encyclopedia

حضورﷺ کا مقام ولادت – مولدِ مبارک کی تحقیق و دلائل

Published on: 07-Jul-2026
حضور ﷺ کا مقام ولادتمقامِ ولادت کی فضیلت:حضور ﷺ کا مولدِ مبارک مسلمانوں کے نزدیک نہایت مقدس مقام ہے، جسے مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کے بعد افضل مقامات میں شمار کیا گیا۔ اس کی شہرت خبرِ متواتر سے ثابت ہے۔محلِ وقوع اور تاریخی شناخت:کثیر مؤرخین کے نزدیک حضور ﷺ کی ولادت مبارک شعب بنی ہاشم، سوق اللیل، زقاق المولد میں واقع حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہوئی، جہاں آج مکتبہ مکہ المکرمہ قائم ہے۔اقوالِ علماء کا تحقیقی جائزہ:بعض اقوال نے عسفان یا دیگر مقامات کا ذکر کیا، لیکن محدثین اور سیرت نگاروں نے ان روایات کو ضعیف قرار دے کر مکہ مکرمہ میں ولادت کے موقف کو راجح اور مستند ثابت کیا۔تاریخی و حدیثی شواہد:امام فاکہی، امام فاسی، ابن قیم، امام ازرقی، ابن ظہیرہ اور دیگر ائمہ نے احادیث، آثار اور تاریخی روایات سے مکہ مکرمہ میں ولادت اور مولدِ مبارک کے مقام کی تائید کی ہے۔مولدِ مبارک کی تاریخی حفاظت:بیسویں صدی میں مولدِ مبارک کی جگہ مکتبہ مکہ المکرمہ تعمیر کی گئی، جبکہ عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد متعدد تاریخی آثار ختم ہونے سے بعض جزوی مقامات کی تعیین دشوار ہوگئی۔متبرک مکان کی ملکیت:مولدِ مبارک ابتدا میں حضرت عبدالمطلب، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ملکیت رہا، بعد ازاں عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور پھر محمد بن یوسف الثقفی کے قبضے میں منتقل ہوا۔

حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مقام ولادت تاریخ انسانی میں نہایت اہل مقام ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam دنیا میں تشریف لائے تھے۔ اہل عرب جو صحرائی لوگ تھے اور اکثر دنیا سے ناآشنا تھے، حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد کے بعد ، اخلاقی، عقلی، معاشی، عسکری، مذہبی اور سیاسی طاقت کے اعتبار سے بلند ہوچکے تھے۔ یہ انقلاب سرزمین عرب تک محدود نہیں رہا بلکہ مختصر عرصے میں عالمی سطح تک پھیل چکا تھاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ انسانوں کے غلام بن چکے تھے انہیں آزادی ملی اور انہوں نے دین اسلام کے سائے میں آکر اپنے حقیقی خدا سے رشتہ استوار کیا۔

حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مولد مبارک مسلمانوں کے نزدیک بہت مقدس مقام ہے۔ یہ مقام سرکاری اور مذہبی سطح پر انتہائی بلند درجہ کا حامل ہےاور اس مقام کی حقیقت خبر متواتر سے ثابت ہے۔ 1عبدالوہاب ابراھیم 2اور شیخ نبہانی3کے مطابق حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مولد مبارک مکہ میں موجود بیت اللہ کے بعد سب سے افضل مقام رکھتا ہے۔اس مقام پر کثیر مسلمان اپنی دعاؤں کی قبولیت کی نیت سے حاضری دیتے ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں اپنی التجائیں پیش کرتے ہیں کیونکہ کثیر علماءِکرام بیان فرماتے ہیں کہ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ سے سوال کیا جائے تو رد نہیں کیا جاتا۔4

حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مولد مبارک شعب بنی ہاشم کی قدیم شاہراہ پر موجود ہے اور مسجد حرام کے مشرق میں سوق اللیل میں واقع ہے۔ اس وقت وہاں مکہ لائبریری قائم ہے۔ اصل میں یہ جگہ شعب بنی ہاشم میں حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی والد حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب Radi Allah Anho کا گھر تھا۔ اس جگہ پر ہاشم قبیلے نے سکونت اختیار کی ہوئی تھی۔ یہ مسجد حرام کا مشرقی حصہ تھا۔5

حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مولد کے اقوال

تاریخی ادوار میں کثیر علماء و صالحین نے اپنے علم کے مطابق حضوراکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مولد کے متعلق ہمیں آگاہ کیا ہے۔ بعض علماء اس جانب گئے ہیں کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مولد معلوم نہیں کیا جاسکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع اسلام میں اس مقام کے متعلق معلومات کو سنبھالا نہیں گیا تھا۔ بعد ازاں، حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مولد کے متعلق مختلف آراء کو جانچا گیا اور اس کی حقیقی حیثیت کے بارے میں چھان بین کی گئی، متعدد سوالات کے جوابات دیے گئے، اس کے بعد حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مولد کے متعلق سیر حاصل کلام تاریخی کتب اور سیرت مبارک میں تحریر کردیا گیا ہے۔

مولد مبارک کا محل وقوع اور اقوال

حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مولد رقبہ کے اعتبار سے ایک پلنگ جتنا تھا۔ العياش بیان کرتے ہیں کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مولد کا اصل مقام معین کرنا ایک مشکل کام ہے کیونکہ یہ بات واضح نہیں کہ آپ مکہ میں پیدا ہوئے یا مکہ سے باہر کسی اور مقام پر۔ پہلے تو یہ بات جاننی ہے کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت باسعادت مکہ میں ہوئی یا نہیں۔اگر آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت مکہ میں ہوئی ہے تو کس گھر میں؟ اور گھر کے کس مقام پر؟ العياش نے یہ بھی کہا ہے کہ ان مقامات کو محفوظ نہیں رکھا گیا ، کیونکہ جب آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam دنیا میں تشریف لائے تو وہ جاہلیت کا دور تھا، کسی کو بھی اس مقام کی حفاظت کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا نہ کوئی اس کوشش میں مصروف تھا۔جب اس سرزمین پر نور اسلام جگمگایا، اس کے بعد بھی ان مقامات کی حفاظت نہیں کی گئی کیونکہ آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے اصحاب بھی ان مقامات کی حفاظت کے لیے زیادہ کوشاں نہیں تھے جن کا براہ راست تعلق اسلامی شریعت یا اسلامی قوانین سے نہیں تھا۔6لہذا العیاش کے مطابق مولد مبارک کے اصل مقام کا تعین نہیں کیا جاسکتا ہے۔ امام یوسف الشامی Rehmatullah Alaih اور علی شبیر فرماتے ہیں کہ یہ بات بھی ممکنات میں سے ہے کہ آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam عسفان (Asfan)میں پیدا ہوئے۔ عسفان مدینے کی جانب جاتے ہوئے راستے میں ایک چھوٹے دیہات کا نام ہے۔ اس کے علاوہ امام مغلطائی بیان کرتے ہیں کہ حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مولد کے متعلق عسفان والی روایت بہت کمزور ہے 7اور قابل دلیل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہےکہ وہ تمام روایات جن میں مولد مبارک کو مکہ سے باہر بیان کیا گیا ہےلائق دلیل نہیں، ان کی اسناد کو محدثین نے کمزور قرار دیا ہے اور سیرت نگاروں اور تاریخ دانوں نے بھی ان اقوال پر سخت تنقید کی ہے۔دوسری بات یہ کہ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ابتدائی تاریخی دستاویزات میں کوئی ایسا مقام نہیں بیان کیا گیا ہے جسے حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مولد قرار دیا جائے یا جہاں لوگ ابتدائے اسلام میں حاضری دیتے ہوں۔

حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی پیدائیش مکہ میں

حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی پیدائش مکہ میں ہوئی، یہ حدیث اما م فاکہی Rehmatullah Alaih نے اخبار مکہ میں بیان فرمائی ہے۔ امام فاکہی Rehmatullah Alaih قابل احترام تاریخ دان اور نویں صدی کے ممتاز محدث ہیں۔ ان کی تحقیق اور کتب تاریخ مکہ کے حوالے سے مستند حیثیت رکھتی ہے۔ امام فاکہی بیان فرماتے ہیں کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایا:

مولدى مكة و مهاجرى المدینة. 8
میرا مولد مکہ ہے اور جہاں میں نے ہجرت کی وہ مدینہ ہے۔

یہ حدیث مسند ابی بکر الصدیق میں بھی موجود ہے۔9امام الفاسی Rehmatullah Alaih نے بھی بیان فرمایا ہے کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam مکہ میں پیدا ہوئے۔اس کے علاوہ القیم الجوزیہ نے بھی حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی مکہ کے علاوہ کسی اور مقام پر پیدائش کے ابہام کو قطعاً مسترد کردیا ہے۔

لا خلاف أنه ولد صلي اللّٰه عليه وسلم بجوف مكة، وأن مولده صلي اللّٰه عليه وسلم كان عام الفيل، وكان أمر الفيل تقدمة قدّمها الله لنبيه صلي اللّٰه عليه وسلم وبيته. 10
اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam مکہ میں پیدا ہوئے اور آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت ہاتھی والے سال میں ہوئی تھی۔ اور واقعۂ فیل پیش خیمہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اور اپنے مقدس گھر کا پیش خیمہ قرار دیا۔

اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی پیدائیش مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی۔ ابتدا میں اہل مکہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مقام ولادت کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے لیکن بعد میں حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت کی حقیقی جگہ کا تعین کیا گیا اور اسے محفوظ کرلیا گیا تھا۔

امام یوسف الشامیRehmatullah Alaih11 اور علی شبیر﷫12 بیان کرتے ہیں کہ یہ ممکنات میں سے ہے کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مقام ولادت ردام میں واقع ہے لیکن امام مغلطائی نے ثبوت فراہم کیے ہیں کہ اس روایت کی سند کمزور ہے۔ 13

یہ بھی اقوال موجود ہیں کہ آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی پیدائش کوہ صفا کے قریب ہوئی تھی لیکن علماء نے اس قول کو باطل قرار دیا اور روایت کی سند کو مشکوک 14 اور غیراصل کہا۔علماء کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ایک پرانے مکان میں پیدا ہوئےجو زقاق المولد نامی شاہراہ پر واقع ہے۔ بعد میں اس شاہراہ کا نام بدل کر زقاق المدق رکھ دیا گیا۔ یہ سوق الیل میں شعب بنی ہاشم میں واقع ہے۔ اسے شعب ابی طالب بھی کہا جاتاہے جو مکہ میں واقع ہے۔محمد عبدالرؤف المناوی فرماتے ہیں:

وُلد رسول الله صلي اللّٰه عليه وسلم بمكة داخل الزقاق المعروف بزقاق المدكك. 15
حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam مکہ میں موجود مشہود گلی زقاق مدکک میں پیدا ہوئے۔

علی شبیر نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ مکان جس میں آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت باسعات ہوئی وہ مشہور گلی میں واقع ہے جس کا نام آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت کے سبب ہی زقاق المولد پڑگیا ہے۔16یہ گلی سوق الیل میں واقع ہے۔ عبد اللہ اکبر Rehmatullah Alaih بیان کرتے ہیں:

تقع دار مولدہ صلي اللّٰه عليه وسلم فی شعب بنى هاشم قدیما ویسمى بشعب على كما یسمى سوق اللیل وھو مکان شرقى الحرم الشریف. 17
حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مکان قدیم شعب بنی ہاشم میں واقع تھا۔ یہ شعب علی اور سوق اللیل کے نام سے بھی معروف ہے۔ یہ گھر مسجد حرام کے مشرقی حصے کی جانب واقع ہے۔

شیخ محمد ابن احمد مکہRehmatullah Alaih فرماتے ہیں:

الموضع الذى یقال له مولد النبی صلي اللّٰه عليه وسلم وھو مشھور فى الموضع الذى یقال له سوق اللیل وفى حاشیة شیخنا على مولد الدردیر ولد بسوق اللیل على الصحیح فی الدار التى كانت لمحمد بن یوسف اخى الحجاج وكانت قبل ذلک بید عقیل ابن ابى طالب . 18
وہ مقام جو حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی پیدائیش کے حوالے سے جانا جاتا ہے، مشہور ہے اور سوق اللیل میں واقع ہے۔ میرے شیخ کے بیان کے مطابق جو مولد الدردیر میں تحریر ہے اور مصدقہ سند پر مبنی ہے کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سوق اللیل میں واقع مکان میں پیدا ہوئے، جو محمد ابن یوسف کا مکان تھا ، یہ حجاج بن یوسف کا بھائی تھا۔ اس مکان کو بعد میں عقیل ابن ابی طالب کی اولاد سے خریدا گیا تھا۔ ابتدا میں یہ مکان عقیل ابن ابی طالب کی ملکیت میں تھا۔

مذکورہ بالا اقتباس حدیث کے بڑے عالم شیخ عبداللہ الغازی Rehmatullah Alaih نے اپنی کتاب میں19اور امام ابن حجر الہیتمیRehmatullah Alaih20نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں امام ابن ظہیرہ Rehmatullah Alaih نے فرمایا ہے کہ یہ بات عام ہے کہ حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت باسعادت اس مقام پر ہوئی تھی اور یہ معلومات حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی اجداد کی جانب سے پہنچائی گئی تھی۔21سوق اللیل شعب ابن بنی ہاشم میں واقع ہے۔ اس سلسلے میں عبدالکریم القطبی Rehmatullah Alaih فرماتے ہیں:

ولد النبی صلي اللّٰه عليه وسلم وھو موضع مشھوربشعب بنی ھاشم. 22
اور اسی طرح نبی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی جائے پیدائیش ، یہ جگہ شعب بنی ہاشم میں مشہور ہے۔

مذکورہ بالااقتباس امام حافظ عراقی Rehmatullah Alaih نے بھی الورد الہانی میں نقل کیا ہے۔23ابن عبد البدر Rehmatullah Alaih حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مقام ولادت کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں۔

وقيل: إنه ولد في شعب بني هاشم. 24
یہ بیان کیا جاتا ہے: بیشک حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت شعب بنی ہاشم میں ہوئی تھی۔

مندرجہ بالا ثبوت اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مولد کے حوالے سے کوئی تضاد و اختلاف نہیں ہے۔ امام ارزقیRehmatullah Alaih بیان کرتے ہیں کہ اہل مکہ کے نزدیک حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مولد کے حوالے کوئی دو رائے نہیں ہے۔25عبد اللہ محمد اکبر Rehmatullah Alaih اس میں یہ اضافہ فرماتے ہیں حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مولد مبارك اہل مکہ میں بہت مشہور تھا۔26

ڈاکٹر ناصر ابن علی Rehmatullah Alaih نے حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت کے حوالے سے مزید فرمایا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ سیرت نگاروں اور تاریخ دانوں کے نزدیک یہ بات محقق ہےکہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت باسعادت ان کے دادا کے گھر ہوئی جو شعب بنی ہاشم میں واقع ہے، یہ وہی مقام ہے جہاں ہاشمی اور غیر ہاشمی قریشیوں نے اسلام کے دور میں مسلمانوں سے قطع تعلق کردیا تھا۔ تاریخ نگاروں نے انہیں روایات کو تواتر کے ساتھ آگے منتقل کیا اور ان کی سند میں بھی کوئی ضعف نہیں پایا جاتا ہے۔ جب حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے دادا عمر کے آخری ایام میں بینائی سےمحروم ہوگئے تھےتو انہوں نے اپنی جائیداد اپنے بیٹوں میں تقسیم کردی جس میں ان کا اپنا ذاتی مکان حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے حصے میں آیاتھا۔ مزید یہ کہ زمانۂ جاہلیت میں یہ دستور تھاکہ بیٹے کی ولادت اپنے باپ کے گهر ميں ہوا کرتی تھی۔ 27یہی وجہ ہے کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت باسعادت بھی اپنے والد محترم کے مکان میں ہوئی تھی۔ اسی طرح شیخ ابو سلیمان Rehmatullah Alaih نے مکہ کے مصنفین کی ایک فہرست ان کے کام کے ساتھ مرتب کی ہے تاکہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی مولد شریف کا پختہ ثبوت قائم ہوجائے۔ انہوں نے فرمایا کہ محققین کی تحقیق کی روشنی مکہ کی تاریخ مکہ کے مصنفین سے حاصل کی گئی ہے۔ خوش قسمتی سے یہ تمام کام ان علماء اور قاضیوں نے تحریر کیا ہے جو مشکوک اور جھوٹی روایات اور اصل روایات كو الگ کرنے کی صلاحیت رکھتےتھے۔ان کا یہ حکمت بھرا کام ان کے عقلی معیار کا واضح ثبوت ہے۔ ان تحریروں میں شیخ ابو الوحید محمد ابن عبداللہ ابن احمد الازرقیRehmatullah Alaih (223 ہجری) ہیں، کتاب : اخبار مکۃ وما جاء فیھا من الآثار ۔ ابو عبد اللہ محمد ابن اسحاق الفاکہیRehmatullah Alaih (225 ہجری ) ہیں، کتاب: اخبار مکۃ فی قدیم الدھر و حدیثی ۔ حافظ ابو الطیب تقی الدین محمد ابن احمد ابن علی الفاسی المکی المالکیRehmatullah Alaih (775 ہجری) ہیں، کتاب: شفاء الغرم باخبار البلد الحرم ۔ جمال الدین محمد جراللہ ابن محمد نورالدین ابن ابی بکر ابن علی ابن ظہیر القریشی المخزومیRehmatullah Alaih (986 ہجری) ہیں، کتاب : الجامع الطیف فی فضل مکۃ واھلھا و بناء البیت الشریف ۔ محمد قطب الدین ابن احمد علادین ابن محمد النہروالي المکی قطبی Rehmatullah Alaih (917 ہجری) ہیں، کتابكتاب الاعلام بالاعلام بیت اللہ الحرام فی تاریخ مکۃ المشرفۃ۔ علی ابن عبد القادر الطبری Rehmatullah Alaih (1070 ہجری) ہیں۔ كتاب: الأرج المسكي في التاريخ المكي وتراجم الملوك والخلفاء ۔ علی ابن تاج الدین السنجاریRehmatullah Alaih (1321 ہجری)، كتاب: منائح اككرم في اخبار مكة والبيت وولاة الحرم ۔ محمد ابن احمد ابن سلیم ابن عمر المکی المالکی المعروف ابن الصباغ Rehmatullah Alaih (1321 ہجری)، کتاب: تحصيل المرام في أخبار البيت الحرام والمشاعر العظام ومكة والحرم وولاتها الفخام ۔ احمد بن محمد حضراوی Rehmatullah Alaih (1327 ہجری)، کتاب: العقد الثمين في فضائل البلد الأمين ۔ عبد اللہ بن محمد الغازی المکی الحنفی Rehmatullah Alaih (1365 ہجری) ، کتاب: افادۃ الانام بذکر اخبار البلد الحرام ۔ مربی شیخ عبد المالک بن عبد القادر بن علی العروف الطرابلسیRehmatullah Alaih (1416 ہجری) ہیں، کتاب: ملخص مناسك الحج ويليه دليل الاثار المطلوبة في مكة المحبوبة ۔

تاريخ دانوں میں شيخ عاتق بن غيث البلادي(1431 ہجری ) ہیں، کتاب: معالم مكة التأريخية والأثرية شامل ہے۔ ان علماء، سیرت نگاروں اور تاریخ دانوں کے مطابق حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مولد شریف محمد بن یوسف الثقفی کا گھر تھا جسے اس نے عقیل بن ابی طالب کی اولاد سے خرید لیا تھا۔ یہ گھر سوق اللیل میں شعب بنی ہاشم میں واقع ہے۔28

بیسویں صدی میں حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مولد شریف پرایک کتب خانہ تعمیر کیا گیاہے جس کا نام مكتبة مكة المكرمة ہے۔اس مکتب کی جگہ شاہراہ مسجد حرام ، الحرم، مکہ 24231، سعودی عرب ہے، اور اس کے کورڈینیٹ 21.4249° شمال اور 39.8298° مشرق ہیں۔ 29

مذکورہ بالا تمام حوالۂ جات سے واضح ہوچکا ہے کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مولد شریف مختلف راویوں سے ہم تک پہنچا ہے۔ ان روایات کو تفصیل کے ساتھ تاریخ دانوں نے بیان کیا ہے جن میں کوئی ضعف نہیں پایا جاتا ہے۔

وہ مقام جہاں ولادت کے بعد حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو لٹایا گیا

وہ مقام یا کمرہ جہاں حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت باسعادت ہوئی، جاننا قدرے مشکل ہے، لیکن کچھ علمائے حدیث اور تاریخ نے اسے بھی بیان کیا ہے۔ شیخ محمد بن علی فرماتے ہیں:

وموضع مسقط رأسه الشریف فى ھذ المحل المعروف الى الآن وھو موضع مثل التنور. 30
اس جگہ پر آج تک حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مشہور مقام ولادت ہے جہاں پر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا سرِ مبارک زمین سے مس ہوا، یہ تنور کی مانند ہے۔

ابن زبیر لفظ تنور کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں اور اسے شیخ محمد بن احمد نے نقل کیا ہے۔

... والموضع المقدس الذي سقط فيه صلي اللّٰه عليه وسلم ساعة الولادة السعيدة المباركة التي جعلها الله رحمة للأمة أجمعين محفوف بالفضة. 31
وہ مقدس مقام جہاں پر حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اپنی ولادت باسعادت کے موقع پر تشریف لائے جسے اللہ تعالیٰ نے ساری امت کے لیے رحمت بنایا،چاندی میں لپٹا ہو اہے۔

مذکورہ بالا حوالۂ جات واضح کرتے ہیں کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مولد مبارک معلوم ہے اور اسے ثابت شدہ اسناد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس مقام کو متعین کردیا گیا تھااور مسلمان یہاں آتے تھے اور برکات بھی حاصل کرتے تھے۔ لیکن جب سلطنت عثمانیہ کا اختتام ہوگیا اور خلافت تباہ کردی گئی تو کثیر تعداد میں تاریخی مقامات وہاں کی مقامی حکومت نے تباہ کردیے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ممکن ہے کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا مولد مبارک جہاں آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا جسم مبارک پیدائیش کے بعد رکھا گیا تھا، متعین نہیں کیا جاسکتاہے۔ لیکن موجود حوالۂ جات کی روشنی میں یہ واضح ہوچکا کہ اس کی تعیین کی گئی تھی۔

یہ دعوی حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ اس حوالے سے روایات جن معتبر مصنفین نے پیش کی ہیں ان میں زیادہ تر علماء، قضاء، محدیثین اور مکہ کے قاضی صاحبان شامل ہیں، مزید یہ کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مولد مبارک کے حوالے سے ان کی تحقیق پختہ اور مستند ہے۔32اس کے علاوہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے مولد مبارک کے حوالے سے مزید تفصیلات "الاستیعاب فی اسماء الاصحاب"، 33الروض الانف، 34إمتاع الأسماع بما للنبي صلى الله عليه وسلم من الأحوال والأموال والحفدة المتاع، 35معالم مكة التأريخية والأثرية، 36نامی کتب میں بھی موجود ہے۔

ملکیت مولود شریف کی منتقلی

وہ متبرک مکان جہاں آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے ، ابتدا میں حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی داداحضرت عبدالمطلب کی ملکیت میں تھا۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں آپRadi Allah Anho نے وہ مکان اپنے بیٹے حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کی ملکیت میں دے دیا تھا۔37اس کے بعد وہ مکان آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو والد محترم کی وراثت میں ملا۔ جب آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو وہ مکان عقیل بن ابو طالب کی ملکیت میں آگیا تھا۔ 38یہی قول شیخ محدث عبداللہ غازیRehmatullah Alaih،39امام دیار بکری Rehmatullah Alaihاور دیگر علماء کا ہے۔ عقیل بن ابو طالب نے بعد میں یہ مکان حجاج بن یوسف کے بھائی محمد بن یوسف کو فروخت کردیا تھا۔40محمد بن یوسف نے یہ مکان ایک ہزار دینار کے عوض خریدکر اپنے مکان میں شامل کرلیا اور اس کا نام البیضاء رکھ دیا تھاجس کا معنی سفید عمارت ہے۔ اس کے علاوہ اسے ابن یوسف کا مکان بھی کہا جاتا تھا۔41


  • 1  ابو سلیمان عبدالوھاب ابراھیم، مکتبۃ مکۃ المکرمۃ قدیماً و حدیثاً، مطبوعۃ: مکتبۃ المالک فہد الوطنیۃ، الریاض، السعودیۃ، 2012م، ص: 38
  • 2  شیخ یوسف ابن اسلاعیل نبہانی، جواھر البھار فی فضائل النبی المختار، مطبوعۃ: دارالکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2010م، ص: 428
  • 3  ایضاً
  • 4  محمد ابن احمد النھرونی، کتاب ال، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 14
  • 5  ابو سلیمان عبدالوھاب ابراھیم، مکتبۃ مکۃ المکرمۃ قدیماً و حدیثاً، مطبوعۃ: مکتبۃ المالک فہد الوطنیۃ، الریاض، السعودیۃ، 2012م، ص: 35-36
  • 6  عبدالله بن محمد العياشي، الرحلة العياشية، ج-1، مطبوعۃ: دارالسويدي للنشر والتوضيع، ابوظبي، الامارات العربية المتحدة، 2006م، ص: 358-359
  • 7  محمد بن محمد ابن ظہیرۃ المخزومی، الجامع الطیف فی فضل مکۃ واھلھا و بناء البیت الشریف، مطبوعۃ: مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، القاھرۃ، مصر، 1426ھ، ص: 286
  • 8  ابو عبداللہ محمد ابن اسحاق الفاکہی، أخبار مكة في قديم الدهر وحديثه، ج-4، مطبوعۃ: مکتبۃ الاسدي، مكة، السعودية، 1430ھ، ص: 6
  • 9  ابو بکر احمد ابن علی ، أخبار مكة في قديم الدهر وحديثه، ج-4، مطبوعۃ: مکتبۃ الاسدي، مكة، السعودية، 1430ھ، ص: 6
  • 10  ابو عبدالله محمد بن أبي بكر ابن القيم الجوزيۃ، زاد المعاد في هدي خير العباد، ج-1، مطبوعة: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان، 1425هـ ، ص: 74
  • 11  امام محمد بن یو سف الصالحي الشامی ،سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العبادﷺ، ج-1، مطبوعة:دارالکتب العلمیة، بیروت، لبنان،2013م ، ص: 338
  • 12  علی شبیر، تاریخ مولد النبی، مطبوعة: دکن لاء رپورت، دکن، ہندوستان، 1930مـ ، ص: 3-5
  • 13  محمد بن محمد ابن ظہیرۃ المخزومی، الجامع الطیف فی فضل مکۃ واھلھا و بناء البیت الشریف، مطبوعۃ: مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، القاھرۃ، مصر، 1426ھ، ص: 286
  • 14  ایضاً
  • 15  محمد عبد الرؤف المناوی، العجالة السنية على ألفية السيرة النبوية، مطبوعۃ: دارالكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1424ھ، ص: 28
  • 16  علی شبیر، تاریخ مولد النبی، مطبوعة: دکن لاء رپورت، دکن، ہندوستان، 1930مـ ، ص: 2
  • 17  عبداللہ محمد اکبر، سور من تراث مکۃ المکرمۃ، مطبوعة: موسوسہ العلوم القرآن، بیروت، لبنان، 2004مـ ، ص: 38
  • 18  شیخ محمد ابن احمد المالکی المکی، تحصیل المرام فر اخبار البیت الحرام والمشائر الاعظم، ج-1، مطبوعة: مکتبۃ الاسدی، مکۃ، السعودیۃ، 2004مـ ، ص: 236
  • 19  شیخ محدث عبداللہ الغازی المکی، افادۃ الانام بذکر اخبار بلاداللہ الحرام، ج-2، مطبوعة: مکتبۃ الاسدی، مکۃ، السعودیۃ، 2009مـ ، ص: 67-68
  • 20  شہاب الدین احمد ابن حجر الهيتمي، مولد ابن الحجر ، مطبوعة: مخظوطه جامعه المالك، السعودیۃ، پليٹ
  • 21  محمد بن محمد ابن ظہیرۃ المخزومی، الجامع الطیف فی فضل مکۃ واھلھا و بناء البیت الشریف، مطبوعۃ: مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، القاھرۃ، مصر، 1423ھ، ص: 258
  • 22  عبدالکریم القطبی، إعلام العلماء الأعلام ببناء المسجد الحرام، مطبوعۃ: دار الرفاہ للنشر والطبعۃ والتوضیع، ریاض، السعودیۃ، 1983م، ص: 154
  • 23  عبد الرحیم ابن الحسین العراقی، الموادر الہانی فی المولد الثانی، مطبوعۃ: دار السلام للطبعۃ والنشر والتوضیع، القاھرۃ، مصر، 1431ھ، ص: 248
  • 24  عبدالکریم القطبی، إعلام العلماء الأعلام ببناء المسجد الحرام، مطبوعۃ: دار الرفاہ للنشر والطبعۃ والتوضیع، ریاض، السعودیۃ، 1983م، ص: 154
  • 25  محمد ابن عبداللہ ارزقی، اخبار مکۃ وما جاء فیھا من الآثار، ج-2، مطبوعۃ: مکتبۃ الاسدی، مکۃ المکرمۃ، السعودیۃ، 2012م، ص: 812
  • 26  عبداللہ محمد اکبر، سور من تراث مکۃ المکرمۃ، مطبوعة: موسوسہ العلوم القرآن، بیروت، لبنان، 2004مـ ، ص: 38
  • 27  ناصر ابن علی الحارثی، الآثار الاسلامیۃ فی مکۃ المکرمۃ، مطبوعة: مکتبۃ الملک فہد، ریاض، السعودیۃ، 2009مـ ، ص: 349-350
  • 28  ابو سلیمان عبدالوھاب ابراھیم، مکتبۃ مکۃ المکرمۃ قدیماً و حدیثاً، مطبوعۃ: مکتبۃ المالک فہد الوطنیۃ، الریاض، السعودیۃ، 2012م، ص: 42-51
  • 29  Google Search (Online): https://www.google.com/search?rlz=1C1CHBF_enPK853PK853&sxsrf= ALeKk032jYJj7aqkzvVqeNJ1JwcPLmEFUA%3A1610509378111&ei=Qmz-X_SgBpCR8gLnxa3wDw&q=longitude+and+latitude+of+Makkah+Al+Mukarramah+Library&oq=longitude+and+latitude+of+Makkah+Al+Mukarramah+Library&gs_lcp=CgZwc3ktYWIQAzoECAAQR1Cn0gJYp9ICYOLXAmgAcAF4AIAB0wKIAdMCkgEDMy0xmAEAoAECoAEBqgEHZ3dzLXdpesgBCMABAQ&sclient=psy-ab&ved=0ahUKEwj0yY77_pfuAhWQiFwKHediC_4Q4dUDCA0&uact=5 Retrieved: 12-02-2021.
  • 30  شیخ محمد ابن احمد المالکی المکی، تحصیل المرام فر اخبار البیت الحرام والمشائر الاعظم، ج-1، مطبوعة: مکتبۃ الاسدی، مکۃ، السعودیۃ، 2004مـ ، ص: 237
  • 31  محمد بن احمد جبیر الاندلسی، رحلۃ ابن جبیر ، مطبوعة: دار و مکتبۃ الھلال، بیروت، لبنان، (لیس التاریخ موجوداً)، ص: 92
  • 32  ابو سلیمان عبدالوھاب ابراھیم، مکتبۃ مکۃ المکرمۃ قدیماً و حدیثاً، مطبوعۃ: مکتبۃ المالک فہد الوطنیۃ، الریاض، السعودیۃ، 2012م، ص: 50-51
  • 33  ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن عبد البر، الاستیعاب فی اسماء الاصحاب، ج-1، مطبوعۃ: المکتبۃ التجاریۃ، بیروت، لبنان، 1939م، ص: 13
  • 34  عبد الرحمن بن عبدالله السهيلي، الروض الأنف في شرح السيرة النبوية، مطبوعۃ: مطبع الجمالية، القاهرة، مصر، 1941م، ص: 107
  • 35  احمد بن علي المقريزي، إمتاع الأسماع بما للنبي صلى الله عليه وسلم من الأحوال والأموال والحفدة المتاع ، ج-1، مطبوعۃ: لجنة التاليف والترجمة والنشر، القاهرة، مصر، 1972م، ص: 408
  • 36  شیخ عاتق بن غیث البلادی، معالم مكة التأريخية والأثرية، مطبوعۃ: دار مکۃ للنشر والتوضیع، مکۃ، السعودیۃ، 1983م، ص: 69
  • 37  ناصر بن علي الحارثي، الآثآر الاسلامية في مكة المكرمة، ج-1، مطبوعۃ: مكتبة الملك فهد، رياض، السعودية، 2009م، ص: 349-350
  • 38  عز الدين علي بن محمد الشيباني بن الاثير، الكامل في التاريخ، ج-1، مطبوعة: دار الكتاب العربي، بيروت، لبنان، 1997مـ، ص: 416
  • 39  شیخ محدث عبداللہ الغازی المکی، افادۃ الانام بذکر اخبار بلاداللہ الحرام، ج-2، مطبوعة: مکتبۃ الاسدی، مکۃ، السعودیۃ، 2009مـ ، ص: 68
  • 40  ابو الولید محمد بن عبد اللہ بن احمد الارزقی، اخبار مکۃ وما جاء فیھا من الآثار، ج-2، مطبوعۃ: مکتبۃ الاسدی، مکۃ المکرمۃ، السعودیۃ،2012م، ص: 811
  • 41  حسین بن محمد بن حسن دیار بکری، تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان،2009م، ص: 364