کرسکتا ہے۔ کچھ خدا پرست، خاص طور پر وہ جو خدا کو غیر مداخلت کرنے والا مانتے ہیں، اسے قابلِ قبول سمجھتے ہیں۔ یہ عام طور پر ملحدوں اور لاادریوں کے لیے زیادہ پُرکشش ہوتا ہے جو زندگی کو مذہبی وابستگی کے گرد ترتیب نہیں دیتے۔ اس نظریہ کے ناقدین کہتے ہیں کہ یہ ایک اہم سوال سے بچنے کی کوشش ہے جبکہ اس نظریہ کے حامی کہتے ہیں کہ یہ انسان کو عملی اور روزمرّہ کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع دیتا ہے۔ 25عملًابے اعتنائی پر مبنی رویہ رکھنے والے ملحدین اپنی زندگی مذہبی سوالات کے گرد نہیں گزارتے اور خدا کے وجود کو اپنی روزمرہ ترجیحات کے لیے غیر متعلق سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ سوال کہ خدا ہے یا نہیں کوئی اہمیت کا حامل نہیں ہے کیونکہ یہ ان کی عملی زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈالتا، چاہے خدا کے وجود کا امکان مان لیا جائے یا رد کردیا جائے۔
یہ وہ نقطۂ نظر ہے جس میں انسان خدا کے وجود کا انکار نہیں کرتا بلکہ خدا سے نفرت، ناراضگی یا گِلہ رکھتا ہے۔ اس کا اعتراض علمی یا وجودی نہیں بلکہ اخلاقی نوعیت کا ہوتا ہے یعنی وہ دنیا میں موجود برائی، تکلیف اور ناانصافی کو دیکھ کر خدا کے کردار یا نظامِ کائنات پر اعتراض کرتا ہے، اس لیے وہ اکثر خدا پر الزام لگاتا ہے، نہ کہ اس کے وجود پر شک کرتا ہے۔ اس کی مختلف صورتیں ملتی ہیں جیسا کہ مکمل خدا سے نفرت کا رویہ، جس میں خدا سے نفرت اور عبادت سے صاف انکار شامل ہے؛ لا ادریت پر مبنی خدا سے نفرت کا رویہ ، جس میں کوئی شخص خدا کے وجود کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوتا ہے مگر ایسے خدا کے تصور ہی سے نفرت رکھتا ہے جو ظلم و جبر کو نہیں روکتا اور سیاسی نوعیت کا خدا سے نفرت پر مبنی رویہ جس میں اصل دشمنی مذہبی اداروں اور خدا کے نام پر قائم عوامی روایتوں سے ہوتی ہے۔ یہ الحاد سے مختلف ہے کیونکہ الحاد خدا کے وجود کی نفی کرتا ہے، جبکہ مِسوتھی اِزم(Miso-Theism) میں خدا سے دشمنی شامل ہوتی ہے۔ البتہ کبھی کبھی خدا سے نفرت کرنے والا یہ شخص ملحد یا مذہب مخالف بن جاتا ہےمثلا: جب انسان کے ساتھ کچھ برا واقعہ پیش آتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اگر خدا ہوتا تو میرے ساتھ ایسے نہیں ہوتا، یا اگر خدا نے میرے ساتھ ایسا کیا ہے تو میں اس کی عبادت نہیں کروں گا۔ 26خلاصہ یہ کہ مِسوتھی اِزم خدا کے خلاف اخلاقی بغاوت ہے، جبکہ الحاد خدا کے وجود سے متعلق عقیدے کا فرق ہے؛ دونوں منطقی طور پر الگ ہیں، اگرچہ عملی زندگی میں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
روحانی / وِجدانی الحاد کومٹے-سپون ویل (Comte-Sponville) کے نزدیک ایک بدون خدا مگر فطرت دوست روحانیت ہے، یعنی ایک ایسی روحانی کیفیت جو کسی ماورائی خدا کو مانے بغیر بھی اپنے عروج پر وجدانی یا صوفیانہ تجربے تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے مطابق اس تصور میں کوئی تضاد نہیں کہ "بغیر خدا کے بھی روحانی زندگی ممکن ہے" کیونکہ اگر کائنات کی ہر چیز فطری یا قدرتی ہے تو روح اور لطیف کیفیات بھی اسی فطرت کا حصہ ہیں۔ روحانی تجربے کی انتہا پر انسان ایک ایسی کیفیت سے گزرتا ہے جوتصوف کی حالت سے ملتی جلتی ہوتی ہے، مگر یہ کسی عقیدے یا مذہبی ڈھانچے پر مبنی نہیں ہوتی، بلکہ یہ وجود کے محض پر قائم ہوتی ہے۔ اسی حوالہ سے وٹگنسٹائن ( Wittgenstein) کہتا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا کیسی ہے، بلکہ اصل بات یہ ہےکہ دنیا موجود ہے یعنی یہ دنیا اور اس کی تمام چیزیں تجربہ، احساس، خاموشی موجود ہے اور یہ کوئی مذہبی بات یا عقیدہ نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے۔ 27
اس بحث سےکومٹے-سپون ویل نتیجہ نکالتا ہے کہ روحانی / وِجدانی الحاد نظریاتی طور پر بھی قابلِ فہم ہے اور تاریخی طور پر بھی۔ خصوصاً مشرقی روایات، بدھ مت و دیگر غیرتوحیدی مکاتبِ فکر میں روحانی تجربات اور اس سے متعلقہ کئی مثالیں موجود ہیں۔ وہ ڈی لوبیک(de Lubac)، لیبنیز(Leibniz)اور کوجیو(Kojeve)جیسے مفکرین کے حوالوں سے ثابت کرتا ہے کہ کس طرح متصوفین کا تجربہ اکثر مذہبی روایات کو تحلیل کر دیتا ہے یعنی کہ روحانی / وِجدانی تجربہ مذہبی عقائد اور کہانیوں پر نہیں بلکہ براہِ راست اپنے اندر پیدا ہونے والی گہری روحانی کیفیت پر قائم ہوتا ہے۔ وہ نطشے (Nietzsche) کے جملے "میں ایک صوفی ہوں اور کسی چیز پر ایمان نہیں رکھتا"کو بطور دلیل پیش کرکے مذہب اور روحانیت کے درمیان فرق کو نمایاں کرتا ہے 28 کہ یہ دونوں الگ شے ہیں اور بغیر مذہب کے بھی انسان کو روحانی کیفیت محسوس ہوسکتی ہے۔ یوں روحانی / وِجدانی الحاد معروف الحاد کی ایک نسبتاً کم معروف مگر باریک قسم ہے جو خدا کے تصور کو تو رَد کرتی ہے لیکن کائنات میں پائے جانے والے وجد، سکون، یا باطنی تجربے جیسے احساسات کو قبول کرتی ہے ۔
اس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ الحاد کوئی سادہ سا نظریہ نہیں بلکہ مختلف اقسام اور درجوں پر مشتمل ایک ایسا گنجلک مجموعہ ہےجو اپنے ہدف، دعویٰ، دلائل اور رویّے کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔ اسی لئے فکری غلطی و ابہام سے بچنے کے لئے اس کی اقسام کو جاننا ضروری ہے، خواہ وہ عالمی(Global) ہو یا مقامی(Local)، قوی (Strong) ہو یا کمزور(Weak)، صریح (Explicit) ہو یا ضمنی (Implicit)، انسانی اقدار یا لادینیت پر مبنی (Humanistic) ہو یا لاادری (Agnostic)، ردِّ الہٰیت (Anti-Theistic) پر مبنی ہو یا بے اعتنائی پر مبنی (Apa-theistic)، خدا سے نفرت پر مبنی (Miso-theistic) ہو یا روحانی / وِجدانی (Mystical)۔ تاہم یہ تمام درجہ بندیاں صرف توضیحی نوعیت کی ہیں،انسان کے حتمی مسائل کا حل پیش کرنے والی نہیں ہیں۔ یہ انسان کے بنیادی سوالات، جیسا کہ اصلِ وجود، ذندگی کے معنی، مقصد اور انجام وغیرہ کا جواب نہیں دیتیں۔ مذہب، خصوصاً اسلام، ایک مکمل علمی و نظریاتی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جس میں توحید کائنات کو اس کے خالق سے وابستہ کرتی ہے،رسالت قابلِ اعتماد رہنمائی عطا کرتی ہے، مقاصدِ شریعت اخلاق، بھلائی اور انسانی زندگی کے معروضی مقاصد طے کرتے ہیں،اور آخرت کی جواب دہی، عدل اور امید کی آخری بنیاد فراہم کرتی ہے۔اس تناظر میں الحاد کی درجہ بندیاں اختلافات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں، جبکہ اسلام ہمیں وجود، اخلاق اور مقصدِ حیات کا ایک مربوط اور کامل تصور عطا کرتا ہے جو انسانوں کو زندگی کے ہر پہلو کے حوالے سے کامل ہدایات فراہم کرتا ہے۔