حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب
حضور
کے والد گرامی تھے۔ 1 حضرت عبداللہ
کے والد کا نام عبدالمطلب بن ہاشم تھا جو قریش کے مشہور قبیلہ بنو ہاشم کے سردار تھے۔ آپ
کی والدہ فاطمہ بنت عمرو بن عائز بن عمران بن مخزوم بن یقادہ تھیں جن کا تعلق قبیلہ بنو مخزوم سے تھا۔ 2 حضرت عبداللہ
کی ولادت 546ء میں ہوئی اور آپ
اپنے تمام بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے تاہم حضرت حمزہ
، حضرت عباس
اور حضرت صفیہ
جو کہ آپ
کے والد محترم کی دیگر ازواج یعنی حضرتِ نُکیلہ بنتِ جناب
اور ہالہ بنتِ وہیب
سے پیدا ہوئے تھے 3 وہ آپ
سے كم عمر تھے۔ 4
حضرت ِعبداللہ
كے سات بہن بھائی تھے جن میں حضرت زبیر
، عبد مناف (یعنی ابو طالب)، عبدالکعبہ، عاتقہ ، برّہ اوراُمیمہ شامل تھے۔ 5 آپ
حضرت عبدالمطلب کی تمام اولاد میں سب سے زیادہ وجیہ اور خوبصورت شخصیت کے مالک تھے 6 اور اپنے والد محترم کے نزدیك سب سے زیادہ محبوب تھے۔ 7
کا انتخابجب زم زم کا کنواں کھودا جارہا تھا تو حضرت عبدالمطلب نے اس بات کو محسوس کیا کہ ان کا ایک ہی بیٹا الحارث ہے 8 جو اس کام میں ان کی مدد کررہا ہے۔ آپ
نے اللہ سے دعا فرمائی کہ اللہ رب العزت ان کو مزید نرینہ اولاد عطا فرمائےتاکہ وہ اللہ کے دین کا کام احسن طریقے سے کر سکیں۔ آپ نے نیت بھی فرمائی کہ اگر اللہ رب العزت نے آپ کو دس بیٹے عطا فرمائے تو آپ اللہ کی رضا کی خاطر ان میں سے ایک بیٹے کو اللہ کے گھر یعنی خانہ کعبہ میں قربان کردیں گے۔ 9 آپ کی یہ دعا اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوگئی اور اللہ نے آپ کو دس بیٹے عطا فرمائے جو آپ کی حفاظت بھی کرتے تھے اور مختلف امور میں آپ کی معاونت بھی فرماتے تھے۔
ایک دن آپ نے اپنے ان تمام بیٹوں کو اکھٹا فرمایا اور ان کو اپنی منت کے بارے میں آگاہ فرمایا جو آپ نے ان کی ولادت سے پہلے ان کے لیے مانی تھی۔ وہ تمام بیٹے اس منت کے اِکمال کے لیے راضی ہوگئے اور آپ سے دریافت فرمایا کہ اس معاملے میں اِن کو اُن بیٹوں سے کیا چیز مطلوب ہے؟ حضرت عبدالمطلب ان تمام بیٹوں کو اپنے ساتھ خانہ کعبہ لے گئے اور ان سب کے ہاتھ میں ایک ایک تیر تھما دیا اور ان کو اس بات کا پابند کیا کہ ہر کوئی اس پر اپنا نام لکھ دے۔ جب آپ کے تمام بیٹے ان تیروں پر اپنا نام لکھ کر آپ کے پاس لے آئے تو آپ نے ایک کاہن سے پوچھا کہ ان میں سے کس بیٹے کی قربانی اللہ کی بارگاہ میں پیش کرنی چاہیے؟ 1011 اس کاہن نے وہ تمام تیر آپ کے بیٹوں سے لے لیے جن پر انہوں نے اپنے اپنے نام لکھے تھے اور فال نکالنے میں مصروف ہوگیا۔ حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی اولاد کے بارے میں بہتر فیصلہ فرمانے کے لیے دعائیں مانگنے لگے۔ کاہن نے جب فال نکالی تو وہ فال حضرت عبداللہ
کے حق میں نکلی۔ حضرت عبدالمطلب نے اپنے ہاتھ میں ایک چھڑی کو لیا اور حضرت عبداللہ
کو لے کر ان کو قربان کرنے کے لئے روانہ ہوگئے۔ 12 حضرت عبداللہ
جو کہ اس بات کو بخوبی جانتے تھے کہ ان کے والدِ محترم ان کو قربان کرنے کے لیے اپنے ساتھ لیے جا رہے ہیں، آپ
نے اس پر کسی قسم کی بھی نا گواری، دکھ یا شکوہ کا کوئی اظہار اپنے والد گرامی سے نہیں فرمایا 13 جو کہ اس بات کا ثبوت تھا کہ آپ
اس مسئلہ میں اپنے والد گرامی کے مکمل مطیع و فرمانبردار تھے اور اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جان کا نظرانہ پیش کرنے کے لئے قلبی و ذہنی طور پر راضی تھے۔ 14
جب لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ حضرت عبدالمطلب اپنی منّت کو پورا کرنے کے لیے حضرت عبداللہ
کو قربان کردیں گے تو وہ حضرت عبدالمطلب کے پاس آئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے بجائے کوئی ایسا طریقہ کار اختیار کریں کہ ان کی منت بھی پوری ہوجائے اور ان کی کسی اولاد کو اپنی جان کی قربانی بھی پیش نہ کرنی پڑے۔ مغیرہ بن عبداللہ المخزومی جو کہ حضرت عبداللہ
کے ننھیالی رشتےدار تھے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت عبداللہ
کو اپنی منت کی خاطر قربان کرنے کے بجائے عبدالمطلب کو کوئی ایسا طریقہ کار اپنانا چاہئے جس سے حضرت عبداللہ
کی جان بھی سلامت رہے اور حضرت عبدالمطلب کی منّت بھی پوری ہوجائے۔ حضرت عبدالمطلب جو خود اس مسئلہ میں نہایت ہی مغموم اور پریشان تھے اور خود بھی کسی مناسب حل کی تلاش میں تھے، آپ نے لوگوں سے مشورہ مانگا کہ اُن کو اِن حالات میں کیا اقدام کرنا چاہیے؟ مغیرہ بن عبداللہ المخزومی نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ کو اپنے بیٹے کی قربانی کرنے کے بجائے اس کا فدیہ دینا چاہیے اور اس نے آپ کو یہ پیشکش بھی کی کہ وہ اس بارے میں بھی تیار ہے کہ وہ خود اپنی طرف سے حضرت عبداللہ
کے فدیہ کے طور پر ایک بڑی رقم ادا کردے اور اگر اسے اپنے قبیلے والوں کے ساتھ مل کر کثیر رقم بھی ادا کرنی پڑے جس سے حضرت عبداللہ
کی زندگی بچائی جا سکے تو وہ اس کے لئے بھی راضی ہے۔
بعض قریش کے لوگوں نے حضرت عبدالمطلب کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت عبداللہ
کو یثرب میں موجود ایک مشہور کاہنہ کے پاس لے جائیں جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ اس کے پاس جنات اور دیگر روحانی مخلوقات موجود رہتی ہیں اور اس سے جا کر اس حوالے سے مشورہ طلب کریں، ممکن ہے کہ وہ کچھ بہتر رائے تجویز کرسکے۔ حضرت عبدالمطلب نے اس تجویز کو قبول کیا اور حضرت عبداللہ
کو لے کر یثرب روانہ ہوگئے۔ جب آپ یثرب پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ وہ کاہنہ اس وقت یثرب میں موجود نہیں ہے بلکہ خیبر کے علاقہ کی طرف روانہ ہو چکی ہے جو کہ یہودیوں کی ایک مشہور وادی تھی اور یثرب کے علاقہ سے تقریبا 100 میل کے فاصلے پر موجود تھی۔ 15 حضرت عبدالمطلب جو خود اپنے بیٹے کے حوالےسے نہایت ہی متفکر تھے، آپ نے خیبر تک کا سفر طے کیا اور وہاں جا کر اس کاہنہ سے بالمشافہ ملاقات کی۔ کاہنہ نے پوری تفصیل سننے کا بعد سب لوگوں کو وہاں سے جانے کا حکم دیا اور اس خاص روح کو بلانے کا انتظام کیا جس کی مدد سے وہ ایسے تمام امور پر آگاہی حاصل کرتی تھی۔
حضرت عبدالمطلب نے وہ ساری رات اللہ کی عبادت کرتے اور اس سے دعائیں مانگ کر گزاری۔ اگلی صبح جب آپ اس کاہنہ کے پاس پہنچے تو اس نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اس بچے کی جان کا فدیہ دیں جو کہ دس اونٹوں کے برابر ہوگا۔ اس نے آپ کو واپس مکہ تشریف لے جا کر ان اونٹوں کی قربانی پیش کرنے کا حکم دیا اور اس کا طریقہ کار یہ بتایا کہ ہر 10 اونٹوں اور عبداللہ
کے درمیان قرعہ اندازی کریں اور اگر قرعہ اندازی 10 اونٹوں کے حق میں آئے تو ان کو قربان کردیں اور اگر عبداللہ کے حق میں نکلے تو 10 اونٹوں کا مزید اضافہ کرکے دوبارہ سے قرعہ اندازی کریں اور اس طرح ہر دفعہ دس دس کرکے اونٹ بڑھاتے جائیں یہاں تک کہ قرعہ اندازی حضرت عبداللہ
کے بجائے اونٹوں کے حق میں نکل آئے۔ اس کے مطابق یہ واحد حل تھا جس سے حضرت عبداللہ
کی جان کو بچایا جا سکتا تھا اور منّت کی تکمیل کی جا سکتی تھی۔ 16
حضرت عبدالمطلب واپس مکہ پہنچے اور اس کاہنہ کےحکم پر عمل کرنے کا مکمل ارادہ فرما لیا۔ آپ کے بیٹوں نے قرعہ اندازی کا سلسلہ شروع کردیا جبکہ حضرت عبدالمطلب خود اللہ کی بارگاہ میں دعاگو ہوگئے۔ آپ کے بیٹے دس دس کرکے اونٹ حضرت عبداللہ
کے پاس لاتے اورتیر پھینکتے جو کہ ہر دفعہ حضرت عبداللہ
کے خلاف گرتا اور وہ اونٹوں کی تعداد میں 10 اونٹوں کا اضافہ کر دیتے۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ تقریبا دس بار جاری رہا اور بلآخر جب اونٹو ں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی تو یہ قرعہ حضرت عبداللہ
کے حق میں نکل آیا یعنی آپ
کے بدلے 100 اونٹوں کی قربانی پیش کرنے کا فیصلہ ہوا۔ 17 قریش اور دیگر لوگ جو وہاں موجود تھے، انہوں نے حضرت عبدالمطلب کو مبارکباد پیش کی اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ خدا آپ سے راضی ہو گیا اور اس نے 100 اونٹوں کے بدلے آپ کے بیٹے کی جان کی بخشش فرما دی۔ حضرت عبدالمطلب جو کہ یقیناً اس بات سے خوش تھے، اس کے باوجود بھی آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ میں اب بھی تین بار مزید اس طرح سے قرعہ اندازی کروں گا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ مکمل طور پر میرے اوپر واضح نہ ہوجائے۔ آپ نے یہ عمل تین بار دہرایا اور ہر دفعہ فال حضرت عبداللہ
کے حق میں اور اونٹوں کے خلاف نکلی جو کہ واضح اشارہ تھا کہ حضرت عبداللہ
کی جان قربان کرنے کے بجائے 100 اونٹوں کی قربانی پیش کی جائے۔ 18 حضرت عبدالمطلب نے صفہ اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان ان 100 اونٹوں کی قربانی کی اور تمام اہل مکہ کی بھرپور دعوت کا اہتمام کیا لیکن خود انہوں نے اور ان کے بیٹوں نے ان اونٹوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھایا۔ اسی دن سے عربوں میں یہ رواج پڑگیا کہ کسی کی بھی جان کا فدیہ جو پہلے 10 اونٹوں کی صورت میں ادا کیا جاتا تھا، وہ 100 اونٹ مختص ہوگیا جس کی تصدیق نہ صرف اس وقت کے قریش اور دیگر عربوں نے فرمائی بلکہ اسلام کی آمد کے بعد حضور
نے بھی اسی بات کی تصدیق فرمائی اور عربوں کی اس روایت کو جاری رکھا۔
نبی کریم
جو ابن الذبیحین بھی کہلاتے ہیں 19 اس لقب کی وجہ یہی ہے کہ آپ
کے والد محترم حضرت عبداللہ
اور آپ
کے جد امجد حضرت اسماعیل
کو اللہ کی بارگاہ میں قربانی کے لیے پیش کیا گیا تھا لیکن اللہ نے ان دونوں کی جانوں کو بخش دیا اور ان کے بدلے میں جانوروں کی قربانی کو قبول فرما لیا۔ 20
حضرت عبداللہ
جو کہ ایک خوبصورت نوجوان تھے اور اپنی وجیہ شخصیت کی وجہ سے اہل مکہ میں مشہور تھے، مکہ کی خواتین نکاح کے لیے آپ
کی طرف مائل ہونے لگی تھیں اور جب سے 100 اونٹوں کی قربانی والا واقعہ اہل مکہ میں مشہور ہوا تھا تو وہاں کی ہر عورت جو غیر شادی شدہ تھی آپ
کی طرف نکاح کا میلان رکھتی تھی۔ 21 یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ
کی پیشانی مبارک نہایت ہی روشن تھی اور ایسا محسوس ہوتا تھا گویا اس میں سے نور کا اخراج ہو رہا ہے۔ 22 یہ وہ نشانی تھی جو اس بات کا ثبوت تھی کہ آپ
کی صلب مبارک میں رسول اللہ
کا نور موجود تھا۔ اس وجہ سے بھی مکہ کی خواتین آپ
سے نکاح کی خواہشمند تھیں۔ اُمِّ قِتال بنت نوفل جو بنو اسد قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی، اس نے اپنے بھائی ورقہ بن نوفل سے جو کہ عیسائی علوم پر مہارت رکھتے تھے اور سماوی کتب کے عالم مانے جاتے تھے، سے سن رکھا تھا کہ عنقریب عرب کی وادی میں ایک نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔ اس لئے وہ بھی یہ چاہتی تھی کہ اس کا نکاح حضرت عبداللہ
سے ہوجائے اور وہ نور جو آپ
کی صلب میں موجود ہے اور پیشانی مبارک پر چمکتا ہے، وہ اس میں منتقل ہو جائے اور وہ اس نبی کی والدہ بننے کا شرف حاصل کرسکے۔ 23
ایک مرتبہ حضرت عبداللہ
کے والد حضرت عبدالمطلب، آپ
کو لے کر ایک سفر پر روانہ ہوئے جہاں راستے میں آپ
کی اتفاقی ملاقات اسی اُمِّ قِتال سے ہوگئی۔ اس نے حضرت عبداللہ
کو وہیں پر نکاح کی دعوت دی اور اس کے ساتھ ساتھ تحفتاً 100 اونٹ دینے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ حضرت عبداللہ
نے اس کے پیغامِ نکاح کو یہ کہہ کر منع فرمادیا کہ وہ نکاح کے لیے اسی عورت کو منتخب کریں گے جس کے لیے ان کے والد ماجد ان کو حکم فرمائیں گے۔ 24 اسی طرح کا ایک اور واقعہ فاطمہ بنت مرّ کے حوالے سے بھی کتبِ سیرت میں موجود ہے جو کہ عرب کی خوبصورت ترین عورتوں میں سے ایک تھی۔ اس نے بھی حضرت عبداللہ
کو نکاح کا پیغام بھجوایا لیکن انہی الفاظ کے ساتھ آپ
نے اس پیغام کو بھی رد فرما دیا اور اس بات کا ثبوت دیا کہ آپ
حسن یا دولت پرست نہ تھے بلکہ آپ
کے نزدیک خاندانی اقدار اور والدِ ماجد کی فرمانبرداری سب سے زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔ مورخین کے نزدیک یہ بات بھی مشہور ہے کہ جب حضرت بی بی آمنہ
سے نکاح کی خبر مکہ کی خواتین کو پہنچی تو بنو مخزوم، بنو عبد شمس اور بنو عبدالمناف قبیلہ کی کئی خواتین اس خبر کو برداشت نہ کرسکیں اور کئی دن تک شدید ذہنی اذیت اور بیماریوں میں مبتلا رہیں۔ 25
سے نکاحایک مرتبہ حضرت عبداللہ
اپنے والد حضرت عبدالمطلب کے ساتھ یمن میں موجود تھے۔ وہاں پر آپ
کی ملاقات ایک یہودی راہب سے ہوئی جس کو یہودیت کی کتابوں پرمہارت حاصل تھی۔ اس یہودی نے حضرت عبدالمطلب کی ظاہری جسمانی ساخت اور آپ میں موجود کچھ خصائل کو دیکھ کر یہ اعلان کیا کہ اللہ نے آپ کے ایک ہاتھ میں سرداری جبکہ دوسرے ہاتھ میں نبوت کے سلسلے کو رکھا ہوا ہے لیکن یہ دونوں خصوصیات بنو زہرہ قبیلہ کی مدد سے ہی جمع ہوسکتی ہیں۔ پھر اس نے حضرت عبدالمطلب سے پوچھا کہ کیا آپ کا کوئی تعلق بنو زہرہ قبیلہ سے کسی بھی طور سے موجود ہے جس کا آپ نے انکار فرما دیا لیکن بعد میں اسی واقعہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اپنا اور اپنے بیٹے حضرت عبداللہ
کا نکاح بنو زہرہ قبیلہ میں کیا جائے تاکہ اس قبیلہ سے آپ کا تعلق قائم ہوسکے۔ 26 یہی واقعہ تھا جو حضرت عبداللہ
کے بنو زہرہ قبیلہ میں نکاح کی وجہ بنا۔
یمن کے اس واقعہ کے بعد جب حضرت عبداللہ
سال کی عمر میں تھے تو آپ
کا نکاح حضرت آمنہ
سے کردیا گیا جو کہ وہب ابن عبد مناف ابن زہرہ کی بیٹی تھیں جو کہ اپنے قبیلہ کے سردار تھے۔ 27 حضرت آمنہ
خود نہ صرف ایک سردار کی بیٹی تھیں بلکہ ظاہری حسن و جمال کا پیکر بھی تھیں اور قبیلہ کی دیگر خواتین میں ممتاز حیثیت کی مالک تھیں۔ 28 حضور
گویا اپنے دونوں والدین کی طرف سے نہایت ہی عزت و وقار والے خاندانوں سے نسبت رکھتے تھے اور نسب کے اعتبار سے دیگر عربوں پر فضیلت و فوقیت کے حامل تھے۔
حضرت عبداللہ
کی طرف سے بھیجا گیا پیغام نکاح حضرت آمنہ
کی طرف سے قبول کیا گیا جبکہ آپ
کے والد حضرت عبدالمطلب نے اپنے نکاح کے لیے حضرت آمنہ
کی رشتہ دار حضرت ہالہ
کا انتخاب فرمایا اور یہ دونوں نکاح ایک ہی دن میں منعقد ہوئے۔ اسی وجہ سے حضرت حمزہ
رشتہ میں حضور
کے چچا تھے لیکن عمر کے اعتبار سے آپ
کے ہم عمر تھے کیونکہ آپ
کی ولادت انہی ہالہ
کے بطنِ مبارک سے ہوئی تھی۔ 29 بنو زہرہ قبیلہ کی روایت کے مطابق حضرت عبداللہ
تقریباً تین دن اپنی زوجہ محترمہ حضرت آمنہ
کے پاس ان کے قبیلہ اور خاندان میں رہے 30 اور اس کے بعد حضرت عبدالمطلب کے ساتھ آپ
نے اپنا رخت سفر واپسی کے لیے باندھا۔ بعض مورخین کے مطابق حضرت عبداللہ
کے مزید نکاحوں کا ذکر بھی ملتا ہے لیکن ان روایات کو محقق مورخین نے غیر صحیح قرار دیا ہے۔ 31
حضرت عبداللہ
جب قریش کے ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام کے علاقے غزہ کے لیے تشریف لے جا رہے تھے اس وقت آپ
کی زوجہ محترمہ حضرت آمنہ
حاملہ تھیں۔ آپ
نے کئی مہینے غزہ کے مقام پر قیام فرمایا اور واپسی کے لیے رخت سفر باندھا۔ آپ
کچھ وقت کے لیے اپنے ننھیالی رشتہ دار بنو عدی ابن النجار کے پاس یثرب کے علاقہ میں رکے۔ یثرب جو کہ اپنی آب و ہوا کی خرابی کی وجہ سے مشہور تھا، آپ
وہاں کے قیام کے دوران شدید علالت کا شکار ہو گئے یہاں تک کہ آپ
کے لیے مکہ تک کا مزید سفر کرنا ممکن نہ رہا۔ جب آپ
کا قافلہ آپ
کو یثرب چھوڑ کر مکہ پہنچا تو آپ
کے والد حضرت عبدالمطلب کو آپ
کی بیماری اور قافلہ کے ساتھ نہ آنے کی خبر دی گئی۔ حضرت عبدالمطلب نے اپنے بڑے بیٹے حارث کو فوری طور پر یثرب کے لیے روانہ کیا تا کہ وہ اپنے بھائی حضرت عبداللہ
کو مکہ تک لانے کا کوئی معقول بندوبست کر سکیں لیکن جب حارث یثرب پہنچے تو آپ کو خبر ملی کہ حضرت عبداللہ
کا وصال ہو چکا ہے اور آپ
کی تدفین یثرب میں ہی کردی گئی ہے۔ نہایت غم اور افسوس کی حالت میں حارث واپس مکہ پہنچے اور اپنے والد محترم کو ان کے لخت جگر یعنی حضرت عبداللہ
کے وصال کی خبر دی اور حضرت آمنہ
کو بھی اس دکھ بھری داستان سے آگاہ کیا جو کہ یقیناً ان تمام افراد کے لیے نہایت ہی دکھ کی بات تھی اور بالخصوص حضرت آمنہ
کے لیے شدید غم اور کرب کی گھڑی تھی۔ 3233
حضرت عبداللہ
کا وصال 570ء میں ہوا اور اس وقت آپ
کی عمر مبارک فقط 25برس تھی اور یہ وہ وقت تھا جب رسول اللہ
اپنی والدہ ماجدہ کے بطن اطہر میں حمل مبارک کی صورت میں تشریف فرما تھے اور ابھی آپ
کی ولادت میں کچھ ماہ کا عرصہ باقی تھا۔ 34
کی وراثتحضرت عبداللہ
پانچ اونٹ، ایک بھیڑوں کا ریوڑ اور ایک کنیز امّ ایمن اپنے ترکہ میں چھوڑ کرگئے۔ 35 یقیناً یہ ترکہ بہت زیادہ امیر آدمی کے ترکہ کی مناسبت سے کم تھا لیکن دوسری طرف یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ
مالی طور پر کمزور آدمی نہیں تھے۔ 25 سال کی عمر میں آپ
کے پاس ذاتی اونٹوں اور بکریوں کے ریوڑ اور ذاتی کنیز کا ہونا اس طرف اشارہ تھا کہ آپ
ذاتی حیثیت میں بھی مالدار تھے جبکہ آپ
کے والد محترم حضرت عبدالمطلب جو کہ ایک بڑے سردار تھے ان کی طرف سے بھی آپ
کی معاونت اور آپ
کے خاندان کی دیکھ بھال کا معقول انتظام موجود تھا جو کہ آپ
کے پسماندگان یعنی آپ
کی زوجہ حضرت آمنہ
اور بعد میں آپ
کے بیٹے یعنی حضور
کی بنیادی ضروریات کی کفالت کے لیے کافی تھا۔ 36