غزوہ ذاتُ الرِّقاع سن 7 ہجری میں نجد کے قبائل بنو محارب اور بنو ثعلبہ کے خلاف پیش آیا۔ 1 یہ قبائل مسلمانوں کے خلاف جمع ہو کر جنگ کی تیاریاں کررہے تھے اور چاہتے تھے کہ مناسب وقت پر مسلمانوں پر حملہ آور ہو جائیں۔ 2 آپ
کو جب ان قبائل کے باطل عزائم کا علم ہوا تو آپ
اپنے جانثار صحابہ کرام کے ساتھ ان قبائل کی طرف روانہ ہوئے۔ 3 اس غزوہ میں لشکرِ اسلام کو باقاعدہ مخالف قبائل کے ساتھ جنگ کی نوبت نہیں آئی 4 كیونکہ دشمن مسلمانوں کی اس اچانک آمد کا سن کر وہاں سے بھاگ نکلے تھے۔
لفظ الرِّقاع عربی زبان کا ایک لفظ ہے جو الرُّقعَة کی جمع ہے۔ اس کا معنی پیوند کاری کے لیے استعمال ہونے والے کپڑےکےٹکڑ ے یا چیتھڑے کے ہیں۔ 5 اس غزوہ کو جن 4 وجوہات کی بنیاد پر ذاتُ الرِّقاع کہا گیا وہ درجِ ذیل ہیں:
اوّل : اس غزوہ میں مسلمانوں کے جھنڈوں میں پیوند لگے ہوئے تھے۔
دوم : جس وادی میں مسلمان فوج نے پڑاؤ ڈالا تھا وہاں ایک درخت کا نام ہی "ذات الرقاع" تھا جس سے اس غزوہ کومنسوب کردیا گیا ۔
سوم : اِس وادی کے پہاڑ سفید وسیاہ اور سرخ رنگ کی دھاریوں والے تھے۔ وہ ایسے نظر آتے تھے گویا کہ مختلف کپڑوں کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو آپس میں جوڑ دیا گیا ہو ۔ 6
چہارم : مسلمان لشکر کے پاس سواریوں کی کمی کی وجہ سے مسلمان فوج کی اکثریت کو سنگلاخ اور چٹانی رستوں پر پیدل چلنا پڑا جس کی وجہ سے مجاہدین کے پاؤں میں زخم ہو گئے تھے۔ مجاہدین نے اپنے پاؤں مزید زخمی ہونے سے بچانے کے لیے ان پر کپڑوں کے چیتھڑے اور ٹکڑے لپیٹ لیے تھے جس کی وجہ سے اس غزوہ کو اس نام سے پکارا جانے لگا۔ 7
اس غزوہ کے دوران مختلف واقعات اور معاملات درپیش آئے جن کی وجہ سے اس غزوہ کے کئی اور نام بھی رکھے گئے ۔ اس غزوہ کے 3 نام ان 3 قبائل کے نام پر رکھے گئے جن کی وجہ سے یہ غزوہ واقع ہوا کیونکہ وہ مدِینہ منوّرہ پر حملہ کرنے کا سوچ رہے تھے۔ اس لیے اسے "غزوہ بنو محارب"، "غزوہ بنو ثعلبہ" اور "غزوہ بنو انمار" بھی کہتے ہیں۔ ان قبائل کا تعلق نجد کے علاقے سے تھا اس لیے اسے" غزوہ نجد" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پہلا غزوہ تھا جس میں صلوٰۃ الخوف ادا کی گئی لہٰذا اسے "غزوہ صلوٰۃ الخوف" بھی کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ کے سفر میں کئی عجیب و غریب واقعات اور معجزات وقوع پذیر ہوئے جن کی وجہ سے اسے "غزوہ اعاجیب" بھی کہتے ہیں۔ 8
اس غزوہ کی حتمی تاریخ کے بارے میں اہلِ سیر کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاً ابنِ اسحاق کے نزدیک یہ کے بعد ربیع الآخر 4 ہجری میں پیش آیا، جبکہ واقدی اور ابنِ سعد کے مطابق یہ واقعہ محرم 5 ہجری میں رونما ہوا۔ 9 اسی طرح امام بخاری کے نزدیک یہ غزوہ جنگِ خیبر کے بعد پیش آیا۔ 10 حافظ ابن حجر 11 اور ابن کثیر 12 نے اس غزوہ کو خندق اور بنو قریظہ کے بعد ذکر کیا ہے۔ اس میں زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ غزوہ فتح خیبر کے بعد سن 7 ہجری میں ہی پیش آیا ہے کیونکہ اس غزوہ میں حضرت ابوہریرہ
شامل تھے اور یہ آپ
سے پہلی مرتبہ خیبر کے موقع پر ملے تھے ۔ 13
اس غزوہ کے لیے مسلمانوں کا مدِینہ منوّرہ سے نکل کر نجد کی طرف جانے کا پہلاسبب یہ تھا کہ مسلمانوں کے پاس نجد کے علاقے سے آنے والے قافلوں کی طرف سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی تھی کہ وہاں کے قبائل بنو محارب اور بنو ثعلبہ نے مسلمانوں پر حملے کے لیے جنگی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں اور وہ کسی وقت بھی مدِینہ منوّرہ پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ 14 دوسرا سبب اس غزوہ کا یہ تھا کہ عامر بن طفیل جس نے بد عہدی کرکے 70 بڑے صحابہ کرام کو بغیر کسی وجہ کے نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا تھا حالانکہ وہ صحابہ کرام اس قبیلے کے رئیس ابوبراء کی دعوت اور ضمانت پر اسلام کی تبلیغ کے لیے اس علاقے میں آئے تھے لیکن اس کے باوجود ان دشمنان اسلام نے انہیں شہید کردیا۔ 15 لہٰذا انہیں سبق سکھانا بہت ضروری تھا تاکہ دشمن پر مسلمانوں کا رعب و دبدبہ قائم رکھا جاسکے اور شہید صحابہ کرام کا بدلہ بھی لیا جا سکے۔
آپ
نجد کے ان سرکشوں سے نمٹنے کے لیے اپنے 400 صحابہ کرام کے ساتھ مدِینہ منوّرہ سے روانہ ہوئے۔ 16 آپ
سب سے پہلے میدان نخل پہنچے جو نجد کے علاقے میں قبیلہ بنو غطفان کا ایک علاقہ تھا۔ وہاں سے ہوتے ہوئے لشکرِ اسلام اچانک ان کی رہائش گاہوں پر جا پہنچا جو وادی سعد اور شقرہ کے درمیان واقع تھیں ۔ ان جگہوں سے دشمنوں کے مرد مسلمان لشکر کے خوف سے بھاگ کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے گئے 17 اور عورتوں کو وہیں چھوڑ گئے 18 جنہیں گرفتار کر لیا گیا۔ پہاڑ پر موجود ان افراد کا تعاقب کیا گیا تو وہ بہت بری طرح خوفزدہ ہوگئے۔ ان پر مسلمانوں کے رعب کا عالم یہ تھا کہ مسلمان جس سمت سے ان کی طرف جاتے وہ وہاں سے پیٹھ پھیر کر راہِ فرار اختیار کرلیتے۔
وہاں قیام کے دوران آپ
نے صحابۂ کرام کو صلاۃ الخوف پڑھائی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مشرکین نے جب دیکھا کہ رسول اللہ
اور آپ کے اصحاب ظہر کی نماز کے لیے جمع ہوئے ہیں تو انہوں نے اسے حملہ کرنے کا ایک مناسب موقع سمجھا، مگر یہ موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ مشرکین نے اُس وقت یہ طے کیا کہ مسلمانوں کی ایک نماز باقی تھی لہذا جب وہ اسے ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوں گے تب وہ ان پر حملہ کردیں گے۔ پس اس موقع پر حضرت جبرائیل
صلاۃ الخوف کا حکم لےکرنازل ہوگئے۔ چنانچہ نبی کریم
نے صحابہ کرام کے ساتھ صلاۃ الخوف ادا فرمائی۔ 1920 مشرکین کو ہمت نہ ہوسکی کہ وہ صلوٰۃ الخوف سے پہلے یا بعد میں مسلمانوں پر حملہ کرسکیں بلکہ وہ اسی طرح منتشر رہے جس طرح لشکرِ اسلام کے وہاں پہنچنے پر وہ اپنی قیام گاہوں کو چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔
غزوہ ذات الرِّقاع میں لشکرِ اسلام کو کفار کے خلاف جنگ کی نوبت نہ آسکی کیونکہ وہ تمام لوگ اپنی جگہوں کو چھوڑ کر دائیں بائیں اور پہاڑوں پر منتشر ہو گئے تھے۔ چنانچہ نبی کریم
15/ 16 دن وہاں گزار کر واپس مدینہ تشریف لے گئے۔ آپ
نے اپنی واپسی سے قبل حضرت جعال بن سراقہ
کو اپنی اور مسلمان لشکر کی خیریت کی خوشخبری سنانے کے لیے مدِینہ منوّرہ روانہ فرمایا۔ 21
غزوۂ ذاتُ الرِّقاع کے سفر میں رسول اللہ
کے متعدد معجزات اور آثارِ نبوت ظاہر ہوئے۔ ان واقعات میں آپ
کے دستِ مبارک سے پانی کا جاری ہونا، چند انڈوں کے سالن میں ایسی برکت ہونا کہ پورا لشکر سیر ہو گیا، حضرت جابر
کے کمزور اونٹ کا آپ
کی برکت سے تیز رفتار ہو جانا، ایک آسیب زدہ بچے کی شفایابی، درختوں کا آپ
کے حکم سے اپنی جگہ سے حرکت کرنا، غورث بن حارث کے ہاتھ سے تلوار کا گر جانا، اور ایک مظلوم اونٹ کا آپ
کی خدمت میں فریاد لے کر حاضر ہونا خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
حضرت جابر
فرماتے ہیں کہ جب وہ جنگی معاملات سے فارغ ہو کر دوبارہ مسلمانوں کے درمیان پہنچے تو اس وقت آپ
نے انہیں حکم دیا کہ وہ جا کر لوگوں میں وضو کرنے کا اعلان کر دیں۔حضرت جابر فرماتے ہیں کہ انہوں نے آپ
کے حکم پر لوگوں میں وضو کا اعلان تو کردیا لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ کسی کے پاس پانی دستیاب نہیں ہے، تو انہوں نے واپس آ کر آپ
کو اس پر مطلع کیا۔ اس صورتحال پر آپ
نے انہیں ہدایت فرمائی کہ وہ اس انصاری صحابی کے پاس جا کر دیکھیں جو آپ
کے لیے مشکیزے میں ٹھنڈا پانی محفوظ رکھا کرتے تھے کہ آیا ان کے پاس کچھ پانی ہے یا نہیں۔ حضرت جابر
نے وہاں جا کر دیکھا اور آکر عرض کی کہ ان کے مشکیزے میں بھی صرف چند قطرے ہی باقی ہیں، جو اتنے کم ہیں کہ اگر انہیں انڈیلنے کی کوشش کی گئی تو وہ مشکیزے کی تہہ سے منہ تک آتے آتے ہی ختم ہو جائیں گے۔ یہ سن کر آپ
نے انہیں وہ مشکیزہ اپنی خدمت میں لانے کا حکم دیا۔ جب مشکیزہ لایا گیا تو نبی کریم
نے اس پر کچھ پڑھا اور پھر اپنا دستِ مبارک اس میں ڈال کر حضرت جابر
کو ایک بڑا برتن لانے کو کہا۔ حضرت جابر
جب ایک بڑا پیالہ نما برتن لے کر حاضر ہوئے تو آپ
نے اپنا دستِ اقدس اس برتن میں رکھ کر انہیں حکم دیا کہ وہ بسم اللہ پڑھ کر آپ
کے ہاتھ پر پانی ڈالیں۔ حضرت جابر
فرماتے ہیں کہ جیسے ہی انہوں نے حکم کی تعمیل کی، آپ
کے دستِ مبارک سے فوری طور پر پانی کا چشمہ جاری ہو گیا اور وہ برتن فوراً پانی سے بھر گیا۔ اس کے بعد آپ
نے حضرت جابر
کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ جس کسی کو بھی پانی کی حاجت ہے وہ آ کر پانی لے جائے۔ چنانچہ پورے لشکر نے آکر جی بھر کر پانی پیا اور اپنی تمام ضروریات پوری کیں۔ حضرت جابر
اس واقعے کے آخر میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب آپ
نے اپنا دستِ مبارک اس برتن سے باہر نکالا تو وہ اس وقت بھی پانی سے لبریز تھا۔ 22
لشکر اِسلام اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ چلتے چلتے مسلمانوں کا لشکر ایک خشک صحرائی وادی میں پہنچا جو کافی وسیع تھی۔ وہاں ارد گرد قریب میں کوئی درخت بھی نہیں تھا۔ آپ
نے جب رفع حاجت کا ارادہ فرمایا تو کوئی ایسی جگہ نہیں مل سکی جہاں مناسب آڑ ہو۔ ایک جگہ دو درخت موجود تھے لیکن وہ دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ تھے یعنی اگر انہیں ایک ساتھ ملا دیا جاتا تو ہی وہ پردے کا کام دے سکتے تھے ورنہ نہیں۔ آپ
کو جب اس کا علم ہوا تو آپ
نے حضرت جابر
کو حکم دیا کہ وہ جا کر ان درختوں سے کہیں کہ وہ دونوں آپس میں مل جائیں۔ حضرت جابر
فرماتے ہیں کہ انہوں نے جا کر درختوں کو آپ
کا پیغام پہنچایا۔ آپ
کا حکم سن کر دونوں درخت آپس میں اس طرح مل گئے گویا کہ وہ ایک ہی جَڑ سے نکلے ہوئے ہوں۔ ان کی آڑ میں رفع حاجت فرمانے کے بعد جب آپ
واپس تشریف لائے تو فرمایا کہ اب جا کر ان درختوں سے کہو کہ اللہ کے رسول
تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ اپنی اپنی جگہ پر واپس لوٹ جاؤ۔ حضرت جابر
فرماتے ہیں کہ انہوں نے جا کر ان درختوں کو آپ
کا پیغام سنایا۔ درختوں نے جیسے ہی آپ
کا پیغام سنا وہ اپنی اپنی جگہ پر واپس لوٹ گئے 23 جیسے کبھی وہاں سے ہلے ہی نہ ہوں۔
جب رسول اللہ
اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو آپ
نے حضرت جابر
کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جو دو درخت آپس میں مل گئے تھے، ان میں سے ہر درخت کی ایک ایک ٹہنی لے آئیں، پھر جس جگہ آپ
کھڑے تھے وہاں کھڑے ہو کر ایک شاخ دائیں طرف اور دوسری بائیں طرف گاڑ دیں۔ حضرت جابر
فرماتے ہیں کہ انہوں نے آپ
کے ارشاد کے مطابق ایسا ہی کیا۔ بعد ازاں جب ان شاخوں کو زمین میں گاڑنے کی وجہ دریافت کی گئی تو رسول اللہ
نے فرمایا کہ آپ
کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تھا، جن میں عذاب ہورہا تھا۔ پس آپ
نے چاہا کہ جب تک یہ دونوں ٹہنیاں سرسبز رہیں، ان قبر والوں کے عذاب میں تخفیف رہے۔ 24
دورانِ سفر میں جب لشکر اِسلام نے ایک جگہ قیام کیا تو صحابہ کرام آپ
کی خدمت میں حاضر تھے اور آپ
ان سے گفتگو فرما رہے تھے کہ اتنے میں حضرت علبہ بن زید حارثی
حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی کریم
کی خدمت مبارکہ میں شتر مرغ کے 3 انڈے پیش کیے جو انہیں ریت میں دبے ہوئے ملے تھے۔ آپ
نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ جا کر ان انڈوں کا سالن بنا لائیں۔ جب سالن لایا گیا تو آپ
نے تمام صحابہ کرام کو دعوت دی اور روٹی نہ ہونے کے سبب اُن انڈوں کو بغیر روٹی کے ہی تناول فرما لیا۔ پورا لشکر انڈوں کے اس سالن سے بہت لطف اندوز ہوا۔ سب نے پیٹ بھر کر یہ سالن تناول کیا لیکن سالن کی مقدار میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ 25
غزوہ سے واپسی آتے ہوئے شدید گرمی کی وجہ سے ظہر کے وقت آپ
نے قیلولہ فرمانے کا ارادہ فرمایا۔ چنانچہ مسلمانوں کا لشکر جب ایک ایسی وادی سے گزر رہا تھا جہاں پر ببول کے درخت کثرت کے ساتھ نظر آئے تو رسول کریم
وہیں ایک درخت کے نیچے آرام فرما ہوگئے اور اپنی تلوار درخت سے لٹکا دی۔ اسی اثنا میں ایک مشرک بدو جس کا نام غورث بن حارث تھا، وہاں آپہنچا۔ اس نے آپ
کی درخت سے لٹکتی ہوئی تلوار پکڑ کر لہرائی اور آپ
کو مخاطب کرکے کہنے لگا کہ آج آپ
کو اس سے کون بچا سکتا ہے۔ آپ
نے اس کی بات سنی تو پُرسکون آواز میں ارشاد فرمایا: "اللہ!" یہ سنتے ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ آپ
نے اس گری ہوئی تلوار کو اٹھا کر اس سے پوچھا کہ اب وہ بتائے کہ اسے آپ
سے کون بچا سکتا ہے۔ وہ اس صورتحال کودیکھ کر گھبرا گیا اور کہنے لگا کہ آپ
تو معاف کرنے والے اور درگزر کرنے والے ہیں۔ آپ
نے اسے کوئی سزا نہیں دی البتہ اسے دعوت اِسلام پیش فرمائی جس پر اس نے اسلام تو قبول نہیں کیا البتہ آپ
سے یہ وعدہ کیا کہ وہ نہ تو خود آپ
سے کبھی جنگ و قتال کرے گا اور نہ ہی کسی ایسی قوم کا ساتھ دے گا جو آپ
سے لڑنے والی ہوگی۔ اس پر آپ
نے اسے معاف کرکے رہا کردیا۔ یہ شخص واپس اپنے قوم کی طرف لوٹ کر آیا تو ان سے کہنے لگا کہ وہ اس شخص کے پاس سے واپس پلٹ کر آیا ہے جو تمام انسانوں میں سب سے بہتر ہے۔ 26 اس شخص کے حوالے سے محمد بن یوسف الشامی الصالحی اورزرقانی نے تصریح کی ہے کہ وہ بعد میں مسلمان ہو گیا تھا۔ 2728
حضرت جابر
فرماتے ہیں کہ غزوہ ذات الرِّقاع سے واپسی پر انکا اُونٹ بہت سست رفتاری سے چلنے لگا۔ ان کے سارے ساتھی آگے جارہے تھے اور وہ مجبوراً ان سے پیچھے پیچھے آرہے تھے۔ اس دوران آپ
کا ان کے قریب سے گزر ہوا تو آپ
نے ان سے دریافت فرمایا کہ مسئلہ کیا ہے۔ جب انہوں نے آپ
سے اپنے اونٹ کی شکایت کی تو آپ
نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس اُونٹ کو بٹھا دیں۔ اس کے بعد آپ
نے اپنی سواری بٹھائی اور چھڑی سےاُونٹ کو کچو کے دیے۔ اس کے بعد آپ
نے انہیں اپنے اونٹ پر سوار ہوجانے کا حکم دیا۔ حضرت جابر
فرماتے ہیں کہ اس کے بعد یہ اونٹ تمام اونٹوں سے آگے نکل گیا۔ 29
حضرت جابر
ہی فرماتے ہیں کہ جب وہ آپ
کے ساتھ غزوہ ذات الرِّقاع کے لیے مدینہ منوّرہ سے نکلے تھے تو ایک مقام جس کا نام ”حرہ واقم“ تھا وہاں ایک بدو عورت اپنے بچے کو اٹھائے ہوئے آپ
کی خدمت میں آئی اور اس نے اپنے بچے کی بیماری کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے بچے پر جنّات کا اثر ہے، اس لیے اسے تکلیف پہنچتی ہے اور دورے پڑتے ہیں۔ آپ
نے اپنا لعاب دہن اس بچے کے منہ میں ڈال کر تین مرتبہ فرمایا:
اخسأ عدو الله، وأنا رسول الله 30
اے اللہ کے دشمن! اس بچے کے اندر سے نکل جا، میں اللہ کا رسول ہوں۔
آپ
کا یہ فرمانا تھا کہ وہ بچہ مکمل طور پر شفایاب ہوگیا۔ آپ
جب غزوہ ذاتِ الرِّقاع سے واپس اسی مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ وہی خاتون یعنی اس بیمار بچے کی والدہ آپ
کے انتظار میں تحائف لے کر کھڑی ہے۔ اس نے آپ
کو بتایا کہ وہ بچہ اب ایسا صحت مند ہوگیا ہے گویا کہ وہ کبھی بیمار ہی نہیں تھا۔ آپ
نے یہ سن کر خوشی کا اظہار فرمایا اور اس خاتون کے لائے ہوئے تحائف کو قبول فرمالیا۔
حضرت جابر
روایت کرتے ہیں کہ اسی غزوہ سے واپسی پر جب وہ ایک خاص مقام پر پہنچے تو وہاں ایک اونٹ آپ
کی خدمت میں بلبلاتا ہوا حاضر ہوا۔ آپ
نے اس اونٹ کی فریاد سن کر صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ وہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے۔ جس پر صحابہ نے عرض کی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم
ہی اس بارے میں بہتر جانتے ہیں۔ تب آپ
نے انہیں آگاہ فرمایا کہ وہ اونٹ اپنے مالک کے ظالمانہ رویے کی شکایت کر رہا ہے کہ اس کے مالک نے کئی برسوں تک اس سے زمین جوتنے کا کام لیا، لیکن اب جب کہ وہ بوڑھا ہو چکا ہے تو اس کا مالک اسے ذبح کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد آپ
نے حضرت جابر
کو حکم دیا کہ وہ اس اونٹ کے ساتھ جائیں اور اس کے مالک کو بلا لائیں۔ حضرت جابر
نے جب مالک کی پہچان کے حوالے سے دریافت کیا تو آپ
نے جواب دیا کہ وہ اونٹ خود انہیں اپنے مالک تک پہنچا دے گا۔ حضرت جابر
بیان فرماتے ہیں کہ جب وہ باہر نکلے تو وہ اونٹ ان کے آگے آگے چلنے لگا، یہاں تک کہ وہ انہیں لے کر اپنے مالک تک پہنچ گیا۔ حضرت جابر
ان دونوں کو لے کر آپ
کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوگئے۔ آپ
نے مالک کو دیکھتے ہی اسے اس کے اونٹ کی شکایت سے آگاہ کیا اور وہ اونٹ اس کے مالک سے خرید کر آزاد کر دیا، جس کے بعد وہ اونٹ جلد ہی صحت مند اور فربہ ہوگیا۔ حضرت جابر
مزید بتاتے ہیں کہ بعد میں جب کبھی کسی صحابی کو ضرورت پڑتی تو آپ
وہ اونٹ انہیں استعمال کے لیے عطا فرما دیتے تھے اور وہ ایک طویل عرصے تک صحابہ کرام کی خدمت کرتا رہا۔ 31
اس غزوہ کے ذریعے مسلمانوں نے جنگجو بدوی قبائل کو منتشر کرکے یہ واضح پیغام دیا کہ مسلمان اپنی حفاظت و دفاع سے غافل نہیں ہیں۔ ثانیا یہ بھی باور کروا دیا گیا کہ اگر آئندہ کوئی قبیلہ یا گروہ مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی کرے گا، یا اُن پر حملہ آور ہونے کی منصوبہ بندی کرے گا، تو نہ صرف اس کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا، بلکہ ضرورت پڑنے پر اس کا تعاقب اس کے اپنے علاقے اور گھروں تک کیا جائے گا، جیسا کہ بنو ثعلبہ اور بنو غطفان کے ساتھ کیا گیا۔ اس لیے مسلمانوں کو کمزور سمجھ کر، خواہ اپنے طور پر یا قریش و یہود کی ایما پر، اُن کے خلاف جارحانہ اقدام کرنا کسی بھی قبیلے کے لیے خود مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ اس غزوہ میں مسلمان اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب و کامران ہو کر خیریت و عافیت کے ساتھ مدِینہ منوّرہ لوٹ آئے اور دوران سفر انہوں نے خود آپ
کے آفاقی معجزات کا مشاہدہ فرمایا۔