encyclopedia

غزوۂ ذاتُ الرقاع – قبائلِ نجد کے خلاف اسلامی مہم

Published on: 16-May-2026
غزوۂ ذاتُ الرقاعتعارفِ غزوہغزوۂ ذاتُ الرقاع سن 7 ہجری میں نجد کے قبائل بنو محارب اور بنو ثعلبہ کے خلاف پیش آیا، جو مسلمانوں پر حملے کی تیاری کررہے تھے۔وجہ تسمیہاس غزوہ کو ذاتُ الرقاع اس لیے کہا جاتا ہے کہ مجاہدین نے زخمی پاؤں پر کپڑوں کے چیتھڑے باندھے تھے، جبکہ بعض روایات میں اس وادی یا پہاڑوں کی دھاریوں کو بھی وجہ قرار دیا گیا ہے۔غزوہ کا سببنجد کے قبائل کی جنگی تیاریوں اور بئرِ معونہ میں شہید کیے گئے صحابہ کے بدلے اور دفاعِ مدینہ کے لیے یہ مہم اختیار کی گئی۔اہم واقعاتاس غزوہ میں صلوٰۃ الخوف ادا کی گئی، دشمن خوفزدہ ہو کر فرار ہوگئے، اور مسلمانوں کو باقاعدہ جنگ کی نوبت پیش نہ آئی۔معجزاتِ نبوی ﷺاس سفر میں آپ ﷺ کے ہاتھوں پانی جاری ہونا، درختوں کا حکم سے حرکت کرنا، بیمار بچے کی شفایابی اور اونٹ کے واقعہ جیسے کئی معجزات ظاہر ہوئے۔نتائجِ غزوہاس غزوہ سے مسلمانوں کا رعب قبائلِ عرب پر قائم ہوا، دشمن منتشر ہوگئے اور مسلمانوں کی دفاعی قوت مزید مضبوط ہو کر سامنے آئی۔

غزوہ ذاتُ الرِّقاع سن 7 ہجری میں نجد کے قبائل بنو محارب اور بنو ثعلبہ کے خلاف پیش آیا۔ 1 یہ قبائل مسلمانوں کے خلاف جمع ہو کر جنگ کی تیاریاں کررہے تھے اور چاہتے تھے کہ مناسب وقت پر مسلمانوں پر حملہ آور ہو جائیں۔ 2 آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو جب ان قبائل کے باطل عزائم کا علم ہوا تو آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اپنے جانثار صحابہ کرام کے ساتھ ان قبائل کی طرف روانہ ہوئے۔ 3 اس غزوہ میں لشکرِ اسلام کو باقاعدہ مخالف قبائل کے ساتھ جنگ کی نوبت نہیں آئی 4 كیونکہ دشمن مسلمانوں کی اس اچانک آمد کا سن کر وہاں سے بھاگ نکلے تھے۔

وجہ تسمیہ

لفظ الرِّقاع عربی زبان کا ایک لفظ ہے جو الرُّقعَة کی جمع ہے۔ اس کا معنی پیوند کاری کے لیے استعمال ہونے والے کپڑےکےٹکڑ ے یا چیتھڑے کے ہیں۔ 5 اس غزوہ کو جن 4 وجوہات کی بنیاد پر ذاتُ الرِّقاع کہا گیا وہ درجِ ذیل ہیں:

اوّل : اس غزوہ میں مسلمانوں کے جھنڈوں میں پیوند لگے ہوئے تھے۔

دوم : جس وادی میں مسلمان فوج نے پڑاؤ ڈالا تھا وہاں ایک درخت کا نام ہی "ذات الرقاع" تھا جس سے اس غزوہ کومنسوب کردیا گیا ۔

سوم : اِس وادی کے پہاڑ سفید وسیاہ اور سرخ رنگ کی دھاریوں والے تھے۔ وہ ایسے نظر آتے تھے گویا کہ مختلف کپڑوں کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو آپس میں جوڑ دیا گیا ہو ۔ 6

چہارم : مسلمان لشکر کے پاس سواریوں کی کمی کی وجہ سے مسلمان فوج کی اکثریت کو سنگلاخ اور چٹانی رستوں پر پیدل چلنا پڑا جس کی وجہ سے مجاہدین کے پاؤں میں زخم ہو گئے تھے۔ مجاہدین نے اپنے پاؤں مزید زخمی ہونے سے بچانے کے لیے ان پر کپڑوں کے چیتھڑے اور ٹکڑے لپیٹ لیے تھے جس کی وجہ سے اس غزوہ کو اس نام سے پکارا جانے لگا۔ 7

غزوہ کے دیگر نام

اس غزوہ کے دوران مختلف واقعات اور معاملات درپیش آئے جن کی وجہ سے اس غزوہ کے کئی اور نام بھی رکھے گئے ۔ اس غزوہ کے 3 نام ان 3 قبائل کے نام پر رکھے گئے جن کی وجہ سے یہ غزوہ واقع ہوا کیونکہ وہ مدِینہ منوّرہ پر حملہ کرنے کا سوچ رہے تھے۔ اس لیے اسے "غزوہ بنو محارب"، "غزوہ بنو ثعلبہ" اور "غزوہ بنو انمار" بھی کہتے ہیں۔ ان قبائل کا تعلق نجد کے علاقے سے تھا اس لیے اسے" غزوہ نجد" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پہلا غزوہ تھا جس میں صلوٰۃ الخوف ادا کی گئی لہٰذا اسے "غزوہ صلوٰۃ الخوف" بھی کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ کے سفر میں کئی عجیب و غریب واقعات اور معجزات وقوع پذیر ہوئے جن کی وجہ سے اسے "غزوہ اعاجیب" بھی کہتے ہیں۔ 8

غزوہ کی سال اور تاریخ

اس غزوہ کی حتمی تاریخ کے بارے میں اہلِ سیر کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاً ابنِ اسحاق کے نزدیک یہ کے بعد ربیع الآخر 4 ہجری میں پیش آیا، جبکہ واقدی اور ابنِ سعد کے مطابق یہ واقعہ محرم 5 ہجری میں رونما ہوا۔ 9 اسی طرح امام بخاری کے نزدیک یہ غزوہ جنگِ خیبر کے بعد پیش آیا۔ 10 حافظ ابن حجر 11 اور ابن کثیر 12 نے اس غزوہ کو خندق اور بنو قریظہ کے بعد ذکر کیا ہے۔ اس میں زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ غزوہ فتح خیبر کے بعد سن 7 ہجری میں ہی پیش آیا ہے کیونکہ اس غزوہ میں حضرت ابوہریرہ Radi Allah Anho شامل تھے اور یہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے پہلی مرتبہ خیبر کے موقع پر ملے تھے ۔ 13

غزوہ کا سبب

اس غزوہ کے لیے مسلمانوں کا مدِینہ منوّرہ سے نکل کر نجد کی طرف جانے کا پہلاسبب یہ تھا کہ مسلمانوں کے پاس نجد کے علاقے سے آنے والے قافلوں کی طرف سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی تھی کہ وہاں کے قبائل بنو محارب اور بنو ثعلبہ نے مسلمانوں پر حملے کے لیے جنگی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں اور وہ کسی وقت بھی مدِینہ منوّرہ پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ 14 دوسرا سبب اس غزوہ کا یہ تھا کہ عامر بن طفیل جس نے بد عہدی کرکے 70 بڑے صحابہ کرام کو بغیر کسی وجہ کے نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا تھا حالانکہ وہ صحابہ کرام اس قبیلے کے رئیس ابوبراء کی دعوت اور ضمانت پر اسلام کی تبلیغ کے لیے اس علاقے میں آئے تھے لیکن اس کے باوجود ان دشمنان اسلام نے انہیں شہید کردیا۔ 15 لہٰذا انہیں سبق سکھانا بہت ضروری تھا تاکہ دشمن پر مسلمانوں کا رعب و دبدبہ قائم رکھا جاسکے اور شہید صحابہ کرام کا بدلہ بھی لیا جا سکے۔

لشکرِ اسلام کی روانگی

آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نجد کے ان سرکشوں سے نمٹنے کے لیے اپنے 400 صحابہ کرام کے ساتھ مدِینہ منوّرہ سے روانہ ہوئے۔ 16 آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سب سے پہلے میدان نخل پہنچے جو نجد کے علاقے میں قبیلہ بنو غطفان کا ایک علاقہ تھا۔ وہاں سے ہوتے ہوئے لشکرِ اسلام اچانک ان کی رہائش گاہوں پر جا پہنچا جو وادی سعد اور شقرہ کے درمیان واقع تھیں ۔ ان جگہوں سے دشمنوں کے مرد مسلمان لشکر کے خوف سے بھاگ کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے گئے 17 اور عورتوں کو وہیں چھوڑ گئے 18 جنہیں گرفتار کر لیا گیا۔ پہاڑ پر موجود ان افراد کا تعاقب کیا گیا تو وہ بہت بری طرح خوفزدہ ہوگئے۔ ان پر مسلمانوں کے رعب کا عالم یہ تھا کہ مسلمان جس سمت سے ان کی طرف جاتے وہ وہاں سے پیٹھ پھیر کر راہِ فرار اختیار کرلیتے۔

صلوٰۃ الخوف کی ادائیگی

وہاں قیام کے دوران آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے صحابۂ کرام کو صلاۃ الخوف پڑھائی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مشرکین نے جب دیکھا کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اور آپ کے اصحاب ظہر کی نماز کے لیے جمع ہوئے ہیں تو انہوں نے اسے حملہ کرنے کا ایک مناسب موقع سمجھا، مگر یہ موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ مشرکین نے اُس وقت یہ طے کیا کہ مسلمانوں کی ایک نماز باقی تھی لہذا جب وہ اسے ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوں گے تب وہ ان پر حملہ کردیں گے۔ پس اس موقع پر حضرت جبرائیل Alaihis Salam صلاۃ الخوف کا حکم لےکرنازل ہوگئے۔ چنانچہ نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے صحابہ کرام کے ساتھ صلاۃ الخوف ادا فرمائی۔ 1920 مشرکین کو ہمت نہ ہوسکی کہ وہ صلوٰۃ الخوف سے پہلے یا بعد میں مسلمانوں پر حملہ کرسکیں بلکہ وہ اسی طرح منتشر رہے جس طرح لشکرِ اسلام کے وہاں پہنچنے پر وہ اپنی قیام گاہوں کو چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔

لشکرِ اسلام کی واپسی

غزوہ ذات الرِّقاع میں لشکرِ اسلام کو کفار کے خلاف جنگ کی نوبت نہ آسکی کیونکہ وہ تمام لوگ اپنی جگہوں کو چھوڑ کر دائیں بائیں اور پہاڑوں پر منتشر ہو گئے تھے۔ چنانچہ نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam 15/ 16 دن وہاں گزار کر واپس مدینہ تشریف لے گئے۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اپنی واپسی سے قبل حضرت جعال بن سراقہ Radi Allah Anho کو اپنی اور مسلمان لشکر کی خیریت کی خوشخبری سنانے کے لیے مدِینہ منوّرہ روانہ فرمایا۔ 21

غزوه كے دوران معجزات

غزوۂ ذاتُ الرِّقاع کے سفر میں رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے متعدد معجزات اور آثارِ نبوت ظاہر ہوئے۔ ان واقعات میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے دستِ مبارک سے پانی کا جاری ہونا، چند انڈوں کے سالن میں ایسی برکت ہونا کہ پورا لشکر سیر ہو گیا، حضرت جابر Radi Allah Anho کے کمزور اونٹ کا آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی برکت سے تیز رفتار ہو جانا، ایک آسیب زدہ بچے کی شفایابی، درختوں کا آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے حکم سے اپنی جگہ سے حرکت کرنا، غورث بن حارث کے ہاتھ سے تلوار کا گر جانا، اور ایک مظلوم اونٹ کا آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی خدمت میں فریاد لے کر حاضر ہونا خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

انگشت مبارک سے چشمہ کا جاری ہونا

حضرت جابر Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ جب وہ جنگی معاملات سے فارغ ہو کر دوبارہ مسلمانوں کے درمیان پہنچے تو اس وقت آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے انہیں حکم دیا کہ وہ جا کر لوگوں میں وضو کرنے کا اعلان کر دیں۔حضرت جابر فرماتے ہیں کہ انہوں نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے حکم پر لوگوں میں وضو کا اعلان تو کردیا لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ کسی کے پاس پانی دستیاب نہیں ہے، تو انہوں نے واپس آ کر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو اس پر مطلع کیا۔ اس صورتحال پر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے انہیں ہدایت فرمائی کہ وہ اس انصاری صحابی کے پاس جا کر دیکھیں جو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے لیے مشکیزے میں ٹھنڈا پانی محفوظ رکھا کرتے تھے کہ آیا ان کے پاس کچھ پانی ہے یا نہیں۔ حضرت جابر Radi Allah Anho نے وہاں جا کر دیکھا اور آکر عرض کی کہ ان کے مشکیزے میں بھی صرف چند قطرے ہی باقی ہیں، جو اتنے کم ہیں کہ اگر انہیں انڈیلنے کی کوشش کی گئی تو وہ مشکیزے کی تہہ سے منہ تک آتے آتے ہی ختم ہو جائیں گے۔ یہ سن کر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے انہیں وہ مشکیزہ اپنی خدمت میں لانے کا حکم دیا۔ جب مشکیزہ لایا گیا تو نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اس پر کچھ پڑھا اور پھر اپنا دستِ مبارک اس میں ڈال کر حضرت جابر Radi Allah Anho کو ایک بڑا برتن لانے کو کہا۔ حضرت جابر Radi Allah Anho جب ایک بڑا پیالہ نما برتن لے کر حاضر ہوئے تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اپنا دستِ اقدس اس برتن میں رکھ کر انہیں حکم دیا کہ وہ بسم اللہ پڑھ کر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے ہاتھ پر پانی ڈالیں۔ حضرت جابر Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ جیسے ہی انہوں نے حکم کی تعمیل کی، آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے دستِ مبارک سے فوری طور پر پانی کا چشمہ جاری ہو گیا اور وہ برتن فوراً پانی سے بھر گیا۔ اس کے بعد آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے حضرت جابر Radi Allah Anho کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ جس کسی کو بھی پانی کی حاجت ہے وہ آ کر پانی لے جائے۔ چنانچہ پورے لشکر نے آکر جی بھر کر پانی پیا اور اپنی تمام ضروریات پوری کیں۔ حضرت جابر Radi Allah Anho اس واقعے کے آخر میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اپنا دستِ مبارک اس برتن سے باہر نکالا تو وہ اس وقت بھی پانی سے لبریز تھا۔ 22

آپﷺ کے حکم پر درخت کا چلنا

لشکر اِسلام اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ چلتے چلتے مسلمانوں کا لشکر ایک خشک صحرائی وادی میں پہنچا جو کافی وسیع تھی۔ وہاں ارد گرد قریب میں کوئی درخت بھی نہیں تھا۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے جب رفع حاجت کا ارادہ فرمایا تو کوئی ایسی جگہ نہیں مل سکی جہاں مناسب آڑ ہو۔ ایک جگہ دو درخت موجود تھے لیکن وہ دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ تھے یعنی اگر انہیں ایک ساتھ ملا دیا جاتا تو ہی وہ پردے کا کام دے سکتے تھے ورنہ نہیں۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو جب اس کا علم ہوا تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے حضرت جابر Radi Allah Anho کو حکم دیا کہ وہ جا کر ان درختوں سے کہیں کہ وہ دونوں آپس میں مل جائیں۔ حضرت جابر Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ انہوں نے جا کر درختوں کو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا پیغام پہنچایا۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا حکم سن کر دونوں درخت آپس میں اس طرح مل گئے گویا کہ وہ ایک ہی جَڑ سے نکلے ہوئے ہوں۔ ان کی آڑ میں رفع حاجت فرمانے کے بعد جب آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam واپس تشریف لائے تو فرمایا کہ اب جا کر ان درختوں سے کہو کہ اللہ کے رسول Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ اپنی اپنی جگہ پر واپس لوٹ جاؤ۔ حضرت جابر Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ انہوں نے جا کر ان درختوں کو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا پیغام سنایا۔ درختوں نے جیسے ہی آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا پیغام سنا وہ اپنی اپنی جگہ پر واپس لوٹ گئے 23 جیسے کبھی وہاں سے ہلے ہی نہ ہوں۔

آپ ﷺ کا قبروالوں کو عذاب سے بچانا

جب رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے حضرت جابر Radi Allah Anho کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جو دو درخت آپس میں مل گئے تھے، ان میں سے ہر درخت کی ایک ایک ٹہنی لے آئیں، پھر جس جگہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کھڑے تھے وہاں کھڑے ہو کر ایک شاخ دائیں طرف اور دوسری بائیں طرف گاڑ دیں۔ حضرت جابر Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ انہوں نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے ارشاد کے مطابق ایسا ہی کیا۔ بعد ازاں جب ان شاخوں کو زمین میں گاڑنے کی وجہ دریافت کی گئی تو رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایا کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تھا، جن میں عذاب ہورہا تھا۔ پس آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے چاہا کہ جب تک یہ دونوں ٹہنیاں سرسبز رہیں، ان قبر والوں کے عذاب میں تخفیف رہے۔ 24

انڈوں کے سالن میں برکت کا ہونا

دورانِ سفر میں جب لشکر اِسلام نے ایک جگہ قیام کیا تو صحابہ کرام آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی خدمت میں حاضر تھے اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ان سے گفتگو فرما رہے تھے کہ اتنے میں حضرت علبہ بن زید حارثی Radi Allah Anho حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی خدمت مبارکہ میں شتر مرغ کے 3 انڈے پیش کیے جو انہیں ریت میں دبے ہوئے ملے تھے۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ جا کر ان انڈوں کا سالن بنا لائیں۔ جب سالن لایا گیا تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے تمام صحابہ کرام کو دعوت دی اور روٹی نہ ہونے کے سبب اُن انڈوں کو بغیر روٹی کے ہی تناول فرما لیا۔ پورا لشکر انڈوں کے اس سالن سے بہت لطف اندوز ہوا۔ سب نے پیٹ بھر کر یہ سالن تناول کیا لیکن سالن کی مقدار میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ 25

آپ ﷺ پر ایک بدو کا تلوار سونتنا

غزوہ سے واپسی آتے ہوئے شدید گرمی کی وجہ سے ظہر کے وقت آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے قیلولہ فرمانے کا ارادہ فرمایا۔ چنانچہ مسلمانوں کا لشکر جب ایک ایسی وادی سے گزر رہا تھا جہاں پر ببول کے درخت کثرت کے ساتھ نظر آئے تو رسول کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam وہیں ایک درخت کے نیچے آرام فرما ہوگئے اور اپنی تلوار درخت سے لٹکا دی۔ اسی اثنا میں ایک مشرک بدو جس کا نام غورث بن حارث تھا، وہاں آپہنچا۔ اس نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی درخت سے لٹکتی ہوئی تلوار پکڑ کر لہرائی اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو مخاطب کرکے کہنے لگا کہ آج آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو اس سے کون بچا سکتا ہے۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اس کی بات سنی تو پُرسکون آواز میں ارشاد فرمایا: "اللہ!" یہ سنتے ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اس گری ہوئی تلوار کو اٹھا کر اس سے پوچھا کہ اب وہ بتائے کہ اسے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے کون بچا سکتا ہے۔ وہ اس صورتحال کودیکھ کر گھبرا گیا اور کہنے لگا کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam تو معاف کرنے والے اور درگزر کرنے والے ہیں۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اسے کوئی سزا نہیں دی البتہ اسے دعوت اِسلام پیش فرمائی جس پر اس نے اسلام تو قبول نہیں کیا البتہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے یہ وعدہ کیا کہ وہ نہ تو خود آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے کبھی جنگ و قتال کرے گا اور نہ ہی کسی ایسی قوم کا ساتھ دے گا جو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے لڑنے والی ہوگی۔ اس پر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اسے معاف کرکے رہا کردیا۔ یہ شخص واپس اپنے قوم کی طرف لوٹ کر آیا تو ان سے کہنے لگا کہ وہ اس شخص کے پاس سے واپس پلٹ کر آیا ہے جو تمام انسانوں میں سب سے بہتر ہے۔ 26 اس شخص کے حوالے سے محمد بن یوسف الشامی الصالحی اورزرقانی نے تصریح کی ہے کہ وہ بعد میں مسلمان ہو گیا تھا۔ 2728

اُونٹ کا واقعہ

حضرت جابر Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ غزوہ ذات الرِّقاع سے واپسی پر انکا اُونٹ بہت سست رفتاری سے چلنے لگا۔ ان کے سارے ساتھی آگے جارہے تھے اور وہ مجبوراً ان سے پیچھے پیچھے آرہے تھے۔ اس دوران آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا ان کے قریب سے گزر ہوا تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے ان سے دریافت فرمایا کہ مسئلہ کیا ہے۔ جب انہوں نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے اپنے اونٹ کی شکایت کی تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس اُونٹ کو بٹھا دیں۔ اس کے بعد آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اپنی سواری بٹھائی اور چھڑی سےاُونٹ کو کچو کے دیے۔ اس کے بعد آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے انہیں اپنے اونٹ پر سوار ہوجانے کا حکم دیا۔ حضرت جابر Radi Allah Anho فرماتے ہیں کہ اس کے بعد یہ اونٹ تمام اونٹوں سے آگے نکل گیا۔ 29

آسیب زدہ بچّے کی شفایابی

حضرت جابر Radi Allah Anho ہی فرماتے ہیں کہ جب وہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے ساتھ غزوہ ذات الرِّقاع کے لیے مدینہ منوّرہ سے نکلے تھے تو ایک مقام جس کا نام ”حرہ واقم“ تھا وہاں ایک بدو عورت اپنے بچے کو اٹھائے ہوئے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی خدمت میں آئی اور اس نے اپنے بچے کی بیماری کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے بچے پر جنّات کا اثر ہے، اس لیے اسے تکلیف پہنچتی ہے اور دورے پڑتے ہیں۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اپنا لعاب دہن اس بچے کے منہ میں ڈال کر تین مرتبہ فرمایا:

اخسأ عدو الله، وأنا رسول الله 30
اے اللہ کے دشمن! اس بچے کے اندر سے نکل جا، میں اللہ کا رسول ہوں۔

آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا یہ فرمانا تھا کہ وہ بچہ مکمل طور پر شفایاب ہوگیا۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam جب غزوہ ذاتِ الرِّقاع سے واپس اسی مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ وہی خاتون یعنی اس بیمار بچے کی والدہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے انتظار میں تحائف لے کر کھڑی ہے۔ اس نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو بتایا کہ وہ بچہ اب ایسا صحت مند ہوگیا ہے گویا کہ وہ کبھی بیمار ہی نہیں تھا۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے یہ سن کر خوشی کا اظہار فرمایا اور اس خاتون کے لائے ہوئے تحائف کو قبول فرمالیا۔

بوڑھا اونٹ اور آپ ﷺ کی شفقت

حضرت جابر Radi Allah Anho روایت کرتے ہیں کہ اسی غزوہ سے واپسی پر جب وہ ایک خاص مقام پر پہنچے تو وہاں ایک اونٹ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی خدمت میں بلبلاتا ہوا حاضر ہوا۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے اس اونٹ کی فریاد سن کر صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ وہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے۔ جس پر صحابہ نے عرض کی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہی اس بارے میں بہتر جانتے ہیں۔ تب آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے انہیں آگاہ فرمایا کہ وہ اونٹ اپنے مالک کے ظالمانہ رویے کی شکایت کر رہا ہے کہ اس کے مالک نے کئی برسوں تک اس سے زمین جوتنے کا کام لیا، لیکن اب جب کہ وہ بوڑھا ہو چکا ہے تو اس کا مالک اسے ذبح کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے حضرت جابر Radi Allah Anho کو حکم دیا کہ وہ اس اونٹ کے ساتھ جائیں اور اس کے مالک کو بلا لائیں۔ حضرت جابر Radi Allah Anho نے جب مالک کی پہچان کے حوالے سے دریافت کیا تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے جواب دیا کہ وہ اونٹ خود انہیں اپنے مالک تک پہنچا دے گا۔ حضرت جابر Radi Allah Anho بیان فرماتے ہیں کہ جب وہ باہر نکلے تو وہ اونٹ ان کے آگے آگے چلنے لگا، یہاں تک کہ وہ انہیں لے کر اپنے مالک تک پہنچ گیا۔ حضرت جابر Radi Allah Anho ان دونوں کو لے کر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوگئے۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے مالک کو دیکھتے ہی اسے اس کے اونٹ کی شکایت سے آگاہ کیا اور وہ اونٹ اس کے مالک سے خرید کر آزاد کر دیا، جس کے بعد وہ اونٹ جلد ہی صحت مند اور فربہ ہوگیا۔ حضرت جابر Radi Allah Anho مزید بتاتے ہیں کہ بعد میں جب کبھی کسی صحابی کو ضرورت پڑتی تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam وہ اونٹ انہیں استعمال کے لیے عطا فرما دیتے تھے اور وہ ایک طویل عرصے تک صحابہ کرام کی خدمت کرتا رہا۔ 31

غزوہ کا نتیجہ

اس غزوہ کے ذریعے مسلمانوں نے جنگجو بدوی قبائل کو منتشر کرکے یہ واضح پیغام دیا کہ مسلمان اپنی حفاظت و دفاع سے غافل نہیں ہیں۔ ثانیا یہ بھی باور کروا دیا گیا کہ اگر آئندہ کوئی قبیلہ یا گروہ مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی کرے گا، یا اُن پر حملہ آور ہونے کی منصوبہ بندی کرے گا، تو نہ صرف اس کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا، بلکہ ضرورت پڑنے پر اس کا تعاقب اس کے اپنے علاقے اور گھروں تک کیا جائے گا، جیسا کہ بنو ثعلبہ اور بنو غطفان کے ساتھ کیا گیا۔ اس لیے مسلمانوں کو کمزور سمجھ کر، خواہ اپنے طور پر یا قریش و یہود کی ایما پر، اُن کے خلاف جارحانہ اقدام کرنا کسی بھی قبیلے کے لیے خود مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ اس غزوہ میں مسلمان اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب و کامران ہو کر خیریت و عافیت کے ساتھ مدِینہ منوّرہ لوٹ آئے اور دوران سفر انہوں نے خود آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے آفاقی معجزات کا مشاہدہ فرمایا۔


  • 1  الشيخ صفی الرحمن المباركفوري، الرحیق المختوم، مطبوعۃ: دارابن حزم، بیروت، لبنان،2010م، ص: 378
  • 2  أبو عبداللہ محمد بن عمرالواقدی، المغازی، ج-1، مطبوعۃ: دارالأعلمی، بیروت، لبنان، 1989م، ص: 395
  • 3  أبو العباس أحمد بن علی تقي الدين المقریزی، إمتاع الأسماع بما للنبیﷺ من الأحوال والأموال والحفدۃ والمتاع، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1999م، ص: 197
  • 4  ابو محمد عبد الملک بن ہشام المعافری، السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ج-2، مطبوعۃ: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابی الحلبی واولادہ، القاہرۃ، مصر، 1955م، ص: 203
  • 5  ابو عبد اللہ محمد بن ابی بکر الرازی، مختار الصحاح، مطبوعۃ: المکتبۃ العصریۃ، بیروت، لبنان، 1999م، ص: 127
  • 6  ابو الفتح محمد بن محمد ابن سید الناس الیعمری، عیون الاثر فی فنون المغازی والشمائل والسیر، ج-2، مطبوعۃ: دار القلم، بیروت، لبنان، 1993م، ص:76
  • 7  محمد بن إسمعیل البخاری، صحیح البخاری، حدیث: 4128، مطبوعۃ: دار السلام للنشر والتوزیع، الریاض، السعودیۃ، 1999م، ص: 699
  • 8  أبو عبد الله محمد بن عبد الباقي الزرقاني، شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية ، ج-2، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1996م، ص: 521
  • 9  أبو العباس أحمد بن محمد القسطلانی، المواھب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، ج-1، مطبوعۃ: المكتبة التوفيقية، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 271
  • 10  محمد بن إسمعیل البخاری، صحیح البخاری، مطبوعۃ: دار السلام للنشر والتوزیع، الریاض، السعودیۃ، 1999م، ص: 699
  • 11  أبو الفضل أحمد بن علي ابن حجر العسقلاني، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج-7، مطبوعۃ: دار المعرفة، بيروت، لبنان، 1379ھ، ص: 417
  • 12  أبوالفداء إسماعیل بن عمرابن کثیر الدمشقی، السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، ج-3، مطبوعۃ: عيسى البابي الحلبي، القاهرة، مصر، 1976م، ص: 161
  • 13  ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری، صحیح البخاری، حدیث: 4137، مطبوعۃ: دار السلام للنشر والتوزیع، الریاض، السعودیۃ، 1999م، ص: 701
  • 14  أبو عبداللہ محمد بن عمرالواقدی، المغازی، ج-1، مطبوعۃ: دارالأعلمی، بیروت، لبنان، 1989م، ص: 395
  • 15  ابو العباس احمدبن محمد القسطلانی، المواھب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ، ج- 1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2009م، ص: 266
  • 16  ابو محمد الحسن بن عمر الحلبی، المقتفی من سیرۃ المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، مطبوعۃ: دار الحدیث، القاھرۃ، مصر، 1996م، ص: 154
  • 17  أبو العباس أحمد بن علی تقي الدين المقریزی، إمتاع الأسماع بما للنبیﷺ من الأحوال والأموال والحفدۃ والمتاع، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1999م، ص: 197
  • 18  ابو محمد الحسن بن عمر الحلبی، المقتفی من سیرۃ المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، مطبوعۃ: دار الحدیث، القاھرۃ، مصر، 1996م، ص: 154
  • 19  ابو محمد الحسین بن مسعود البغوی، معالم التنزیل فی تفسیر القرآن، ج ـ1، مطبوعۃ: دار احیاء التراث العربی، بیروت، لبنان، 1420ھ، ص: 690
  • 20  ابو زکریا یحی بن ابی بکر العامری، بہجۃ المحافل وبغیۃ الاماثل فی تلخیص المعجزات والسیر والشمائل، مطبوعۃ: دار المنھاج، بیروت، لبنان، 2009م، ص: 187
  • 21  ابو عبد اللہ محمد بن سعد البغدادی، الطبقات الکبری، ج-2، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1990م، ص: 47
  • 22  مسلم بن الحجاج النیسابوری، صحیح مسلم، حدیث: 7519، مطبوعۃ: دار السلام للنشر والتوزیع، الریاض، السعودیۃ، 2000م، ص: 1302- 1303
  • 23  أبوبکر أحمد بن الحسین البیہقی، دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعةﷺ، ج-6، مطبوعۃ: دارالکتب العلمیة، بیروت، لبنان، 1988م، ص: 18
  • 24  مسلم بن الحجاج النیسابوری، صحیح مسلم، حدیث: 7518، مطبوعۃ: دار السلام للنشر والتوزیع، الریاض، السعودیۃ، 2000م، ص: 1301- 1302
  • 25  عبد الرحمن بن ابی بکر جلال الدین السیوطی، الخصائص الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2008م، ص: 375
  • 26  ابو عبد اللہ احمد بن محمد الشیبانی، مسند الامام احمد بن حنبل، حدیث: 14929، ج- 23، مطبوعۃ: مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 2001م، ص: 193
  • 27  ابو عبد اللہ محمد بن یوسف الشامی الصالحی، سبل الہدیٰ والرشاد فی سیرۃ خیر العباد، ج-10، مطبوعۃ: دار الکتب العملیۃ، بیروت، لبنان، 1993م، ص: 259
  • 28  ابو عبد اللہ محمد بن عبد الباقی الزرقانی، شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ، ج-2، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1996م، ص: 532- 533
  • 29  ابو عبد اللہ احمد بن محمد الشیبانی، مسند الامام احمد بن حنبل، حدیث: 15026، ج-23، مطبوعۃ: مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 2001م، ص: 270-271
  • 30  ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی، المعجم الاوسط، حدیث: 9112، ج-9، مطبوعۃ: دار الحرمین، القاھرۃ، مصر، 1995م، ص: 52
  • 31  ایضاً

Powered by Netsol Online