حضور
کا مقام ولادت تاریخ انسانی میں نہایت اہل مقام ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حضور
دنیا میں تشریف لائے تھے۔ اہل عرب جو صحرائی لوگ تھے اور اکثر دنیا سے ناآشنا تھے، حضور
کی آمد کے بعد ، اخلاقی، عقلی، معاشی، عسکری، مذہبی اور سیاسی طاقت کے اعتبار سے بلند ہوچکے تھے۔ یہ انقلاب سرزمین عرب تک محدود نہیں رہا بلکہ مختصر عرصے میں عالمی سطح تک پھیل چکا تھاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ انسانوں کے غلام بن چکے تھے انہیں آزادی ملی اور انہوں نے دین اسلام کے سائے میں آکر اپنے حقیقی خدا سے رشتہ استوار کیا۔
حضور
کا مولد مبارک مسلمانوں کے نزدیک بہت مقدس مقام ہے۔ یہ مقام سرکاری اور مذہبی سطح پر انتہائی بلند درجہ کا حامل ہےاور اس مقام کی حقیقت خبر متواتر سے ثابت ہے۔ 1عبدالوہاب ابراھیم 2اور شیخ نبہانی3کے مطابق حضور
کا مولد مبارک مکہ میں موجود بیت اللہ کے بعد سب سے افضل مقام رکھتا ہے۔اس مقام پر کثیر مسلمان اپنی دعاؤں کی قبولیت کی نیت سے حاضری دیتے ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں اپنی التجائیں پیش کرتے ہیں کیونکہ کثیر علماءِکرام بیان فرماتے ہیں کہ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ سے سوال کیا جائے تو رد نہیں کیا جاتا۔4
حضور
کا مولد مبارک شعب بنی ہاشم کی قدیم شاہراہ پر موجود ہے اور مسجد حرام کے مشرق میں سوق اللیل میں واقع ہے۔ اس وقت وہاں مکہ لائبریری قائم ہے۔ اصل میں یہ جگہ شعب بنی ہاشم میں حضور
کی والد حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب
کا گھر تھا۔ اس جگہ پر ہاشم قبیلے نے سکونت اختیار کی ہوئی تھی۔ یہ مسجد حرام کا مشرقی حصہ تھا۔5
کے مولد کے اقوالتاریخی ادوار میں کثیر علماء و صالحین نے اپنے علم کے مطابق حضوراکرم
کے مولد کے متعلق ہمیں آگاہ کیا ہے۔ بعض علماء اس جانب گئے ہیں کہ حضور
کے مولد معلوم نہیں کیا جاسکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع اسلام میں اس مقام کے متعلق معلومات کو سنبھالا نہیں گیا تھا۔ بعد ازاں، حضور
کے مولد کے متعلق مختلف آراء کو جانچا گیا اور اس کی حقیقی حیثیت کے بارے میں چھان بین کی گئی، متعدد سوالات کے جوابات دیے گئے، اس کے بعد حضور
کے مولد کے متعلق سیر حاصل کلام تاریخی کتب اور سیرت مبارک میں تحریر کردیا گیا ہے۔
حضور
کا مولد رقبہ کے اعتبار سے ایک پلنگ جتنا تھا۔ العياش بیان کرتے ہیں کہ حضور
کے مولد کا اصل مقام معین کرنا ایک مشکل کام ہے کیونکہ یہ بات واضح نہیں کہ آپ مکہ میں پیدا ہوئے یا مکہ سے باہر کسی اور مقام پر۔ پہلے تو یہ بات جاننی ہے کہ آپ
کی ولادت باسعادت مکہ میں ہوئی یا نہیں۔اگر آپ
کی ولادت مکہ میں ہوئی ہے تو کس گھر میں؟ اور گھر کے کس مقام پر؟ العياش نے یہ بھی کہا ہے کہ ان مقامات کو محفوظ نہیں رکھا گیا ، کیونکہ جب آپ
دنیا میں تشریف لائے تو وہ جاہلیت کا دور تھا، کسی کو بھی اس مقام کی حفاظت کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا نہ کوئی اس کوشش میں مصروف تھا۔جب اس سرزمین پر نور اسلام جگمگایا، اس کے بعد بھی ان مقامات کی حفاظت نہیں کی گئی کیونکہ آپ
کے اصحاب بھی ان مقامات کی حفاظت کے لیے زیادہ کوشاں نہیں تھے جن کا براہ راست تعلق اسلامی شریعت یا اسلامی قوانین سے نہیں تھا۔6لہذا العیاش کے مطابق مولد مبارک کے اصل مقام کا تعین نہیں کیا جاسکتا ہے۔ امام یوسف الشامی
اور علی شبیر فرماتے ہیں کہ یہ بات بھی ممکنات میں سے ہے کہ آپ
عسفان (Asfan)میں پیدا ہوئے۔ عسفان مدینے کی جانب جاتے ہوئے راستے میں ایک چھوٹے دیہات کا نام ہے۔ اس کے علاوہ امام مغلطائی بیان کرتے ہیں کہ حضور
کے مولد کے متعلق عسفان والی روایت بہت کمزور ہے 7اور قابل دلیل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہےکہ وہ تمام روایات جن میں مولد مبارک کو مکہ سے باہر بیان کیا گیا ہےلائق دلیل نہیں، ان کی اسناد کو محدثین نے کمزور قرار دیا ہے اور سیرت نگاروں اور تاریخ دانوں نے بھی ان اقوال پر سخت تنقید کی ہے۔دوسری بات یہ کہ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ابتدائی تاریخی دستاویزات میں کوئی ایسا مقام نہیں بیان کیا گیا ہے جسے حضور
کا مولد قرار دیا جائے یا جہاں لوگ ابتدائے اسلام میں حاضری دیتے ہوں۔
کی پیدائیش مکہ میںحضور
کی پیدائش مکہ میں ہوئی، یہ حدیث اما م فاکہی
نے اخبار مکہ میں بیان فرمائی ہے۔ امام فاکہی
قابل احترام تاریخ دان اور نویں صدی کے ممتاز محدث ہیں۔ ان کی تحقیق اور کتب تاریخ مکہ کے حوالے سے مستند حیثیت رکھتی ہے۔ امام فاکہی بیان فرماتے ہیں کہ حضور
نے فرمایا:
مولدى مكة و مهاجرى المدینة. 8
میرا مولد مکہ ہے اور جہاں میں نے ہجرت کی وہ مدینہ ہے۔
یہ حدیث مسند ابی بکر الصدیق میں بھی موجود ہے۔9امام الفاسی
نے بھی بیان فرمایا ہے کہ حضور
مکہ میں پیدا ہوئے۔اس کے علاوہ القیم الجوزیہ نے بھی حضور
کی مکہ کے علاوہ کسی اور مقام پر پیدائش کے ابہام کو قطعاً مسترد کردیا ہے۔
لا خلاف أنه ولد صلي اللّٰه عليه وسلم بجوف مكة، وأن مولده صلي اللّٰه عليه وسلم كان عام الفيل، وكان أمر الفيل تقدمة قدّمها الله لنبيه صلي اللّٰه عليه وسلم وبيته. 10
اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ حضورمکہ میں پیدا ہوئے اور آپ
کی ولادت ہاتھی والے سال میں ہوئی تھی۔ اور واقعۂ فیل پیش خیمہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی
اور اپنے مقدس گھر کا پیش خیمہ قرار دیا۔
اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ آپ
کی پیدائیش مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی۔ ابتدا میں اہل مکہ حضور
کے مقام ولادت کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے لیکن بعد میں حضور
کی ولادت کی حقیقی جگہ کا تعین کیا گیا اور اسے محفوظ کرلیا گیا تھا۔
امام یوسف الشامی
11 اور علی شبیر12 بیان کرتے ہیں کہ یہ ممکنات میں سے ہے کہ آپ
کا مقام ولادت ردام میں واقع ہے لیکن امام مغلطائی نے ثبوت فراہم کیے ہیں کہ اس روایت کی سند کمزور ہے۔ 13
یہ بھی اقوال موجود ہیں کہ آپ
کی پیدائش کوہ صفا کے قریب ہوئی تھی لیکن علماء نے اس قول کو باطل قرار دیا اور روایت کی سند کو مشکوک 14 اور غیراصل کہا۔علماء کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ حضور
ایک پرانے مکان میں پیدا ہوئےجو زقاق المولد نامی شاہراہ پر واقع ہے۔ بعد میں اس شاہراہ کا نام بدل کر زقاق المدق رکھ دیا گیا۔ یہ سوق الیل میں شعب بنی ہاشم میں واقع ہے۔ اسے شعب ابی طالب بھی کہا جاتاہے جو مکہ میں واقع ہے۔محمد عبدالرؤف المناوی فرماتے ہیں:
وُلد رسول الله صلي اللّٰه عليه وسلم بمكة داخل الزقاق المعروف بزقاق المدكك. 15
حضورمکہ میں موجود مشہود گلی زقاق مدکک میں پیدا ہوئے۔
علی شبیر نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ مکان جس میں آپ
کی ولادت باسعات ہوئی وہ مشہور گلی میں واقع ہے جس کا نام آپ
کی ولادت کے سبب ہی زقاق المولد پڑگیا ہے۔16یہ گلی سوق الیل میں واقع ہے۔ عبد اللہ اکبر
بیان کرتے ہیں:
تقع دار مولدہ صلي اللّٰه عليه وسلم فی شعب بنى هاشم قدیما ویسمى بشعب على كما یسمى سوق اللیل وھو مکان شرقى الحرم الشریف. 17
حضورکا مکان قدیم شعب بنی ہاشم میں واقع تھا۔ یہ شعب علی اور سوق اللیل کے نام سے بھی معروف ہے۔ یہ گھر مسجد حرام کے مشرقی حصے کی جانب واقع ہے۔
شیخ محمد ابن احمد مکہ
فرماتے ہیں:
الموضع الذى یقال له مولد النبی صلي اللّٰه عليه وسلم وھو مشھور فى الموضع الذى یقال له سوق اللیل وفى حاشیة شیخنا على مولد الدردیر ولد بسوق اللیل على الصحیح فی الدار التى كانت لمحمد بن یوسف اخى الحجاج وكانت قبل ذلک بید عقیل ابن ابى طالب . 18
وہ مقام جو حضورکی پیدائیش کے حوالے سے جانا جاتا ہے، مشہور ہے اور سوق اللیل میں واقع ہے۔ میرے شیخ کے بیان کے مطابق جو مولد الدردیر میں تحریر ہے اور مصدقہ سند پر مبنی ہے کہ حضور
سوق اللیل میں واقع مکان میں پیدا ہوئے، جو محمد ابن یوسف کا مکان تھا ، یہ حجاج بن یوسف کا بھائی تھا۔ اس مکان کو بعد میں عقیل ابن ابی طالب کی اولاد سے خریدا گیا تھا۔ ابتدا میں یہ مکان عقیل ابن ابی طالب کی ملکیت میں تھا۔
مذکورہ بالا اقتباس حدیث کے بڑے عالم شیخ عبداللہ الغازی
نے اپنی کتاب میں19اور امام ابن حجر الہیتمی
20نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں امام ابن ظہیرہ
نے فرمایا ہے کہ یہ بات عام ہے کہ حضور
کی ولادت باسعادت اس مقام پر ہوئی تھی اور یہ معلومات حضور
کی اجداد کی جانب سے پہنچائی گئی تھی۔21سوق اللیل شعب ابن بنی ہاشم میں واقع ہے۔ اس سلسلے میں عبدالکریم القطبی
فرماتے ہیں:
ولد النبی صلي اللّٰه عليه وسلم وھو موضع مشھوربشعب بنی ھاشم. 22
اور اسی طرح نبیکی جائے پیدائیش ، یہ جگہ شعب بنی ہاشم میں مشہور ہے۔
مذکورہ بالااقتباس امام حافظ عراقی
نے بھی الورد الہانی میں نقل کیا ہے۔23ابن عبد البدر
حضور
کے مقام ولادت کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں۔
وقيل: إنه ولد في شعب بني هاشم. 24
یہ بیان کیا جاتا ہے: بیشک حضورکی ولادت شعب بنی ہاشم میں ہوئی تھی۔
مندرجہ بالا ثبوت اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ حضور
کے مولد کے حوالے سے کوئی تضاد و اختلاف نہیں ہے۔ امام ارزقی
بیان کرتے ہیں کہ اہل مکہ کے نزدیک حضور
کے مولد کے حوالے کوئی دو رائے نہیں ہے۔25عبد اللہ محمد اکبر
اس میں یہ اضافہ فرماتے ہیں حضور
کا مولد مبارك اہل مکہ میں بہت مشہور تھا۔26
ڈاکٹر ناصر ابن علی
نے حضور
کی ولادت کے حوالے سے مزید فرمایا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ سیرت نگاروں اور تاریخ دانوں کے نزدیک یہ بات محقق ہےکہ حضور
کی ولادت باسعادت ان کے دادا کے گھر ہوئی جو شعب بنی ہاشم میں واقع ہے، یہ وہی مقام ہے جہاں ہاشمی اور غیر ہاشمی قریشیوں نے اسلام کے دور میں مسلمانوں سے قطع تعلق کردیا تھا۔ تاریخ نگاروں نے انہیں روایات کو تواتر کے ساتھ آگے منتقل کیا اور ان کی سند میں بھی کوئی ضعف نہیں پایا جاتا ہے۔ جب حضور
کے دادا عمر کے آخری ایام میں بینائی سےمحروم ہوگئے تھےتو انہوں نے اپنی جائیداد اپنے بیٹوں میں تقسیم کردی جس میں ان کا اپنا ذاتی مکان حضرت عبداللہ
کے حصے میں آیاتھا۔ مزید یہ کہ زمانۂ جاہلیت میں یہ دستور تھاکہ بیٹے کی ولادت اپنے باپ کے گهر ميں ہوا کرتی تھی۔ 27یہی وجہ ہے کہ حضور
کی ولادت باسعادت بھی اپنے والد محترم کے مکان میں ہوئی تھی۔ اسی طرح شیخ ابو سلیمان
نے مکہ کے مصنفین کی ایک فہرست ان کے کام کے ساتھ مرتب کی ہے تاکہ حضور
کی مولد شریف کا پختہ ثبوت قائم ہوجائے۔ انہوں نے فرمایا کہ محققین کی تحقیق کی روشنی مکہ کی تاریخ مکہ کے مصنفین سے حاصل کی گئی ہے۔ خوش قسمتی سے یہ تمام کام ان علماء اور قاضیوں نے تحریر کیا ہے جو مشکوک اور جھوٹی روایات اور اصل روایات كو الگ کرنے کی صلاحیت رکھتےتھے۔ان کا یہ حکمت بھرا کام ان کے عقلی معیار کا واضح ثبوت ہے۔ ان تحریروں میں شیخ ابو الوحید محمد ابن عبداللہ ابن احمد الازرقی
(223 ہجری) ہیں، کتاب : اخبار مکۃ وما جاء فیھا من الآثار ۔ ابو عبد اللہ محمد ابن اسحاق الفاکہی
(225 ہجری ) ہیں، کتاب: اخبار مکۃ فی قدیم الدھر و حدیثی ۔ حافظ ابو الطیب تقی الدین محمد ابن احمد ابن علی الفاسی المکی المالکی
(775 ہجری) ہیں، کتاب: شفاء الغرم باخبار البلد الحرم ۔ جمال الدین محمد جراللہ ابن محمد نورالدین ابن ابی بکر ابن علی ابن ظہیر القریشی المخزومی
(986 ہجری) ہیں، کتاب : الجامع الطیف فی فضل مکۃ واھلھا و بناء البیت الشریف ۔ محمد قطب الدین ابن احمد علادین ابن محمد النہروالي المکی قطبی
(917 ہجری) ہیں، کتابكتاب الاعلام بالاعلام بیت اللہ الحرام فی تاریخ مکۃ المشرفۃ۔ علی ابن عبد القادر الطبری
(1070 ہجری) ہیں۔ كتاب: الأرج المسكي في التاريخ المكي وتراجم الملوك والخلفاء ۔ علی ابن تاج الدین السنجاری
(1321 ہجری)، كتاب: منائح اككرم في اخبار مكة والبيت وولاة الحرم ۔ محمد ابن احمد ابن سلیم ابن عمر المکی المالکی المعروف ابن الصباغ
(1321 ہجری)، کتاب: تحصيل المرام في أخبار البيت الحرام والمشاعر العظام ومكة والحرم وولاتها الفخام ۔ احمد بن محمد حضراوی
(1327 ہجری)، کتاب: العقد الثمين في فضائل البلد الأمين ۔ عبد اللہ بن محمد الغازی المکی الحنفی
(1365 ہجری) ، کتاب: افادۃ الانام بذکر اخبار البلد الحرام ۔ مربی شیخ عبد المالک بن عبد القادر بن علی العروف الطرابلسی
(1416 ہجری) ہیں، کتاب: ملخص مناسك الحج ويليه دليل الاثار المطلوبة في مكة المحبوبة ۔
تاريخ دانوں میں شيخ عاتق بن غيث البلادي(1431 ہجری ) ہیں، کتاب: معالم مكة التأريخية والأثرية شامل ہے۔ ان علماء، سیرت نگاروں اور تاریخ دانوں کے مطابق حضور
کا مولد شریف محمد بن یوسف الثقفی کا گھر تھا جسے اس نے عقیل بن ابی طالب کی اولاد سے خرید لیا تھا۔ یہ گھر سوق اللیل میں شعب بنی ہاشم میں واقع ہے۔28
بیسویں صدی میں حضور
کے مولد شریف پرایک کتب خانہ تعمیر کیا گیاہے جس کا نام مكتبة مكة المكرمة ہے۔اس مکتب کی جگہ شاہراہ مسجد حرام ، الحرم، مکہ 24231، سعودی عرب ہے، اور اس کے کورڈینیٹ 21.4249° شمال اور 39.8298° مشرق ہیں۔ 29
مذکورہ بالا تمام حوالۂ جات سے واضح ہوچکا ہے کہ حضور
کا مولد شریف مختلف راویوں سے ہم تک پہنچا ہے۔ ان روایات کو تفصیل کے ساتھ تاریخ دانوں نے بیان کیا ہے جن میں کوئی ضعف نہیں پایا جاتا ہے۔
کو لٹایا گیاوہ مقام یا کمرہ جہاں حضور
کی ولادت باسعادت ہوئی، جاننا قدرے مشکل ہے، لیکن کچھ علمائے حدیث اور تاریخ نے اسے بھی بیان کیا ہے۔ شیخ محمد بن علی فرماتے ہیں:
وموضع مسقط رأسه الشریف فى ھذ المحل المعروف الى الآن وھو موضع مثل التنور. 30
اس جگہ پر آج تک حضورکا مشہور مقام ولادت ہے جہاں پر آپ
کا سرِ مبارک زمین سے مس ہوا، یہ تنور کی مانند ہے۔
ابن زبیر لفظ تنور کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں اور اسے شیخ محمد بن احمد نے نقل کیا ہے۔
... والموضع المقدس الذي سقط فيه صلي اللّٰه عليه وسلم ساعة الولادة السعيدة المباركة التي جعلها الله رحمة للأمة أجمعين محفوف بالفضة. 31
وہ مقدس مقام جہاں پر حضوراپنی ولادت باسعادت کے موقع پر تشریف لائے جسے اللہ تعالیٰ نے ساری امت کے لیے رحمت بنایا،چاندی میں لپٹا ہو اہے۔
مذکورہ بالا حوالۂ جات واضح کرتے ہیں کہ حضور
کا مولد مبارک معلوم ہے اور اسے ثابت شدہ اسناد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس مقام کو متعین کردیا گیا تھااور مسلمان یہاں آتے تھے اور برکات بھی حاصل کرتے تھے۔ لیکن جب سلطنت عثمانیہ کا اختتام ہوگیا اور خلافت تباہ کردی گئی تو کثیر تعداد میں تاریخی مقامات وہاں کی مقامی حکومت نے تباہ کردیے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ممکن ہے کہ حضور
کا مولد مبارک جہاں آپ
کا جسم مبارک پیدائیش کے بعد رکھا گیا تھا، متعین نہیں کیا جاسکتاہے۔ لیکن موجود حوالۂ جات کی روشنی میں یہ واضح ہوچکا کہ اس کی تعیین کی گئی تھی۔
یہ دعوی حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ اس حوالے سے روایات جن معتبر مصنفین نے پیش کی ہیں ان میں زیادہ تر علماء، قضاء، محدیثین اور مکہ کے قاضی صاحبان شامل ہیں، مزید یہ کہ حضور
کے مولد مبارک کے حوالے سے ان کی تحقیق پختہ اور مستند ہے۔32اس کے علاوہ حضور
کے مولد مبارک کے حوالے سے مزید تفصیلات "الاستیعاب فی اسماء الاصحاب"، 33الروض الانف، 34إمتاع الأسماع بما للنبي صلى الله عليه وسلم من الأحوال والأموال والحفدة المتاع، 35معالم مكة التأريخية والأثرية، 36نامی کتب میں بھی موجود ہے۔
وہ متبرک مکان جہاں آپ
اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے ، ابتدا میں حضور
کی داداحضرت عبدالمطلب کی ملکیت میں تھا۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں آپ
نے وہ مکان اپنے بیٹے حضرت عبداللہ
کی ملکیت میں دے دیا تھا۔37اس کے بعد وہ مکان آپ
کو والد محترم کی وراثت میں ملا۔ جب آپ
نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو وہ مکان عقیل بن ابو طالب کی ملکیت میں آگیا تھا۔ 38یہی قول شیخ محدث عبداللہ غازی
،39امام دیار بکری
اور دیگر علماء کا ہے۔ عقیل بن ابو طالب نے بعد میں یہ مکان حجاج بن یوسف کے بھائی محمد بن یوسف کو فروخت کردیا تھا۔40محمد بن یوسف نے یہ مکان ایک ہزار دینار کے عوض خریدکر اپنے مکان میں شامل کرلیا اور اس کا نام البیضاء رکھ دیا تھاجس کا معنی سفید عمارت ہے۔ اس کے علاوہ اسے ابن یوسف کا مکان بھی کہا جاتا تھا۔41