encyclopedia

عبداللہ ابن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (546 ء تا 570ء)

Published on: 04-Jul-2026
image
نسب، پیدائش اور خاندانی مقام:حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالمطلب کے فرزند اور حضور ﷺ کے والد محترم تھے۔ آپ کی ولادت 546ء میں بنو ہاشم کے معزز خاندان میں ہوئی۔منّتِ قربانی اور سو اونٹوں کا فدیہ:حضرت عبدالمطلب کی منت کے مطابق قرعہ حضرت عبداللہ کے نام نکلا، جس کا فدیہ 100 اونٹ مقرر ہوا، جو بعد میں عرب میں دیت کا معیار بھی بنا۔بشارات اور حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا سے نکاح:حضرت عبداللہ کے چہرۂ انور اور نورِ نبوت کے سبب متعدد خواتین نکاح کی خواہش مند تھیں، بعد میں والد کی رضامندی سے سیدہ آمنہ بنت وہب سے نکاح فرمایا۔لقبِ ابنُ الذبیحین:حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے واقعات کی نسبت سے رسول اللہ ﷺ کو ابنُ الذبیحین کہا جاتا ہے۔وصال مبارک اور تاریخ:شام سے واپسی پر یثرب میں بیماری کے باعث حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا 570ء میں 25 سال کی عمر میں وصال ہوا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ ابھی حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطنِ مبارک میں تھے۔وراثت اور تاریخی اہمیت:حضرت عبداللہ نے وراثت میں پانچ اونٹ، ایک بکریوں کا ریوڑ اور حضرت اُمِّ ایمن رضی اللہ عنہا کو چھوڑا۔
LanguagesEnglishChinese 中文HindiPortugueseDutch

حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب Radi Allah Anho حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے والد گرامی تھے۔ 1 حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے والد کا نام عبدالمطلب بن ہاشم تھا جو قریش کے مشہور قبیلہ بنو ہاشم کے سردار تھے۔ آپ Radi Allah Anho کی والدہ فاطمہ بنت عمرو بن عائز بن عمران بن مخزوم بن یقادہ تھیں جن کا تعلق قبیلہ بنو مخزوم سے تھا۔ 2 حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کی ولادت 546ء میں ہوئی اور آپ Radi Allah Anho اپنے تمام بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے تاہم حضرت حمزہ Radi Allah Anho ، حضرت عباس Radi Allah Anho اور حضرت صفیہ Radi Allah Anha جو کہ آپ Radi Allah Anho کے والد محترم کی دیگر ازواج یعنی حضرتِ نُکیلہ بنتِ جناب Radi Allah Anha اور ہالہ بنتِ وہیب Radi Allah Anha سے پیدا ہوئے تھے 3 وہ آپ Radi Allah Anho سے كم عمر تھے۔ 4

حضرت ِعبداللہ Radi Allah Anho كے سات بہن بھائی تھے جن میں حضرت زبیر Radi Allah Anho، عبد مناف (یعنی ابو طالب)، عبدالکعبہ، عاتقہ ، برّہ اوراُمیمہ شامل تھے۔ 5 آپ Radi Allah Anho حضرت عبدالمطلب کی تمام اولاد میں سب سے زیادہ وجیہ اور خوبصورت شخصیت کے مالک تھے 6 اور اپنے والد محترم کے نزدیك سب سے زیادہ محبوب تھے۔ 7

قربانی کے لیے حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کا انتخاب

جب زم زم کا کنواں کھودا جارہا تھا تو حضرت عبدالمطلب نے اس بات کو محسوس کیا کہ ان کا ایک ہی بیٹا الحارث ہے 8 جو اس کام میں ان کی مدد کررہا ہے۔ آپ Radi Allah Anho نے اللہ سے دعا فرمائی کہ اللہ رب العزت ان کو مزید نرینہ اولاد عطا فرمائےتاکہ وہ اللہ کے دین کا کام احسن طریقے سے کر سکیں۔ آپ نے نیت بھی فرمائی کہ اگر اللہ رب العزت نے آپ کو دس بیٹے عطا فرمائے تو آپ اللہ کی رضا کی خاطر ان میں سے ایک بیٹے کو اللہ کے گھر یعنی خانہ کعبہ میں قربان کردیں گے۔ 9 آپ کی یہ دعا اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوگئی اور اللہ نے آپ کو دس بیٹے عطا فرمائے جو آپ کی حفاظت بھی کرتے تھے اور مختلف امور میں آپ کی معاونت بھی فرماتے تھے۔

ایک دن آپ نے اپنے ان تمام بیٹوں کو اکھٹا فرمایا اور ان کو اپنی منت کے بارے میں آگاہ فرمایا جو آپ نے ان کی ولادت سے پہلے ان کے لیے مانی تھی۔ وہ تمام بیٹے اس منت کے اِکمال کے لیے راضی ہوگئے اور آپ سے دریافت فرمایا کہ اس معاملے میں اِن کو اُن بیٹوں سے کیا چیز مطلوب ہے؟ حضرت عبدالمطلب ان تمام بیٹوں کو اپنے ساتھ خانہ کعبہ لے گئے اور ان سب کے ہاتھ میں ایک ایک تیر تھما دیا اور ان کو اس بات کا پابند کیا کہ ہر کوئی اس پر اپنا نام لکھ دے۔ جب آپ کے تمام بیٹے ان تیروں پر اپنا نام لکھ کر آپ کے پاس لے آئے تو آپ نے ایک کاہن سے پوچھا کہ ان میں سے کس بیٹے کی قربانی اللہ کی بارگاہ میں پیش کرنی چاہیے؟ 1011 اس کاہن نے وہ تمام تیر آپ کے بیٹوں سے لے لیے جن پر انہوں نے اپنے اپنے نام لکھے تھے اور فال نکالنے میں مصروف ہوگیا۔ حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی اولاد کے بارے میں بہتر فیصلہ فرمانے کے لیے دعائیں مانگنے لگے۔ کاہن نے جب فال نکالی تو وہ فال حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے حق میں نکلی۔ حضرت عبدالمطلب نے اپنے ہاتھ میں ایک چھڑی کو لیا اور حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کو لے کر ان کو قربان کرنے کے لئے روانہ ہوگئے۔ 12 حضرت عبداللہ Radi Allah Anho جو کہ اس بات کو بخوبی جانتے تھے کہ ان کے والدِ محترم ان کو قربان کرنے کے لیے اپنے ساتھ لیے جا رہے ہیں، آپ Radi Allah Anho نے اس پر کسی قسم کی بھی نا گواری، دکھ یا شکوہ کا کوئی اظہار اپنے والد گرامی سے نہیں فرمایا 13 جو کہ اس بات کا ثبوت تھا کہ آپ Radi Allah Anho اس مسئلہ میں اپنے والد گرامی کے مکمل مطیع و فرمانبردار تھے اور اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جان کا نظرانہ پیش کرنے کے لئے قلبی و ذہنی طور پر راضی تھے۔ 14

جب لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ حضرت عبدالمطلب اپنی منّت کو پورا کرنے کے لیے حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کو قربان کردیں گے تو وہ حضرت عبدالمطلب کے پاس آئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے بجائے کوئی ایسا طریقہ کار اختیار کریں کہ ان کی منت بھی پوری ہوجائے اور ان کی کسی اولاد کو اپنی جان کی قربانی بھی پیش نہ کرنی پڑے۔ مغیرہ بن عبداللہ المخزومی جو کہ حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے ننھیالی رشتےدار تھے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کو اپنی منت کی خاطر قربان کرنے کے بجائے عبدالمطلب کو کوئی ایسا طریقہ کار اپنانا چاہئے جس سے حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کی جان بھی سلامت رہے اور حضرت عبدالمطلب کی منّت بھی پوری ہوجائے۔ حضرت عبدالمطلب جو خود اس مسئلہ میں نہایت ہی مغموم اور پریشان تھے اور خود بھی کسی مناسب حل کی تلاش میں تھے، آپ نے لوگوں سے مشورہ مانگا کہ اُن کو اِن حالات میں کیا اقدام کرنا چاہیے؟ مغیرہ بن عبداللہ المخزومی نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ کو اپنے بیٹے کی قربانی کرنے کے بجائے اس کا فدیہ دینا چاہیے اور اس نے آپ کو یہ پیشکش بھی کی کہ وہ اس بارے میں بھی تیار ہے کہ وہ خود اپنی طرف سے حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے فدیہ کے طور پر ایک بڑی رقم ادا کردے اور اگر اسے اپنے قبیلے والوں کے ساتھ مل کر کثیر رقم بھی ادا کرنی پڑے جس سے حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کی زندگی بچائی جا سکے تو وہ اس کے لئے بھی راضی ہے۔

بعض قریش کے لوگوں نے حضرت عبدالمطلب کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کو یثرب میں موجود ایک مشہور کاہنہ کے پاس لے جائیں جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ اس کے پاس جنات اور دیگر روحانی مخلوقات موجود رہتی ہیں اور اس سے جا کر اس حوالے سے مشورہ طلب کریں، ممکن ہے کہ وہ کچھ بہتر رائے تجویز کرسکے۔ حضرت عبدالمطلب نے اس تجویز کو قبول کیا اور حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کو لے کر یثرب روانہ ہوگئے۔ جب آپ یثرب پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ وہ کاہنہ اس وقت یثرب میں موجود نہیں ہے بلکہ خیبر کے علاقہ کی طرف روانہ ہو چکی ہے جو کہ یہودیوں کی ایک مشہور وادی تھی اور یثرب کے علاقہ سے تقریبا 100 میل کے فاصلے پر موجود تھی۔ 15 حضرت عبدالمطلب جو خود اپنے بیٹے کے حوالےسے نہایت ہی متفکر تھے، آپ نے خیبر تک کا سفر طے کیا اور وہاں جا کر اس کاہنہ سے بالمشافہ ملاقات کی۔ کاہنہ نے پوری تفصیل سننے کا بعد سب لوگوں کو وہاں سے جانے کا حکم دیا اور اس خاص روح کو بلانے کا انتظام کیا جس کی مدد سے وہ ایسے تمام امور پر آگاہی حاصل کرتی تھی۔

حضرت عبدالمطلب نے وہ ساری رات اللہ کی عبادت کرتے اور اس سے دعائیں مانگ کر گزاری۔ اگلی صبح جب آپ اس کاہنہ کے پاس پہنچے تو اس نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اس بچے کی جان کا فدیہ دیں جو کہ دس اونٹوں کے برابر ہوگا۔ اس نے آپ کو واپس مکہ تشریف لے جا کر ان اونٹوں کی قربانی پیش کرنے کا حکم دیا اور اس کا طریقہ کار یہ بتایا کہ ہر 10 اونٹوں اور عبداللہ Radi Allah Anho کے درمیان قرعہ اندازی کریں اور اگر قرعہ اندازی 10 اونٹوں کے حق میں آئے تو ان کو قربان کردیں اور اگر عبداللہ کے حق میں نکلے تو 10 اونٹوں کا مزید اضافہ کرکے دوبارہ سے قرعہ اندازی کریں اور اس طرح ہر دفعہ دس دس کرکے اونٹ بڑھاتے جائیں یہاں تک کہ قرعہ اندازی حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے بجائے اونٹوں کے حق میں نکل آئے۔ اس کے مطابق یہ واحد حل تھا جس سے حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کی جان کو بچایا جا سکتا تھا اور منّت کی تکمیل کی جا سکتی تھی۔ 16

حضرت عبدالمطلب واپس مکہ پہنچے اور اس کاہنہ کےحکم پر عمل کرنے کا مکمل ارادہ فرما لیا۔ آپ کے بیٹوں نے قرعہ اندازی کا سلسلہ شروع کردیا جبکہ حضرت عبدالمطلب خود اللہ کی بارگاہ میں دعاگو ہوگئے۔ آپ کے بیٹے دس دس کرکے اونٹ حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے پاس لاتے اورتیر پھینکتے جو کہ ہر دفعہ حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے خلاف گرتا اور وہ اونٹوں کی تعداد میں 10 اونٹوں کا اضافہ کر دیتے۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ تقریبا دس بار جاری رہا اور بلآخر جب اونٹو ں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی تو یہ قرعہ حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے حق میں نکل آیا یعنی آپ Radi Allah Anho کے بدلے 100 اونٹوں کی قربانی پیش کرنے کا فیصلہ ہوا۔ 17 قریش اور دیگر لوگ جو وہاں موجود تھے، انہوں نے حضرت عبدالمطلب کو مبارکباد پیش کی اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ خدا آپ سے راضی ہو گیا اور اس نے 100 اونٹوں کے بدلے آپ کے بیٹے کی جان کی بخشش فرما دی۔ حضرت عبدالمطلب جو کہ یقیناً اس بات سے خوش تھے، اس کے باوجود بھی آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ میں اب بھی تین بار مزید اس طرح سے قرعہ اندازی کروں گا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ مکمل طور پر میرے اوپر واضح نہ ہوجائے۔ آپ نے یہ عمل تین بار دہرایا اور ہر دفعہ فال حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے حق میں اور اونٹوں کے خلاف نکلی جو کہ واضح اشارہ تھا کہ حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کی جان قربان کرنے کے بجائے 100 اونٹوں کی قربانی پیش کی جائے۔ 18 حضرت عبدالمطلب نے صفہ اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان ان 100 اونٹوں کی قربانی کی اور تمام اہل مکہ کی بھرپور دعوت کا اہتمام کیا لیکن خود انہوں نے اور ان کے بیٹوں نے ان اونٹوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھایا۔ اسی دن سے عربوں میں یہ رواج پڑگیا کہ کسی کی بھی جان کا فدیہ جو پہلے 10 اونٹوں کی صورت میں ادا کیا جاتا تھا، وہ 100 اونٹ مختص ہوگیا جس کی تصدیق نہ صرف اس وقت کے قریش اور دیگر عربوں نے فرمائی بلکہ اسلام کی آمد کے بعد حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے بھی اسی بات کی تصدیق فرمائی اور عربوں کی اس روایت کو جاری رکھا۔

نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam جو ابن الذبیحین بھی کہلاتے ہیں 19 اس لقب کی وجہ یہی ہے کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے والد محترم حضرت عبداللہ Radi Allah Anho اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے جد امجد حضرت اسماعیل Alaihis Salam کو اللہ کی بارگاہ میں قربانی کے لیے پیش کیا گیا تھا لیکن اللہ نے ان دونوں کی جانوں کو بخش دیا اور ان کے بدلے میں جانوروں کی قربانی کو قبول فرما لیا۔ 20

پیغام نکاح

حضرت عبداللہ Radi Allah Anho جو کہ ایک خوبصورت نوجوان تھے اور اپنی وجیہ شخصیت کی وجہ سے اہل مکہ میں مشہور تھے، مکہ کی خواتین نکاح کے لیے آپ Radi Allah Anho کی طرف مائل ہونے لگی تھیں اور جب سے 100 اونٹوں کی قربانی والا واقعہ اہل مکہ میں مشہور ہوا تھا تو وہاں کی ہر عورت جو غیر شادی شدہ تھی آپ Radi Allah Anho کی طرف نکاح کا میلان رکھتی تھی۔ 21 یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کی پیشانی مبارک نہایت ہی روشن تھی اور ایسا محسوس ہوتا تھا گویا اس میں سے نور کا اخراج ہو رہا ہے۔ 22 یہ وہ نشانی تھی جو اس بات کا ثبوت تھی کہ آپ Radi Allah Anho کی صلب مبارک میں رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا نور موجود تھا۔ اس وجہ سے بھی مکہ کی خواتین آپ Radi Allah Anho سے نکاح کی خواہشمند تھیں۔ اُمِّ قِتال بنت نوفل جو بنو اسد قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی، اس نے اپنے بھائی ورقہ بن نوفل سے جو کہ عیسائی علوم پر مہارت رکھتے تھے اور سماوی کتب کے عالم مانے جاتے تھے، سے سن رکھا تھا کہ عنقریب عرب کی وادی میں ایک نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔ اس لئے وہ بھی یہ چاہتی تھی کہ اس کا نکاح حضرت عبداللہ Radi Allah Anho سے ہوجائے اور وہ نور جو آپ Radi Allah Anho کی صلب میں موجود ہے اور پیشانی مبارک پر چمکتا ہے، وہ اس میں منتقل ہو جائے اور وہ اس نبی کی والدہ بننے کا شرف حاصل کرسکے۔ 23

ایک مرتبہ حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے والد حضرت عبدالمطلب، آپ Radi Allah Anho کو لے کر ایک سفر پر روانہ ہوئے جہاں راستے میں آپ Radi Allah Anho کی اتفاقی ملاقات اسی اُمِّ قِتال سے ہوگئی۔ اس نے حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کو وہیں پر نکاح کی دعوت دی اور اس کے ساتھ ساتھ تحفتاً 100 اونٹ دینے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ حضرت عبداللہ Radi Allah Anho نے اس کے پیغامِ نکاح کو یہ کہہ کر منع فرمادیا کہ وہ نکاح کے لیے اسی عورت کو منتخب کریں گے جس کے لیے ان کے والد ماجد ان کو حکم فرمائیں گے۔ 24 اسی طرح کا ایک اور واقعہ فاطمہ بنت مرّ کے حوالے سے بھی کتبِ سیرت میں موجود ہے جو کہ عرب کی خوبصورت ترین عورتوں میں سے ایک تھی۔ اس نے بھی حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کو نکاح کا پیغام بھجوایا لیکن انہی الفاظ کے ساتھ آپ Radi Allah Anho نے اس پیغام کو بھی رد فرما دیا اور اس بات کا ثبوت دیا کہ آپ Radi Allah Anho حسن یا دولت پرست نہ تھے بلکہ آپ Radi Allah Anho کے نزدیک خاندانی اقدار اور والدِ ماجد کی فرمانبرداری سب سے زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔ مورخین کے نزدیک یہ بات بھی مشہور ہے کہ جب حضرت بی بی آمنہRadi Allah Anha سے نکاح کی خبر مکہ کی خواتین کو پہنچی تو بنو مخزوم، بنو عبد شمس اور بنو عبدالمناف قبیلہ کی کئی خواتین اس خبر کو برداشت نہ کرسکیں اور کئی دن تک شدید ذہنی اذیت اور بیماریوں میں مبتلا رہیں۔ 25

حضرت آمنہ Radi Allah Anha سے نکاح

ایک مرتبہ حضرت عبداللہ Radi Allah Anho اپنے والد حضرت عبدالمطلب کے ساتھ یمن میں موجود تھے۔ وہاں پر آپ Radi Allah Anho کی ملاقات ایک یہودی راہب سے ہوئی جس کو یہودیت کی کتابوں پرمہارت حاصل تھی۔ اس یہودی نے حضرت عبدالمطلب کی ظاہری جسمانی ساخت اور آپ میں موجود کچھ خصائل کو دیکھ کر یہ اعلان کیا کہ اللہ نے آپ کے ایک ہاتھ میں سرداری جبکہ دوسرے ہاتھ میں نبوت کے سلسلے کو رکھا ہوا ہے لیکن یہ دونوں خصوصیات بنو زہرہ قبیلہ کی مدد سے ہی جمع ہوسکتی ہیں۔ پھر اس نے حضرت عبدالمطلب سے پوچھا کہ کیا آپ کا کوئی تعلق بنو زہرہ قبیلہ سے کسی بھی طور سے موجود ہے جس کا آپ نے انکار فرما دیا لیکن بعد میں اسی واقعہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اپنا اور اپنے بیٹے حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کا نکاح بنو زہرہ قبیلہ میں کیا جائے تاکہ اس قبیلہ سے آپ کا تعلق قائم ہوسکے۔ 26 یہی واقعہ تھا جو حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے بنو زہرہ قبیلہ میں نکاح کی وجہ بنا۔

یمن کے اس واقعہ کے بعد جب حضرت عبداللہ Radi Allah Anho سال کی عمر میں تھے تو آپ Radi Allah Anho کا نکاح حضرت آمنہ Radi Allah Anha سے کردیا گیا جو کہ وہب ابن عبد مناف ابن زہرہ کی بیٹی تھیں جو کہ اپنے قبیلہ کے سردار تھے۔ 27 حضرت آمنہ Radi Allah Anha خود نہ صرف ایک سردار کی بیٹی تھیں بلکہ ظاہری حسن و جمال کا پیکر بھی تھیں اور قبیلہ کی دیگر خواتین میں ممتاز حیثیت کی مالک تھیں۔ 28 حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam گویا اپنے دونوں والدین کی طرف سے نہایت ہی عزت و وقار والے خاندانوں سے نسبت رکھتے تھے اور نسب کے اعتبار سے دیگر عربوں پر فضیلت و فوقیت کے حامل تھے۔

حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کی طرف سے بھیجا گیا پیغام نکاح حضرت آمنہ Radi Allah Anha کی طرف سے قبول کیا گیا جبکہ آپ Radi Allah Anho کے والد حضرت عبدالمطلب نے اپنے نکاح کے لیے حضرت آمنہ Radi Allah Anha کی رشتہ دار حضرت ہالہ Radi Allah Anha کا انتخاب فرمایا اور یہ دونوں نکاح ایک ہی دن میں منعقد ہوئے۔ اسی وجہ سے حضرت حمزہ Radi Allah Anho رشتہ میں حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے چچا تھے لیکن عمر کے اعتبار سے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے ہم عمر تھے کیونکہ آپ Radi Allah Anho کی ولادت انہی ہالہ Radi Allah Anha کے بطنِ مبارک سے ہوئی تھی۔ 29 بنو زہرہ قبیلہ کی روایت کے مطابق حضرت عبداللہ Radi Allah Anho تقریباً تین دن اپنی زوجہ محترمہ حضرت آمنہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے پاس ان کے قبیلہ اور خاندان میں رہے 30 اور اس کے بعد حضرت عبدالمطلب کے ساتھ آپ Radi Allah Anho نے اپنا رخت سفر واپسی کے لیے باندھا۔ بعض مورخین کے مطابق حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے مزید نکاحوں کا ذکر بھی ملتا ہے لیکن ان روایات کو محقق مورخین نے غیر صحیح قرار دیا ہے۔ 31

وصال مبارک

حضرت عبداللہ Radi Allah Anho جب قریش کے ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام کے علاقے غزہ کے لیے تشریف لے جا رہے تھے اس وقت آپ Radi Allah Anho کی زوجہ محترمہ حضرت آمنہ Radi Allah Anha حاملہ تھیں۔ آپ Radi Allah Anho نے کئی مہینے غزہ کے مقام پر قیام فرمایا اور واپسی کے لیے رخت سفر باندھا۔ آپ Radi Allah Anho کچھ وقت کے لیے اپنے ننھیالی رشتہ دار بنو عدی ابن النجار کے پاس یثرب کے علاقہ میں رکے۔ یثرب جو کہ اپنی آب و ہوا کی خرابی کی وجہ سے مشہور تھا، آپ Radi Allah Anho وہاں کے قیام کے دوران شدید علالت کا شکار ہو گئے یہاں تک کہ آپ Radi Allah Anho کے لیے مکہ تک کا مزید سفر کرنا ممکن نہ رہا۔ جب آپ Radi Allah Anho کا قافلہ آپ Radi Allah Anho کو یثرب چھوڑ کر مکہ پہنچا تو آپ Radi Allah Anho کے والد حضرت عبدالمطلب کو آپ Radi Allah Anho کی بیماری اور قافلہ کے ساتھ نہ آنے کی خبر دی گئی۔ حضرت عبدالمطلب نے اپنے بڑے بیٹے حارث کو فوری طور پر یثرب کے لیے روانہ کیا تا کہ وہ اپنے بھائی حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کو مکہ تک لانے کا کوئی معقول بندوبست کر سکیں لیکن جب حارث یثرب پہنچے تو آپ کو خبر ملی کہ حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کا وصال ہو چکا ہے اور آپ Radi Allah Anho کی تدفین یثرب میں ہی کردی گئی ہے۔ نہایت غم اور افسوس کی حالت میں حارث واپس مکہ پہنچے اور اپنے والد محترم کو ان کے لخت جگر یعنی حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کے وصال کی خبر دی اور حضرت آمنہ Radi Allah Anha کو بھی اس دکھ بھری داستان سے آگاہ کیا جو کہ یقیناً ان تمام افراد کے لیے نہایت ہی دکھ کی بات تھی اور بالخصوص حضرت آمنہ Radi Allah Anha کے لیے شدید غم اور کرب کی گھڑی تھی۔ 3233

حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کا وصال 570ء میں ہوا اور اس وقت آپ Radi Allah Anho کی عمر مبارک فقط 25برس تھی اور یہ وہ وقت تھا جب رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اپنی والدہ ماجدہ کے بطن اطہر میں حمل مبارک کی صورت میں تشریف فرما تھے اور ابھی آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت میں کچھ ماہ کا عرصہ باقی تھا۔ 34

حضرت عبداللہ Radi Allah Anho کی وراثت

حضرت عبداللہ Radi Allah Anho پانچ اونٹ، ایک بھیڑوں کا ریوڑ اور ایک کنیز امّ ایمن اپنے ترکہ میں چھوڑ کرگئے۔ 35 یقیناً یہ ترکہ بہت زیادہ امیر آدمی کے ترکہ کی مناسبت سے کم تھا لیکن دوسری طرف یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam مالی طور پر کمزور آدمی نہیں تھے۔ 25 سال کی عمر میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے پاس ذاتی اونٹوں اور بکریوں کے ریوڑ اور ذاتی کنیز کا ہونا اس طرف اشارہ تھا کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ذاتی حیثیت میں بھی مالدار تھے جبکہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے والد محترم حضرت عبدالمطلب جو کہ ایک بڑے سردار تھے ان کی طرف سے بھی آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی معاونت اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے خاندان کی دیکھ بھال کا معقول انتظام موجود تھا جو کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے پسماندگان یعنی آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی زوجہ حضرت آمنہ Radi Allah Anha اور بعد میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بیٹے یعنی حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بنیادی ضروریات کی کفالت کے لیے کافی تھا۔ 36


  • 1  ابو محمد عبد الملک بن ھشام المعافري،السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ : شرکۃ مکتبہ و مطبعہ مصطفٰی البابی الحلبي وأولاده بمصر، القاھرۃ، مصر ، 1955م، ص: 158
  • 2  ایضاً، ص: 109
  • 3  ایضاً
  • 4  ابو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ السھیلی، الروض الانف فی تفسیر السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-2، مطبوعۃ: دار إحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان ، 1421ھ، ص: 84
  • 5  ابو محمد عبد الملک بن ھشام المعافري،السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج۔1، مطبوعۃ :شرکہ مکتبۃ و مطبعۃ مصطفٰی البابی، مصر، 1955م، ص: 109
  • 6  شیخ صفی الرحمن مبارکفوری،الرحیق المختوم،مطبوعۃ:دار ابن حزم، بیروت، لبنان، 2010 م، ص: 67
  • 7  امام محمد بن اسحاق المطلبی،السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ:دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 33
  • 8  ایضاً
  • 9
  • 10  امام محمد بن اسحاق المطلبی،السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ:دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 32
  • 11  عربوں کے ہاں یہ عام دستور تھا کہ ایسے تمام معمولات جن میں ان کے لئے کوئی فیصلہ کرنا دشوار ہوتا تو وہ کہانت یا فال گری کو حتمی رائے اختیار کرنے کے لئے استعمال کیا کرتے تھے۔ اس کے لیے بعض اوقات وہ اپنے پاس موجود تیروں کو کسی بڑے بت کے قدموں میں رکھ دیتے اور اس کی مدد سے فال نکالا کرتے تھے۔ اگر وہ اپنے بچے کی ختنہ کرنا چاہتے یا کسی عورت سے نکاح کرنا چاہتے یا کسی کی تدفین کرنا چاہتے یا کسی شخص کے نسب پر ان کو شک ہو جاتا تو ان تمام صورتوں میں وہ اس شخص کو ہبل بت کے قدموں میں لے جاتے اور ان تیروں میں سے ایک تیر اٹھا کر اس معاملے سے متعلقہ فال نکال کر فیصلہ کرلیتے۔ جو کاہن ان کے لیے اس کہانت کی ذمہ داری کو پورا کرتا اور تیر وغیرہ اٹھا کر فال نکالتا تو اس کی خدمت میں 100 دراہم کا تحفہ بھی پیش کیا جاتا تھا۔ اسلام کی آمد کے بعد قرآن حکیم نے نہ صرف ایسے تمام افعال کو شیطانی قرار دیا بلکہ ان کی مکمل مذمت بھی فرمائی لیکن اسلام سے ماقبل یہ وہ عام رواج تھا جو عربوں کے ہاں مستعمل تھا۔ (ادارہ)
  • 12  أبو جعفر محمد بن جریر الطبری، تاریخ الرسل والملوک، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 241
  • 13  امام محمد بن اسحاق المطلبی،السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ:دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 33
  • 14  ابو محمد عبد الملک بن ھشام المعافري،السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج۔1، مطبوعۃ : شرکۃ مکتبہ و مطبعہ مصطفٰی البابی الحلبي و أولاده بمصر، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 153
  • 15  امام محمد بن اسحاق المطلبی،السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ:دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 33
  • 16  ایضاً
  • 17  ابو عبد اللہ محمد بن سعد البصری،الطبقات الکبری، ج۔1، مطبوعۃ: دار الصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 89
  • 18  امام محمد بن اسحاق المطلبی،السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ:دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 39
  • 19  أبو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، ج-2، حدیث: 4036، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1990م، ص: 604
  • 20  أبو عبد الله محمد بن عبد الباقي الزرقاني، شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، ج۔1، مطبوعۃ: دار الكتب العلمية، بیروت، لبنان،1996 م، ص: 181
  • 21  محمد حسين هيكل، حياة محمد ﷺ، مطبوعۃ: دار المعارف، القاھرۃ، مصر، لیس التاریخ موجوداً، ص: 122
  • 22
  • 23  ابو الفداء اسماعيل بن عمر ا بن كثير الدمشقی، البدایۃ والنھایۃ، ج-2، مطبوعۃ: دار الاحیاالتراث العربی، بیروت، لبنان، 1988م، ص: 307-308
  • 24  امام محمد بن اسحاق المطلبی،السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ:دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 42
  • 25  علی ابن ابراہیم ابن احمد الحلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ج۔1، دارالکتب العلمیۃ، البیروت، لبنان، 2013م، ص: 58-59
  • 26  ابو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ السھیلی، الروض الانف فی تفسیر السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج۔2، مطبوعۃ: دار إحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان ، 1421ھ، ص: 89
  • 27  امام محمد بن اسحاق المطلبی،السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، ج-1، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 42
  • 28  ابو محمد عبد الملک بن ھشام المعافري،السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ : شرکۃ مکتبۃ و مطبعۃ مصطفٰی البابی الحلبي وأولاده بمصر، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 156
  • 29  ابو محمد عبد الملک بن ھشام المعافري،السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ : شرکۃ مکتبہ و مطبعہ مصطفٰی البابی الحلبي وأولاده بمصر ، القاھرۃ، مصر ، 1955م، ص: 109
  • 30  ابو عبد اللہ محمد بن سعد البصری،الطبقات الکبری، ج۔1، مطبوعۃ: دار الصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 95
  • 31  امام محمد بن یو سف الصالحي الشامی ،سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العبادﷺ، ج۔1، مطبوعة:دارالکتب العلمیة، بیروت، لبنان،1993م، ص: 331
  • 32  ابو عبد اللہ محمد بن سعد البصری،الطبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دار الصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 99
  • 33  امام محمد بن یو سف الصالحي الشامی ،سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العبادﷺ، ج-1، مطبوعة:دارالکتب العلمیة، بیروت، لبنان،1993م، ص: 331
  • 34  ابو عبد اللہ محمد بن سعد البصری،الطبقات الکبری، ج۔1، مطبوعۃ: دار الصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 99
  • 35  ایضاً
  • 36  محمد حسين هيكل، حياة محمد ﷺ، مطبوعۃ: دار المعارف، القاھرۃ، مصر، لیس التاریخ موجوداً، ص: 125