غزوہ بنو نضیر سن 4 ہجری، ربیع الاوّل کے مہینے میں لڑا گیا۔ 1 یہ غزوہ یہودِ مدینہ کے خلاف حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی دوسری جنگ تھی۔ 2 بنو نضیر دوسرے یہودی قبائل کی طرح مدِینہ منوّرہ میں آباد تھے اور انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ مدِینہ منوّر ہ کی مشترکہ حفاظت اور امن و امان کے لئے معاہدات کر رکھے تھے لیکن جب کبھی انہیں موقع ملتا یہ عہد شکنی کر دیتے تھے۔ 3 دوسری طرف رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بنو نضیر کو اکسا تا رہتا تھا اور انہیں جھوٹی تسلیاں دیتا رہتا تھا کہ وہ اور اس کے 2 ہزار جنگجو بھی مسلمانوں کے خلاف ان یہودیوں کے ساتھ ہیں۔ 4 آپ
نے ان کی طرف سے مسلسل سازشوں کے نتیجے میں پہلے ان کا 6 دنوں تک محاصرہ فرمایا اور پھر انہیں مدِینہ منوّرہ سے شہر بدر کر دیا۔ 5
اس غزوہ کا سبب یہ بناکہ قریش مکہ نے عبداللہ بن اُبی اور اس کے حلیف اوس و خزرج کے لوگوں کو ایک دھمکی آمیز خط لکھا کہ انہوں نے محمد (
)کو اپنی پناہ میں لے رکھا ہے لہٰذا یا تو وہ ان کےساتھ جنگ کریں یا پھر انہیں اپنے شہر سے نکال دیں ورنہ ان پر حملہ کر دیا جائے گااور ان کے جوانوں کو قتل کرکے ان کی عورتوں کو باندیاں بنا دیا جائے گا۔ 6 یہ خط جب ان منافقین اور مشرکین تک پہنچا تو انہوں نے آپ
کے ساتھ جنگ کرنے کے ارادہ سے تیاری کرنا شروع کردی اور ایک مقام پر جمع ہونا شروع ہوگئے۔ آپ
کو جب اس حوالے سے خبر ملی تو آپ
نے تشریف لے جا کر ان سے ملاقات کی اور ارشاد فرمایا:
لقد بلغ وعيد قريش منكم المبالغ، ما كانت تكيدكم بأكثر مما تريدون أن تكيدوا به أنفسكم، تريدون أن تقاتلوا أبناءكم وإخوانكم. 7
تم لوگ قریش کی دھمکی سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہوگئے ہو، ا ن کی چالیں تمہارا اس سے زیادہ نقصان نہیں کرسکتیں جتنا کہ تم اپنے ہاتھوں خود کرنا چاہتے ہو۔ تم تو اپنے ہی بیٹوں اور اپنے بھائیوں سے قتال کرنا چاہتے ہو۔
اوس و خزرج کے لوگوں نے آپ
سے جب یہ بات سنی تو وہ قریش مکہ کی دھمکی کی حقیقت کو سمجھ کر منتشر ہو گئے لیکن اس کے بر عکس جب قریش مکہ نے یہودیوں کو خط لکھ کردھمکایا توانہوں نے آپ
کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے کی کوشش کی۔ بنو نضیر کے یہودیوں نے آپ
کو یہ پیغام دیا کہ آپ
اپنے 19 صحابہ کرام
کے ساتھ ان کے پاس تشریف لے آئیں اور وہ بھی اپنے 30 علماء لے آئیں گے تاکہ دونوں گروہوں میں ملاقات ہو جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اگر ان کے علماء نے آپ
کی نبوت کی صداقت کو قبول کر لیا اور آپ
پر ایمان لانے کے لیے تیار ہو گئے تو وہ بھی آپ
پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ
جب اپنے صحابہ کرام
کے ساتھ مقرر جگہ پر پہنچے تو یہود کہنے لگے کہ تمام افراد جو اتنی بڑی تعداد میں ہیں انہیں ایک ساتھ کسی بات کا سمجھانا مشکل ہوگا لہٰذا آپ
اپنے صحابہ میں سے صرف3 صحابہ کرام کو لے آئیں اور تین علماء ان کی طرف سے بھی آ جائیں گے تاکہ باہم افہام و تفہیم کے ساتھ گفتگو ممکن ہو سکے۔ پھر رسولِ کریم
حضراتِ ابوبکر، عمر اور علی
کے ساتھ ان کے مقرر کردہ مقام کی طرف چل پڑے۔ یہود کی طرف سے بھی3 علماء آئے لیکن انہوں نے سازش یہ کر رکھی تھی کہ ان کے پاس اسلحہ چھپا ہوا تھا۔ ان کی اس سازش کو خود بنو نضیر کی ایک خاتون نے یوں فاش کیا کہ اس نے خاموشی سے اپنے مسلمان بھائی کو یہود کی سازش کے بارے میں آگاہ کیا چنانچہ آپ
یہود کی اس سازش سے آگاہ ہونے کے بعد وہاں سے تشریف لے گئے البتہ آپ
پر یہ بات واضح ہو گئی کہ بنو نضیر اپنی غداری اور سازشی ذہنیت سے باز آنے والے نہیں تھے لہذا ان کو سزا دینا ضروری ہوگیا تھا۔ 8
اس غزوہ کا ایک سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ بنو نضیر نے مخفی طور پر قریش مکہ کو آپ
کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے پیغام بھجوایا تھا اور ساتھ ہی ساتھ انہیں مسلمانوں کی چند فوجی و دفاعی خامیوں اور کمزوریوں سے بھی آگاہ کیاتھا۔ 9 جبکہ اصل سبب جسے زیادہ تر سیرت نگاروں نے اہم قرار دیا ہے وہ سانحہ بئرمعونہ ہے جہاں سے واپسی پر حضرت عمر و بن امیہ الضمری
کی ملاقات بنی عامر قبیلے کے 2 افراد سے ہوئی۔ کیونکہ ان دونوں کا تعلق اسی قبیلے سے تھا جس کے افراد نے بئر معونہ کے واقعہ میں آپ
کے 70 بے گناہ صحابہ کرام کو شہید کیا تھا اس لئےحضرت عمر وبن امیہ
نے موقع پا کر ان دونوں کو قتل کر دیا۔ حضرت عمروبن امیہ الضمری
نے مدِینہ منوّرہ پہنچ کر آپ
کو پہلے بئر معونہ کے واقعہ کے بارے میں آگاہ کیا اور پھر فرمایا کہ انہوں نے اسی قبیلے کے 2 آدمیوں کو راستے میں موقع پا کر قتل کر دیا ہے۔ جب رسول اللہ
کو یہ خبر ملی تو آپ
نے فرمایا :
لقد قتلت قتیلین لادینهما.10
تم نے ایسے دو لوگوں کو قتل کیا جن کی دیت میں ضرور ادا کروں گا۔
کیونکہ آپ
ان دونوں افراد کو اپنی امان دے چکے تھے۔ جب ان دونوں افراد کی دیت کی ادائیگی کےحوالے سے بات چیت کرنے کے لئے آپ
بنو نضیر کے یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے گفتگو فرمائی تو بجائے اس کے کہ وہ معاہدے کے مطابق دیت کی ادائیگی پر راضی ہوتے انہوں نے الٹا آپ
کو شہید کرنے کی سازش تیار کی جس کو بعد میں اللہ نے اپنے فضل سے ناکام بنا دیا۔
جب اس سازش سے بچکر آپ
مدینہ طیبہ پہنچے تو آپ
نے حضرت محمد بن مسلمہ
سے فرمایا کہ بنو نضیر کو جا کر آپ
کا یہ حکم سنا دیں کہ وہ 10 دن کے اندر مدینہ طیبہ سے نکل جائیں ورنہ ان کی گردنیں مار دی جائیں گی۔ بنو نضیر نے محمد بن مسلمہ کی زبانی آپ
کا یہ پیغام سننے کے بعد شہرِ مدینہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور اس کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔ انہوں نے "ذوجدر" نامی چراہ گاہ سے اپنے جانوروں کو منگوانا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سواریوں اور ساتھ لے جانے والے سامان کے لیے انہیں اونٹوں کی ضرورت تھی جو انہوں نے قبیلہ اشجع سے عاریتًا لینے کا انتظام کر لیا۔ 11
قبیلہ بنو نضیر مدِینہ منوّرہ سے روانگی کی تیاریوں میں مصروف تھا کہ اسی دوران رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی کے نمائندے سوید اور داعس بنو نضیر کے پاس پہنچے اور انہیں عبداللہ بن اُبی کا یہ پیغام دیاکہ انہیں اپنے گھروں اور قلعوں سے نکلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہےبلکہ وہ اپنے مورچوں میں داخل ہو کر اپنے دفاع کی تیاری کریں۔ اس نے بنو نضیر کو یہ یقین دلایا کہ اس کے ساتھ اس کے 2 ہزار لوگ اور دیگر عرب قبائل کےجنگجو تلوار بکف موجود ہیں اور وہ قبیلہ بنو غطفان کے ساتھ بھی بات کر چکا ہے جن کی مدد مسلمانوں کے خلاف ان کی شامل حال رہے گی۔ 12 اس موقع پر عبداللہ ابن اُبی نے دوسرے یہودی قبیلے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد قرظی کو بھی ایک پیغام بھیجا جس میں اسے ان حالات میں اپنے ہم مذہب قبیلہ بنو نضیر کی حمایت پر اکسانے کی کوشش کی لیکن کعب نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا بلکہ واضح طور پر عبداللہ بن اُبی کو کہلا بھیجاکہ جب تک وہ موجود ہے تب تک اس کے قبیلے میں سے ایک شخص بھی مسلمانوں کے ساتھ وعدہ خلافی کا مرتکب نہیں ہوگا۔
یہودیوں کے ایک سمجھدار آدمی سلام بن مشکم نے جب عبداللہ بن اُبی کے ان پیغامات کو سنا اور اس پر یہودی سردارحُییّ بن اخطب کےشیطانی ارادوں کا سنا تو اللہ کی قسم کھا کر کہنے لگا کہ سب کے علم میں یہ بات ہے کہ محمد (
) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ ان کی صفات کا ذکر کتاب مقدس میں موجود ہے۔ یہود صرف حسد کی وجہ سے ان کی اطاعت قبول نہیں کرتے کیونکہ وہ حضرت ہارون
کی اولاد میں سے نہیں ہیں۔ بہتر ہے کہ اس نبی کی طرف سے پیش کردہ امن و سلامتی کی پیشکش کو قبول کر لیا جائے اور ان کا علاقہ چھوڑ دیا جائے ورنہ سب کو اس شہر سے جلا وطن ہو کر جانا پڑ جائے گا، مال و متاع اور عزت رو ند دی جائے گی، اولاد کو قیدی بنا لیا جائے گا اور نوجوان تہ تیغ کر دیے جائیں گے۔ 13 سلام بن مشکم کی صائب رائے اور تمام تر کوششوں کے باوجود حُییّ بن اخطب نے اس کا مشورہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔
اسی طرح بنو نضیر کے ایک شخص ساروک بن اُی الحقیق کو لوگ دیوانہ سمجھتے تھے۔ اس نے بھی اس موقع پر یہودی سردار حُییّ بن اخطب کو نہایت منحوس اور بدبخت قرار دیا اور کہنے لگا کہ پورا بنو نضیر قبیلہ اس کے ہاتھوں تباہ ہو جائے گا جس پر اس کے بھائیوں نے اسے مارا پیٹا اور حُییّ بن اخطب سے اپنی وفاداری کا اظہار کیا 14 لیکن بعد میں ساروک بن اُی الحقیق کی پیش گوئی ٹھیک ثابت ہوئی اور بنو نضیر کو حُییّ بن اخطب کے فیصلوں کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
جدی جو حُییّ بن اخطب کا بھائی تھا عبداللہ ابن اُبی کے پاس آیا۔ اس وقت ابن اُبی اپنے دوستوں کے ساتھ محفل جما کر بیٹھا ہوا تھا۔ جدی نے اُبی کے ساتھ بات چیت کر کے اسے اپنے بھائی حُییّ بن اخطب کا پیغام پہنچایا۔ ابن اُبی ابھی جدی کو تسلی ہی دے رہا تھا کہ جدی نے دیکھا کہ اُبی کا بیٹا عبداللہ (
) جو آپ
کےصحابی تھے وہ زرہ پہنے اور ہاتھ میں تلوار لیے ہوئے لشکر اسلام میں شمولیت کے لیے اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کی طرف جا رہے تھے۔ یہ دیکھ کر جدی ابن اُبی سے مایوس ہو گیااوراس نے فوراً واپس آ کر اپنے بھائی حُییّ بن اخطب کو پوری صورتحال سے آگاہ کیا اورکہا کہ وہ ابن اُبی کی طرف سے بالکل نا امید ہے اور اسے ابن اُبی میں کوئی بھلائی کے آثار نظر نہیں آتے۔ 15
آپ
نے مسجد نبوی میں امامت کا فریضہ حضرت عبداللہ ابن مکتوم
کے حوالے کر کے انہیں اپنا نائب مقرر فرمایا 16 اور پھر بنو نضیر کے علاقے میں جا کر حضرت سعد بن عبادہ
کو ایک قبہ دیا کہ وہ اسے بنو نضیر کے قلعوں کے سامنے نصب کر دیں۔ 17 آپ
نے مسلمان مجاہدین کے ساتھ نماز عصر بنو نضیر کے میدان میں ادا فرمائی۔ یہودیوں نے جب لشکر اسلام کو دیکھا تو اپنے قلعوں میں داخل ہو گئے۔ ان میں سے جنگجو یہودی قلعے کی دیواروں پر چڑھ گئے جہاں انہوں نے پہلے ہی سے بڑی تعداد میں تیر اور پتھر جمع کر رکھے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں پر قلعے کی فصیل سے تیر اور پتھر برسانا شروع کردیے یہاں تک کہ شام ہو گئی۔ اس دوران مسلمان لشکر کے وہ سپاہی جو پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی عشاء کی نماز تک وہاں پہنچ گئے۔ رسول کریم
عشاء کی نماز کی ادائیگی کے بعد 10 صحابہ کرام کے ہمراہ واپس مدِینہ منوّرہ تشریف لے آئے۔ اس وقت آپ
نے زرہ پہنی ہوئی تھی اور آپ
گھوڑے پر سوار تھے۔ اپنی غیر موجودگی میں آپ
نے لشکر کی کمان حضرت علی
کو سونپ دی۔ مسلمانوں نے بنو نضیر کا مکمل محاصرہ کر لیا اور وقتاً فوقتاً نعرہ تکبیر بھی لگاتے رہے۔ صبح سویرے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ 18
صبح ہونے پر حضرت بلال
نے اذان فجر دی۔ آپ
نے اذان کے فوری بعد اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ بنی خطمہ کے میدان میں نماز فجر ادا فرمائی۔ اس کے بعد آپ
نے حضرت بلال
کو یہاں بھی خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا اور جب خیمہ لگ گیا تو آپ
اس میں تشریف لے گئے۔ خیمہ لگنے کے بعد یہودیوں کا ایک شخص عزوک جو ماہر تیر انداز تھا اس نے آپ
کے اس خیمے پر تیر اندازی شروع کر دی چنانچہ آپ
نے اپنا خیمہ دوسری جگہ منتقل کروا دیا۔ اس طرح یہودیوں کے محاصرے کا دوسرا دن بھی گزر گیا لیکن اُبی ابن کعب یا اس کے کسی دوست اور مددگار نے اس طرف کا رخ کرنا گوارا نہیں کیا بلکہ وہ اپنے گھروں ہی میں چھپے بیٹھے رہے۔ 19
مسلمانوں کی طرف سے قبیلہ بنو نضیر کے محاصرے سے قبل ہی بنو قریظہ نے بنو نضیر کی مدد سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ لہٰذا ان کی طرف سے کسی بھی قسم کی کمک اور مدد کا کوئی دور دور تک امکان نہیں تھا۔ عبداللہ ابن اُبی جس نے اپنے 2000 مددگاروں کے ساتھ بنو نضیر کی مدد اور معاونت کا اعلان کیا تھا اس کا بھی دور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا بلکہ وہ اپنے گھروں میں بڑے آرام اور سکون سے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ صورتحال دیکھ کر بنو نضیر میں بڑے پیمانے پر مایوسی پھیل گئی۔ چنانچہ سلام بن مشکم اور کنانہ بن صوریا نے حُییّ بن اخطب سے طنزاً پوچھاکہ اس کےمعاون اور مددگار کہاں ہیں جن کی مدد پر اس کو بڑا ناز تھا جس پر حُییّ بن اخطب نے اعترافاً کہا کہ شاید بنونضیر کے مقدر میں تباہی اور بربادی لکھ دی گئی ہے۔ 20
عشاء کے وقت حضرت علی
کو تلاش کیا گیا لیکن ان کا کہیں سراغ نہیں مل سکا۔ لشکر اسلام میں کافی بے چینی پھیل گئی تو حضرت علی
کے غائب ہونے کا ذکر آپ
سے کیا گیا تو آپ
نے فرمایا:
إنه فى بعض شأنكم. 21
(ان کے بارے میں فکر مند مت ہو) وہ تمہارے ہی کسی کام میں مشغول ہوں گے۔
تھوڑی دیرہی گزری تھی کہ حضرت علی
آپ
کی بارگاہ میں اس حال میں حاضر ہوئےکہ آپ کے ہاتھ میں یہودی تیر انداز عزوک کا کٹا ہوا سر تھا۔ عزوک اپنی کمین گاہ میں اپنے جنگجو ساتھیوں کے ساتھ چھپ کر بیٹھا ہوا تھا تاکہ موقع ملتے ہی وہ مسلمانوں پر حملہ آور ہو جائے۔ حضرت علی
اچانک اس پر حملہ آور ہوئے اور اسے مار گرایا جس کے نتیجے میں اس کے ساتھی اسے تنہا چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ آپ
نے 10 صحابہ کرام
جن میں حضرت ابو دجانہ اور سہل بن حنیف
جیسے بہادر اور تجربہ کار جنگجو بھی شامل تھے انہیں حضرت علی
کے ساتھ بھیجا جنہوں نے ان باقی ماندہ یہودیوں کو پکڑ کر تہہ تیغ کر دیا اور ان کے سر کاٹ کر بنی حطمہ کے کنویں میں پھینک دئے۔ 22
بنو نضیر کے یہودیوں نے اپنے قلعوں کی فصیلوں سے مسلمانوں پر مسلسل سنگ باری اور تیر اندازی کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ مسلمانوں کے جوابی وار سے بچنے کے لیے ان کے کھجور کے درخت ان کے لیے حفاظتی حصار کا کام دے رہے تھے۔ اس لیے آپ
نے اپنے 2 صحابہ کرام حضرت ابو لیلی حرانی اور عبداللہ بن سلام
کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ کھجور کے ان درختوں کو کاٹ کر جلا دیں جن کی آڑ میں یہودی مسلمانوں پر حملہ کرنے کے بعد جا چھپتےتھے۔ چنانچہ ابو لیلی حرانی عجوہ کھجور کے درخت کاٹ کر جلانے لگے جبکہ عبداللہ بن سلام لینہ کھجور کے درخت کاٹ کر آگ کی نذر کر نے لگے۔ کھجور کے درختوں کا کٹنا اور جلنا بالخصوص عجوہ کھجور کے درختوں کا جلنا یہودیوں کے لیے بہت ہی تکلیف کا باعث بنا کیونکہ یہ ان کے بہترین اموال میں سے تھیں۔ 23 اپنے بہترین کھجوروں کے درخت کٹتا اور انہیں آگ میں جلتادیکھ کر یہودیوں نے آہ و بکاء شروع کردی۔ بنو نضیر کی عورتیں شدت غم سے اپنے گریبان چاک کرنے لگیں اور رخسار پیٹنے لگیں۔ عورتوں کے شور شرابہ اور رونے دھونے پر ابو رافع سلام نے انہیں جھوٹا دلاسہ دیا کہ وہ عجوہ کی قیمتی کھجوروں کے درختوں کے کٹنے اور جلنےپر مت روئیں کیونکہ خیبر میں ان کے پاس عجوہ کے بہت سارے کھجور کے درخت ہیں اور 10 ہزار جنگجو حلیف ہیں جو بہت ہی زیادہ طاقتور ہیں۔ آپ
کو ابو رافع کی جب اس بھڑک کا پتہ چلا تو آپ
بے ساختہ مسکرا ئے۔ 24
حُییّ بن اخطب اور دیگریہودیوں نے کھجور کے درختوں کے کاٹے جانے والی بات کومسلمانوں کے خلاف بطورِ پروپیگنڈا کے پھیلانے کی کوشش کی۔ وہ لوگوں میں اس بات کی تشہیر کرنے لگے کہ ایک طرف تو محمد (
) لوگوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ شجر کاری کرو، پھل دار درختوں کو مت کاٹو وغیرہ اور دوسری طرف کھجور کے پھل دار درختوں کو کٹوا دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم
کے اس عمل کی تائید قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کو نازل کر کے فرمائی:
مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ 525
(اے مومنو! یہود بنو نَضیر کے محاصرہ کے دوران) جو کھجور کے درخت تم نے کاٹ ڈالے یا تم نے انہیں اُن کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو (یہ سب) اللہ ہی کے حکم سے تھا اور اس لئے کہ وہ نافرمانوں کو ذلیل و رسوا کرے۔
اس پورے معرکہ میں مسلمانوں نے کھجور کےمحض 6 درخت اللہ تعالیٰ کی رضا اور حکم کے موجب کاٹے تھے 26 جن کی آڑ میں چھپ کر مسلمانوں پر حملہ ہوتا تھا۔ جنگی نقطہ نظر سے یہودیوں کی ایسی کمین گاہوں کا صفایا کرنا ضروری تھا جن کی آڑ سے وہ مستقل مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہے تھے۔
آپ
کی حکمتِ عملی یہودیوں کے خلاف نہایت مؤثر اور فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ بنو نضیر بالآخر مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے، تاہم انہیں یہ اجازت دی گئی کہ وہ اپنے اموال میں سے اتنا سامان ساتھ لے جائیں جتنا ان کے اونٹ اٹھا سکیں۔وہ مدینہ سے نکل کر زیادہ تر خیبر کی طرف چلے گئے، جبکہ بعض شام کی طرف روانہ ہوئے۔ خیبر جانے والے ان کے نمایاں سرداروں میں سلام بن ابی الحقیق، کنانہ بن الربیع بن ابی الحقیق اور حُییّ بن اخطب شامل تھے۔ جب وہ خیبر پہنچے تو وہاں کے لوگ ان کے زیرِ اثر آ گئے۔ان حالات میں دو یہودی یامین بن عمیر اور ابو سعد بن وہب نے ایک دوسرے سے کہا کہ جب وہ جانتے ہیں کہ محمد
اللہ کے سچے رسول ہیں تو پھر ہڈ دھرمی کرنے کے بجائے کیوں نہ وہ مسلمان ہو جائیں تاکہ جان و مال بھی محفوظ ہو جائے اور ان کی آخرت بھی سنور جائے چناچہ وہ دونوں کلمہ پڑھ کے حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے۔ 27
مسلمانوں کی طرف سے بنو نضیر کا محاصرہ اکثر سیرت نگاروں کے مطابق 6راتوں تک رہا 28293031 جبکہ امام واقدی اور مغلطائی کے مطابق تقریبا 15 دن 3233 اور حلبی کے ذکر کردہ اقوال کےمطابق20، 23 یا 25 دن اس محاصرے کی مدت تھی 34 جس کے نتیجے میں یہودیوں نے بالآخر اپنی شکست تسلیم کر لی اور آپ
کی عائد کردہ شرائط پر مدِینہ سے پُرامن جلا وطنی کو بھی قبول کر لیا۔
بنو نضیر کے یہود کے ساتھ جلا وطنی کی مندرجہ ذیل شرائط طے کی گئیں:
یہود نے مدینہ میں مزید رہنے کے لیے بہانہ تراشا کہ یہاں کے بہت سارے لوگ ہمارے مقروض ہیں اور وہ قرض میں لی گئی اپنی رقم مدّتِ مقررہ کے بعد ہی ادا کریں گے لہٰذا وہ یہ چاہتے ہیں کہ مدِینہ منوّرہ میں ٹھہر کر لوگوں کو سود پر دی گئی قرض کی رقوم بمع سود کے واپس لے سکیں۔ آپ
نے جب ان سے یہ بات سنی تو فرمایا:
تعجلوا و ضعوا. 36
جلدی کرو اور (سود کی رقم) چھوڑ دو ( بس اصل رقم یعنی راس المال وصول کرو)۔
ابو رافع سلام بن اُبی الحقیق نے حضرت اسید
سے 120 دینار لینے تھے چنانچہ اس نے 40 دینار کی اضافی رقم جو سود کی مد میں تھی اسے ختم کر کے اپنی اصل رقم یعنی 80 دینار وصول کیے۔ اسی طرح باقی یہودیوں کو بھی باَمر مجبوری یہی کچھ کرنا پڑا۔37
یہودیوں کے ساتھ اگرچہ کہ جلا وطنی اور دوسرے امور پر آپ
کی بات چیت جاری تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ لشکر اسلام کا محاصرہ بھی جاری تھا جس کی وجہ سے یہودیوں میں مایوسی پھیلتی چلی گئی یہاں تک کہ انہوں نے اپنے مکانات اور گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں سے تباہ و برباد کرنا شروع کر دیا۔ وہ اپنی طاقت کے مطابق جو کچھ اپنے اونٹوں پر لاد سکتے تھے انہوں نے لادنا شروع کیا۔ ان کی ذہنی حالت اس حد تک ہیجان کا شکار تھی کہ ان میں سے جو کوئی اپنے گھر کے دروازوں کی چوکھٹ اکھاڑتا اور دیوار گراتا تو اس میں سے کھڑکیاں نکال کر اسے بھی وہ اپنے اونٹ پر لاد دیتا۔ انہوں نے اپنے اموال جمع کر کے 600 اونٹوں پر وہ تمام مال جو قیمتی اور اہم تھا اور اونٹوں پر لادا جا سکتا تھا لاد دیا۔ یہود جو سونا اور چاندی جمع کرنے کی بڑی حرص اور ہوس رکھتے تھے انہوں نے اپنے ساتھ اپنا تمام سونا اور چاندی بھی اٹھا لیا حتی کہ سلام بن اُبی الحقیق نے چمڑے سے بنا ہوا بورا مشک وغیرہ سے بھرا اور اپنے ساتھ لے گیا۔38
بنو نضیر قبیلہ جب اپنے گھر اور قلعے چھوڑ کر روانہ ہوا تو بظاہر ان پر کسی قسم کی ندامت اور افسردگی کے آثار نہیں تھے۔ انہوں نے بھرپور طریقے سے اس بات کا تاثر دینے کی کوشش کی کہ انہیں اس جلا وطنی پر نہ کوئی مایوسی تھی اور نہ ہی کسی قسم کا غم تھا۔ وہ پہلے بلحارث بن خزرج کے علاقے سے گزرے، اس کے بعد جبلیّہ سے گزرتے ہوئے جِسِر کے مقام کو عبور کیا اور اس کے بعد عید گاہ تک پہنچے اور پھر ان کا گزر مدِینہ منوّرہ کے بازار کے بیچ سے ہوا جہاں لوگ دو طرفہ کھڑے ان کا تماشہ دیکھ رہے تھے۔39 ان کی عورتیں ہودَجوں میں مخمل اور ریشم کے لباس پہنے ہوئے بیٹھی تھیں اور سبز و سُرخ ریشمی چادریں انہوں نے اپنے اوپر ڈالی ہوئی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ سونے اور چاندی کے زیورات سے بھی لدی ہوئی تھیں جس کا مقصد صرف اور صرف لوگوں کے سامنے اپنی دولت اور ثروت کا مظاہرہ کرنا تھا۔ 40
اس موقع پر ان کے ساتھ گانا گانے کے لیے پیشہ وَر گلو کار ائیں بھی تھیں جو دَف بجا بجا کر گیت گا رہی تھیں۔ مسلمانوں نے ایک مغلوب اور مفتوح قوم کی اس بے باکی اور بدتمیزی کے اعلانیہ اظہار کے باوجود کسی بھی قسم کا ردّعمل نہیں دکھایا اور نہ ہی اس کا انتقام نہیں لیا بلکہ انہیں نہایت پُرامن طریقے سے جلاوطن ہونے کا موقع دیا۔ اس موقع پر بنو نضیر کے یہودی باقاعدہ قطار بنا کر نکلے جا رہے تھے۔ بالآخر ربیع الاوّل ، 4 ہجری بمطابق اگست، 625 ء میں بنو نضیر کے یہودی ہمیشہ کے لیے مدِینہ منوّرہ سے جلاوطن کر دیے گئے۔ 41
بنو نضیر کے یہودیوں کی جانب سے تمام تر اشتعال انگیزی کے باوجود مسلمانوں نے ان کے ساتھ کوئی تعرض نہیں کیا اور نہ ہی انہیں نقصان پہنچانے کا کوئی کام کیا بلکہ انہیں مدِینہ منوّرہ سے اپنی چاہت کے مطابق کسی منتخب کردہ منزل کی جانب نکل جانے کے لیے کھلا راستہ فراہم کیا۔ ان کی اکثریت یہاں سے جلا وطن ہو کر خیبر میں رہائش پذیر ہو گئی جبکہ چند لوگوں نے شام کا رخ کیا۔42
ان کے اپنے گھروں سے نکل جانے اور مدِینہ منوّرہ سے چلے جانے کے بعد ان کے چھوڑے ہوئے سامان، مال و متاع اور اسلحہ کو آپ
نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ یہودیوں نے جاتے ہوئے پیچھے جو سامان چھوڑا تھا اس میں 50زِر ہیں، 50 خود اور 340 تلواریں شامل تھیں۔ 43 یہ مسلمانوں کو بغیر جنگ کے ملنے والا مال غنیمت تھا جسے مال فَیء کہا جاتا ہے۔
جب بنی نضیر سے حاصل شدہ مال غنیمت آپ
کے قبضے میں آیا تو آپ
نے ثابت بن قیس بن شماس انصاری کو یاد فرما کر انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کو بلائیں۔ جب اوس و خزرج دونوں قبیلے آپ
کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ
نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر انصار کے حسنِ سلوک اور ان کی قربانیوں کا ذکر کیا جو انہوں نے مہاجر بھائیوں کی خاطر اب تک دی تھیں۔ پھر آپ
نےفرمایا کہ اگر انصار چاہیں تو تمام اموال اور مال فَیء کو اکٹھا ان کے اور مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے گا۔ اس صورت میں مہاجرین جو ان کی دی ہوئی رہائش گاہوں میں قیام پذیر ہیں وہ اس کے مالک رہیں گے اور اگر ان کی رضامندی ہو تو مال فَیء صرف مہاجرین ہی میں تقسیم کر دیا جائے تو اس صورت میں وہ انصار کی رہائش گاہوں کو چھوڑ دیں گے۔ یہ سن کر قبیلہ خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت سعد بن معاذ
نے آپ
سے عرض کی کہ آپ
انصار کا مال مہاجرین کے پاس ہی رہنے دیں اور بنو نضیر سے حاصل کردہ تمام اموال بھی مہاجر بھائیوں ہی میں تقسیم کردیں۔ اس فیصلے کو سن کر تمام انصار نے اس فیصلے کی تائید کی۔ نبی کریم
نے انصار کے اس ایثار کو دیکھا تو آپ
نے نہایت خوش ہو کر ان کے حق میں دعا فرمائی:
اللهم ارحم الانصار. 44
اے اللہ! انصار پر رحم فرما۔
انصار کے مشورہ اور اجازت سے جو انہوں نے نہایت خوش دلی سے آپ
کو دیا تھا یہودیوں سے حاصل کردہ مال و متاع مہاجرین میں تقسیم کر دیا گیا۔ انصار میں سے صرف 3 آدمی ایسے تھے جنہیں اس مال میں سے حصہ ملا۔ ان میں سے ایک حضرت ابو دجانہ
تھے اور دوسرے سہیل بن حنیف
تھے۔ ان کے علاوہ مشہور یہودی سردار ابن اُبی الحقیق کی تلوار حضرت سعد بن معاذ کو
آپ
نے عطا فرمائی۔ 45
آپ
نے بقیہ سارا مال ضرورت مندوں میں تقسیم فرما دیا اور کچھ ازواج مطہرات کے خرچے کے لیے رکھا۔ بنو نضیر کے باغات سے سالانہ حاصل ہونے والے غلے میں سے آپ
اپنی ازواج مطہرات کو سالانہ خرچ دیا کرتے تھے اور جو بچ جاتا تھا اسے جہاد کی تیاری کے لیے صرف کیا جاتا تھا۔ 46 غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مند وں کی مدد اور اعانت بھی اسی مال سے کی جاتی تھی۔ 47 بنو نضیر کے مجموعی طور پر 7 باغات تھے جو مسلمانوں کے پاس بطور مال فَیء کے آئے تھے۔ ان کی رکھوالی پر آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع کو بطور ناظم مقرر کیا گیا تھا۔ ان باغات کے نام المیثب، الصافیہ ، الدلال ،حسنی، برقہ، الاعواف اور مشربہ ام ابراہیم منقول ہیں۔ 48